ملی مسائل

ڈاکٹر نائک کا فیصلہ مصلحت یا گریز؟

حفیظ نعمانی
مسلمانوں کے معاملہ میں زعفرانی انداز سے سوچنے والے شری رجت شرما کے انڈیا ٹی وی چینل کو ڈاکٹر ذاکر نائک کی شکل میں ایک موضوع مل گیا۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں یہ خبر عام تھی کہ وہ عمرہ کرنے گئے ہوئے ہیں۔ اور 11جولائی کو واپس آئینگے۔ ان کی مخالفت میں سرگرم میڈیا زبان پر دھار رکھے بیٹھا تھا کہ اسے یہ خبر مل گئی کہ اب ڈاکٹر صاحب تین ہفتے کے بعد واپس آئیں گے۔ اور وہ افریقی ممالک کے پہلے سے طے شدہ اپنے پروگرام پرروانہ ہو گئے ہیں۔ یہ خبر ایسی ہے کہ ہرمخالف کے منہ سے یہ جملے نکلنے لگے کہ وہ ہندوستان کی کسی انکوائری سے بچ رہے ہیں۔ ایک خبر میں ڈاکٹر صاحب کے ایک ساتھی کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ منگل کو ان کی پریس کانفرنس تھی۔ لیکن یہ کب کہا گیا تھا کہ وہ پریس کا نفرنس میں خود بھی شریک ہوں گے؟
اگر ڈاکٹر ذاکر نائک نے اپنے گرد اگر اتنے ہی بزدل ساتھیوں کا حلقہ بنایا ہے تو کیسے ان کے انتخاب کی داد نہ دی جائے؟۔ پروگرام یہ تھا کہ پیر کو ڈاکٹر صاحب واپس آئیں گے۔ اور منگل 12جولائی کو پریس کانفرنس کریں گے۔ اب خبر آئی ہے کہ وہ 11کو نہیں آئیں گے بلکہ تین ہفتے کے بعد آئیں گے۔ اور پریس کانفرنس ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک ساتھی کا بیان کہ یہ کب کہا گیا تھا کہ وہ پریس کانفرنس میں خود بھی شریک ہونگے؟ تو پھر ڈاکٹر صاحب کے نہ آنے کی خبر پر پریس کانفرنس ملتوی کیوں کر دی گئی؟ اور کیا ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی لیڈر پریس کانفرنس کا اعلان کرے اور خود شریک نہ ہو۔؟
کل انڈیا ٹی وی کا 9بجے رات کا پورا پروگرام ڈاکٹر ذاکر کے گرد گھومتا رہا۔ اور یہ سن کر تو ہمارے ہوش اڑ گئے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دکھایا اور بتایا کہ یہ ان کا گارڈ (محافظ) ہے اس کا بیان ہے کہ ڈاکٹرصاحب جو بیان کرتے ہیں اسے لکھنے والے ڈاکٹر صاحب نہیں دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اتنے قابل نہیں ہیں جتنا لوگ انہیں سمجھ رہے ہیں۔ اور دوسرا یہ ہوسکتا ہے کہ تحقیقات میں ڈاکٹر صاحب کے علاوہ اور بھی دس بارہ ان کے قریبی لوگوں کو گھیراجائے تاکہ اگر ان کی آواز بند کی جائے تو جانشینی کے طور پر کوئی کھڑا ہونے کی ہمت نہ کرے۔
شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ پنڈت نہرو کی محبت میں 12برس جیل میں رہے۔ پنڈت جی نے اپنی علالت کے آخری دنوں میں انہیں رہا کرا کے اپنے پاس بلایا۔ وہ نام کے نہیں واقعی شیر تھے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ جس نے میری زندگی کے 12برس جیل میں بند کر کے برباد کر ائے اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ اب ملنے کے لئے مجھے آواز دے؟ راویوں کا بیان ہے کہ وہ دہلی آئے اور مسکراتے ہوئے پنڈت جی سے ملے۔ پنڈت جی نے کوئی خفیہ پیغام لیکر انکو پاکستان بھیجا۔ لیکن ابھی نہ ان کا کوئی بیان آیا تھا۔ اور نہ یہ معلوم ہوا تھا کہ پاکستان کاردِّ عمل کیا رہا؟ پنڈت جی کا انتقال ہو گیا (اس لئے ایک نہرو مخالف گروپ کے اوپر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کی موت فطری نہیں تھی)۔  اس خبر کے بعد شیخ واپس آگئے۔
پنڈت جی کے بعد شاستری جی آئے اور ایک سال بھی پورا کئے بغیر چلے گئے۔ پھر اندرا جی وزیر اعظم بن گئی۔ شیخ عبداللہ چین کے دورہ پر گئے اور انہوں نے اندرا گاندھی کے خلاف کچھ سخت بتصرے کئے اور پھر آزاد کشمیر کے لئے جد وجہد کا اعلان کیا۔ ان کے بیانات پر ہندوستان میں ہرکسی کی زبان پر تھا کہ اگر شیخ عبداللہ واپس آئے تو گرفتار کر لئے جائیں گے۔
اس زمانہ میں سعودی عرب کے شاہ فیصلؒ نے رابطۂ عالم اسلامی کے بینر پر موتمر عالم اسلامی بلائی تھی جس میں ہر مسلم ملک سے 10 مندوب بلائے گئے۔ ہندوستان سے بھی 10مندوب اس لئے بلائے گئے کہ وہاں تو مسلم ملکوں سے بھی زیادہ مسلمان ہیں۔ رابطۂ عالم اسلامی کی جو مستقل دو ممبر تھے ان میں ایک مولانا علی میاں اور دوسرے ہمارے والد مولانا نعمانی تھے۔ واپسی پر والد صاحب نے ہی بتایا کہ اجلاس میں سب سے پہلی صف میں سربراہانِ مملکت تھے۔ اس کے بعد رابطے کے مستقل ممبر اور اس کے بعد ’’ابجد حوّز‘‘ کی ترتیب سے ملکوں کے مندوب بٹھائے گئے تھے۔ اہم بات یہ تھی کہ شیخ محمد عبداللہ کو شاہ فیصل نے سربراہانِ مملکت کی صف میں بٹھایا تھا۔ اس خبر سے اندرا جی اور آگ بگولہ ہو گئی تھیں۔
شیخ صاحب کی سیاسی زندگی کے دور میں ہمارے والد صاحب سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ موتمر کے اجلاس کے موقع پر جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو شیخ صاحب نے والد سے کہا کہ میرے جیل کے 12سال یا تو قرآن کو سمجھنے میں گزرے یا آپ کی معارف الحدیث کے مطالعہ میں گزرے یا آتشِ چنارکی تصنیف میں۔ معارف الحدیث نے مجھے بہت سہارا دیا۔ اجلاس کے بعد شیخ صاحب نے والد صاحب سے مشورہ کیا کہ میں ہندوستان چلوں جہاں گرفتاری میرا انتظار کر رہی ہے۔ یا چین یا برطانیہ میں کشمیر کی جلاوطن حکومت قائم کر کے باقی زندگی وہاں رہوں؟ والد صاحب کا کہنا تھا کہ ہم نے ان سے کہا کہ آپ کو ہندوستان ہی جانا چاہئے۔ کشمیر کو ابھی آپکی بہت ضرورت ہے۔ شیخ صاحب نے فرمایا کہ آپ میرے لئے استخارہ دیکھ کر فیصلہ کیجئے۔ تین دن کے بعد والد صاحب نے شیخ عبداللہ سے کہا کہ میں نے آپ کو دہلی میں دیکھا ہے۔ آپ واپس ہندوستان ہی چلئے۔ شیخ صاحب نے فیصلہ کر لیا اور جب وہ آئے تو دہلی کے ہوائی اڈہ پر ہی انہیں اندرا جی نے مہمان بنالیا۔ اور دہلی کی ہی ایک کوٹھی میں نظر بند کر دیا۔
یاد نہیں وہ کتنے دن نظر بند رہے۔ لیکن وہ صرف نظر بند تھے ملنے والوں کو بھی اچھی طرح تحقیقات کے بعد ملنے کی اجازت تھی۔ ہمارے ایک صحافی دوست کا بیان ہے کہ جتنی دیر ہم گفتگو کرتے رہے ایک خادم کسی نہ کسی بہانے قریب آتاجاتا رہا۔ جس پر شیخ صاحب نے کہا کہ یہ خادم کے بھیس میں ہو سکتا ہے ایس پی سی آئی ڈی ہو۔؟ اور آخرکار اندرا جی اور شیخ عبداللہ میں کچھ لو اور کچھ دو کے بعد مصالحت ہو گئی۔ اور شیخ صاحب نے وزیر اعظم کی جگہ کشمیر کا وزیر اعلیٰ ہونا قبول کر لیا۔
ہمیں نہیں معلوم کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کسی کو اپنا بزرگ مانتے ہیں یا نہیں؟ اچھا ہوتا کہ وہ افریقہ جانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے کسی اللہ والے سے مشورہ کر لیتے؟ اب چاہے جو کہے کہ انکا پروگرام پہلے سے تھا لیکن دوسرے تو کیا ہم ہی نہیں مانیں گے۔ کیونکہ وہ 11کو ممبئی واپس آنے اور 12کو پریس کانفرنس کرنے کے پروگرام پر 10جولائی تک قائم تھے۔ اور اب ان کی مخالف میڈیا کو یہ الزام لگانے کا موقع مل گیا کہ وہ تحقیقات سے بچ رہے ہیں۔
ہم تو بہت معمولی آدمی ہیں لیکن 31جولائی 1965کی رات کو یقین تھا کہ ہم گرفتار کر لئے جائیں گے۔ ہمارے عزیز دوست عابدی الہ آبادی 8بجے رات میں آئے اور معلوم کیا کہ تم کہاں سے گرفتار ہونا پسند کرو گے؟ ہم نے ہنس کر کہا کہ تم تو ایسے معلوم کر رہے جیسے یہ کہ تم کس کے ساتھ شادی کرنا پسند کرو گے؟ عابدی کہنے لگے میرا مقصد یہ ہے کہ گھر سے گرفتاری سے بچوں پر برا اثر پڑے گا۔ ہم نے کہہ دیا کہ بیوی بچے سب ابا جی کے گھر ہیں۔ اور دو گھنٹے کے بعد ہمارے گھر اور پریس کے چاروں طرف پولیس تھی۔ 31جولائی کی شام سے رات تک اتنا وقت تھا کہ ہم کہیں بھی جا سکتے تھے لیکن یہ اس کا ثبوت ہوتا کہ ہم خود اپنے کو مجرم سمجھ رہے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند مولانا ارشد مدنی ،ڈاکٹر منظور عالم اور ملک کے ممتاز مسلمانوں میں ایک بڑی جماعت ان کے اس حد تک ساتھ ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو عدالت سے رجوع کر لیا جائے۔ لیکن یہ کیا ہورہا ہے کہ میڈیا نے داؤد ابراہیم کی طرح ان کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے؟ جس کے بارے میں خود ڈاکٹر نائک نے کہا ہے کہ میڈیا اگر چاہے تو ہیرو کو ولن بنا دے اور چاہے تو ولن کو ہیرو۔  وہ جب اس سے واقف ہیں تو ان کے لئے بہتر تو یہ ہوتا کہ وہ عمرہ کر کے 11کے بجائے 8جولائی کو ہی واپس آجاتے۔ کیونکہ عمرہ تو صرف چند گھنٹہ میں پورا ہوجاتا ہے اور ایک دن مدینہ منورہ میں رہ کر واپسی ہو سکتی تھی۔ ان کا ایسے ماحول میں افریقہ کے دورہ پر چلاجانا۔ ان کے لئے بہت مضر ہوگا کیوں کہ رجت شرما جیسوں کو تین ہفتے کہانیاں گڑھنے کے لئے مزید مل جائیں گے جیسے ایک گارڈ کا بیان کہ وہ تو صرف لاؤڈ اسپیکر ہیں۔ پردہ کے پیچھے پوری ٹیم ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close