ملی مسائل

کفر کی آغوش میں جاتیں مسلم دوشیزائیں!

اسدالرحمن تیمی

آج کل ہندوستان کا مسلم معاشرہ اپنی تاریخ کے سب سے بدترین فتنہ ارتداد سے گزررہا ہے، بڑی تعداد میں مسلم لڑکیاں غیرمسلموں کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ملت اسلامیہ ہند کے اصحاب ایمان وعمل میں سخت بے چینی واضطراب کی کیفیت ہے۔ کیوں کہ زندگی کے بحر متلاطم میں ایمان کا سفینہ کفر کے گرداب میں پھنستا جارہا ہے۔ اگر وقت رہتے اس کا سدباب نہ کیا تو اس کے بھیانک اور دوررس نتائج سامنے آئیں گے۔

حالانکہ ہمارے معاشرہ میں اس قسم کے واقعات وقفہ وقفہ سے دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ لیکن انہیں شاذ ونادر کی حیثیت سے لیا جاتا رہا ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ شادی رچانے والیوں میں مسلم سماج کے ہر طبقہ کی دوشیزائیں شامل ہیں۔ نام نہاد اعلیٰ مسلم برادریوں سے تعلق رکھنے والی، اونچی تعلیم یافتہ ، ملازمت پیشہ، اسکول وکالج کے عریاں ماحول میں پڑھنے والی، کسی دینی درس گاہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے والی، کسی بڑے شہر کے رہنے والی اور کسی دورافتادہ وپسماندہ گاؤں کے ان پڑھ وگنوار،کسی خوشحال گھرانے کی شاہزادی یا غربت وافلاس کی ماری کوئی بدنصیب۔ یہ کہنا قدرے مشکل ہے کہ معاشرے کوئی خاص طبقہ کلی طور پر اس فتنہ سے محفوظ ہو، البتہ ایمان سے کفر کی جانب والی ان مسلم دوشیزاؤں میں چند باتیں مشترک ہیں، جووالدین اور سماج سے بغاوت کرنے والی لڑکیوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے، مثلاایمانی شعور کا فقدان، ضرورت سے زیادہ آزادی، پُرگھٹن ماحول، والدین کی طرف سے پیار سے محرومی کا احساس، غیر وحمیت کی کمی، دنیا پرستی، دینی وایمان سے دوری اور معاشرتی اقدار سے بیزاری وغیرہ۔یہ وہ چند اسباب ہیں جو لڑکیوں کی بغاوت اور غیرمسلم نوجوانوں کے ساتھ شادی کی طرف لے جاتے ہیں۔ .

ہمارے ملک میں گزشتہ کئی سالوں سے ”لوجہاد” کا شاخسانہ چل رہا ہے کہ مسلم نوجوانوں نے ہندوخواتین سے شادی کے ذریعہ جہاد کا نیا طریقہ ایجاداور اختیار کیا ہوا ہے۔ جبکہ یہ بالکل بے بنیاد اور حقیقت سے دور ہے، جن لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف لو جہادکی تشہیر کی وہی لوگ آج اس نام نہاد لو جہاد کے مقابلہ کے لئے مسلم لڑکیوں سے غیرمسلم نوجوانوں کی شادی کی مہم چلارہے ہیں ان کی کئی تنظیموں نے باضابطہ ایسے نوجوانوں کو مالی تعاون اور سماجی تحفظ دینے کا کھلم کھلا اعلان کیا ہوا ہے،جو کسی مسلم دوشیزہ سے شادی کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان تنظیموں کے خاص مقصد اور مہم کے تحت مسلم دوشیزائیں غیر مسلموں کے ساتھ بیاہ رچارہی ہیں۔ .

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کو قصوروار ماننے سے کہیں بہترہے کہ خود اپنی غلطی کی اصلاح کی جائیں۔سماج میں ایمانی اور دینی فضا سازگار کی جائے،اور اپنا نظام تربیت درست کیا جائیں۔بچیوں کے دلوں میں ایمان اس قدر توانا ہو کہ کفر کا کوئی بڑا سے بڑا جھونکابھی اسے ہلا نہ سکے۔ائمہ ،خطباء اور اساتذہ خاص طور سے والدین پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس امت کا ہر شخص نگہبان ہے اور اسے اللہ کے یہاں اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دینا ہے۔ .

دیکھا یہ گیا ہے کہ اس قسم کے معاملات میں زیادہ تر غفلت ، کوتاہی اور قصور والدین کی طرف سے ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ بچیوں کی نقل وحرکت ان سے پوشیدہ رہ سکے۔ مزید براں اگر والدین دین وایمان سے بے خبر ہوں، ان کے مزاج میں دینی حمیت وغیرت کا فقدان ہوں، گھر کا ماحول مادہ پرستی اور دنیا کی زیب وزینت سے محبت بھر ا ہواور نظام تربیت غلط ہو، تو اس قسم کے فتنہ ارتداد کا پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں ۔ اس لئے سب سے اہم اور ضروری چیز یہ ہے کہ والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، دین وایمان سے اپنا رشتہ استوار کریں اور صحیح خطوط پر بچوں کی تربیت کا فریضہ انجام دیں۔ .

لڑکیوں کی شادی میں تاخیر، شادی میں دولت کو ہی سب سے بڑا معیار تصور کرناوذات اور برادری کی رکاوٹیں جن کا اسلام میں کوئی تصور نہیں وغیرہ بھی اسباب کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کی بنا پر لڑکیاں غلط قدم اٹھالیتی ہیں۔ .

سماج میں بڑھتی ہوئی بے حیائی، فحاشی، عریانیت، ننگاپن، اخلاق باختگی اور حیاسوزی بھی اس فتنہ کی بنیادی وجوہات میں سے ہے جو زندگی کے ہر گوشہ میں بڑھتی جارہی ہے۔ مخلوط نظام تعلیم، بوائے فرینڈ کا چلن، محرم وغیر محرم کے بیچ ختم ہوتا حد فاصل، حیا سوز فلمی مناظر کا مشاہدہ، انٹرنیٹ سینڈروم اور موبائل کا بے جا استعمال لڑکیوں میں عام ہے۔ ظاہر ہے ایسی صورت حال میں ایمان بچانا کتنا مشکل ہے ہرکوئی سمجھ سکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close