ملی مسائل

کیا تعبیر کی غلطی باعث انتشار ہے؟

مسعود جاوید

دینی حلقوں میں بعض بنیادی مسائل و عقائد پر اپنی انفرادی را ئے کے لئے جانے جانےوالے متعدد کتابوں کے مولف راشد شاز صاحب کے سابقہ خیالات سے میں پوری طرح واقف نہیں ہوں لیکن ان کا حالیہ متنازع خیال جس میں انہوں نے نبیوں اور ولیوں کو بانٹنے والا بتایا ہے ، بادی النظر میں واقعی قابل اعتراض و تنقید ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کی تعبیر کا اسلوب صحیح نہیں ہونے کی وجہ سے مذمت اور دفاع کا دروازہ کھلا ہے۔ اور لوگ حدود کو پار کر رہے ہیں کوئی تکفیر تو کوئی واجب القتل جیسے الفاظ لکھنے کی حماقت کر رہا ہے۔۔ اس کا سبب خود راشد شاز صاحب ہیں اس لئے کہ اسی بات کو وہ بہتر انداز میں کہ سکتے تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے اپنی کتاب  "ادراک ” میں لکھا : ” توحید انسانی برادری کو ایک لڑی میں پروتی ہے لیکن نبی کا حوالہ انسانوں کو بانٹتا ہے”۔  ان کے اس خیال کو میں نے اس طرح سمجھا کہ نبیوں کے آنے کی وجہ سے ان کی امتی بنے اور ہر نبی کی امت ایک دوسرے سے مختلف ہے دوسرے لفظوں میں نبیوں نے بنی نوع آدم کو بانٹ دیا۔ یہ آخری جملہ معرض بحث ہے اور اس کی تنقید اس لئے بجا ہے کہ انہوں نے بالفاظ دیگر نبیوں کو متہم کیا ہے تفرقہ پھیلانے کے لیے۔

جہاں تک توحید مذاہب  کی بات ہے تو یہ بات میں نے متعدد پوسٹ میں لکھی ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کے ساتھ دین بھیجا جس کا نام اسلام تھا اور اس دین کی دعوت تھی ایمان باللہ الواحد۔ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ۔۔آدم ع کی وفات کے بعد وقت کے ساتھ لوگ آدم ع کے اس پیغام کو بهولتے گئے  اس دین کی مکمل اتباع سے دور ہوتے چلے گئے تو اللہ نے دوسرا نبی بھیجا اس کے ساتھ بھی وہی دین ‘ اللہ ایک اس کا کوئی شریک نہیں’ ،  پھر ان کی موت کے بعد لوگوں نے دین کی اتباع چھوڑدی اس میں تحریف کردیا تو پھر اللہ نے نبی بھیجا اس کا دین بھی وہی اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس طرح کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اس کرہ ارض پر مختلف علاقوں میں مختلف زبانوں کے بولنے والی مختلف قومیتوں میں بھیجا سب کا دین ایک ہی تھا اسلام – ان الدین عنداللہ الإسلام ( قران)  اب اسی اسلام کو کسی علاقے میں سلام تو کہیں شلوم اور کہیں شانتی سندیس تو کہیں message of peace کا نام دیا گیا۔ ان تمام نبیوں کی دعوت ایک تھی توحید یعنی ایمان باللہ الواحد تو تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے انسانی برادری کو اسی توحید کی لڑی میں پرونے کی دعوت اور کوشش کی تو جنہوں نے مان لیا وہ مومن اور جو نہیں مانا وہ کافر۔

ہاں دین ایک ہونے کے باوجود ہر نبی کے ساتھ اس خطہ کے حالات اور اطوار و عادات کے اعتبار سے الگ الگ شریعت بھیجی گئی۔ دین کا تعلق خالصاً عقیدہ سے ہے جبکہ شریعت کا تعلق زندگی گزارنے کو منظم اور مرتب کرنے کے اصول و قواعد و قوانین سے ہے۔ اتحاد فی العقیدہ ہر صحیح دین والے کا ایک ہے #توحید یعنی unity of God۔ مگر اختلاف في الشريعة ہے  اور اس اختلاف میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔ مضائقہ مختلف نبیوں کی امتیوں کے درمیان اختلاف کو مخالفت بنانے اور گروہ بندی کی وجہ سے ہے۔

اب یہ غیر مناسب بات ہے کہ اس اختلاف جس کو امتیوں نے  مخالفت کی شکل دے دی ہے اور دست و گریباں ہیں  اس کی وجہ نبیوں کو مانا جائے۔۔

امت کا اختلاف جزء لا یتجزاء ہے ایک اللہ ایک قرآن ایک رسول ایک کلمہ کے پڑھنے والوں میں اختلاف ہے : شیعہ  اور سنی۔ شیعہ بھی کئی خانوں میں بٹے ہوئے ہیں اثنا عشری رافضی وغیرہ۔

سنی بھی کئی گروہ میں بٹے ہیں: مقلد   غیرمقلد یا سلفی یا اہل حدیث۔

جو  مقلد ہیں وہ بھی چار خانوں میں بٹے ہوئے ہیں : حنفی  شافعی مالکی اور حنبلی۔

جو حنفی ہیں وہ بھی بر صغیر ہند میں دو گروہ میں بٹے ہیں دیوبندی بریلوی

اس طرح تقسیم در تقسیم دائرہ در دائرہ مذہب مسلک اور مشرب کا دار دورہ ہے۔ تو اصل تو دین  ہے مگر امت دائرہ در دائرہ بٹتی گئی اس کے لئے مورد الزام ائمہ اربعہ کو یا جامع احادیث کو ٹھہرانا درست نہیں ہے۔

میں نے پہلے بھی لکھا اور آج پھر ایک بار اپنا موقف واضح کردوں کہ حریت تعبیر کا حق ہر شخص کو دستور کے تحت حاصل ہے اور اسی لئے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ موافق رائے نہیں رکھنے والے شخص یا جماعت کے خلاف دشنام طرازی اپنائے اور اس میں سب سے زیادہ غصہ ان لوگوں پر آتا ہے جو انٹرنیشنل پولیس اور ‘حکم کل ‘ بن کر واجب القتل کا فتویٰ صادر کرتے ہیں۔ ان کو شاید قانونی گرفت کے بارے میں معلومات نہیں ہے یا جوش جنوں میں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیکولر ہندوستان میں نہیں کسی اسلامی ملک میں خلافت کے دور میں جی رہے ہیں۔

لیکن پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر واقعی شاز صاحب کا قول اہانت رسول یا انکار رسول صل اللہ علیہ و سلم کے مترادف ہے تو ان میں اور چارلی ہیبڈو میں  کیا فرق  ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کا استعمال اگر غیر مسلم کرے تو اس کو لعن طعن کرنا ٹھیک  اور مسلم کرے تو اس سے سوال کرنا اور اس پر تنقید کرنا بھی گوارہ نہیں۔ ۔۔۔ یہ دوہرا معیار کیوں ؟ جہاں تک ان کے بیان پر علمی بحث کا تعلق ہے اس کے بارے میں میں معتدل اہل علم کی رائے کے ساتھ ہوں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close