کیا کامیاب ہوگی عظیم مغلوں کو نیچا دکھانے کی کوشش؟

بھارت کی تاریخ اور تہذیب سے اسلام اور مسلمانوں کے نقوش کو مٹانے کی کوشش کبھی کامیاب ہوپائےگی؟ کیا قطب مینار کو منہدم کیا جاسکتا ہے؟کیادلی کے پرانا قلعہ اورلال قلعے کو ملیامیٹ کیا جاسکتا ہے؟ کیا تاج محل ، آگرہ کا قلعہ اور فتح پور سیکری کے تاریخ نقوش کو مٹایا جاسکتا ہے؟ کیا بیجاپور، گول کنڈہ اور حیدر آباد کی تاریخی یادگاروں کو نیست ونابود کرنا ممکن ہے؟ کیا ہندوستان کے دل سے مسلم ہندوستان کے نقش ونگار کو کھرچ پانا ممکن ہے؟ آج ان سوالوں کی ضرورت ،اس لئے ہے کہ ملک کی تاریخ کو بدلنے کی منظم سازش چل رہی ہے اور لگاتار کوششیں ہورہی ہین کہ گزشتہ چودہ صدیوں میں ملک کے طول وعرض میں جو کچھ بھی مسلم تہذیب کے اثرات ہیں انھیں ختم کردیا جائے ،حالانکہ یہ کام ناممکن ہے کیونکہ آگرہ، دلی، دولت آباد اور حیدر آباد کی تاریخی عمارتوں تک محدود نہیں ہیں مسلمانوں کی تاریخ کے نقوش، بلکہ اس کے اثرات انتہائی گہرے ہیں۔ تاریخی شخصیتوں کے نام سے منسوب سڑکوں،علاقوں اور شہروں کے نام بدل دینے یا اسکولوں ، کالجوں کی کتابوں میں کچھ تحریف کردینے سے اس نقش کو نہیں مٹایا جاسکتا۔ یہاں کے تہذیب وتمدن، عوام کی طرز زندگی اور ان کے مذہب تک کو اسلام اور مسلمانوں نے متاثر کیا ہے۔کیا ہندوستان کے لوگوں کو مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ بریانی، قورمہ کھانا چھوڑ دیں؟ کیا انھیں تندوری روٹیاں کھانے سے منع کرنا ممکن ہے؟ کیا کرتا ،پاجامہ اور شیروانی پر ملک میں پابندی لگائی جاسکتی ہے ؟کیا اوراردو اور ہندی زبانوں کو مٹایا جاسکتا ہے؟کیونکہ یہ تمام چیزیں مسلمانوں کی دین ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہی وسط ایشیا سے یہاں آئی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر مسلمانوں کے اثرات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو بہت سے آرایس ایس اور بی جے پی کے لیڈرون کے نام بھی بدلنے پڑینگے۔ لعل کرشن اڈوانی میں ”لعل“ فارسی کا لفظ ہے جو مسلمانوں کے اثر کو ظاہر کرتا ہے۔ جواہر لعل نہرو کے نام میں ”جواہر“ اور” لعل “دونوں ہی فارسی کے الفاظ ہیں۔ اس قسم کے سینکڑوں نام ہندووں میں رائج ہیں جو مسلم تہذیب وثقافت کو ظاہر کرتے ہیں جنھیں بدلنا ناممکن ہے۔ آج یہ تمام چیزیں بھارتی ثقافت کا حصہ بن چکی ہیںکیونکہ بھارتی تہذیب نام ہی ہے مخلوط کلچر کا۔ یہاں تک کہ ہندووں کی مذہبی کتابیں رامائن، مہابھارت وغیرہ مسلمانوں کے حوالے سے موجودہ دور تک پہنچی ہیں۔ یہ کتابیں پہلے تحریری شکل میں نہیں تھیں بلکہ برہمنوں نے یاد کررکھا تھا، انھیں لکھنے اور فارسی وعربی زبان میں ترجمہ کام کام مسلم عہدِ حکومت میں کیا گیا۔انھیں زبانوں سے اردو،ہندی اور ملک کی دیگر زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے ہیں۔آج فرقہ پرستوں اور تنگ نظروں کی طرف سے یہ کوشش تو کی جاتی ہے کہ ملک کی تاریخ کو بدل دیا جائے ،مسلمانوں کی تہذیب کے نقوش کو مٹادیا جائے مگر یہ کسی بھی حال میں ممکن نہیں ہے۔عام زبان میں مغلوں کو برا بھلا کہا جاتا ہے اور یہ تاریخ سے ناواقف لوگ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان پر حکومت کرنے والے مسلمان بس مغل ہی تھے حالانکہ ایسی بات نہیں ہے ۔ مغلوں سے پہلے یہاں غلام، خلجی، تغلق، سید اور لودھی خاندانوں نے بھی حکومت کیا ہے۔

اسلامی اثرات کی ابتدا

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہی برصغیر میں مسلمانوں کی آمد شروع ہوچکی تھی اور اس خطے پر اسلامی ، عربی، فارسی اور ترکی اثرات کی ابتدا ہوگئی تھی۔محمد بن قاسم کا حملہ بعد میں ہوا مگر یہاں اس سے پہلے چھوٹی چھوٹی اسلامی ریاستوں کی ابتدا ہوچکی تھی۔ بعد کے دور میں محمودغزنوی،شہاب الدین محمد غوری کے حملے ہوئے دلی میں مسلم حکومت کا قیام عمل میں آیا۔مختلف خاندانوں نے یہاں حکومت کیا جن میں غلام، خلجی، تغلق،سید،لودھی اور مغل شامل ہیں۔ان حکمرانوں نے جو سیاسی اثرات ڈالے سو اپنی جگہ پر لیکن اس سے کہیں گہرے تھے سماجی اور ثقافتی اثرات۔ ان اثرات کو مٹانا ناممکن ہے کیونکہ چند تاریخی عمارتوں کے انہدام سے وہ اثرختم نہیں ہوسکتا جو جانے ا،انجانے میں لوگوں کے کھان پان، لباس، زبان اور فکرپر مرتب ہوچکے ہیں۔

مغلوں کے نقوش

بھارت میں جن مسلم خاندانوں نے حکومت کیا ان میں سب سے آخری خاندان تھا مغل خاندان۔مغل سلطنت ، ایک ترکی۔منگول سلطنت تھی جو 1526 میں شروع ہوئی اور 19 ویں صدی کے وسط میں ختم ہوگئی۔ مغل بادشاہوں نے جدید ترین مخلوط ہند-فارسی ثقافت کو رائج کیا۔ 1700 کے ارد گرد، اپنی طاقت کے عروج پر، اس نے برصغیر کے سب سے زیادہ حصہ کو کنٹرول کیا ۔ اس کی وسعت مشرق میں موجودہ بنگلہ دیش سے مغرب میں بلوچستان تک اور شمال میں کشمیر سے جنوب میں کاویری وادی تک تھی۔ اس وقت15 لاکھ مربع میل کے علاقے پر پھیلی اس سلطنت کی آبادی کا اندازہ 11 اور 13 کروڑ کے درمیان لگایا گیا ہے۔ 1725 کے بعد مغل سلطنت کی طاقت میں تیزی سے کمی آئی۔ جانشینی کے اختلاف اورزراعت کے بحران کی وجہ سے مقامی طور پربغاوتیں پھوٹ پڑیں۔ اس دوران انگریزوں کی حکومت کے داخلی معاملے میں مداخلت بھی بڑھی۔ سلطنت کے آخری شہنشاہ بہادر ظفر شاہ تھے، جن کی حکومت لال قلعہ تک محدود رہ گئی تھی۔ انگریزوں نے انھیں قید میں رکھا اور 1857 کی بغاوت کے بعد میانمار کوجلاوطن کر دیا۔

1556 میں، جلال الدین محمد اکبر کی سلطنت کا آغاز ہوا جسے مغل عہد کے سنہری دور کی ابتدا کہا جاسکتا ہے جو شہنشاہ اورنگزیب کے انتقال کے ساتھ ختم ہوا۔ اگرچہ یہ سلطنت مزید 150 سال تک چلی مگر انتہائی کمزور تھی۔برصغیر میںمغل دور حکومت کے دوران مسلم بادشاہوںکی طرف سے تاج محل سمیت بہت سی عظیم یادگار عمارتیں بنائی گئیں۔ مغل خاندان نے خوبصورت محلات، باغات،مقبرے، مینارے اور قلعے تعمیر کرائے جو آج دہلی، ڈھاکہ، آگرہ، جے پور، لاہور، کشمیراور بھارت، پاکستان و بنگلہ دیش کے کئی دیگر شہروں میں کھڑے ہیں۔

کیا اس طرح تاریخ کو مٹایا جاسکتا ہے؟

گزشتہ دنوں راجدھانی دلی کے اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کردیا گیا اور مزید مطالبہ کیا جارہاہے کہ اورنگ آباد، الہ آباد، حیدر آباد،احمد آباد،لکھنو ، علی گڑھ، فیض آباد وغیرہ کے نام تبدیل کردیئے جائیں۔ ان تمام شہروں کے نام مسلمانوں کے نام پر ہیں اور مسلمانوں کی تاریخ گزشتہ کی جانب اشارہ کرتے ہیں لہٰذا انھیں ختم کرکے ”ہندو بھارت“ کے نقوش ثبت کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ دلی میں اکشر دھام مندر کی تعمیر کا مقصد تھا کہ سیاح قطب مینار اور لعل قلعہ کے بجائے مندر دیکھنے آئیں۔ آگرہ میں تاج محل سے زیادہ شاندار ”دیال باغ“ کی تعمیر کا سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے تاکہ آگرہ آنے والوں کو” مسلم ہندوستان“ کی شاندار یادگار تاج محل کے بجائے ”ہندو بھارت“ کے دیال باغ کی سیر کرائی جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب احساس کمتری کے شکار لوگ کر رہے ہیں۔ جن کے پاس ماضی کی ایسی تاریخ نہیں ہے جس پر فخر کرسکیں، وہی مسلمانوں کی شاندار تاریخ کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔انھیں سمجھنا چاہئے کہ شہروں کے نام تبدیل کردینے سے تاریخ کو نہیں تبدیل کیا جاسکتا۔ راجدھانی دلی سے لے کر مہاراشٹر کے دولت آبادتک اور بنگال سے لے کر گجرات وکرناٹک تک مسلم عہد حکومت کی ہزاروں تاریخی عمارتوں کو آزاد ہندوستان میں تاراج کیا جاچکا ہے۔ دنیا بھرمیں قومیں اپنی ماضی کے نقوش کی حفاظت کرتی ہیں مگر بھارت میں منظم سازش کے تحت تاریخی آثار کی تباہ کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے مگر تاریخ کو محفوظ کرنے کا کام تب ہی شروع ہوا، جب یہاں مسلمانوں کی آمد ہوئی۔ مسلمانوں سے قبل ہندوستان کے حالات کیا تھے، اس کی کوئی باقاعدہ تاریخ نہیں ملتی کیونکہ قدیم عہد میں یہاں تاریخ لکھنے کا رواج نہیں تھا۔

تاریخ بدلنے کی سازش

بھارت میں ان دنوں تاریخ سے کھلواڑ کا سلسلہ کئی سطح پر جاری ہے۔ سنگھ پریوار موجودہ تاریخ کو بدلنے کا خواب روز اول سے دیکھ رہا ہے۔ ”سنگھی مورخ اور ماہر علوم“ نئے نظریے کے ساتھ تاریخی کتابیں لکھنے میں مصروف ہیں۔ اتفاق سے اب حکومت بھی ان کے ہاتھ آگئی ہے لہٰذا یہ کام مزید آسان ہوگیا ہے اور وزارت تعلیم نصاب تعلیم کو بدلنے میں لگا ہوا ہے۔ ملک میں جتنے علمی، تاریخی اور تحقیقی ادارے ہیں ان کی سربراہی ہندتووادیوں کو سونپ دی گئی ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ جیسے جدید عوامی ذرائع نشرواشاعت پر سنگھی ذہنیت کے لاکھوں افراد ہروقت غلط پروپیگنڈے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہندوقوم پرستی کے دعویدار یہ ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ ہندوستان کا عہدوسطیٰ ایک ”تاریک دور“ تھا۔ اس سے قبل ہندووں کا وہ زمانہ جس میں برہمنوں کا دور دورہ تھا اور سماج کے ۰۸فیصد لوگوں کو غلام بناکر رکھا گیا تھا وہ شاندار تھا۔ تاریخی ٹی وی سیریلس اور فلموں میں تاریخ کو جس طرح سے توڑمروڑ کر پیش کیا جارہاہے وہ عوام کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کے لئے کافی ہے۔ ” مغل اعظم“ ”جودھا۔ اکبر“ ”تاج محل“ جیسی فلموں میں تاریخ کو غلط طور پر دکھایا گیا اور عوام کو لگتا ہے کہ وہ فلموں میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ تاریخی واقعات ہیں۔ بہرحال تاریخ کو بدلنے کی کوششیں، گزشتہ ہزار سال کی تاریخ کو بدل تو نہیں سکتیں البتہ لوگوں کو کنفیوزن کا شکار ضرور بناسکتی ہیں۔



⋆ غوث سیوانی

غوث سیوانی
غوث سیوانی دہلی کے معروف سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

مدارس اسلامیہ کا ایک مختصر جائزہ

تعلیم کے فروغ میں اہم کردار نبھا رہے ہیں دینی مدارس اسلامی مدارس کا علم …