ملی مسائل

کیوں ہم وسوسوں کا شکار ہیں؟

مدثراحمد

قریب تین سال پہلے کی بات ہے، ہمارے ایک جاننے والے وکیل نے اپنے فون پر فوراً ملاقات کرنے کی درخواست کی۔ اچانک وکیل صاحب کے فون کو سن کر ہم اُن سے ملنے چلے گئے، وہاں وکیل صاحب کے سامنے ایک برقعہ پوش عورت اپنے شیر خوار بچے کو لیکر بیٹھی ہوئی تھی۔ وکیل صاحب نے ہمیں کہا کہ یہ عورت آپ ہی کے سماج کی ہے او را س عورت کے شوہرنے اسے طلاق دے دیا ہے۔ عورت کا فیصلہ ایک دارالقضاء نما ادارے میں ہو اہے، مگر فیصلے کے عوض ان ذمہ داروں نے اس عورت سے تین ہزار روپئے لئے تھے، اس کے علاوہ طلاق دینے کے بعد ا سکے شوہرنے فیصلہ کرنے والوں کے ہاتھ میں پچاس ہزار روپیئے دینے کا وعدہ کیا ہے، اس پچاس ہزار روپئے میں سے35 ہزار روپئے ہی اس عورت کے حصے میں آئے بقیہ 15 ہزار روپئے کا حساب نہیں مل رہا ہے اور تو اور یہ عورت اس قدر پریشان ہے کہ اس کے پاس دو وقت کا کھانا کھانے کیلئے تک پیسے نہیں ہیں۔

وکیل صاحب کی بات سن کر ہم نے اُس عورت سے معاملہ دریافت کیا تو اُس نے وکیل صاحب نے جو بات کہی ہے وہی بات دوہرائی۔ اسی دوران بچہ زورزور سے رو رہا تھا، قریب دس گیا رہ مہینوں کابچہ خاموش ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، ہم نے اس سے پوچھا کہ آخر یہ بچہ کیوں رورہا ہے، تو اُس عورت نے کہا کہ میں کل رات سے بھوکی ہوں اور یہ بچہ آج صبح سے اب تک دودھ تک نہیں پیا ہے۔ اس لئے وہ بھوک سے رورہا ہے۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کیا چاہ رہی ہیں تو اس نے کہا کہ میں عدالت جانا چاہتی ہوں اور مجھے انصاف چاہیے اور میرے شوہرنے پچاس ہزار روپئے دیکر دوسری شادی کیلئے جس طرح سے مجھے طلاق دے دی ہے، اُس کا فیصلہ میں عدالت سے کروانا چاہتی ہوں، کم ازکم اس بچے کے بڑے ہونے تک کا معاوضہ میں اُس سے میں طلب کرونگی۔

 چونکہ عورت کوہمارے سماج یا پھر دارالقضاء نماادارے سے مکمل انصاف نہیں مل پایا تھا اس لئے ہم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس معاملے کودوبارہ دارالقضاء میں ہی سلجھائینگے، آپ عدالت نہ جائیں۔ تو اس عورت نے کہا کہ وہاں انصاف پیسے والوں کیلئے ملتا ہے نہ کہ ہم غریبوں کیلئے۔ سکریٹری نقدرقم پوچھتا ہے تورائٹر کے موبائل میں کرنسی ڈالنی ہوتی ہے، اس لئے مجھے اب ہمارے سماج کے اداروں پر بھروسہ نہیں ہے۔ اس لئے میں عدالت کو ہی جائونگی۔ اس عورت کی ضد اور حالت کو دیکھ کر ہم نے زیادہ تو کچھ نہیں کہہ پائے اور کرپائے، البتہ ہماری طاقت کے مطابق جو مدد ہوسکی وہ کرآئے۔ دراصل اس واقع کو بیان کرنے کے پیچھے اہم مقصد یہ تھا کہ اس طرح کے کئی واقعات ہمارے سماج میں رونما ہورہے ہیں۔ شادی بیاہ کے بعد اکثر طلاق، خلع کے معاملے ہمارے یہاں دارالقضاء و مفتیوں کے درمیان حل ہونے کے بجائے مسجدوں کے ذمہ داروں کے سامنے کئے جارہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگاکہ موجودہ دور کے مسجدوں کے ذمہ داران کس حد تک اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیتے ہیں، اُن کے پاس کتنا تقویٰ و پرہیزگاری پایا جاتا ہے وہ دین کوکتنی حد تک سمجھتے ہیں، قرآن وحدیث کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اکثر مسجدوں کے ذمہ داران متقی وپرہیز گار سے زیادہ محلے کے دبنگوں، سیاستدانوں اور بعض مقامات پرتو ایسے لوگ بھی مل جائینگے جن کا تعلق مافیا، سود خوری، جوئے بازی، حرام خوری سے ہوتا ہے۔ اب بتائیں کہ ایسے لوگ کس طرح سے کسی کی زندگی کا فیصلہ دین ودنیا کے دائرے میں رہ کر کرسکتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات ہمارے سامنے ہیں جن میں طلاق خلع کے فیصلے کروانے کیلئے مسجدوں کے ذمہ داروں سے رجوع کرنے والی خواتین کااستحصال بھی ہو اہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ ا سطرح کے واقعات عام طور پر ہر جگہ ہوتے ہیں، لیکن چند ایک مقامات پرایسے واقعات پیش آجاتے ہیں جس کی وجہ سے تمام لوگ شک وشبہ کے دائرے میں آجاتے ہیں اور لوگ انہیں موردِ الزام ٹھہرادیتے ہیں۔ یہ باتیں کڑوی حقیقت ہے لیکن عوام کے سامنے لانا اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے درمیان آج کل جو طلاق خلع کے معاملات کی بحث جاری ہے اور یہ بحث عدالتوں تک جانے کی وجہ یہی ہے۔

اگر مسلمانوں کا نکاح مسجد کے امام یا قاضی صاحب کی موجودگی میں ہی کیاجاتا ہے اور اس محفل کو بابرکت مانا جاتا ہے اور قاضی صاحب کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرتے ہوئے نکاح کی سرگرمی کو انجام دیتے ہیں تو یقیناطلاق وخلع جیسے معاملات کو بھی حل کرنے کیلئے دین کے حدود میں رہ کر حل کیا جاسکتا ہے۔ مگر نکا ح کرنے کیلئے ہم قاضی صاحب کو مدعو کررہے ہیں جبکہ نکاح جیسے رشتے کوتوڑنے کیلئے انپڑھ و جاہلوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ ان حالات میں عورتیں صحیح انصاف کیلئے غیروں کے درمیان نہ جائینگی تو کیا کرینگی؟

ہم یہ بات بھی واضح کردینگے کہ ہمارے پاس جو دارالقضاء کا جو نظام ہے اس نظام کے مطابق اگر فیصلے ہوتے ہیں تو یقینا مسلم عورتیں و مرد طلاق، خلع، حلالہ اور وارثت جیسے معاملات کولیکر عدالت کا دراوزہ نہیں کھٹکھٹائینگے، لیکن جس طرح سے ہمارا ایمان کمزور ہے اسی طرح سے ہمارے دارالقضاء کانظام بھی کمزور ہے۔ لوگ دارالقضاء کو ا سلئے تسلیم نہیں کرتے ہیں کہ وہاں پر خاکی وردی والے نہیں ہوتے، طرفین سے گالی گلوچ نہیں کرتے، گھنٹوں تک انتظار نہیں کروایا جاتا، نہ ہی تاریخ پر تاریخ  دی جاتی ہے۔ بات سمجھنے کی ہے کہ آج ہم اپنی ہی عزتوں کو عدالتوں میں نیلا م کررہے ہیں، کیوں ہم اسلامی نظام سے متفق نہیں ہورہے ہیں، کیوں ہم وسوسوں کا شکار ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close