ملی مسائل

گستاخانہ خاکے اور ہمارے رویے

محمد ریاض علیمی

پوری دنیا میں مسلمانوں کو کمزور کرنے اور دین اسلام کا نام مٹانے کی ناکام کوششیں عرصہ دراز سے جاری ہیں۔ صیہونی منصوبہ ساز باقاعدہ طور پر منظم طریقے سے ان کوششوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ صیہونی میڈیا نے اسلام کو مغربی دنیا میں ایک خطرے کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ مسلمانوں پر دہشتگرد کی چھاپ لگائی جارہی ہے۔ یہ پروپگینڈہ کیا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعدادپوری دنیا کے لیے خصوصا مغربی دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اسی خطرے کو بنیاد بناتے ہوئے مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کو اسلام چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کردار کشی بھی کی جارہی ہے۔ آزادئ اظہار رائے (Freedom of Expression) کے نام سے اسلام اور قرآن کی توہین کی جارہی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات بولے جارہے ہیں۔ کبھی آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بنائے جارہے ہیں تو کبھی ان پر نازل ہونے والی کتاب کو جلایا جارہا ہے۔ سن دوہزار کے بعد اس میں باقاعدہ تیزی دکھائی دی اور ہر سال کچھ نہ کچھ گستاخانہ مواد شائع کرکے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہچائی گئی۔ 2004میں صومالی نژاد مرتد خاتون آیان ہر سی علی (Ayaan Hirsi Ali)اور ہالینڈ کے فلم میکر تھیووین گاف (Theo Van Gogh)نے مل کر ’’Submission‘‘ کے نام سے ایک گستاخانہ فلم بنائی جس کا نام عربی نام ’’ اسلام ‘‘ رکھا گیا۔ اس فلم میں قرآن پاک کی توہین کی گئی اور ایک برہنہ خاتون کے جسم پر آیات قرآنی لکھی ہوئی دکھائی گئی۔ اس فلم کے خلاف بھی پورے عالم اسلا م میں شدید احتجاج ہوا۔ جب اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو اس فلم کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر تھیووین گاف کو 2004 میں ہالینڈ کے شہری محمد بوژہری نے قتل کرکے جہنم واصل کردیا تھا۔ اس کے بعد 30ستمبر 2005کو ڈنمارک کے کثیر الاشاعت اخبار جیلنڈس پوسٹن (Jyllands Posten) نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ گستاخانہ خاکے شائع کیے۔ اس گستاخی کے بعد پورے عالم اسلام میں ہلچل مچ گئی اور عالمی سطح پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا اور ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ بعد میں یہ مسئلہ عارضی طور پر ٹھنڈا ہوگیا۔ ایک سال بعد اس معاملے کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ صیہونی ڈینٹل پائیس پھر میدان میں آیا اور یہودیو ں کے زیر اثر یورپ کے سات بڑے اخبارات میں یکم فروری 2006کو فرانس میں چارلی ہیبڈو (Charlie Hebdo)، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، اسپین اور سوئزرلینڈمیں جیلنڈس پوسٹن والے بارہ خاکے دوبارہ شائع کیے گئے۔ اس معاملے کو مزید بڑھایا گیا۔ 2008میں ہالینڈ کے کارٹونسٹ گریکوری نیکشٹ (Gregory Nekschot)نے اپنے خاکوں سے اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا۔ اسی طرح 2008میں ہالینڈ میں رکن پارلیمنٹ گیرٹ ولڈرز نے ایک متنازعہ فلم ’’ فتنہ ‘‘ بنائی جس میں قرآن کریم کی آیات پر تنقید کی گئی جس پر پوری دنیا میں مظاہرے کیے گئے اور گیرٹ ولڈرز کے مقد مہ کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن اس پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اسی طرح 21مارچ 2011 کو ملعون پادری ٹیری جونز (Terry Jones)نے بھی قرآن کریم کی گستاخی کی۔ اس نے قرآن پاک پر مقدمہ بناکر مجرم ٹھہرایا اور پھر سزا کے طور پر قرآن پاک کو نذر آتش کیا۔ 2نومبر 2011کو فرانس کے متنازعہ ترین اخبار چارلی ہیبڈو نے پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی والا شمارہ ’’ شریعہ ہیبڈو‘‘ (Sharia Hebdo)کے نام سے جاری کرنے کا فیصلہ کیا جس کے رد عمل میں اس پر حملہ ہوا لیکن اس کا ایڈیٹر گستاخیوں سے باز نہیں آیا اور یہ سلسلہ 2012میں بھی جاری رہا۔ اسی ٹیری جونز نے ستمبر 2012میں ایک متنازعہ فلم بنائی جس کا نام ’’ مسلمانوں کی سادگی‘‘ رکھا۔ یہ فلم بھی گستاخیوں سے بھری ہوئی ہے۔ 2015میں ایک مسلح مسلمان نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘ کے دفتر پر حملہ کر کے گستاخانہ کارٹون چھاپنے پر 12 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد چند عالمی نشریاتی اداروں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ایسا کوئی گستاخانہ خاکہ نہیں چھاپیں گے جس سے کسی کی مذہبی دلآزاری ہو لیکن جس طرح مغرب نے اکٹھے ہو کر پیرس میں یہ اعلان کیا کہ ہم سب چارلی ہیں اور اگلے شمارہ میں مزید گستاخانہ خاکے شائع کر کے 6 زبانوں میں 30 لاکھ کی تعداد میں پوری دنیا میں تقسیم کئے گئے ہیں۔

ہالینڈ کی اسلام دشمن جماعت ’’فریڈم پارٹی ‘‘کے سربراہ ملعون گیرٹ ولڈرز(Geert Wilders) نے ایک بار پھر دنیا کا امن داؤ پر لگاتے ہوئے نومبر 2018میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان کیا ہے۔ گیرٹ ولڈرز(Geert Wilders) ایک ڈچ سیاستدان ہے اور اس کی شہرت اسلام پر تنقید کی وجہ سے ہے۔ نیدر لینڈ اور بیرون نیدرلینڈ میں اسلام مخالف خیالات کی وجہ سے وہ متنازع بنا ہوا ہے۔ اس کی پارٹی نے نیدر لینڈ میں اسلام کے خلاف مہم چلاتے ہوئے قرآن کا مقابلہ ہٹلر کی لکھی ہوئی کتاب ’’مائن کیمپف‘‘ (Mein Kampf) سے کیا۔ نیدر لینڈ میں قرآن کی اشاعت اور اس کی تلاوت پر پابندی عائد کرنے کی مہم چلائی۔ مساجد کو تالا لگانے اور نئی مساجد کی تعمیر کو ممنوع قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اسی کے ایماء پر ڈچ حکومت نے حجاب، برقعہ اور نقاب پر پابندی لگائی۔ ولڈرز ایک لادین قسم کا انسان ہے۔ اس کے عقیدے کے مطابق خدا کا وجود محال ہے۔ اسلام کی مخالفت اور توہین کی وجہ سے ولڈرز مستقل طور پر سادہ لباس میں پولس محافظین کے محاصرہ میں رہتا ہے اور کسی کو بھی بغیر مشورے، تحقیق اور حفاظت کے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ ریاست کی طرف سے دیے گئے ایک بلٹ پروف گھر میں رہتا ہے جس کی نگرانی میں ہمہ وقت پولس تعینات رہتی ہے۔ وہ گھر سے پارلیمان اپنے دفتر تک سخت پولس محاصرہ میں بلٹ پروف جیکٹ پہن کر جاتا ہے۔ اس کا دفتر ڈچ پارلیمان میں سب سے الگ ایک کونے میں بنا ہوا ہے تاکہ کوئی بھی حملہ آور اس تک نہ پہنچ سکے۔ ایک ہنگرین خاتون ڈپلومیٹ کرسٹینا ویلڈرس (Diplomat Christine Wilders)سے اس کی شادی ہوئی جس سے وہ سیکیورٹی کی وجہ سے ہفتہ میں صرف ایک بار ہی ملتا ہے۔ اسلام دشمن ڈچ سیاست دان گیرٹ ولڈرز نے اعلان کیا کہ اس بار گستاخانہ خاکوں کا نمائشی مقابلہ سیکورٹی نکتہ نظر سے ڈچ پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر منعقد کیا جائے گا۔ اس میں ڈچ شہریوں سمیت فریڈم پارٹی کے اراکین کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور آن لائن گستاخانہ خاکے بھی طلب کیے گئے ہیں۔ ڈچ میڈیا کے مطابق اس مقابلے کو سوشل میڈیا پر بھی براہِ راست دکھایا جائے گا اور شرکا ء کو بھاری انعامات دیے جائیں گے۔ اس گستاخانہ مقابلے کے جج کے طور پر گیرٹ ولڈرز نے امریکہ سے تعلق رکھنے والے ملعون کارٹونسٹ بوش فاسٹن کے نام کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہی جس نے 2015میں امریکن فریڈم ڈیفینس انیٹیٹیو (American Freedom Defense Initiative)کے تحت منعقدہ گستاخانہ مقابلے میں اوّل انعام حاصل کیا تھا،جس کی وجہ سے ملعون گیرٹ ولڈرز نے اس کو ڈچ پارلیمنٹ میں منعقد ہونے والے مقابلہ کا منصف بنایا ہے۔

اس مقابلہ کو منعقد ہونے میں ابھی کچھ مہینے باقی ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ منعقد نہ ہو۔ لیکن ظاہری حالات و اسباب بتاتے ہیں کہ یہ منعقد ہوکر رہے گا۔ کیونکہ گذشتہ سالوں بھی اس قسم کے مقابلوں کے اعلانات کیے گئے اور مسلمانوں کے احتجاج کے باوجود وہ مقابلے اپنے وقت پر ہوئے۔ جب بھی اس طرح کا واقعہ سامنے آیا تو ہر بار مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا، ریلیاں نکالیں، مظاہرے کیے، دھرنے دیے۔ لیکن گستاخوں کے کانوں میں جوں بھی نہیں رینگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان خاکوں کی مذمت میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ صرف عوامی سطح پر ہوتا ہے۔ حکومتی سطح پر کوئی اقدامات اور بائیکاٹ نہیں کیے جاتے۔ یہ ضرور ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مذمتی قرار دادیں جمع کروائی جاتی ہیں جوکہ قابلِ تحسین ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کی حیثیت محض عارضی طور پر دل کو بہلانے اور عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی ہوتی ہے۔ کچھ دنوں تک معاملہ زیرِ بحث رہتا ہے۔ پھر سب ٹھنڈے پڑجاتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد گستاخی کا پھر کوئی نیا شوشا چھوڑدیا جاتا ہے۔ پھر عوام سڑکوں پر آتی ہے۔ پھر ختم ہوجاتا ہے۔ گذشتہ پندرہ بیس سالوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ ویسے بھی عوام احتجاج سے زیادہ کر بھی کیا سکتی ہے؟ یہ کام تو حکمرانوں اور اعلیٰ حکام کا ہے جو اپنے اختیارات استعمال کرکے فوری طور پر اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھاسکتے ہیں اور گستاخی کرنے والے ملک کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔ اگر تمام اسلامی ممالک اس ملک سے اپنا اپنا سفیر واپس بلاکر اس ملک کے سفیر کو اپنے وطن سے نکال دیں اور ایمبیسی کو تالا لگادیں تو قوی امید ہے کہ اس طرز عمل سے گستاخی کرنے والے اپنے ناپاک عمل کو روکنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ہالینڈ پہلے بھی کئی مرتبہ گستاخانہ خاکے شائع کرچکا ہے اور گستاخانہ فلمیں بھی بناچکا ہے۔ لیکن مسلمان حکمرانوں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ہالینڈ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ مسلمان حکمرانوں کی اسی بے حسی، غفلت اور سستی کی وجہ سے ہالینڈ آج ایک مرتبہ پھر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں مصروف ہے۔ بدقستی سے مسلمان حکمرانوں کی سیاسی ترجیحات میں حرمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا اہم ترین نکتہ موجود نہیں جس کی وجہ سے مغربی ممالک میں پائے جانے والے منفی عناصر کی بیخ کنی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ بیان بازی اور مذمتیں بہت ہوگئیں اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ فوری طور پر نیدرلینڈ (ہالینڈ) کی ایمبیسی کو تالا لگایاجائے اور اس کے ساتھ ہر قسم کی خارجی و سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنااحتجاج ریکارڈ کروایا جائے۔ المیہ یہ ہے کہ جو لوگ محض ایک کرسی کی خاطر آل پارٹیز کانفرنس تو بلالیتے ہیں لیکن ناموسِ رسالت کی حفاظت پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ایسے موقع پر عوام کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایک وقت تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی خبریں منظر عام پر آتی تھیں تو پورے ملک سے لوگ سڑکوں پر آجاتے تھے اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اپنی اپنی بساط کے مطابق ناموسِ رسالت پر پہرہ دیتے تھے۔ لیکن جوں جوں وقت گزررہاہے اور آئے روز گستاخیاں بڑھتی جارہی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ایمانی جذبہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اب کہیں سے گستاخی کی خبر آتی ہے تو شروع میں اس کا رد عمل صرف سوشل میڈیا پر نظر آتاہے پھر کہیں جاکر علاقوں میں چھوٹی چھوٹی ریلیاں نظر آتی ہیں۔ عوام اب یہ سمجھ رہی ہے کہ آئے روز خاکے بنائے جا رہے ہیں۔ ان کو ہمارے احتجاج سے کوئی فرق نہیں پڑتاتو ہم اپنی توانائیاں کیوں صرف کریں۔ اگر ہم نے یہ سوچ اپنالی تو سمجھ لیں کہ اسی میں ان گستاخوں کی کامیابی ہے۔ ان کا مقصد ہی یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کے دلوں سے حرمت رسول پر جان دینے کا جذبہ ختم کیا جائے۔ لہٰذا ہمیں اپنی طاقت اور بساط کے مطابق احتجاج کرکے حکومت کو عملی اقدام اٹھانے پر مجبور کرنا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر یہ معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایمانی جذبہ برقرار ہے اور وہ آج بھی حرمت رسول پر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close