ملی مسائل

ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

یہ حقیقت ہے کہ اس وقت ہندوستان کے سماجی، معاشرتی، قانونی، عدالتی قوانین کی دھجیاں اڑانے کی اورہندوستان کے سیلولزم کے تانے بانے بکھیرنے کی مہم زوروں پر ہے، د ر اصل جب سے موجودہ حکومت برسر اقتدارآئی ہے، ہر طرف خصوصا مسلمانوں کے لئے ایک خوف کا ساماحول پیدا کیا جارہا ہے، جس کے چلتے مسلم سماج میں ایک انجانا سا خوف پایا جاتا ہے اور سراسیمگی اور وحشت کی سی کیفیت محسوس ہوتی  ہے ؛ بلکہ حقیقت میں دیکھاجائے تو حق کی آواز کو دبانے اورچھپانے اورباطل کو بال وپر دے کر اس کو پروان چڑھانے کی کوشش ہر دم کی جارہی ہے، کسی بھی  ہندوستانی باسی اور نگری کے لئے ہمارے عظیم ملک میں جس کی جمہوریت پر ساری دنیا رشک کرتی ہے،یہ نہایت فکریہ لمحہ ہے، یہاں ہر طرف زبان بندیٔ محفل کا سماں نظر آتا ہے، ہر حق گو،زبان کو لگام لگانے پر مجبور ہے ؟خصوصا مسلمانوں کے ساتھ جہاں ان کی لڑکیوں کو سوچی سمجھی سازش کے تحت ارتداد کی طرف دھکیلا جارہا ہے، انہیں ہندو لڑکوں سے دوستی پر ابھارا جارہا ہے، وہیں دوسری طرف مسلمان لڑکوں کے ساتھ موب لیچنگ، مار پیٹ کے واقعات آئے دن پیش آرہے ہیں، زمانہ جاہلیت میں بھی ایسے ہی ہوا کرتا تھا کہ حکمراں قوم کے افراد محکوم قوم کے مرد وخواتین کے ساتھ جو سلوک کرتے تھے: کچھ مردوں کو قتل کردیا جاتا تاکہ ان کے انجام کو دیکھ کر دیگر لوگ خوف زدہ رہیں، کچھ مردوں کو قید وبند کی صعوبتوں میں ڈال دیا جاتا تاکہ قید کی مصیبت سے گھبرا کر وہ حکمراں قوم کی ذہنی غلامی قبول کرلیں۔ ، کچھ مردوں کو محنت ومشقت اور مزدوری کے کاموں کے لیے زندہ رکھا جاتاتھا۔ یہی پالیسی آج کل اپنائی جارہی ہے۔ کچھ اسی طرح کی تدابیر کا سہارا لے کر ماحول کو خوف زدہ بنا کر مسلمان لڑکیوں کو طوائف بنایا جارہا ہے۔

مسلمان لڑکوں کوفرضی انکانٹر کے نام پر قتل کیا جارہا ہے، جھوٹے مقدماتمیں پھنسا کر جیلوں میں ڈھکیلاجارہاہے،یا مسلم لڑکیوں کے خلاف اغوا، جبریہ ارتداد، اور "ریپ یوگ – کی مہم چلائی جارہی ہے،جس کے تحت مسلم لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر ان کی عزت اور زندگی سے کھلواڑ کرنے کے لیے پچھلے کچھ وقت سے شدت پسند تنظیموں نے یہ مہم چلا رکھی ہے، اس مہم کا مقصد مسلم قوم کو ذہنی طور پر رسوا کرنا اور مسلم لڑکیوں کو زبردستی مرتد بناناہے، اس مہم کے تحت خصوصا کالج و یونی ورسٹی جانے والی لڑکیوں کو ٹارگیٹ بنایا گیا ہے، جو اعلی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے گھر چھوڑ کر کالجوں وغیرہ میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اس مہم کے تحت مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں سے دوستی کرائی جاتی ہے، اور اسی دوستی کی آڑ میں محبت کا جال پھیلاکراس لڑکی کو گھروالوں کی بغاوت پر آمادہ کرکے گھر سے فرار کرایا جاتا ہے، بعد میں ان کا مذہب تبدیل کرکے، اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کرنے کے بعد انہیں بے سہارا چھوڑدیا جاتا ہے۔ اس نام ونہاد مہم کو انتہا پسند تنظیموں نے ’’بیٹی بچاؤ، بہولاؤ‘‘ کانام دیاہے، جس کے لئے اولا در پردہ ’’لوجہاد‘‘ کی فرضی  کہانی تیار کی گئی، تاکہ اس کے بالمقال ’’ریپ یوگ ‘‘ کو بڑھاوا دیا جائے اورہندو لڑکیوں کو ’’لوجہاد‘‘ کے نام پر ابھار کر ان کی غیر کو للکار کر مسلم لڑکیوں کو نشانہ بنایا جائے اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا جائے، جس طرح یہ لو گ ’’لوجہاد‘‘ کے ذریعے تمہاری بیٹوں اور بہنوں کا مذہب تبدیل کر رہے ہیں، اسی طرح کا رویہ مسلم لڑکیوں کے ساتھ کیا جائے، اسی لو جہاد کے تناظر میں مسلم لڑکوں کو کسی بھی طرح ٹارچر اور مقدمات میں پھنسا کر ان کو یا تومار دیا جائے یا ادھ جان کرکے پابند سلاسل کردیاجائے۔

غلام مصطفی نعیمی کے مضمون کے حوالے سے اس سلسلے کے چند ایک شر انگزیوں کا ذکرنا ضروری ہے، تاکہ مسلم سماج اس حوالے سے جاگ رک ہوجائے اور بہن بیٹوں کی حفاظت اور اپنے تئیں بیداری اور بیدار مغزی کا مظاہر کرے۔ مسلم لڑکیوں کے اغوا اور جبری ارتداد کے لیے آر ایس ایس کی کئی تنظیمیں میدان عمل میں کام کر رہی ہیں جن میں چند یہ ہیں :وِشو ہندو پرِیشد، ہندو جاگرن منچ، ہندو یوا واہِنی، بجرنگ دل، وندے ماترم مشن، بھارت سیوا شرم سنگھ، ہندو سہمتِی سنگٹھن وغیرہ۔ یہ ساری تنظیمیں علانیہ اپنے اس غیرقانونی ایجنڈے پر عمل کر رہی ہیں .

اس مہم کے چند شر انگیز طریقے :

٭ ہریانہ صوبہ کے شہر "حصار میں اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے بیٹی بچا،بہو لا مہم کے آغاز کے موقع پر مسلم لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسانے والے ہندو لڑکوں کو ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ان کی مکمل حفاظت اور سماج میں ان کی عزت وشہرت کا یقین بھی دلایا، ہندو جاگرن منچ یوپی کے مکھیا اجو چوہان نے 1 دسمبرط2017 کو اعلان کیا کہ قریب 2100 مسلم لڑکیاں ان کے رابطے میں ہیں، جن کی اگلے چھ مہینوں کے اندر تبدیلی مذہب کے بعد ہندو لڑکوں سے شادی کرائی جائے گی،اتراکھنڈ کے "لکسر اسمبلی حلقہ کے ممبر اسمبلی سنجے گپتا نے مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کے لئے لو کرانتی[Love kranti] نامی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت سنجے گپتا نے 500ہندو لڑکوں کا ایک گروپ بنایا ہے اور ان سبھی لڑکوں کو مسلم لڑکیوں کو محبت کے جھوٹے جال میں پھنسا کر گھر سے بھگاکر مرتد بنانے کا ٹارگیٹ دیا ہے،اتراکھنڈ میں فی الحال بی جے پی کی حکومت ہے اور وزیر اعلی ترویندر راوت نے بھی اس مہم کی حمایت کرکے دستوری قدروں کو پامال کرنے میں کوئی تمل نہیں کیا،یہ سارے شرانگیز اعلان کھلے عام کیے جارہے ہیں ؛ لیکن قانون وانتظامیہ کے ذمہ داران پر اس کا کوئی بھی اثر نہیں ہے کیوں کہ جب اسمبلی اور وزارت کی کرسی پر بیٹھے ہوئے اشخاص ہی یہ خلاف دستور مہم چلارہے ہیں تو ان کے خلاف کون قانونی کاروائی کرے؟

اس مہم کے تحت ارتداد کے جال میں مسلم لڑکیوں کو پھنسانے کا کام بڑے زور وشورسے جاری وساری ہے، اس طرح کے کئی واقعات ملک کے مختلف حصوں میں ہوتے نظر آرہے ہیں، انگریزی اخبار ’’ انڈین ایکسپریس‘‘ کے مطابق مغربی بنگال میں اسی مہم کے تحت ایک سال میں قریب پانچ سو مسلم اور عیسائی لڑکیوں کو ہندو بنانے کی کوشش میں وہاں کی شر پسندی جماعتیں کامیاب ہوچکی ہیں، اس طرح کے کئی ایک واقعات یوپی کے علاقوں میں پیش آچکے ہیں، بی بی سی لندن کی حالیہ خبروں کے مطابق ایک مسلم لڑکی اپنے ہندودوست سے شادی کے بعد اس کے ساتھ کئے جانے استحصال کی داستاں سنانے ہوئے نمناک نظر آرہی ہے اور وہ اس کے تمام کرتوں کو واشگاف کر رہی تاکہ اس لڑکے کی ہونے والی دوسری بیوی کو اس طرح کے احوال سے گذرنا نہ پڑے، سوشل میڈیا میں اس حوالے سے بعض یوڈیوز میں مسلم لڑکیوں کو خود پولیس کے جان سے بعض ہندو لڑکیوں سے شادی رچانے پر مجبور کرتے ہوئے دکھایا جارہا ہے۔ رامپور کا ایک مسلم خاندان اپنے ایک لڑکی کے اغوا اور شر پسند عناصر کے اس غائب کرنے پر مدد کی دہائی دیتے نظر آرہا ہے۔ انہیں واقعات میں سے ایک واقعہ میں پولیس کی مسلم بیوی کو پولیس کے بیوی اور ساس کو پیٹتے ہوئے بھی دیکھاگیا ہے۔ ابھی کل ایک صاحب نے حیدرآباد کے مہدی پٹنم علاقے میں ایک مسلم لڑکی کے غیر لڑکے ساتھ خوش گپیوں میں مبتلا فوٹوز سوشل میڈیا پر وائرل کی ہیں۔

ارتداد کے لئے شرپسندوں کی تراکیب :

شدت پشند تنظیمیں مسلم لڑکیوں کو ارتداد کا شکار بنانے کے لئے اوران کو محبت کے جھانسے میں پھانسنے کے لئے کالج اور یونیورسٹیوں کا انتخاب کرتی ہیں :ایک رپورٹ کے مطابق کبھی کالج و یونیورسٹی میں اسباق اور لکچر کے نوٹس(Notes) وغیرہ دیکر جان پہچان پیدا کی جاتی ہے. بعد میں اسی طرح دیگر امور میں کوآپریٹ(Co-operate)(ایک دوسرے کی مدد) کرکے دوستیاں کی جاتی ہیں، کچھ مسلم تہواروں پرمثلا عید وغیرہ پر تحفہ تحائف دیکر مسلم تہذیب کی تعریف وتوصیف کرکے خود کو اسلام کی تعلیمات سے متاثر بتایا جاتاہے٭ مختلف خاص مواقع مثلا برتھ ڈے جیسے موقع پر مہنگے گفٹ موبائل، کپڑے، جوتے، پرس وغیرہ دیکر امپریس (Impress) سے متاثر کیا جاتاہے٭ پکنک وغیرہ کے بہانے اچھے ہوٹلوں میں جاکر کھانا کھلانا اور واپسی پر گفٹ دینا بھی اسی معمول کا حصہ ہے٭ کالج کے بعد ٹیوشن کے بہانے مختلف کوچنگ سینٹرز میں آنے پر آمادہ کیا جاتا ہے،اس وقت تک لڑکی اتنا متاثر ہوچکی ہوتی ہے کہ وہ مختلف بہانے بناکر والدین کو ٹیوشن پر بھیجنے کے راضی کرہی لیتی ہے۔ یہ بھی وہاں ہوتا ہے جہاں والدین کچھ ذمہ دار ہوتے ہیں ورنہ غیرذمہ دار والدین تو لڑکی کو مکمل چھوٹ دیے ہوتے ہیں۔ ٭ رکشا بندھن جیسے ہندو تہوار کے موقع پر بھائی بہن کے رشتے کے نام پر مسلم لڑکیوں کو گھر بلایاجاتا ہے اور والدین بھائی بہن کے نام پر اجازت بھی دے دیتے ہیں، ایسی تقریب کے بہانے مسلم لڑکی کو اپنے گھر لے جاکر اچھی خاطرداری کی جاتی ہے، واپس آکر وہ لڑکی اپنے گھر میں ہندو گھرانوں کی مہماں نوازی کی قصیدہ خوانی کرتی ہے،اس سے آئندہ کے لیے ہندو گھر بھیجنے کے لیے والدین کا رویہ بھی نرم ہوجاتاہے، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسی ہی کسی تقریب کے موقع پر لڑکی کی ماں یا بہن کے لیے کوئی تحفہ بھیج دیا جاتا ہے جس سے ماں بہن بھی متاثر ہوجاتی ہیں ٭ عموما ہندو رہائشی علاقے مسلم علاقے کی بنسبت زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں، اسی طرح مسلم نوجوانوں کے بالمقابل حکومتی یا پرائیویٹ سیکٹرز میں ہندو نوجوان زیادہ ہوتے ہیں، یہ چیز بھی بہکانے میں بڑی معاون ہوتی ہے۔ ہندو علاقوں کی ترقی، دنیاوی شان وشوکت اور ظاہری قدردانی کی بنیاد پر لڑکی حددرجہ متاثر ہوچکی ہوتی ہے. یہی وہ موقع ہوتا ہے جب ان پر محبت کا جال پھینکا جاتا ہے اور وہ کسی آسان شکارکی مانند اس جال میں پھنس جاتی ہیں، ور اسی جال میں پھنس کر اپنی عزت و آبرو لٹا بیٹھتی ہیں، بعد میں انہیں گھر سے بھگا کر مرتد بنایا جاتا ہے اور شادیاں کی جاتی ہیں، کچھ وقت کے بعد یا تو انہیں آرکیسٹرا یا کلبوں میں ناچ گانے پر مجبور کیا جاتا ہے یا انہیں طوائف خانوں پر بیچ دیا جاتاہے، چوں کہ یہ سارے کام پہلے سے منظم منصوبے کے تحت (Pre-Planned) ہوتے ہیں اس لیے بلیک میل کرنے کے لیے ویڈیوز بنائے جاتے ہیں، اور انکار پر وڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے، ان سارے کاموں کی تکمیل میں غیرمسلم لڑکیوں کا بھی استعمال کیاجاتاہے،وہ سہیلیاں بناکر اپنے بھائیوں وغیرہ سے ملواتی ہیں اور آگے کا کام لڑکے دیکھتے ہیں .

حفاظتِ خود اختیاری کی تدابیر :

مسلم لڑکیوں کی عزت وآبرو، عصمت وعفت کی حفاظت مسلم امت کا سب سے بڑا فریضہ ہے، جس کے لئے مختلف تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں اور اپنے بہن بیٹوں کی عصمت وعفت کو داغ دار ہونے اور سماج اور معاشرے پر اس کے برے اثرات سے محفوظ کیاجاسکتا ہے۔ جس کے لئے چند ایک تدابیر اختیار کی جائیں، اپنے گھر میں اسلامی ماحول کو فروغ دیا جائے، بچے اور بچی کو عصری تعلیم ضرور دی جائے، لیکن اسلامی ماحول اور اسلامی تربیت کا بھی خصوصی نظم کیا، ان کے لئے اسلام اور تعلیمات اسلام ایمان کے تئیں عظمت کے تابندہ نقوش ان کے دلوں میں بٹھائے جائیں، جس کے لئے مسلمان خواتین کی سیرت ان کے لئے بڑی مؤثر ہوسکتی ہیں، لڑکیوں کو ساتھ ہی ساتھ پردہ کا اہتمام بھی کرایاجائے اور قرآن تعلیمات کے موافق عفت وعصمت کی حفاظت کی تلقین کی جائے، گھروں میں ٹی وی دیکھنے سے حتی الامکان پرہیز کرایا جائے اور خصوصا عشقیہ سیریل کے دیکھنے پر نگاہ رکھی جائے، اسلامی چینل وغیرہ سے استفادہ ہو، اعلی تعلیم کے نام پر بچیوں کو آزادانہ گھر سے نہ بھیجا جائے، انٹرنیٹ کو بھی بقدر ضرورت استعمال کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لئے اجازت دی جائے، اس کی بھی بھر پور نگرانی اور نگہداشت کیا جائے، جاب کے نام پر بچیوں کو ’’شمع محفل‘‘ نہ بنایا جائے، بلکہ اس کو گھر کی ’’ملکہ‘‘ بنانا زیادہ زیب دیتا ہے، بچیوں کو اعلی تعلیم ضروردی جائے ؛لیکن سہیلیوں اور ٹیوشن سینٹرز اور ان کی مجالس اور حرکت ونقل پر نگاہ رکھی جائے، موبائل بشمول دیگر اسکول کی مصروفیت پر بھی نگہداشت کی جائے، موقع بموقع گھر پر اسلامی تعلیمات اور دینی مجالس اور تقاریب کا انعقاد اور دینی کتابوں کا مذاکرہ کیاجائے، جس سے گھر میں دینی ماحول اور صحابیات اور بعد اسلاف کی عورت کی زندگی کے نمونے بچوں کے سامنے آئیں۔ خصوصا جو بچے اسکول جاتے ہیں ان کے لئے جز وقتی دینی تعلیم کا انتظام جبری طور پر کیا جائے، اس طرح معاشرہ میں قانونی چارہ جوئی کے دیندار وکلاء کی تیاری بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

علامہ اقبال نے سچ کہا تھا:

ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں

امت باعثِ رسوائی پیغمبر ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close