ملی مسائل

دَ انڈین مسلمانز !

محمد آصف ا قبال، نئی دہلی 

ہندوستان میں مسلمانوں کے انحطاط کو اگر ہم سمجھنا چاہیں تو دراصل یہ وہی زمانہ ہے جبکہ 1712ء میں مسلم حکومت کا چراغ گل ہوا اور مسلمانوں کا تنزل شروع ہوا۔مزید 1857ء میں انتہا کو پہنچا۔اس درمیان میں 1757ء میں پلاسی کی لڑائی ہوئی اور گرچہ میر جعفر بنگال کا صوبیدار مقرر ہوا۔لیکن وہ "مردہ بدست زندہ”تھا۔حقیقت میں حکمرانی ایسٹ انڈیا کمپنی کی قائم ہو چکی تھی۔ادھر پنجاب میں 1799ء میں شاہ زماں والی کابل رنجیت سنگھ کو اپنا صوبیدار مقرر کر گیا تھا۔لیکن وہ خودمختار ہو گیا۔1818ء میں اس نے ملتان فتح کیا۔جہاں نواب مظفر خاں بہادری سے مقابلہ کرتا ہوا کام آیا۔اس سے اگلے شال کشمیر مسلمانوں کے قبضے سے نکل گیااور رنجیت سنگھ نے آہستہ آہستہ پشاورپر اقتدار بڑھانا شروع کیا۔سندھ1843ء میں اور اودھ 1856میں کمپنی میں ملحق کر لیے گئے۔اس کے بعد بھی گرچہ مسلمانوں کا کوئی سیاسی اقتدار باقی تھا تو اسے جنگ آزادی کے ہنگامے نے مٹادیا۔اس سیاسی انقلاب کے علاوہ جو انحطاط مسلمانوں کی اقتصادی اور تمدنی زندگی میں رونما ہوا،وہ اس سے بھی زیادہ اہم تھا۔اس کی صحیح اور مفصل تصویر ڈاکٹر سر ولیم ہنٹر نے اپنی کتاب "دَ انڈین مسلمانز”ہمارے ہندوستانی مسلمان، میں کھینچی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مسلمان ہندوستان میں آج تک ابھر نہیں سکے ہیں۔وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک جس قدر مسائل سے ہندوستانی مسلمان دوچار رہے ہیں، کوئی اور قوم ان حالات سے گزرتی تو ممکن تھا کہ وہ اپنا وجود ہی خطرہ میں ڈال چکی ہوتی۔اُس کی شناخت ختم ہوجا تی اور اس کے عقائد بگڑ جاتے ۔لیکن غالباً یہ مسلمانوں کی خو د کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خدا برحق کی مصلحت ہے کہ مسلمان ہندوستان میں نہ صرف باقی رہیں بلکہ اپنی مکمل شناخت اور عقائد و افکار میں بھی وہ نمایاں حیثیت برقرار رکھیں۔تاکہ نظریہ ظلم پر قائم ہونے والی فکر کو وہ موقع میسر نہ آئے،جس کے بظاہر وہ خواہش مند نظر آتے ہیں۔لیکن چونکہ ہم بات کرنا چاہتے ہیں 1857ء کے بعد کے ہندوستانی مسلمانوں کی ۔لہذا اس وقت کی کسی حد تک تصویر کشی لارڈ میو کے ایما پر 1871ء میں لکھی گئی کتاب،ہمارے ہندوستانی مسلمان،میں تلاش کی جاسکتی ہے۔لارڈ میو جسے مسلمانوں کی تعلیم سے خاص دلچسپی تھی،نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ مسلمان حکومتِ وقت سے کیوں بد دل ہیں اور ان کی تسکین کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔اس مسئلہ کی توضیح کے لیے ڈاکٹر سرولیم ہنٹر نے یہ کتاب لکھی تھی۔کتاب کے چوتھے باب میں انھوں نے مسلمانوں کی اقتصادی حالت اور ان کی مشکلات پر بحث کی ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کوحکومت سے بہت سی شکایات ہیں۔ایک شکایت یہ ہے کہ حکومت نے ان کے لیے تمام اہم عہدوں کا دروازہ بند کردیا ہے۔دوسرے ایک ایساطریقہ تعلیم جاری کیا ہے جس میں ان کی قوم کے لیے کوئی انتظام نہیں ۔تیسرے قاضیوں کی موقوفی نے ہزاروں خاندانوں کو جو فقہ اور اسلامی علوم کے پاسبان تھے،بیکار اور محتاج کردیا ہے۔چوتھے یہ کہ ان کے اوقاف کی آمدنی جو ان کی تعلیم پر خرچ ہونی چاہیے تھی،غلط مصرفوں پر خرچ ہورہی ہے۔
ڈاکٹر ہنٹڑ نے ان شکایات پر بالتفصیل بحث کی ہے۔اور مسلمانوں کی حالت زار کا نقشہ کھینچا ہے۔بالخصوص مشرقی بنگال کے خاندانی مسلمانوں کی پستی اور افلاس کے متعلق ڈاکٹر ہنٹر لکھتے ہیں:اگر کوئی سیاست دان دارالعوا م میں سنسنی پیدا کرنا چاہے تو اس کے لیے کافی ہے کہ بنگال کے مسلمانون خاندانوں کے سچے سچے حالات بیان کردے۔یہی لوگ کسی زمانے میں محلوں میں رہتے تھے۔گھوڑے گاڑیاں،نوکر چاکر موجود تھے۔اب یہ حالت ہے کہ ان کے گھروں میں جوان بیٹے اور بیٹیاں،پوتے اور پوتیاں،بھتیجے اور بھتیجیاں بھرے پڑے ہیں اور ان بھوکوں کے لیے ان میں سے کسی ایک کو زندگی میں کچھ کرنے کا موقع نہیں ۔وہ منہدم اور مرمت شدہ مکانوں اور خستہ برآمدوں میں قابل رحم زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں اور روز بروز قرض کی دلدل میں زیادہ دھنستے جاتے ہیں۔حتیٰ کہ کوئی ہمسایہ ہندوقرض خواہ ان پر نالش کرتا ہے اور مکان اور زمینیں جو باقی تھیں،ان کے قبضے سے نکل جاتی ہیں اور یہ قدیمی مسلمان خاندان ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر ہنٹر نے سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے تناسب کا مقابلہ دوسری قوموں کے ساتھ کیا ہے ۔ساتھ ہی مال اور منصفی کے محکمواں میں مسلمانوں کی حالت زار کے تعلق سے لکھا :لیکن مسلمانوں کی بدقسمتی کا صحیح نقشہ اِن محکموں میں دیکھا جاسکتا ہے جن میں ملازمتوں کی تقسیم پر لوگوں کی اتنی نظرنہیں ہوتی۔1869ء میں ان محکموں کا یہ حال تھا کہ اسسٹنٹ انجینئروں کے تین درجوں میں چودہ ہندو اور مسلمان صفر۔امیدواروں میں چار ہندو،دو انگریز اور مسلمان صفر۔سب انجینئروں اور سپروائزروں میں چوبیس ہندو اور ایک مسلمان۔ادورسیروں میں ترسٹھ ہندو اور دو مسلمان۔اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں پچاس ہندو اور مسلمان معدوم،وغیرہ۔سرکاری ملازمتوں کے علاوہ ہائی کورٹ کے وکیلوں کی فہرست بڑی عبرت آموز ہے۔ایک زمانہ تھا کہ یہ پیشہ بالکل مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا۔اس کے بعد 1851ء تک مسلمانوں کی حالت اچھی رہی اور مسلمان وکلاء کی تعداد ہندؤں اور انگریزوں کی مجموعی تعداد سے کم نہ تھی۔لیکن1851ء سے تبدیلی شروع ہوئی۔اب نئی طرز کے آدمی آنے شروع ہوئے اور امتحانات کا طریقہ بھی بدل دیا گیا۔1852ء سے 1868ء تک جن ہندوستانیوں کو وکالت کے لائسینس ملے۔ان میں 239ہندو تھے اور ایک مسلمان۔وہیں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگلے دن ایک بڑے سرکاری محکمے میں دیکھا گیا کہ سارے ڈیپارٹمنٹ میں ایک بھی اہلکار ایسا نہ تھا،جو مسلمانی زبان سے واقف ہو(بنگال کے مسلمانوج جو زبان بولتے تھے،وہ عام بنگالی سے اس قدر مختلف تھی کہ اسے ایک علیحدہ نام مسلمانی سے یاد کیا گیا)۔اور حقیقتاً اب کلکتہ میں شاید ہی کوئی سرکاری دفتر ایسا ہو گا،جس میں کسی مسلمان کو دربانی ،چپڑاسی یا دواتیں بھرنے ،قلم درست کرنے کی نوکری سے زیادہ کچھ ملنے کی امید ہوسکتی ہے۔چنانچہ انہوں نے کلکتہ کے ایک اخبار کی شکایت نقل کی ہے۔”تمام ملازمتیں اعلیٰ ہوں،ادنیٰ،آہستہ آہستہ مسلمانوں سے چھینی جارہی ہیں۔اور دوسری قوموں بالخصوص ہندوؤں کو بخشی جاتی ہیں۔حکومت کا فرض ہے کہ رعیت کے تمام طبقوں کو ایک نظر سے دیکھے،لیکن اب یہ حالت ہ کہ حکومت سرکاری گزٹ میں مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے علیحدہ رکھنے کا کھلم کھلا اعلان کرتی ہے۔چند دن ہوئے کمشنر صاحب نے تصریح کردی کہ یہ ملازمتیں ہنددؤں کے سوا کسی کو نہ ملیں گی”۔
ڈاکٹرہنٹر یہ بھی لکھتے ہیں :جب ملک ہمارے قبضے میں آیا تو مسلمان سب قوموں سے بہتر تھے۔نہ صرف وہ دوسروں سے زیادہ بہا در اور جسمانی حیثیت سے زیادہ توانا اور مضبوط تھے بلکہ سیاسی اور انتظامی قابلیت کا ملکہ بھی ان میں زیادہ تھا،لیکن یہی مسلمان آج سرکاری ملازمتوں اور غیر سرکاری اسامیوں سے یکسر محروم ہیں۔ڈاکٹر ہنٹر نے جو حالات لکھے ہیں وہ زیادہ تر بنگال کے متعلق ہیں۔لیکن شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کی کیفیت اس سے بہتر نہیں تھی۔بالخصوص جنگ آزادی کے بعد تو ان کی حالت اتنی خراب ہوگئی تھی کہ اس زمانے میں سرسید نے بھی ہندوستان چھوڑ کر مصر میں سکونت اختیار کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
گفتگو کے پس منظر میں تین باتوں پر غور کیا جانا چاہیے۔ایک یہ کہ جویہ کہا جاتا ہے کہ آج کی دیش بھکت پارٹی یا ان کے ہمنوا اس زمانے میں جنگ آزادی میں کیوں شریک نہیں ہوئے،تو وہ کیونکر نہیں ہوں گے ؟دوسرے یہ کہ جنگ آزادی میں مسلمانوں کے حددرجہ شرکت کے پس پشت کیا توقعات وابستہ رہی ہوں گی؟تیسرے یہ کہ سلسلۂ حالات و واقعات اورموجودہ حالات کے تغیرات کے نتیجہ میں، مسلمانوں کی عدل و انصاف پر مبنی تعلیمات ، فکر و نظریہ اور ایک زندہ و پائندہ قوم کے ناطے،موجودہ حالات میں کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے؟ 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Close