ملی مسائل

ہندستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مسلمان

کہنے کو تو ہندوستان 15/اگست 1947 کو آزاد ہوگیاتھا،  لیکن حقیقی آزادی سے وہ اب بھی محروم ہے ۔ ایک طویل عرصے تک مسلمانوں نے اس ملک پر حکومت کی اور پہلی بارانہوں نےہی متحدہ ہندستان کا تصور پیش کیا تھا،  ورنہ اس سے قبل ہندوستان پانچ سو سے زائد ریاستوں میں منقسم تھا۔ مسلمانوں نے اس ملک کے تہذیب و تمدن کو غیر معمولی ترقی دی ، مسلم حکمراں اس ملک میں آئے تو یہیں کے ہوکر رہ گئے ، انگریزوں کی طرح اسے  لوٹ کر نہیں لے گئے ، انھوں نے ہندوستانی ہموطنوں کو مذہبی آزادی دی اور بڑے بڑے سرکاری مناصب پرہندؤں کو فائزکیا ۔

آزاد ہندستان  کی بنیاد سیکولرزم پر رکھی گئی اور جمہوری طرز حکومت اختیا رکیا گیا جس کا مطلب یہ سمجھا گیا تھا کہ تمام لوگوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے،نیز  اس کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کی پوری آزادی حاصل رہے گی ،  اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہوں  گے اور حکومت نہ کسی کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرے گی اور نہ ہی اس کا  اپنا کوئی مذہب ہوگا۔

ہندوستانی سماج اپنی اصل میں ایک طبقاتی سماج ہے ، نسل اور ذات پات کی بنیاد پر تفریق کی جڑیں یہاں کی تاریخ اور تہذیب میں بہت گہری ہیں ، آزادی کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کا عمل شروع  کیا جاتا، سب کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کئے جاتے اور کسی بھید بھاؤ کے بغیر انہیں ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں شریک سفر رکھا جاتا ، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا ، دراصل برہمنوں نے بالواسطہ طور پر منو سماج کو ہی آزاد ہندوستان میں بھی قائم رکھنے کی پوری کوشش کی ، اس کے رد عمل میں یہاں رفتہ رفتہ  ذات برادری کی سیاست نے زور پکڑا اور اس کی بنیاد پر  مختلف سیاسی پارٹیوں کا جنم ہوا۔ اس کے ساتھ ہی  دائیں بازو کی انتہا پسند طاقتوں نے  ایک خاص نظریہ کو لے کر (جسے ہندوتوا کا نام دیا گیا ) اسکول،شاکھائیں ،میلیٹنٹ گروپ اور سیاسی پارٹیاں  قائم کرنی شروع کردیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہاں کی فضا مسموم ہونا شروع ہوگئی ،ذات برادری کی بنیاد پر مختلف سماجی گروپس  نے اپنے  لئے ریزرویشن حاصل کرنا شروع کیا،  اور ساتھ ہی ہندوتوا کے ایجنڈے کو اس ملک پر مسلط کرنے کی کوششیں تیز سے تیزتر ہوتی گئیں، انتظامیہ، مقننہ ، عدلیہ ، سرکاری ملازمتوں، فوج ،پولس وغیرہ ہر جگہ سب کی حصہ داریاں متعین ہوگئیں،  اس ساری بندر بانٹ میں اگر کسی کو محروم رکھاگیا تو وہ مسلمان تھے۔  تمام  سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ انھیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ۔ چنانچہ آج کوئی بھی سیاسی پارٹی مسلمانوں کے حقوق کی بات نہیں کرتی بلکہ ان کے ووٹوں کو مال غنیمت سمجھتی ہے ، مسلمان اگر انہیں ووٹ دے تو وفادار ہے ، اور نہ دے تو اسے علانیہ غدار پکارا جاتا ہے ۔  اگر مسلمان اپنی سیاسی پارٹی بنالے تو وہ  Communal ہو جاتا ہے ،  اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگے تو علحدگی پسند کہلاتا ہے ۔  بی جے پی اپنے ارادوں میں صاف ہے اور مسلمانوں کو اس سے کوئی امید بھی نہیں ہے ،لیکن کانگریس کی نیت اور نیتی بھی بی جے پی سے مختلف نہیں ہے کیونکہ پچھلے  پینسٹھ سالوںمیں  سارے فتنے کانگریس ہی کے بوئے ہوئے ہیں، بابری مسجد کا تالہ  کھلنے  سے لیکر یعقوب میمن کے اکیس سالہ  ٹرائیل تک کےسارے زخم کانگریس ہی کے بخشے ہوئے ہیں ۔

ذات پات اور علاقائی بنیادوں پر وجود میں آنے والی پارٹیوں کا حال بھی مختلف نہیں ہے ۔ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی یادو اور اوبی سی برادریوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتی ہے تو بہوجن سماج پارٹی دلتوں اور انتہائی  پسماندہ طبقات کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ اس ریاست میں مسلمان ووٹروں کا تناسب بھی اچھا خاصا ہے لیکن  دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ سےتو سب کو محبت ہےلیکن جب مسلمانوں کے حقوق کی بات آتی ہے تو سب کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ سیکولرزم کو بچانے کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کی ہے ، کیا یہ ملک سب کا نہیں ہے کیا سیکولرزم کو بچانے کی ذمہ داری سارے ہندستانیوں کی نہیں ہے ، آج ہر جگہ مسلم دہشت گردی کا ہوّا کھڑا کرکے مسلم نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جارہا  ہےاور ہندو دہشت گردوں کو کلین چٹ دی جارہی ہے! کیا آج عدلیہ کے کردار پر سوالیہ نشان نہیں کھڑا ہوگیا ہے؟

ایسے ماحول میں کہ جب مسلمانوں کے لئے اپنے حقوق کا مطالبہ ایک سنگین جرم سمجھا جارہا ہے، مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے،مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اور انہیں منصوبہ بند طریقے سے پسماندہ اور قومی دھارے سے الگ تھلگ رکھا  جارہا ہے ،  ایسے ناگفتہ بہ حالات میں ایک طویل عرصے کے بعد ہمارے درمیان سے ایک آواز ابھری ہے اور ایک لیڈرشپ سامنے آئی ہے ۔ میری مراد جناب اسد الدین اویسی صاحب سے ہے ، ان کی جرات اور بیباکی سے ہم سب واقف ہیں، وہ  جس ہمت اور حوصلہ کے ساتھ، دستور ہند کے دائرہ میں رہتے ہوئے ،پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ، ہندوستان کے مظلوم ومحروم طبقات اور بالخصوص مسلمانوں کے مسائل  اٹھاتے  اور ان کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں اس کے لئے وہ تمام ہندوستانیوں کی طرف سے شکریہ اور سپورٹ کے مستحق ہیں ۔ ان کی آواز نے آج کی نوجوان نسل میں  ایک اعتماد اور حوصلہ پیدا کیا ہے،  لیکن سیاسی بازی گروں  کو ان کی یہ شہرت ہضم نہیں ہو رہی ہے اور وہ انہیں اپنی جمی جمائی چودھراہٹ کے لئے خطرہ محسوس کرنے لگے ہیں ، اس لئے ان کی قیادت کے تئیں شکوک وشبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اویسی صاحب کے علاوہ بھی کچھ مسلمان پارلیمنٹ کے ایوان کی زینت بنتے ہیں ، لیکن وہ آخر تک بس پارلیمنٹ کی زینت ہی بنے رہتے ہیں ، پارٹی گائیڈ لائن کی حیثیت ان کے لئے کتاب مقدس کی آیات سے بڑھ کر ہوتی ہے جس سے تجاوز کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا ۔ بفرض محال  اگر کبھی کوئی آواز ابھرتی بھی ہے تو پارٹی ہائی کمان اسے دبا دیتی ہے بلکہ سیاسی موت دے دیتی ہے ۔

مسلمانوں اور محروم و پسماندہ طبقات کو اب یہ فیصلہ کر ہی لینا چاہئے کہ وہ کب  تک ان نام نہاد سیکولر  پارٹیوں کی غلامی کرتے رہیں گے ، یہ ملک جتنا برادران وطن کا ہے اتنا ہی ان  کا بھی ہے ،  اس ملک کی سالمیت کی جتنی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے اتنی ہی بلکہ اکثریت میں ہونے کی وجہ سے اس سے کہیں زیادہ  ان کی  ہے ۔ برابر کی حصہ داری ہر ہندوستانی کا بنیادی حق ہے ۔ لیکن جب تک ہمارا سیاسی وزن قائم نہ ہوگا اور جبتک ہم اپنے حقوق کیلئے متحد نہ ہوں گےاسوقت تک یوں ہی تمہارا استحصال ہوتا  رہے گا۔

21 مئی 2016 کو دوحہ فورم میں شرکت کیلئے جناب اسد الدین اویسی صاحب قطر تشریف لائے تھے، اس موقع پر  مجھے تین دن تک ان کے ساتھ رہنے اور ان کو قریب سے دیکھنے سمجھنے کا موقع ملا، میں نے انھیں بہت متواضع ، ملتزم، نڈر اور صاحب بصیرت شخص پایا  جو ہندوستان کے محروم و پسماندہ طبقات  اور بالخصوص مسلمانوں کے مسائل اور حقوق کے تئیں  ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں۔  یہ خدا کی رحمت ہے کہ ہمیں ایسا قائد میسر آیا ہے ، اگر ہم نے اسکی قدر نہ کی اور ذاتی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر ایسی مخلص  قیادت پر بھروسہ نہ  کیا توتاریخ کا بے رحم فیصلہ ہمیشہ کی طرح ہمارا مقدر بنے گا، ہم ایسے ہی دوسروں کے رحم وکرم پر جیتے رہیں گے  اور ہماری تقدیر کے فیصلے ہمیشہ دوسروں کے ہاتھوں ہوتے رہیں گے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد شاہد خاں

آپ کاروان اردو قطر کے جنرل سیکریٹری ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف اور مترجم بھی ہیں.

متعلقہ

Close