ملی مسائل

ہندوستانی مدارس تنقید و توقعات کے تناظر میں

ڈاکٹر محمد ضیاء اللہ ندوی

ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کا قیام اس تاریخی پس منظر میں عمل میں آیا جب مغلیہ حکومت کی شکل میں موجو د طاقت مسلم تہذیب کی نمائندگی سے قاصر ہو چکی تھی اورہندوستان ایک نئے تاریخی دور میں داخل ہونے کے لئے تیار ہو چکا تھا جس کی باگ ڈور نئی قوت فکر سے سرشار مغربی تہذیب سنبھالنے جارہی تھی اور برطانوی سامراج کے لئے اس تہذیب کی قیادت کا سرخیل اعظم بننا مقدر تھا۔ انگریزی سامراج نے تاریخ کا رخ پورے طور پر مغرب کی طرف موڑ دیا تھا ۔ مسلم دانشوروں کا وہ طبقہ جو دینی جذبات سے سرشار تھا اور اسلامی تشخص کی حفاظت کے تئیں فکر مند بھی ‘ انھوں نے بروقت یہ محسوس کیا کہ بر صغیر ہند میں اسلامی تہذہب کو باقی رکھنے کے لئے حکومت اب پشت پناہ نہیں بلکہ حریف ہو چکی ہے اور ان کا اندازہ سہی تھا کہ آئندہ نسل کو اسلامی فکر سے ہم آہنگ رکھنے کے لئے مدارس اسلامیہ کا سلسہ قائم کرنا ناگزیر ہے ورنہ سامراجی طاقت کے سامنے جنگ کے میدان میں شکست کھانے کے بعد فکری دنیا میں مسلمانوں کو بحران سے بچا پانا بہت مشکل ہوگا ۔ مدارس اسلامیہ اس مقصد میں آزادیء ہند سے قبل کے دور میں کامیاب بھی رہا اور مولانا قاسم نانوتوی ‘علامہ شبلی نعمانی‘ علامہ انورشاہ کشمیری‘ مولانا مناظر احسن گیلانی ‘علامہ سیدسلیمان ندوی اور علامہ سیدابوالحسن علی ندوی جیسے باکمال علماء پیدا کرکے اپنی افادیت اور مقصدیت کا سکہ لوگوں کے دلوں پر بٹھادیا۔
لیکن سامراجیت سے آزادی کے بعد کا ہندوستان ایک بالکل مختلف قسم کے عہد میں داخل ہوا جس کے چیلنجز ماضی کے تمام ادوار کے مقابلہ میں زیادہ پیچیدہ تھے اور اسی لئے مسلم قیادت سے ایک نئ نوعیت کی رہنمائی کا طلبگاربھی۔ لیکن اس محاذپر علماء کی جماعت اپنے اسلاف کے تیارکردہ خاکوں سے أگے نہ بڑھ سکے اور اسی لئے مسلمانوں کو موزوں قیادت فراہم کرنے میں ان کو خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ۔ سیکولر نظام پر مبنی دستور ہند نے کسی خاص مذہب وملت کی بالا دستی کو قبول نہیں کیا بلکہ تمام مذاہب اور تہذیبوں کو اپنی تعلیمات اور افکار کو پھیلانے کا موقع قانونی رو سے عطا کیا ۔ لیکن اسی جمہوری نظام پر مبنی سیکولر ہندوستان میں مسلمان زندگی کے تمام میدانوں میں پیچھے رہ گئے ۔ چوں کہ آج کا دور تعلیم کا دور ہے اس لئے بجا طور پر تعلیمی گراوٹ نے مسلمانوں کی پسماندگی میں سب سے بڑا رول ادا کیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیم کا مسئلہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے نزدیک ہمیشہ دینی اور دنیوی خانوں میں بٹا رہا۔ تعلیم کی اس ثنویت نے مسلمانوں کے اندر شدید فکری بحران پیدا کردیا ۔ ندوۃ العلماء کے قیام سے پہلے جہاں ایک طرف دار العلوم دیوبند  دینی تعلیم ‘‘ کا علم بردار کے طورپر رونما ہوا وہیں دوسری طرف سر سید کا علی گڑھ  جدید سائنسی علوم‘‘ کا داعی بن کر ابھرا ۔ ندوۃ العلماء کا قیام قدیم صالح اور جدید نافع کا امتزاج پیدا کرنے کے لئے آیا تھا لیکن یہ ادارہ بھی زیادہ دنوں تک اپنا امتیاز باقی نہیں رکھ پایا۔
مدارس اسلامیہ عام ہندوستانی مسلمانوں کی نگاہ میں آج بھی اپنی اہمیت و افادیت قائم کئے ہوئے ہیں اور مسلمان ہر موقع پر ان اداروں کی امداد کرکے اپنی دینی حمیت کا ثبوت دیتے رہتے ہیں ۔لیکن اسی کے ساتھ مدارس کے ذمہ داروں کو بہت سی جائز اور ناجائز تنقیدوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ تنقید یں کئی موقعوں پر اگرچہ تیکھی بھی ہو جاتی ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار بھی مشکل ہوگا کہ ہندوستان جیسے ملک میں مسلمانوں کو فکری ‘ سیاسی ‘ سماجی‘ اقتصادی اور دعوتی میدانوں میں جو چیلنجزدرپیش ہیں ان کا مؤثر حل فراہم کرنے میں مدارس کے فارغ التحصیل افراد خود کو قاصر پاتے ہیں ۔ مدارس کا دعوی اس حد تک تو درست ہو سکتا ہے کہ ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ مساجد اور مدارس کو زندہ رکھ کر مسلمانوں میں بنیادی اسلامی عقیدہ وفکر کی لو جلائے ہوئے ہیں ۔ لیکن ان کا یہ دعوی صرف عجب پسندی کہلائے گا کہ وہ متبادل اسلامی ‘ سیاسی‘ سماجی ‘ اقتصادی اور دعوتی مسائل کو مضبوطی سے علمی دلائل کی روشنی میں پیش کرنے کا ہنر رکھتے ہیں یا حالیہ دنوں میں آر ایس ایس اور اس کی دیگرذیلی تنظیموں کے ذریعہ فاشسٹ نظریہ کی ترویج کے خلاف کوئی مدلل اور علمی جواب دینے کا اہل خود کو پاتے ہیں۔ اسلام چوں کہ ایک مکمل نظام حیات ہے اس لئے مدارس کے فارغین سے زندگی کے ہر میدان میں مکمل اور تشفی بخش علمی جواب اور رہنمائی کی توقع رکھنا بالکل بے جا نہیں ہے کیوں کہ ذمہ داران مدارس خودبھی اس کا دعوی وقتا فوقتا کرتے رہتے ہیں ۔ اورسارے عالم کے طول و عرض میں اسلامی فکر کی ترویج کے بارے میں بظاہر متفکر بھی نظر أ تے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نقشہء عالم ان فارغین کی آنکھوں کے سامنے موجود ہو تب بھی طول البلد اور ارض البلد جیسی سادہ اور بنیادی جغرافیائی معلومات کی عدم فراہمی کی وجہ سے دنیا کے نقشہ کو سمجھنے میں بھی وہ شدید دشواری محسوس کرتے ہیں۔ تاریخ کے بارے میں بھی ان کی معلومات کچھ مفید اور جدید ٹھوس تاریخی حقائق ونظریات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ تو اسلام کی تاریخی معنویت کو دیگر اقوام عالم کے سامنے علمی پیرائے میں بیان کرنا کتنا مشکل امر ہوگا اس کا سمجھنا بہت آسان ہے۔ علم ریاضی سے عدم واقفیت کی بنیاد پر وراثت کے مسئلے کو حل کرنے کی لیاقت بھی مفقود ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ صحیح منطقی فہم پیدا کرنے میں علم ریاضی کو جو دخل ہے اس سے اہل علم کا طبقہ بخوبی واقف ہے۔ جدید نظام ادارت سے ناواقفیت اور عدم مزاولت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کبھی بفرض محال ان کو ایک بڑی انسانی بستی یا علاقہ کا نظام چلانے کی ذمہ داری دے دی جائے تو بروقت وہ خود کو اس کے لئے موزوں نہیں پائیں گے۔ جہاں تک مادی اعتبار سے فارغین مدارس کی دقتوں کا تعلق ہے تو میرے اعتبار سے یہ محض ثانوی مسئلہ ہے۔کسی بھی میدان کے ماہرفن کے لئے مادی ترقی ایک فطری نتیجہ ہے۔ فکری قیادت اہم شے ہے ۔ اگر وہ خود کو عہد جدید کے چیلنجز کا حل دور حاضر میں رائج زبان ودلائل کے ذریعہ پیش کرنے کا اہل بنا لیں تو وہ ایک باوقار اور خود اعتمادی سے لبریز بہتر لیڈر بننے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ایسی اہلیت کے حامل افراد پیدا کیسے کئے جائیں؟ کیا مدارس میں اس کی صلاحیت موجود ہے؟ سوال کے دوسرے شق کا جواب اگر پہلے دیا جائے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ مدارس اپنے موجودہ طرز تعلیم کے ذریعہ اگر مطلوب افراد سازی کا دعوی کرے تو یہ حقیقت کے خلاف ہوگا۔ لیکن اگر وہ مشن کے طور پر اس فرض منصبی کی ادائیگی کے لئے سنجیدگی سے کمربستہ ہو جائیں تو ان مدارس میں بہتر اور اعلی علمی صلاحیت کے حامل افراد پیدا کرنے کی پوری اہلیت اب بھی باقی ہے۔مدارس اسلامیہ کے پاس زمین اور عمارتوں کی شکل میں جوبنیادی ڈھانچہ اور انفراسٹرکچر موجود ہے وہ قابل رشک ہے ۔ البتہ اس مقصدکی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ جدید اسلوب میں نصاب کی ترتیب ‘ اساتذہ کی ٹریننگ اور اساتذہ اور طلبہ کے درمیان عددی تناسب کی درستگی جیسے مسائل پر فوری طورپرتوجہ دی جائے ۔ مدارس بالخصوص دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء‘ جن کو ہندوستان میں مرکزیت کا درجہ حاصل ہے‘ ترتیب نصاب کے لئے ماہرین تعلیم کی ایک ایسی کمیٹی تشکیل دے جو عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق تفسیر وحدیث ‘ فقہ وفتاوی ‘زبان وادب اورتاریخ وسیاست سے متعلق ایسی معیاری نصابی کتابیں تیار کرے جو صحیح معنوں میں مکمل اسلامی نظام حیات کی علمی و منطقی تشریح جدید عصری اسلوب میں پیش کرنے کے اہل ا فراد پیدا کر سکے اور بدلتے حالات اور تقاضوں کے مطابق نصاب میں مناسب تبدیلی کا عمل لگاتار جاری رہے۔ ۔ اسی طرح ندوہ اور دیوبند اگر طلبہ کی کثیر تعداد کو داخلہ دینے کے بجائے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان کا تناسب درست کریں تو ان کے پاس موجود مادی وسائل کا زیادہ بہتر استعمال ہو سکتا ہے۔ اساتذہ کی تنخواہ سے متعلق شکایتیں بھی دور ہو جائیں گی اور طلبہ کے لئے ضروری اور مفید وسائل کا معیاری انتظام بھی ممکن ہو پائے گا اور یہ طریقہ ما قل و کفی خیر مما کثر وألہی کی اچھی مثال بھی ثابت ہوگا۔ان دو مرکزی اداروں میں پیدا ہونے والی تبدیلی کس قدر مثبت فکری انقلاب کا باعث ہوگا اس کا اندازہ لگانا قطعا مشکل نہیں ہے۔ مدارس اسلامیہ سے آج بھی بالخصوص یہ توقعات اس لئے قائم کی جاتی ہیں کیوں کہ مدارس کی شکل میں ہندوستانی مسلمانوں کے پاس اسلاف کا قائم کردہ اسلامی اثاثہ موجود ہے اور ہندوستان میں آج مختلف مسائل میں گھری امت مسلمہ کے لئے ایک متبادل اور متوازی تعلیمی نظام قائم کرنا اتنا آسان نہیں ہے ۔جب کہ مدارس اگر نصاب تعلیم ‘ اساتذہ کی ٹریننگ اور طلبہ کی کثیر تعداد سے متعلق بہتر حکمت عملی تیار کرلیں تو تعلیم کی ثنویت کا جھگڑا بھی دور ہو جائے گا اور ایک پر اعتماد قوم کی حیثیت سے مسلمان زندگی کے ہر میدان میں خود کفیل بھی ہوجائیں گے۔ گرچہ یہ عمل بڑی جانفشانی اور ایثار کا طلب گار ہے ۔ لیکن اس مرحلہ کے بعد مسلم بچے ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مؤقر اداروں اور یونیورسٹیوں میں اپنی لیاقت کے بل پر داخلہ پا کر ہر مادہء تعلیم کے ماہر ہو سکتے ہیں اور اسلام کی حقانیت کا جھنڈا پورے جوش و اعتماد سے اٹھا کر دعوت کے ذریعہ قلوب وعقول کو مسخر کر سکتے ہیں ۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو وہ کبھی تعاون سے پیچھے نہیں ہٹی ہے۔ اگر لائق وفائق افراد مدارس سے پیدا ہونے لگ جائیں اور اپنی علمی برتری کا ثبوت روز مرہ کی زندگی میں عملی طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہندوستان کی آر ایس ایس جیسی فاشسٹ جماعت ہی نہیں بلکہ کوئی بھی فرسودہ فلسفہ پر مبنی نظام اسلام کی صورت مسخ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا۔ یہ موقع ہندوستان کے مسلم علما ء و دانشواران کے پاس آج موجود ہے کیا وہ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے تیار ہیں ؟ اگر ہاں تو مادی وسائل کی کمی کا شکوہ کبھی سدراہ نہیں ہوگا کیو ں کہ مسلم قوم اپنے ایمان وتشخص کی بقاء کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد ضیاء اللہ ندوی

ڈاکٹر محمد ضیاء اللہ ندوی نے ہندوستان کی معروف دانش گاہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ مغربی جدیدیت اور اسلام کا تقابلی مطالعہ ان کا خاص میدان ہے، مسلم مسائل، عالم اسلام اور بین الاقوامی سیاست پر گہری بصیرت رکھتے ہیں۔ مضمون نگار ایک بے لاگ تجزیہ نگار ہیں اور عربی، انگریزی، ہندی، اردو اور فارسی زبانوں پر یکساں عبور رکھتے ہیں۔drzianadvi@mazameen.com

متعلقہ

Close