ملی مسائل

ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کا اہل کون؟ 

حقیقت شناس چاہئے، حقائق سے منہ موڑنے والا نہیں۔

نازش ہما قاسمی

قائد جمعیۃ حضرت مولانا محمود مدنی صاحب کے بیان سے قطع نظر ہندوستانی مسلمانوں کیلئے قیادت ایک مسئلہ ہے۔ اگر بنظر غائر ماضی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو مسلم معاشرہ میں یہ چیز کئی صدی پہلے در آئی تھی؛  لیکن اس کا اثر اس بنا پر ظاہر نہیں ہوپایا؛ کیونکہ وہ دور اسلامی حکومتوں کا دور تھا، مختلف خطوں میں ہی سہی؛ اگرچہ ان خطوں میں اسلامی حکومت برائے نام ہی قائم  تھی؛ لیکن علاقائی طور پر مسلمانوں کو اطمینان حاصل تھا۔ موجودہ دور میں اسلامی حکومتیں مذہب کے نام پر نہیں؛ بلکہ علاقہ اور زبان کی بنیاد پر قائم ہیں، نتیجتاً کسی دیگر ملک کے مسلم شہری کیلئے کسی مسلم ملک میں سکونت اختیار کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ جہاں تک بات ہندوستان کی ہے تو بربناء جمہوریت یہاں سیاسی جماعتوں کی اہمیت ہے۔

موجودہ تمام پارٹیاں ظاہرا نہ سہی؛ لیکن وہ کسی خاص طبقہ کی نمائندگی ضرور کرتی ہیں؛ بلکہ اب تو بعض کا وجود ہی ذات اور علاقائیت کی بنیاد پر ہے۔ تمام علاقائی پارٹیوں کا شمار تو ممکن نہیں ہے، البتہ بعض کی مثالوں سے بہت کچھ واضح ہوتا ہے۔ ہم شروعات کرتے ہیں ہندوستان کے سب سے بڑے صوبہ اتر پردیش کی دو سیاسی پارٹیوں سے۔ سماج وادی پارٹی ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو۔ دونو ں باپ بیٹے ریاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔اس پارٹی کے نظریات گرچہ عیاں ہیں  اور اس کا شمار سیکولر پارٹیوں میں ہوتا ہے؛ لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے یادو برادری کے ووٹ کو آج تک اپنے کنٹرول میں رکھا ہے، اس نے خود کو سیکولر ثابت کرنے کیلئے بہت سے ایسے اقدامات کئے ہیں جو سیاسی بقا کیلئے انتہائی ضروری ہیں، اس پارٹی میں بڑے بڑے عہدوں پر مسلم افراد براجمان ہیں، بڑے بڑے مسلم قائدین کے در پر جانا اس کا وطیرہ رہا ہے، بایں صورت اس نے مسلم عوام میں بواسطہ مسلم سیاسی لیڈر اور مذہبی لیڈر پکڑ مضبوط کر رکھی ہے۔

بہوجن سماج پارٹی :

اس کی کمان مایاوتی کے پاس ہے جو کہ یوپی کی وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں۔ اس پارٹی کا وجود دلت سماج کی تحریک سے ہوا ہے، اور آج بھی یہ پارٹی اپنے اس قول پر قائم ہے، یہ پارٹی پورے ملک میں دلت سماج کی نمائندگی کرتی ہے، مایاوتی نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دلت کے معاملہ کو ہی لیکر دیا تھا، اسے بھی سیکولر پارٹی کے زمرے میں رکھا جاتا ہے، کیونکہ یہاں بھی ایسے کئی  بڑے مسلم سیاسی لیڈران موجود ہیں، جو پارٹی کے بڑے عہدوں پر فائز ہیں، اس پارٹی نے بھی مسلم مذہبی راہنما کی زیارت اور آشیرواد کو اپنے پلو سے باندھ رکھا ہے، وقتا فوقتا حاضری بھی دیتے ہیں۔

صوبہ مہاراشٹر :

شرد پوار کی پارٹی نیشنل کانگریس جو کہ کانگریس سے جدا ہوکر بنائی گئی ہے۔ اس پارٹی کا قیام علاقائی تشخص کی بنیاد پر ہے، یہ علاقائی معاملات میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے، اسے بھی سیکولر پارٹیوں کے زمرہ میں رکھا جاتا ہے، وجہ مہاراشٹر کے کئی مسلم سیاسی لیڈران اس پارٹی کے اہم عہدوں پر براجمان ہیں، یہ بھی مسلم مذہبی رہنماؤں سے اپنے تعلقات کو خوشگوار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

صوبہ بہار :

جے ڈی یو اور آر جے ڈی, ان دونوں پارٹیوں کی مسلم دوستی بھی جگ ظاہر ہے، ان پارٹیوں کے کلیدی عہدوں پر بھی مسلمان موجود ہیں، بہار کے مذہبی طبقہ سے ان کے روابط مضبوط ہیں۔ ہم نے طوالت کی بنا پر مزید نام بیان نہیں کئے ہیں. ان تمام میں جو باتیں مشترک ہیں وہ یہ کہ ان میں مسلم نمائندگی اور مسلم چہرہ بہت مضبوط ہوتا ہے۔ دوسری بات ان لوگوں نے علاقائی مسلم مذہبی راہنما سے اپنے تعلقات ہمیشہ مضبوط رکھنے کی کوشش کی ہے، اور اس میں کامیاب بھی ہیں، بلکہ بسا اوقات سیاسی فائدہ کے حصول کی خاطر ایسے کام بھی کر جاتے ہیں تو خالص مسلم معاشرہ کے حق میں مفید ہوتا ہے غیروں کیلئے نہیں۔

ان تمام پارٹیوں میں مسلم لیڈران کو مقبولیت حاصل ہے، انہیں فیصلہ کا حق بھی ہے، لیکن وہ پارٹی کی نمائندگی تک قید کر دئے جاتے ہیں، مسلم معاشرہ میں پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں؛ لیکن پارٹی میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین یہ مذکورہ تمام پارٹیوں میں سب سے قدیم پارٹی ہے، عرصہ دراز تک یہ ایک مخصوص شہر کی نمائندہ رہی ہے، جب اس نے اپنے پر پھیلائے تو مسلم مسائل کا سہارا لے کر بھیڑ اکٹھی کی، حیدرآباد تک تو مسلم مسائل خوب سلجھائے اور مسلمانوں کی امیدوں پر مکمل اترے، لیکن بہار یوپی میں انہیں موقع نہیں دیا گیا اور مہاراشٹر میں صرف دو سیٹیں آئیں جہاں ان کے ممبران  اسمبلی کام کررہےہیں۔ یہ پارٹی بھی خود کو سیکولر کہتی ہے اور سیکولر ازم کا دامن تھامے ہوئے ہے، جے بھیم جے میم اس پارٹی کا نعرہ ہے اور ملک کے دبے کچلے افراد کو اپنے سے جوڑ کر ۲۰۱۹ میں کچھ کرنے کی خواہش مند ہے۔

ریاست آسام میں مولانا بدرالدین اجمل قاسمی کی یو ڈی ایف پارٹی نے اگرچہ ابتدا سے ہی دیگر افراد کی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے، اور فی الحال ایک ممبر آف پارلیمنٹ بھی ہے، لیکن یہاں  ایسا کوئی چہرہ یا نام نہیں ہے جس کے ذریعہ بھیڑ اکٹھی کی جائے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ محض مسلم نام پر پارٹی کا وجود برقرار رکھنا مشکل ہے، علاقائی طور پر کچھ مفید ہوسکتا ہے؛ لیکن ملکی سطح پر ممکن نہیں ہے۔

اگر دیگر سیکولر پارٹیوں کی مانند یہاں بھی چند ایک بڑے نام آجائیں، تو پھر بات بن سکتی ہے ملکی حالات کے اعتبار سے مسلم قوم کو پارٹی نہیں قائد کی ضرورت ہے، اسٹیج پر بولنے والے کی نہیں، زمینی سطح پر کام کرنے والے کی ضرورت ہے، پرجوش بنانے والے کی نہیں، باہوش بنانے والے کی ضرورت ہے، مسلم مسائل کو زمینی سطح پر سمجھ کر لائحہ عمل طے کرنے والے کی ضرورت ہے، ہر در اور ہر گھر کی بے چینی کو سمجھنے والے کی ضرورت ہے، حقیقت شناس چاہئے، حقائق سے منہ موڑنے والا نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close