ملی مسائل

ہندوستان میں مسلمان کیا کریں

عبدالبقاء آعظمی

اس وقت ملک اور بیرون ملک میں مسلمانوں کے خلاف جو فضا تیار کی جارہی ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہمیشہ سے حق اور باطل میں کشمکش جاری رہی ہے اور اگر تاریخی شواہد کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے پیغمبروں کو بھی مشکل حالات سے دوچار ہونا پڑا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ظلم و زیادتی کا زیادہ سامنا کرنا پڑاہے۔مگر ان تمام حضرات نے صبر واستقامت سے مشکل حالات کا مقابلہ کیا اور سرخرو وکامیاب ہوئے یہ نسخہ کیمیا ہر زمانے میں کامیابی کا ضامن ہے۔
اس وقت ہندوستان کے حالات کاتجزیہ مقصود ہے کہ آج کے دور میں ہندوستان میں مسلمان کیسے امن و سکون کے ساتھ زندگی گذار سکتے ہیں۔ہندوستان میں جمہوریت کو کیسے آگے بڑھایا جائے اور اس وقت کیسے مسلمان اس جمہوریت سے فائدہ اٹھائیںَ ۔اس وقت فسطائی طاقتیں اس بات کی پوری کوشش کررہی ہیں کہ کیسے جمہوریت اور سیکولرزم کو کمزور کرکے اور دیگر تحریک کو آگے بڑھا کرملک میں ہندوتو کے کلچر کا قبضہ ہوجائے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک میں اقلیتوں اور دلت سماج کو اس کازیادہ نقصان اٹھانا پڑے گااور ہندوستانی تاریخ آٹھ سو سال پرانے نظام کی طرف لوٹ جائے گی۔اس وقت جب کہ مرکز میں ایک خاص نظریہ کی حکومت قائم ہے اس کے نقصانات کے اثرات سب سے زیادہ اقلیتوں اور دلتوں پر پڑ رہے ہیں۔مسلمانوں اور دلتوں کی پٹائی کامسئلہ ہو یا ریزرویشن کامسئلہ ہو نقصان ہمیشہ کمزوروں کاہوتا ہے۔
اس وقت حالات کا جو جائزہ ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ملک سے فسطائی طاقتوں کااثر و رسوخ کم ہو اور مسلم سماج اور دلت سماج کا جان ومال کیسے محفوظ رہے اس سلسلے میں جو لوگ مسلم سماج کی بھلائی وترقی کی بات کرتے ہیں وہ زیادہ اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ مسلم سماج کو مختلف پارٹیوں اور مختلف سیاسی جماعتوں میں باٹے ہوے ہیں اور جو راستہ اپنائے ہوئے ہیں وہ اس بات پر غورو فکر کی دعوت دیتا ہے کہ سب لوگ مل کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور اس بات پر غور کریں کہ کو ن سا راستہ اختیار کیا جائے جو ہندوستان میں مسلم سماج کی ترقی اور جان ومال کی حفاظت کا ضامن ہو ۔اس غوروفکر میں ان کو بہت سی قربانیاں دینی پڑسکتی ہیں لیکن اس قربانی کے صلہ میں مسلم سماج کا جو بھلا ہوگاوہ نقصان کے مقابلہ میں بہت کم ہوگااور جب مسلم سماج کا بھلا ہوگاتب ہی مسلم سیاستدانوں کا بھلا ہوگا۔
اس وقت جائزہ کی روشنی میں یہ بات سامنے آرہی ہے کہ جو لوگ مختلف سیاسی جماعتوں میں منقسم ہیں وہ ان جماعتوں میں کام کرتے رہیں مگر جو عام مسلمان کسی سیاسی جماعت سے منسلک نہیں ہیں وہ دلت سماج سے مل کر الیکشن میں حصہ لیں اور اس پارٹی کو کامیاب بنائیں جو دلت سماج کواوپر اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔اس طرح مسلم ووٹ بھی منقسم نہیں ہوں گے اور جس پارٹی کو سپورٹ کریں گے اس کی کامیابی میں مسلم سماج کا بھر پور حصہ ہوگا۔اسی کے ساتھ یہ بھی مناسب ہوگا کہ جو لوگ دلت سماج کو اوپر اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں ان کو بھی مسلم سماج کے مسائل میں پوری دلچسپی لینی پڑے گی۔جیسے اس وقت مسلم سماج سے متعلق مسلم پرسنل لا کا مسئلہ ہے اس میں جو جماعتیں آگے بڑھ کر حصہ لیتی رہیں گی وہ اپنا مقام مسلم سماج میں بناتی رہیں گی۔
یہ بھی ایک سانحہ ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ مسلم سماج سے متعلق مسائل سے چشم پوشی کا رویہ اپنایا ہے۔بلکہ ظلم وزیادتی میں بھی اپنا اپنا رول ادا کرتے رہے ہیں اس کا نتیجہ ہے کہ مسلم سماج میں ان کی بہی خواہی کے نام پر الگ الگ جماعتیں بن جاتی ہیں جو کسی بھی طرح مسلمانوں کے لئے مفید نہیں ہیں ۔اس ملک میں اگر مسلمان اپنا تخصص قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ان کواکثریت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔اسی میں ملک کا فائدہ ہے اور مسلم سماج بھی اس ملک کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔اس لئے یوپی میں آنے والے الیکشن میں مسلم سماج اور دلت مل کر الیکشن لڑیں امید ہے ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close