ملی مسائل

یونیفارم سول کوڈ ؛ ہوشیار اے امت مرحومہ!

 ڈاکٹر عابد الرحمن

 وطن عزیز میں ہم فوجداری قوانین میں تو کب کے شریعت خداوندی کی بجائے انسان ساختہ قوانین کے پابند کر دئے گئے ہیں ،دیوانی معاملات مثلاً شادی بیاہ ،طلاق وراثت وغیرہ میں ہمیں شریعت خداوندی کی جو آزادی بنام ’ مسلم پرسنل لا ‘دی گئی تھی اب حکومت ہماری اس رہی سہی مذہبی آزادی کو بھی چھین لینے کی کوشش کر رہی ہے ۔امت مسلمہ میں اس ضمن میں کافی ہلچل مچی ہوئی ہے جو زندگی کی علامت ہے ۔امت کا اعلیٰ طبقہ علماء اور دانشوران اس معاملے میں کافی جاگے ہوئے لگ رہے ہیں اور یہ صحت مند زندگی کی علامت ہے ۔ یونیفارم سول کوڈ کے ممکنہ نفاذ کے خلاف مسلمانوں کا ردعمل کیا ہو اس پر بھی بہت کچھ بولا جا رہا ہے ۔اس ضمن میں شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے شریعت میں مداخلت والے فیصلے کے خلاف امت مسلمہ نے جو ردعمل درج کروایا تھا اور جس طرح حکومت وقت کو قانون سازی کے ذریعہ اس فیصلہ کو کالعدم کروانے پر مجبور کیا تھا اس کی بھی بات ہورہی ہے ۔ یہ مسئلہ ہمارے لئے انتہائی سنگین ہے یہ ہماری مذہبی آزادی کا ہی نہیں بلکہ ہماری مسلمانیت کا معاملہ ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں چند رسوم عبادات کا ہی پابند نہیں بناتا بلکہ زندگی کے تمام تر شعبہ جات کو قانون الٰہی کے مطابق کر نے کی تعلیم دیتا ہے اور ایسا کرنا ہی دراصل مسلمانیت ہے اگر یونیفارم سول کوڈ لاگو ہوگیا تو ہماری مسلمانیت صرف عبادات تک ہی محدود ہو جائے گی جبکہ زندگی کے دوسرے معاملات میں شرعی قوانین کا عمل دخل نہیں ہوگا ،تو کیا یہ مکمل مسلمانیت ہوگی؟یہ ہمارے لئے انتہائی سنگین معاملہ ہے اور اس کے لئے جد و جہد کرنا ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور اپنے مذہب کی پیروی کرنا ہمارا آئینی حق بھی اور اس کے لئے ہمیں بہ حیثیت امت مسلمہ اپنے تمام تر مسلکی اور جماعتی اختلافات بھلا کر متحدہ طورپر حکومت کے اس اقدام کی بھر پور مخالفت کر نی چاہئے ۔جمہوری طریقہ سے اپنا احتجاج درج کروانا چاہئے اورقانونی طریقہ سے بھی اپنی بات حکومت اور عدلیہ کے سامنے رکھنی چاہئے۔لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ’یونیفارم سول کوڈ ‘ کا نفاذ بی جے پی کا سیاسی نعرہ رہا ہے اور اب جس طرح اسے اچھالا جا رہا ہے اور اس کو زیر بحث لایا جارہا ہے ،اور میڈیا کی ٹر ٹر کے ذریعہ اسے ملک کا اہم ترین مسئلہ مشہور کروایا جا رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ اس کا مقصد سیاسی فوائد کا حصول ہے ۔یہ دراصل انتخابات کی تیاری ہے اور بی جے پی کی سیاست یہی رہی ہے کہ مسلمان اس کے خلاف نہ صرف متحد ہو جائیں بلکہ اس کی مخالفت کا کھلم کھلا اور بڑھ چڑھ کر اظہاربھی کریں اور اسے ’مسلم مخالف پارٹی‘ کا لیبل بھی لگادیں تاکہ اسے اپنے آپ کو ہندوؤں کی پارٹی اور ہندوؤں کے لئے لڑنے والی پارٹی مشہور کروا کر ہندو ووٹوں کو اپنی حمایت میں متحرک کر نے اور انہیں اپنے حق میں کیش کر نے کا موقع ملے۔یونیفارم سول کوڈ کا موجودہ معاملہ بھی دراصل اسی سیاست کا جال ہے جو مسلمانوں کو پھنسانے کے لئے بچھایا گیا ہے اور یہ ایسا جال کہ مسلمان ’دینی فریضہ‘ سمجھ کر اس میں پھنس سکتے ہیں ۔یوپی میں انتخابات نزدیک ہیں اس کے بعد پنجاب اور گجرات میں بھی انتخابات ہونے ہیں سو تیاریاں بھی زور و شور سے شروع کردی گئی ہیں۔یوپی میں تو بی جے پی 265 سیٹوں کا ٹارگٹ لے کر چل رہی ہے اس ٹارگیٹ کے حصول کے لئے سرجیکل اسٹرائک کو بھی استعمال کیا گیا اور سرجیکل اسٹرائک نے بی جے پی کی اچھی خاصی مدد بھی کردی ہے ۔سرجیکل اسٹرائک نے عوام میں بی جے پی کی ساکھ مضبوط کی ہے۔ سرجیکل اسٹرائک کے ذریعہ بی جے پی نے ایک تیر سے دو شکار کئے ہیں ایک تو یہ کہ عوام کے پاکستان مخالف جذبات کو اپنے حق میں کیش کر نے کا سامان کیا ہے ۔اور دوسرے یہ کہ سرجیکل اسٹرائک پر سوال اٹھانے اور اس کا ثبوت مانگنے کو ’ دیش دروہ ‘ قرار دیتے ہوئے ایسا کر نے والوں کو بے دریغ دیش دروہی کہہ کر سرجیکل اسٹرائک جیسے حساس معاملہ کو سیاسی طور پر مزید کار آمد بنا دیا۔اور اب حال ہی میں وزیر دفاع منو ہر پریکر صاحب نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر سرجیکل اسٹرائک کے فیصلے کو ان کی اور وزیر اعظم مودی جی کی ’آر ایس ایس ٹریننگ کا نتیجہ ‘قرار دے کر اسے سیاسی طور پر مزید گرمانے کی کوشش کی یعنی سر جیکل اسٹرائک معاملہ میں بی جے پی قومیت یا نیشنلزم کے معاملہ میں وہاں پہنچ گئی ہے جہاں کوئی دوسری سیاسی پارٹی نظر نہیں آرہی ہے لیکن الیکشن جیتنے کے لئے اتنا ہی کافی نہیں ہے ۔الیکشن جیتنے کے لئے نیشنلزم کو مسلم مخالفت کا تڑکا ضروری ہے ایسے میں بی جے پی کو مسلم مخالف پولرائزیشن کا کوئی ایسا موثر تر اشو چاہئے تھاکہ جس سے مسلمان اس کے خلاف صف آراء ہو جائیں جس کے ردعمل کے طور پر ہندوخود ہی بی جے پی کی طرف چلے جانے کو ضروری سمجھیںتاکہ سرجیکل اسٹرائک کے ذریعہ بنایا گیا ماحول پوری طرح کیش کروایا جا سکے۔سو اسی لئے ’طلاق ثلاثہ‘ کے خلاف کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا گیا اور اسی کے لئے لا کمیشن کے ذریعہ یکساں شہری قوانین کے نفاذ کی راہ ہموار کر نے کے لئے عوامی رائے لینے کا شوشہ چھوڑا گیا ،حالانکہ اس ضمن میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اسے زبردستی نہیں تھوپا جائے گا لیکن مختلف طریقوں سے اور خاص طور سے طلاق ثلاثہ کے بہانے اسے مسلم مخالف بنانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے اسی طرح اسے ترقی پسند سوسائٹی کی سمت قدم کہہ کر مسلمانوں کے ذریعہ اس کی مخالفت کو خوب ہائی لائٹ کر کے گویا مسلمانوں کو ملک کی ترقی کی راہ کا روڑہ ثابت کر نی کی بھی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ملک میں صرف مسلمانوں کا ہی پرسنل لا نہیں ہے بلکہ کئی ذاتیوں اور قبیلوںکا بھی اپنا اپنا پرسنل لا ہے اور اس کے مخالف بھی صرف مسلمان نہیں بلکہ دوسرے مذہبی گروہ بھی ہیں لیکن یونیفارم سول کوڈ کا بی جے پی کا نعرہ ابتداء سے مسلم پرسنل لا کے خلاف ہی رہا ہے اور موجودہ بحث بھی کچھ اس طریقے سے چلائی جارہی ہے کہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس کا نشانہ مسلمان اور مسلم پرسنل لا ہی ہیںاور حقیقت بھی یہی ہے کہ اس سے سب سے زیادہ فرق ہمیں کو پڑ نے والا ہے لیکن ضروری ہے کہ ہم اس کے خلاف جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں ، جذباتی بیان بازی کی بجائے پوری سوجھ بوجھ اور سیاسی بصیرت اور مستقبل کے ممکنہ حالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بولیں ۔ جو بولنے کے مجاز ہیں وہی بولیں ۔اس معاملہ میں بھی سڑکوں پر نکلنے کی بات ہورہی ہے جو ضروری بھی ہے لیکن مناسب وقت پر ہی ۔ابھی اس طرح کا کوئی چھوٹا موٹا احتجاج بھی یوپی انتخابات میں بی جے کو عظیم فائدے سے ہم کنار کر دے گا جو یوپی میں اسے اقتدار کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا میں اسکی تعداد بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا جس سے اسے اپنی مرضی کے قوانین بنانے میں آسانی ہو جائیگی ۔اور ویسے بھی ملک میں ہمارے احتجاج صرف استعمال کئے جاتے ہیں ،حکومتیں اگر ہمارے احتجاج کو قبول کرتے ہوئے ہمارے حق میں کوئی فیصلہ کرتی بھی ہیںتو ہم سے کچھ نہ کچھ چھین بھی لیتی ہیں یا ہمیں کسی اور مسئلہ سے دو چار کردیتی ہیں۔شاہ بانو کیس ہی اس کی مثال ہے کہ اس کیس میں احتجاج کے ذریعہ ہم نے کچھ پایا تو کچھ کھویا بھی ہے ، عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس کیس میں زبردست احتجاج کے ذریعہ ہم نے حکومت وقت کو مجبور کردیا تھا کہ قانون سازی کے ذریعہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو منسوخ کرے لیکن صاحب اسی ’ مجبور حکومت ‘ نے اپنے اس فیصلے کے بعد بابری مسجد کا تالا کھلواکر اور وہاں رام مندر کا شیلا نیاس کروا کر گویا بابری مسجد کی شہادت کا راستہ صاف کردیا تھا اور اسی وجہ سے بی جے پی رام مندر تحریک میں کامیاب ہو سکی تھی اور اسی وجہ سے وہ آج مرکزی اقتدار پر قابض ہو کر ہمیں پھر شاہ بانو کیس والی حالت میں لے آئی ہے۔ہمارا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے یونیفارم سول کوڈ کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلینا چاہئے ہمارا کہنا صرف اتنا ہے کہ اس ضمن میں ہم جو بھی کریں وہ حال و مستقبل کے ممکنہ خدشات و خطرات کے متعلق سوچ سمجھ کر کریں۔ اس کے علاوہ خود ہم میں بھی کچھ ایسے لوگ معزز ہو گئے ہیں جو محض اپنی بھلائی کے لئے پوری قوم کو بھاڑ میں جھونکنے سے بھی گریز نہیں کرتے ،ایسے لوگ اس طرح کے معاملات میں مسلمانوں کو خوب خوب اکسا کر ان کے ووٹ اپنے حق میں کیش کر نے کی کوشش کرتے ہیں ایسے میں اگر وہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو ہندو ووٹ سیکولر یا کم فرقہ واریت والی سیاسی پارٹیوں سے ہٹ کرپوری شدت سے مسلم مخالف اشتعال انگیزی کر نے والی پارٹیوں کی طرف چلے جاتے ہیںاور مسلمانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہو جاتا ہے ،ایسے لوگوں سے بھی ہوشیار رہنا چاہئے اور انہیں اس اشو کو ہتھیانے کا موقع ہر گز ہر گز نہیں دینا چاہئے۔اس معاملہ میں اپنا ردعمل ظاہر کر نے سے پہلے ہمیں ان تمام باتوں پر ضرور با لضر ور غور و خوض کرنا چاہئے ،ہمارا کوئی بھی ردعمل اس طرح ہونا چاہئے کہ ہمارے دشمن اسے اپنے سیاسی فائدے کے لئے استعمال نہ کرسکیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close