ملی مسائل

شام۔۔۔اور سازشی جیت گئے!

حلب میں  نسل کشی ہوئی، دواخانوں ، بیکریوں،  رہائشی عمارتوں ، عوامی پناہ گاہوں  اور عوامی مقامات پر اندھا دھند ہوائی بمباری، توپ خانوں  اور آرٹیلری فائرنگ کے ذریعہ مسلم شہریوں  کوبے دریغ بلکہ چن چن کر ہلاک کیا گیا، جب ظالم بشار الاسد کی فوجوں  سے لڑنے والے باغی ہار گئے اور فاتح افواج شہر میں  داخل ہوئیں  تو انہوں  نے وہی کیا جو اسلام آنے سے پہلے دنیا میں  ہوا کرتا تھا جسے اسلام نے نہ صرف غلط اور ناجائز قرار دیا بلکہ اپنی فتوحات کے بعد امن اور معافی کی نہ مٹنے والی مثالیں  بھی قائم کیں لیکن حلب میں  جو کچھ ہوا اس کی سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ اسی اسلام کے دعویداروں  کے ذریعہ اور اسی اسلام کے ماننے والوں  کے خلاف ہوا اور خبروں  کے مطابق یہ سب اتنا گھناؤنا ہوا کہ اس سے دنیا میں  اب تک آئے تمام ظالمیں  کی روحیں  بھی کانپ گئی ہوں  گی۔

حلب کا یہ واقعہ دراصل عرب بہار یا عوامی انقلاب کے شامی تسلسل کی کڑی ہے۔ شام میں  یہ انقلاب عوام کے پر امن مظاہروں  کی صورت شروع ہوا تھا جن کا مطالبہ جمہوری اصلاحات کا نفاذ اور سیاسی قیدیوں  کی رہائی تھا لیکن ان پر امن مظاہروں  کے خلاف حکومت کے ذریعہ طاقت کے استعمال کی وجہ سے یہ مظاہرے پر تشدد ہوگئے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مغرب اورکچھ علاقائی طاقتوں  نے انسانی حقوق، عوامی رائے کے احترام، جمہوریت کی بحالی اور بشار الاسد کے ذریعہ اپنی ہی عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کو بہانہ بنا کر اس عوامی انقلاب کو خانہ جنگی میں  تبدیل کر نے کا سامان کیااورخانہ جنگی کے بعد لبیا کی دگر گوں  حالت اورعوامی انقلاب کے نتیجہ میں  آئی مصر کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والی فوج کی انہی طاقتوں  کے ذریعہ حمایت کی کھلی مثالیں  موجود ہونے کے باوجود شام کے باغیوں  نے ان منافقوں  کی شہہ پر خانہ جنگی شروع کردی۔  اور شام کی یہ خانہ جنگی محض خانہ جنگی نہیں  بلکہ پراکسی وار(Proxy War ) ہو گئی تھی جو باغیوں  اور حکومت کے نام دراصل خطہ میں  اپنا اثر ورسوخ بڑھانے یا قائم رکھنے کے لئے علاقائی اور عالمی طاقتوں  کے بیچ لڑی گئی۔  دراصل مسلم دنیا میں  ایک عرصہ سے ایران اور سعودی عرب اپنے اپنے اتحادیوں  کے ساتھ سرد جنگ کی حالت میں  ہیں۔ دونوں  خطہ میں  اپنی اپنی اجارہ داری قائم کرنااور ایکدوسرے کا اثر ورسوخ کم کرنا چاہتے ہیں۔  اور پچھلے کچھ سالوں  میں  خطہ میں  ایران کی پو زیشن مضبوط ہوئی ہے ایک تو افغانستان اور عراق پر امریکی حملے کے ذریعہ وہاں  کی ایران مخالف حکومتیں  ختم ہوئی اور نئی حکومتوں  نے ایران سے دوستانہ تعلقات استوار کئے جس نے خطہ میں  طاقت کے توازن کو ایران کی طرف موڑ دیا۔  دوسری طرف مغربی طاقتوں  سے ایران کے جوہری معاہدے نے ایران کو عالمی سطح پر مثبت مقام دیااور یہ بات بھی علاقائی طاقتوں  کے لئے پریشان کن رہنی تھی سو رہی۔  شام ایران کا دیرینہ حلیف ہے اور شاید اسی لئے علاقائی طاقتوں  نے یہاں  کی اسدی حکومت کو ختم کر نے اور اس کی جگہ اپنی حامی یا کٹھ پتلی حکومت یا کم از کم سنی اکثریت والی حکومت تشکیل دینے کی خواہش میں  ہی عوامی انقلاب کی حمایت کی لیکن جب یہ انقلاب کامیاب نہیں  ہو سکا اور پر تشدد ہوکر خانہ جنگی میں  تبدیل ہوتا نظر آیا تو انہوں  نے اسے مزید جلا بخشی اور اس خانہ جنگی کے تناظر میں شام کے متعلق ہونے والے مذاکرات میں  بھی بشار الاسد کی اقتدار سے بے دخلی پر ہی اڑے رہے بلکہ یہ تک کہہ دیا کہ اسد کو اقتدار چھوڑنا ہی ہوگا سیاسی منتقلی کے ذریعہ یا قوت کے ذریعہ، جس کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوتے رہے اور جنگ بدستور جاری رہی۔ اسی دوران ایران عوامی انقلاب اور خانہ جنگی کو اسرائیلی سازش قرار دے کراصلاً اپنے حلیف بالفاظ دیگر اپنی پوزیشن بچانے کی خاطرپوری طرح اسد حکومت کی حمایت میں  آگے آیا اور باقائدہ اپنی افواج اور ملیشیا خاص طور سے حز ب اللہ کے ذریعہ جنگ میں  شامل ہو گیا۔  یعنی شام کی خانہ جنگی میں  باغیوں  اور حکومت کی حمایت یا مخالفت کا کھیل مظلوم مسلمانوں  کی امداد، حکومت کے ستائے ہوؤں  کی حمایت، اسلامی حکومت کے قیام یا شریعت کے نفاذ یا اسلام کی توسیع کے لئے یا کسی اخلاقی قدرکو مد نظر رکھ کر نہیں  ہوابلکہ یہ سب اپنا اپنا الو سیدھا کر نے کے لئے ہوا۔

 اس خانہ جنگی کا ایک اور اہم ستون مغرب و امریکہ بھی ہیں ۔ امریکہ بہادر اور اس کے اتحادیوں  نے بھی حقوق انسانی، عوامی رائے کے احترام، جمہوریت کی بحالی اور بشار الاسد کے ذریعہ طاقت کے استعمال کو بہانہ بنا کر باغیوں  کی حمایت اور مدد بھی کی لیکن یہ بھی دراصل عوامی حمایت کی بجائے اسد مخالفت تھی۔ اسد یا اس کا باپ زائد از چالیس سالوں  سے شام کے اقتدار پر قابض ہیں  اب عوام کی جس حالات زارکو شام کے باغیوں  کی حمایت یا اسد کی مخالفت کی وجہ بتایا جارہا ہے وہ پچھلے چالیس سالوں  سے جوں  کے توں  بلکہ اس سے بھی زیادہ خراب رہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں  نے ان کا ڈنکا اس وقت پیٹنا شروع کیا جب اسد نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں  کے ذریعہ عراق پر حملے کی مخالفت کی تھی۔  اسی طرح فلسطینی حریت پسند تنظیم حماس کا ہیڈ کوارٹر اسد نے دمشق میں  قائم کروایا تھا، اسی طرح شام میں  ہی فلسطینی پناہ گزینوں  کے بھی کیمپ قائم تھے یہی نہیں  شام کی اسرائیلی پالسی اس کے برعکس تھی جو بقیہ عرب ممالک کی ہے اور یہ بات بھی امریکہ اس کے اتحادی اور صہیونیت کے دوسرے مہروں  کے لئے کس طرح قابل قبول ہو سکتی تھی؟سو انہوں  نے بھی دراصل اپنا اسد سے اپنا حساب کتاب برابر کر نے کے لئے ہی باغیوں  کی اور ویسے انکی نیت کوئی ڈھکی چھپی بھی نہیں  ہے کہ جسے سمجھنے کے لئے وقت درکار ہو۔ یعنی شام میں  باغیوں  کی حمایت میں  جو بھی لوگ آگے آئے وہ عوام کے لئے نہیں  بلکہ اپنے اپنے مفادات کے لئے آگے آئے لیکن اس کے باوجود باغی ان کے اشاروں  پر چلے اور یہ بھی اتنے بودے نکلے کہ عین وقت پر باغیوں  کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ جب روس نے اپنی ہوائی طاقت باغیوں  کے خلاف استعمال کی تو اس وقت انہوں  نے باغیوں  کو اسکا توڑ فراہم نہیں  کیا جس کی وجہ سے اس جنگ میں  سوپر پاور روس کے مقابل صفر پاور باغی رہ گئے، طاقت کے اس عدم توازن کی وجہ سے باغیوں  کی ہار یقینی تھی سو ہوئی۔

 حلب کی اس حالت اور وہاں  کے مسلم شہریوں  کی حالت زار کے لئے اسد، روس اور ایران و حزب اللہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور سب سے زیادہ نزلاایران پر ہی گر رہا ہے۔ اس میں  کوئی شک نہیں  کہ حلب میں  مسلمانوں  کی نسل کشی میں  ایران کا رول بڑا قبیح ہے بلکہ اس میں  اسد کی فوجوں  سے زیادہ ایران کا حصہ ہے لیکن حلب میں  جو کچھ ہوا اس کے لئے جتنا ایران ذمہ دار ہے اتنی ہی ذمہ داری ان طاقتوں  پر بھی عائد کی جانی چاہئے جنہوں  نے وہاں  خانہ جنگی کا پورا پلاٹ تیار کیا اور عین ضرورت کے وقت باغیوں  کو بے یارو مدد گار چھوڑ کر راہ فرار اختیار کی۔ اس سارے معاملہ کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر ڈال دینا اور دوسرے کو بری الذمہ کر دینا مبنی بر انصاف نہیں  ہو سکتا۔  اسی طرح حقوق انسانی کی شرمناک پامالی کے جو الزامات ایران اور اسدی افواج پر لگائے جا رہے ہیں  تقریباً اسی طرح کے الزامات باغیوں  پر بھی لگ چکے ہیں  کہ انہوں  نے بھی اپنی مخالفت کرنے والے نہتے شہریوں  پر اور شہری رہائش گاہوں  پر اور عوامی مقامات پر فائرنگ کی، مسجد میں  بم دھماکے کئے، مخالفت کر نے والوں  کو بے دریغ قتل کیا، شہری رہائشی علاقوں  میں  گھس کر نہتے شہریوں  کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ ان کی سفاکی کی ایک ویڈیو ایسی بھی آئی تھی جس میں  ان کے ایک کمانڈر کو ہلاک شدہ شامی فوجی کا کلیجہ کھاتے ہوئے دکھا یا گیا تھا۔  سو انہی الزامات یا جرائم کے لئے ایران اور اس کے اتحادیوں  پر لعن طعن کرنا اورباغیوں  کی اس سفاکیت اور غیر اسلامیت کا ذکر بھی نہ کرنا، کیا منصفانہ ہو سکتا ہے؟ اسی طرح عرب بہار کے تناظر میں  بحرین کے حا لات دیکھئے، وہاں  کے حا لات شام کے حالات سے یکسر مختلف ہیں، وہاں  شیعہ آبادی زیادہ ہے اور حکومت اقلیتی سنی خاندان کے پاس ہے وہاں  بھی عرب انقلاب کی شروعات میں  عوامی مظاہرے ہوئے جن کو وہاں  کی حکومت نے دبا دیا اور اس کے لئے سعودی عرب نے باقائدہ اپنی افواج بحرین بھیج رکھی ہے اگر خدانہ خواستہ سو بار خدا نہ خواستہ وہاں  بھی شام کی طرح خانہ جنگی شروع ہوجائے تو کیا آج شام کے باغیوں  کی حمایت کر نے والے اور اسد حکومت کے حامیوں  پر لعن طعن کر نے والے کل بحرین کے باغیوں  کی حمایت اور وہاں  کی حکومت کے حامیوں  کو ایسے ہی لعن طعن کریں  گے؟سعودی عرب کے حالات بھی کچھ بہت زیادہ مختلف نہیں  ہیں  وہاں  بھی شیعہ آبادی میں  بے چینی پائی جاتی ہے کل اگر وہاں  کے حالات بھی خراب ہوئے تو کیا اس کے لئے بھی ہمارا رویہ یہی ہوگا؟ہمیں  ہر حال میں  انصاف کی علمبرداری کا حکم دیا گیا ہے چاہے اس کی زد ہمارے اپنے عزیزوں  اور رشتہ داروں  پر ہی کیوں  نہ پڑتی ہو۔  سو ہمیں  ہر معاملہ میں  یہی طرز عمل اپنا نا چاہئے۔

دراصل شام کے حالات ایسے ہیں  کہ وہ بہت آسانی سے شیعہ سنی تنازعہ میں  تبدیل ہو سکتے ہیں  اور بد قسمتی سے یہی ہوا بھی۔  کیا امریکہ روس سے ڈرنے اور ہارنے والا ہے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ اس نے روس کے مقابلہ باغیوں  کی امداد نہیں  کی؟ وہ کم از کم انہیں  روس کی ہوائی طاقت سے نمٹنے کے ساز و سامان تو فراہم کرسکتا تھا لیکن ایسا بھی کیوں  نہ ہوا؟ ہمیں  تو لگتا ہے کہ امت کے اتحاد سے لرزہ بر اندام لوگوں  نے شام کے بہانے پوری امت مسلمہ عالمیاں  کو مسلکی (شیعہ سنی ) علاقائی اور قومی گروہوں  میں  بانٹنے اور بٹے ہوئے رکھنے کی خطرناک سازش کی ہے اور اس میں  وہ پوری طرح کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں ۔  اب حال یہ ہو گیا ہے کہ حلب تو گیا، شام کی بغاوت کی کامیابی کے آثار بھی نظر نہیں  آ رہے لیکن امت اسی شام کو لے کر شیعہ سنی میں  بٹ بھی گئی اور ایک دوسرے سے اتنی دور بھی ہوگئی کہ اب جلد جڑاؤ کے آثار بھی نظر نہیں  آ رہے۔ اور یہ دراصل امت مسلمہ کی شکست فاش اور سازشیوں  کی کھلی جیت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close