ملی مسائل

مسلم اداروں و اکابرین کی مسلم مسائل سے لاتعلقی؟

آر ایس ایس کے مودی راج میں مسلمانان ہند کو جس بیدار مغزی اور تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا وہ مودی راج کے ڈھائی سال کے عرصہ میں شائد ہی نظر آیا ہو۔ مسلمانان ہند جس نازک دور سے گذر رہے ہیں اس کا احساس مسلم اکابرین سے زیادہ عام مسلمانوں کو ہے۔ مسلمانوں کے سیاسی و مذہبی قائدین ادارے اور تنظیمیں مجموعی طور پر اس فعالیت سے محروم ہیں جس کا تقاضہ وقت ان سے کرتا ہے۔ حیرت ہے کہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے دور میں جب مسلمانان ہند اتنے پر آشوب حالات سے دوچار نہیں تھے تب وہ آج کے مقابلہ میں زیادہ فعال اور مستعد تھے۔ بھلے ہی قومی سطح کی مسلم جماعتیں مسلمانوں کو ملک کی سیاسی قوت بنانے اور مسلمانوں کو سیکولر جماعتوں کے چکر سے نکالنے کیلئے زیادہ سرگرم نہ رہی ہوں لیکن مسلمان سیاسی قائدین بہ یک وقت کئی نہ سہی چند مسلمان قائدین (مسلمانوں کی آواز تھے) سلیمان سیٹھ، بنات والا، ڈاکٹر جلیل فریدی ، سلطان صلاح اویسی اور سید شہاب الدین کا سیاسی دبدبہ تھا۔ آج سیاسی افق پر صرف اسد الدین اویسی نظر آتے ہیں گوکہ وہ قومی سطح پر اپنی خدمات، اپنے پرخلوص جذبات اور بے باک مگر بے لوث اور مدبرانہ قیادت کے ذریعہ خود کو منوا چکے ہیں لیکن مفاد پرست عناصر ان پر ٹوٹ پڑے ہیں ان کو سنگھ پریوار کا ایجنٹ اور مسلم و سیکولر ووٹ تقسیم کرانے والا قائد کہہ کر ان کو بدنام کیا جارہا ہے۔ جو لوگ جانتے ہیں کہ یہ سب غلط ہے ان کی خاموشی ملت کے مفاد میں نہیں ہے۔

مسلمان سیاسی قائدین کے علاوہ سماجی و مذہبی شخصیات کا رویہ بھی ملت کے مفادات کے حق میں نہیں ہے۔ اس سے بڑا حزنیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی غیر سیاسی و مذہبی تنظیمیں بھی خاموش اور غیر فعال ہیں۔ ماضی میں جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے ہند نے آزادی کے بعد ملت کی خدمات انجام دے کر تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کیا تھا۔ لیکن آج کی جماعت اسلامی ماضی کی جماعت سے یکسر مختلف ہے ۔ جمعیت العلمائے ہند پر گوکہ بدستور سیکولرازم کا بھوت طاری ہے تاہم مولانا ارشد مدنی بے قصور اور مظلوم مسلمانوں کی رہائی اور ان کے مقدمات کی پیروی کے سلسلہ میں یادگار اور بے حد قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ملک کے مسلمانوں کا سب سے بڑا غیر سیاسی ادارہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ خود کو صرف شریعت کا محاظ بنالیا ہے اور سیاست کو اپنے لئے ’’شجرممنوعہ‘‘ بنالیا ہے۔ حالانکہ مولانا ابوالحسن علی ، ندوی مرحوم، مفتی عتیق الرحمن عثمانی مرحوم، مولانا منت اللہ رحمانی مرحوم، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی مرحوم اور مولانا عبدالرحیم قریشی مرحوم اور ماضی کے کئی اکابرین مسلمانوں کے حوالے سے سیاسی امور میں ملت کا نقطہ نظر اور موقف کے بارے میں رہبری و رہنمائی فرماتے تھے لیکن نہ وہ لوگ ہیں اور نہ وہ باتیں ہیں۔ بورڈ میں مصلحت سے عاری صاف گو لوگوں کی جگہ ضرورت سے زیادہ مصلحت پسند اور خاموش طبع لوگ ہیں۔

آج مسلمانان ہند جن حالات سے گذر رہے ہیں۔ یو پی کے انتخابات کی صرف یو پی کے ہی مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ ملک بھر کے مسلمانوں کے لئے جو اہمیت ہے وہ بھی سب جانتے ہیں۔ وادی کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اسے کون نہیں جانتا ؟ ڈاکٹر ذاکر نائک اور ان کے اداروں کے ساتھ جو کچھ حکومت کررہی ہے اس کے خلاف حتجاج ضروری ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر غاصبانہ قبضہ کی تیاری ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب وہ فرقہ پرستی بڑھ رہی ہے۔ یو پی کے علاوہ چار ریاستوں کے انتخابات میں مسلمانوں کو رہبری اور مشاورت کی سخت ضرورت ہے بلکہ مندرجہ بالا مسائل اور دیگر تمام امور کیلئے بھی مسلمانوں کی دیانت داری سے رہنمائی کرنے والا جو ادارہ ہوسکتا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ہے لیکن آج مسلم مجلس مشاورت اپنے راستے، اپنے مقاصد اور فرائض کو بھول چکی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مسلم مجلس مشاورت مسلم مسائل سے آج لا تعلق اور بیگانکی اختیار کرچکی ہے۔

مسلم مجلس مشاورت جس کو عام طور پر صرف مشاورت کہا جاتا ہے ۔ ملک بھر کے مختلف مسلم اداروں اور تنظیموں کا متحدہ ادارہ ہے جس کا قیام 1964ء میں لکھنو میں عمل میں آیا تھا اور بزرگ مسلم سیاستداں ڈاکٹر سید محمود اس کے پہلے صدر تھے۔ سید شہاب الدین اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں بھی اس کے صدر رہ چکے ہیں۔ متعدد مسلم اکابرین و زعماء مثلاً مولانا سید ابوالحسن ندوی مرحوم، مفتی عتیق الرحمن عثمانی مرحوم، ڈاکٹر جلیل فریدی مرحوم، مولانا منت اللہ رحمانی کا بھی مشاورت سے خاص تعلق رہا ہے۔ تاہم موجودہ صدر نوید حامد (جن کا صدر منتخب ہونا ہی پراسرار حیرت انگیز تھا) جن کی شہرت کسی ملی خدمت یا کسی ملی ادارہ سے وابستگی یا کسی مذہبی و سیاسی حیثیت کی حامل نہیں رہی جن کی روش مشاورت کے تمام صدور سے مختلف اور حکمت عملی کا مشاورت کے دستور یا منشور کے مغائر ہے۔ ملت کا درد رکھنے والے اکابرین کو مشاورت کے موجودہ طریقہ کار سے سخت اختلاف ہے بلکہ ایک اہم شخصیت کا کہنا ہے کہ ’’مسلم مجلس مشاورت‘‘ کو اسلام پسندوں سے چھین لینے کیلئے اس کا اغوأ کیا گیا ہے۔

نوید حامد کو صدر مشاورت کا عہدہ سنبھالے تقریباً ایک سال گذر چکا ہے لیکن موصوف نے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے عملاً کچھ کرنا تو دور رہا کسی مسلم مسئلہ پر اپنی رائے یا مشاورت کا موقف ظاہر کرنے کے لئے ایک بیان تک دینے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی نوٹ بندی کے نام پر حکومت کی پیدا کی ہوئی معاشی ہنگامی حالت (ایمرجنسی) سے یوپی، دہلی، ہریانہ میں جہاں مسلمان مزدور کاریگر ، دیہی اور گھریلو صنعتوں کے چھوٹے صنعت کار زیادہ ہیں وہ بھی بے روز گاری، بازار کی مندی اور کاروبار کی تباہی سے دوچار ہیں۔ مگر مشاورت خاموش ہے۔ مسلمان مبلغ، ڈاکٹر ذاکر نائک کی تبلیغی سرگرمیوں کیلئے نوٹ بندی کے ہنگاموں سے فائدہ اٹھاکرپابندیاں لگادی گئی ہیں (جب مسلمان ہی نہیں عام ہندوستانی بھی بدترین مالی پریشانیوں میں مبتلا ہیں)۔ حکومت نے ذاکر نائک اور انکے اداروں کے خلاف انتہائی ظالمانہ، جابرانہ اور غیر دستوری و غیر قانونی اقدامات کئے ہیں اور اپنے اقدامات کا جواز پیدا کرنے کے لئے ذاکر نائک پر من گھڑت و جھوٹے الزامات اور بہتان لگائے گئے ہیں لیکن نوید حامدخاموش ہیں۔ جیسے یہ سب ہندوستان میں نہیں ہورہا ہے۔ مظلوم و نہتے کشمیریوں پر انتظامیہ اور فوج کے مظالم کے خلاف احتجاج کرنے سے نوید حامد کو کوئی مطلب نہیں ہے۔ ان کیلئے پاکستان کی مذمت پہلے کرنا ضروری ہے۔ اس لئے سارے معاملے سے وہ الگ رہے ہیں۔ جے این یو کے طالب علم نجیب کے مسئلے میں بھی وہ خاموش ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ مشاورت کا کردار بدلنے کیلئے کسی سازش سے وہ صدر بننے ہیں۔

مسلم مشاورت کا قیام 1964ء میں اس واسطے عمل میں آیا تھا کہ انتخابات کے وقت مسلمان رائے دہندوں کی رہنمائی کی جائے۔ سیاسی جماعتوں سے مسلم مسائل پر مذاکرات کرکے ان کے منشور و عزائم کی روشنی ہر حلقے سے مسلمانوں کیلئے بہتر (بلاکسی امتیاز جماعت یا مذہب) امیدوار کی سفارش کی جائے لیکن ان سرگرمیوں سے وہ بیگانہ ہیں بلکہ ان کی عدم دلچسپی قابل مذمت ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے دلچسپی کی جگہ نوید حامد کو نہ صرف پاکستان کے اقلیتوں کے مسائل سے بڑی دلچسپی ہے بلکہ ساتھ ہی رسول اکرم صلعم سے کی شان میں گستاخی کرنے والی کرسچن خاتون آسیہ کی ناجائز اور اسلامی روایات کو بالائے طاق رکھنے والے گورنر پاکستانی پنجاب سلمان تاثیر کی تائید کرنے والے کی نوید حامد حمایتی ہیں۔ سوشیل میڈیا پر ان کے تاثرات کی یہ کہہ کر زبردست مذمت کی گئی کہ شاتم رسول کی تائید و حمایت کرنے والے مسلمان کی خواہ وہ کہیں ہو مذمت لازمی ہے اور ہندوستانی مسلمانوں پر ہورہے مظالم کو چھوڑ کر ان دیگر ممالک کے مسائل سے دلچسپی لینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مسلم مجلس مشاورت کا صدر اگر حضور ؐکی شان میں گستاخی اور اسلام کی برائی کرنے والوں کی تائید کرے تو کیا وہ اس عہدہ کا حق دار ہے؟ مسلم مفادات سے زیادہ 2017ء کے بعد دوبارہ صدر منتخب ہونے کیلئے اپنے ہم نواؤں کو ناجائز غیر دستوری اور غیر قانونی طور پر مسلم مجلس مشاورت کی تنظیم میں داخل کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے خلاف فوری کارروائی ضروری ہے۔

ای میلrasheedansari050@gmail.com

فون0091 9949466582

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close