ملی مسائل

مدارس کا نصابِ تعلیم

مدارس کے نصاب میں تبدیلی یا عدم تبدیلی کا مسئلہ ایسا ہے کہ  اس موضوع سے متعلق اس بھری پُری دنیا میں’’جتنے منہ اتنی باتیں ‘‘ہیں ،بلکہ خا ص اس تعلق  سے تو یہ کہنا بھی شاید رَوا رکھا جاسکے کہ منہ کم ہیں اور  باتیں  زیادہ ہیں  یا پھر یہ کہ بس باتیں ہی باتیں ہیں۔ جسے دیکھو وہ  سوالوں، مشوروں ، وضاحتوں ، امیدوں اور شکایتوں  کی ایک لمبی چوڑی فہرست لئے کھڑا ہےاور پھراس پر طُرّا یہ کہ ان میں سے اکثر باتیں ، سوال، مشورے، وضاحتیں ، شکایتیں اور پھر امیدیں انتہائی حدتک  ایک دوسرےسے مختلف اور متضاد بھی ہیں اور ایک قاری اس وقت اپنی ہنسی یا پھر غصے پرضبط کرنے کے قابل نہیں رہ  پاتا جب وہ دیکھتا ہے کہ ایک ہی شخص کے یہاں تضاد اپنی آخری انتہاؤں تک پہنچ گیا ہے۔

مشوروں اور وضاحتوں کی بہتات میں بعض ایسے مشورے بھی دے جارہے ہیں  جو ایک دوسرے  کوقطع کرتے اور کالعدم ٹہراتے ہیں۔یہاں تک کہ  انہیں قبول کرنے  والا  کنفیوژ ن میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ کسے  قبول کرے اور کسےرد کردے ۔اختلاف اورتضاد کی اسی نوعیت کے چلتے اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دلیلیں بے کار ثابت ہوجاتی ہیں اور بڑے اچھے اچھے لکھاری بے اعتبار اور بے ثبات ٹہر جاتے ہیں۔خاص اس معاملے میں ایسا بھی ہے کہ غیر تو غیر اپنے بھی اس بات کے شاکی نظر آتے ہیں کہ یہاں سنتا کون کس کی ہے؟اور جو لوگ سننا نہ چاہیں انہیں سنانے کا فائدہ  ہی کیا ہے ۔ اورپھرمزے کی بات یہ بھی ہے کہ ہر کس وناکس  سنانےکے لئے مضطرب بھی ہے۔کوئی ممبر پر کھڑا ہے ،کوئی ٹی وی کے پردے پر جلوہ گر ہے اور کوئی پرنٹ میڈیا کے صفحات پر دھرنا دئے بیٹھا ہے۔

 اگر آپ لوگوں سے ملیں اور ان سے سوال کریں کہ مدارس کے نصاب میں کیا کیا اور چیزیں شامل ہونی چاہئیں۔ تو خدا کی قسم ایک موچی سے لے کر ایک سائنسداں تک جتنے بھی افراد چھوٹے بڑے پیشوں سے وابستہ ہیں وہ سب کے سب  اپنے اپنے پیشوں اور ہنر کے متعلق یہ ضرور کہیں گے کہ ان کا پیشہ یا ہنر مدارس کے نصاب میں ضرورشامل ہونا چاہئے۔اور جب مولانا اشرف علی تھانوی ؒ  پوسٹ آفس اور ٹریفک  کےاصولوں کو بھی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی بات کرتے ہیں تو بھلا پھر اور کونسی چیز اس دنیا میں ایسی ہے جس کی ضرورت مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی نہ ہو۔ سائنس،میڈیکل  سائنس، ادب، طب، جغرافیہ، قانون،اقتصادیات،لسانیات،بینکنگ ،سیرو سیاحت، انجینئرنگ ،مارکیٹنگ،ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنا لوجی،میڈیا ،سوشل میڈیا،پرنٹنگ،کمپیوٹر، کڑھائی سلائی جیسی سیکڑوں چیزیں، موضوعات  اورہنر ہیں اور پھر اپنی اپنی تمام تر جزیات اور لواحقات کے ساتھ ہیں اور کیا ان میں سے کوئی ایک بھی چیز،موضوع یا ہنر ایسا ہے جس کی ضرورت  اور اہمیت پوسٹ آفس اور ٹریفک کے اصولوں سے کم ہے اور اسے ا س کی اسی کمتر اہمیت یا ضرورت کی وجہ سے  مدارس کے نصاب سے الگ رکھا جاسکتا ہے۔؟

اگر آپ عصری علوم کے ماہرین سے اس بابت رائے لیں گے تو ان میں سے سب نہیں تو کم ازکم زیادہ تر افرادقرآن وحدیث اور ان سے متعلقہ موضوعات  جیسے تفسیر، فقہ، علم اسماءا لرجال ،میراث  ، نحو وصرف  اور انشاء وبلاغت کے علاوہ دنیا بھر کی تقریبا ہر شے ، ہر موضوع اور ہر ایک فن کو مدارس کے نصاب میں شامل کرنے کی وکالت کریں گے۔اور پھر ایک بار جب ان وکالتوں کے چلتے مدارس کے نصاب  میں ان تمام وکیلوں کی تمام مطلوبہ چیزوں اور موضوعات کو شامل نصاب کرلیا جائے گا تو یہی سب منفعل مزاج وکیل اور سرفروش قسم کے  افراداس پر ہنسیں گے اور کہیں گے کہ یہ نصاب ہے یا مکسڈ اچار۔اور اس وقت شاید مدارس کے تعلیم یافتہ کچھ ایسے حضرات کو اپنی حماقت کا احساس ہو گاجو باہر کے لوگوں سے کوئی ایک بات سن لیتے ہیں اور اسے اس طرح لے اڑتے ہیں جس طرح  موسم گرما میں گوریامیدان سے سوکھے تنکے چنتی ہے اور پھرپُھرسے اپنے گھونسلے کی طرف اڑجاتی ہے۔اس  واضح فرق کے ساتھ کہ  وہ کم از کم اپنے  میدانِ عمل کی حد تک نسیم ِ صبح کی طرح روشن ضمیر ہے اور   بہتر طور پر جانتی اورسمجھتی ہے کہ کونسا تنکہ مناسب ہے اور کونسا مناسب نہیں ہے۔

تمیز خار وگل سے آشکارا

نسیمِ صبح کی روشن ضمیری

نسیم ِصبح  خار اور گل دونوں کے پاس آتی ہے مگر دونوں کے ساتھ یکسا سلوک نہیں کرتی، وہ جانتی ہے کہ اسے گل کو  نازک بنانا ہے اور خار کو سخت جان کہ فطرت کو ایک کے اندرنرمی ولطافت  مطلوب ہے اور دوسرے کے اندر تیزی اور صلابت۔

دراصل نصاب سے متعلق اس خاص معاملے میں بلکہ ہر خاص وعام معاملے میں سب سے بڑا فرق مقصدیت اور اہداف کا ہے۔کسی بھی چیز کو قائم کرنے اور اسے قائم رکھنے کے پس پردہ سب سے اہم بات یہی ہوتی ہے کہ اسے قائم کرنے والے اس سے کس طرح کے اہداف اور مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اگر وہ چیز یا ادارہ مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہے تو دونوں میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہے نہ ادارہ اور نہ ہی ادارے کو قائم کرنے اور اسے آگے بڑھانے والے افراد۔ایسے وقت میں ان کے لیے ان تمام معاون علوم وفنون  ،اقدامات  اور تبدیلیوں پر غور کرنا ضروری ہوجاتا ہے جومطلوبہ  اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی نوعیت سےمددگار اور کارآمد ہوسکتے ہیں جبکہ دوسرے علوم وفنون  جو ان مطلوبہ اہداف کو حاصل کرنے میں معاون نہ ہوں بلکہ ان کے اندر یک گونہ یا صد گونہ مغایرت ہو تووہ کسی بھی صورت غور وخوض کے لائق نہیں،  اب چاہے وہ زندگی کے دوسرے میدانوں میں سب سے فائق اوراعلیٰ وبرتر مضامین کی حیثیت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔اب اگر مدارس کا مقصد ایک انسان کو شریعت کا ماہر بنانا ہے اور اس سے بھی بڑھ  کر اسے معرفت الہی کے مقام تک پہنچانا ہے اوراس کو اللہ ورسول اللہ ﷺ اور علم دین  سے محبت کرنے والا بنا ناہے تو انہیں اپنے یہاں کسی بھی فن یا علم کو جگہ دینے سے پہلے سوبار غور کرنا ہوگا کہ وہ خاص فن یا علم انہیں مطلوب اہداف کو حاصل کرنے والے ان کے نظام میں مزید قوت پیدا کرے گا،اسے رفتار دے گا یا اسے کمزور بنادے گا ۔یہ دیکھے اور جانے بغیر کسی بھی قسم کی وکالت پر بھروسہ کرنا نری حماقت ہوگی،  اب چاہے  یہ وکالتیں کرنے والے اپنے اپنے فیلڈ اور میدان میں  اپنے زمانے کے رستم اور افلاطون ہی کیوں نہ ہوں۔اگر یہ دین وشریعت اور مدارس کے لیے مخلص نہیں ہیں یا مخلص تو ہیں مگر ان کے مقاصد اور اہداف وہ نہیں ہیں جو مدرسے کے  بنیادی مقاصد اور اہداف ہیں تو پھر ایسے وکیلوں کو دور ہی سے سلام کرنا بہتر ہے۔اور ان سے یہ کہنا مناسب ہے کہ ’پایل کے غموں کا علم نہیں ،  جھنکار کی باتیں کرتے ہیں‘۔

ہاں اگر ایسے افراد جو مدارس کے مقاصد اور اہداف کو سمجھتے ہیں، ان کے دکھ درد کو جانتے ہیں اور ان میں سے کسی کو مدارس اور اہل مدارس کے تعلق سے اپنے تئیں یہ دعویٰ ہے کہ ’میں ہوں محرمِ رازِ درونِ مے خانہ‘تو ایسے کسی فرد کی رائے کواہمیت نہ دینا اور محض عصبیت یا اپنے لگے بندھے مزاج اور یا چڑی مار کی سی افتاِد طبع کے باعث یکسر نکار دینا بھی نہ صرف یہ کہ اپنی ذات کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ پوری قوم کے اور دین اسلام کے ساتھ بھی اسی طرح ناانصافی اور بددیانتی ہے۔

آج کی تاریخ میں  اگرمدارس کے نصاب ونظام کے تعلق سے اتنی ساری باتیں بلکہ چہ مے گوئیاں ہورہی ہیں تو یہ سب محض تعصب کی بنیاد پر نہیں ہوسکتیں بلکہ کچھ نہ کچھ تو ہے جس کے باعث لوگوں کو لگتا ہے کہ  مدارس کے نصاب  تعلیم کو اِس طرح  نہیں بلکہ کسی اور طرح  پرہونا چاہئے اور طریقۂ تدریس کسی حد تک اُس سے مختلف ہونا چاہئے جو کہ فی الوقت رائج ہے۔

 جو محرم راز ہیں اور زمینی حقائق پر نظررکھتے ہیں اور اپنی  رائے بناتے یا اظہار کرتے وقت انہیں خاطر میں بھی لاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مدارس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے کئی پریشانیاں لگی ہوئی ہیں۔ایک تو یہی ہے اور شاید سب سے بڑی بھی ہے کہ اہل مدارس جن علو م وفنون کی آبیاری کرنا چاہتے ہیں اور جن اصولوں ، انسانی قدروں اور تصورات وخیالات کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں وہ آج کی مادی دنیا میں جہاں ہر چیز کی قیمت مقامی یا عالمی بازار میں اس کی مادی قدر وقیمت سے متعین کی جاتی ہے ، با لکل ہی بے  حیثیت اور بے وقعت ہوگئے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ صاحب حیثیت مسلمان بھی جب اپنے بچوں کو کسی حافظ، قاری یا عالم دین سے قرآن یا عربی پڑھ واناچاہتے ہیں تو انہیں اتنے پیسے بھی نہیں دیتے کہ ان کی آمد ورفت کا خرچہ ہی نکل جائے جبکہ یہی لوگ جب اپنے بچوں کو انگلش، حساب یا دوسرے کسی بھی فن  کی تعلیم دلانا چاہتے ہیں تو یہ ہوم ٹیوٹر کو ہر گھنٹے کے حساب سے ہزاروں روپئے دیتے ہیں۔گرچہ یہ ایک بہت چھوٹی سی اور اپنا بہت ہی محدود اور مختصر پس منظر رکھنے والی مثال ہے تاہم اس سے  پتہ چلتا ہے کہ مدارس میں جن علوم وفنون کی تعلیم دی جاتی ہے ان کا کسبِ معاش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔خدا پردۂ غیب سے انہیں کچھ عنایت فرمادے  تو فرمادے جہاں تک ان کی تعلیم کی بات ہے تو وہ انہیں کچھ نہیں دیتی۔اہل مدارس کے جو لوگ کمائی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ان میں سے اکثر وہ ہیں جو اپنی تعلیم کے علاوہ دیگر سورسز اور ہنر مندیوں کے ذریعہ ہی کماتے ہیں۔یا پھر کمانے والوں میں زیادہ تعداد ان کی ہے جو نسبتا اچھے گھروں سے ہیں اور ان کی مالی پوزیشن پہلے ہی سے مستحکم تھی۔ یا پھر وہ ایسے افراد ہیں جو  معروف علمی  خانوادوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اور ان کے لیے ہزاروں راستے کھلے ہیں کمانے کے بھی اور ترقی  کے بھی۔

کچھ مدارس کا استثنا کرکے ملک کے زیادہ تر مدارس غریب اور فقیر ہیں۔ اس کی وجہ سے خاص طور پر ایسا ہے کہ وہ بہت پہلے سے کوئی منظم منصوبہ بندی نہیں کرسکتے۔بوند بوند اور قطرہ قطرہ پیسہ آتا ہے اور روز مرہ کی چھوٹی بڑی ضروریات پر خرچ ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایسے میں کہاں کی پلاننگ اور کہاں کی منصوبہ بندی۔اور رہی سہی کسر وہ لوگ پوری کردیتے ہیں جو مدارس کو ایک کاروبار کی حیثیت سے چلا رہے ہیں ، انہیں مدرسے ، قوم اور قوم کے غریب بچوں کی فکر کم ہے ،اپنی اور اپنے بال بچوں کی فکر زیادہ ہے۔گرچہ  ایسے لو گ کم ہوں گے مگر ان کی وجہ سے تمام مدارس کا اعتبار داؤ پر لگ جاتا ہے۔ایسے لوگوں کی نشاندہی بھی کسی نہ کسی حد تک ضروری ہے کیونکہ ان کی وجہ سے تمام مدارس بدنام ہوتے ہیں اور مدارس جن کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی لے دے کر ایک  خصوصی یا عوامی چندہ ہے  بھاری خسارے سے دوچار ہوجاتا ہے۔

مدارس کو جو بچے ملتے ہیں  ان میں زیادہ تر پسماندہ خاندانوں سے ہوتے ہیں، جب ان کے ماں باپ ہی کے اندر کوئی امنگ اور جوش و جذبہ نہیں ہوتا تو وہ بھلا اپنے بچوں کو کیا جذبہ اور امنگیں دے پائیں گے۔وہ  انہیں نہ علمی تعاون دے سکتے ہیں اور نہ ہی مالی ۔مدارس کے ایسے بچوں کے لیے ان کے گھر والے بھی کسی طرح کا سہارا نہیں بن پاتے ۔ان کے والدین کے سامنے کوئی خاص مقصد یا ہدف نہیں ہوتا۔بس وہ کسی کے کہنے پر یا خود اپنے شوق کی وجہ سے انہیں مدرسے میں بھیج دیتے ہیں۔ اتنا سوچ کر کہ تھوڑا بہت پڑھ لکھ جائیں گے، یا پھر محض اس  سوچ کی وجہ سے کہ  ان کا بچہ حافظ یا مولوی بن جائے گا تو وہ خود اپنے لئے اور ان کے لیے جنتیں کما پائے گا۔یہ اور ایسی ہی کئی اوروجوہات کے تحت  اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مدارس میں آنے والے زیادہ تر بچے تعلیم مکمل کئے بغیر ہی مدرسہ چھوڑ کرچلےجاتے ہیں۔اورتعلیم ادھوری چھوڑ کر  جانے والے بچوں  کا مستقبل تاریک ہوجاتا ہے،کیونکہ ان کے پاس ڈگری نہیں ہوتی اس لیے وہ  کالج یا یونیورسٹیز  بھی نہیں جاپاتے۔

میں جب مدرس تھا تو میں نے  درجہ دوم سے لے کر درجۂ پنجم تک کے تقریبا سو بچوں سے تحریری طور پر ان کی رائے جاننی چاہی تو آپ یقین جانیں کہ ان میں سے ایک دو کے علاہ کسی نے بھی یہ نہیں لکھا کہ وہ تعلیم مکمل کرکے درس وتدریس سے وابستہ ہوجائے گا۔ ساتھ ہی  یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ مدرسہ ایسے علاقہ میں واقع ہے جہاں دینی رجحان دیگر علاقوں کی بنست بہت زیادہ ہے، بڑے سے بڑے تاجر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات بھی  پختہ دینی شعو ر یاپھر کم از کم  پختہ دینی رجحان  رکھتے ہیں۔یہ غور کرنے کی بات ہے کہ ان بچوں نے اس بات سے کیوں گریز کیا کہ وہ اپنا مستقبل اسی مدرسے یا تعلیم سے وابستہ رکھیں  گے جس سے وہ اس وقت   یعنی زمانہ طالب علمی میں وابستہ ہیں۔ کسی نے کہا کہ وہ دبئی چلا جائے گا، کسی نے  اپنے والد کا بزنس سنبھالنے کی بات کہی ا اور کسی نے کوئی ہنر سیکھنے کی بات کی۔وجہ صاف ہے کہ وہ جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ انہیں دن رات دیکھ رہے ہیں کہ وہ معاشی طور پر تنگ دست ہیں، وہ اپنا تمام تر وقت مدرسے کو دیتے ہیں اور وہاں سے اتنا بھی نہیں پاتے کہ اپنے دو بچوں کا پیٹ پال سکیں اور انہیں اچھی تعلیم دلا سکیں۔حالانکہ ان میں کئی اساتذہ باصلاحیت، محنتی اور ایماندار بھی ہوتے ہیں مگر ان کی صلاحیتیں اور محنتیں بھی بہت زیادہ کام نہیں آتیں، الا ماشاء اللہ۔اس کے برعکس اگر یہی بچے یہ دیکھتے کہ ان کے اساتذہ عزت  اور شان کی زندگی جیتے ہیں،ان کے پاس علم بھی ہے اور گزر بسر کے لائق کمائی بھی ہوجاتی ہے تو ان میں سے کم از کم نصف بچے ایسی زندگی کو اپنانے کی تمنا ضرور کرتے۔پتہ نہیں ایسا کیوں ہے ؟ اس کا لازمی سبب غربت اور تنگدستی ہے یا پھر اہل مدرسہ نے اپنا یہ ذہن بنالیا ہے کہ وہ مدرس کو مناسب تنخواہ دینا ہی نہیں چاہتے۔یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب  مدارس عالیشان عمارتیں بناسکتے ہیں تو مدرس کوموجودہ زمانے کے حساب سے مناسب تنخواہ کیوں نہیں دے سکتے۔

مدارس کو بچے اس طرح نہیں ملتے جس طرح اسکولوں کوملتے ہیں ۔ اسکولوں میں بچے  ڈھائی تین سال کی عمر میں مل جاتے ہیں  اور تمام تر  توجہ اور اہتمام کے ساتھ ملتے ہیں جبکہ مدارس کو  ایک عمر گزرجانے کے بعد ہی ملتے ہیں اور بناکسی توجہ اور اہتمام کے ملتے ہیں، ایک بار مدرسے میں چھوڑ دئیے گے  اور پھرہمیشہ کے لئے بھلادئیےگئے۔ ان میں سے کئی بچے اپنی عمر کے آٹھ دس سال  اپنے گاؤں  یا محلے کی مسجد یا مکتب کی نذر کردیتے ہیں اور پھر کسی اچھے مدرسے کا رخ کرتے ہیں ، جبکہ کچھ بچے حفظ کرتے کرتے ہی پندرہ سولہ سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور چودہ  پندرہ سال کی عمر میں عربی تعلیم شروع کرتے ہیں، جس کا راست نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ بچے صرف عالمیت یا فضیلت سے فراغت حاصل کرتے کرتے پچیس چھبیس سال کے ہوجاتے ہیں۔ پھر طرفہ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ افراد فراغت کے بعد یونیورسٹیز کا رخ کرتے ہیں اور پھر اعلی تعلیم  کے نام پر آٹھ دس سال وہاں صرف کرتے ہیں،تو اس طرح ایک بڑا طویل دورانیہ ہوجاتا ہے،اتنے طویل دورانیئے سے اسکولوں کے بچے عموما نہیں گزرتے۔جس زمانے میں ان کے والدین کو ان کی طر ف سے  مالی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے اس زمانے میں بھی  وہ پڑھائی ہی کررہے ہو تے ہیں۔

مدارس کے نظام اور نصاب کومزید فعال اور مؤثر بنا نے کے لیے  دو کام یا دو طرح کی تبدیلیاں  زیادہ کارگرنظر آتی ہیں۔ایک یہ کہ ابتدائی درجات میں کم از کم  درجۂ پنجم تک  کے درجات میں  اسلامیات سے متعلق کتابیں یا مضامین کم کرکے چند ان مضامین کا اضافہ کیا جائے جو اسکولوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اس عمر میں زیادہ سے زیادہ توجہ سیکھنے کے عمل پر ہونی چاہئے بنسبت مطالعہ بڑھانے اورفکر وشعور کو پختہ کرنے کے۔ مثلا ـ لکھنا ،پڑھنا اور بولنا سیکھا یاجانا چاہئے ۔نیز متعدد زبانیں سیکھنے پر پوری توجہ ہونی چاہئے کہ زبانیں سیکھنے کی یہ بہتر عمر ہے، مطالعہ تو ایسا ہے کہ آدمی زندگی بھر کرتا رہتا ہے بلکہ بعد کی عمر کا مطالعہ زیادہ  فکر اور گہرائی لئےہوئے ہوتا ہے۔یہ اپنے آپ میں خاصی قابل قدر بات ہے کہ پندرہ بیس سال کا طالب علم ایک سے زائد زبانیں کم از کم پڑھنا جانتا ہو۔ آگے چل کر جب وہ تحقیقی کام کرے گا تو یہ زبانیں اس کے بہت کام آئیں گی اور وہ اس لائق ہوگا کہ اپنے تحقیقی عمل میں اصل کتابوں کے حوالے دے سکےگا۔اسلامیات پر زیادہ اور بھر پور توجہ عالیہ ، علیا اوردرجات ِ تخصص  میں  ہونی چاہئے۔

اگر یہ نہیں کریں گے تو ہم دیکھیں گے آنے والے چند سالوں میں شاید و باید ہی مدرسے کا کوئی طالب علم فراغت کے بعد خود کو مکمل سمجھے گا۔ جب تک وہ یونیورسٹی نہیں جائے گا اور وہاں سے بی اے، ایم اے اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل نہیں کرے گا وہ خود کوناقص اور ادھورا سمجھے گا ۔ مدارس کے بعد یونیورسٹیز میں آنے کا جو رجحان چل پڑا ہے یہ کئی  لحاظ خاصہ بہتر اور مفید معلوم ہوتا ہے، اس کے باعث مدارس کے  فارغین  دوسرے میدانوں میں بھی جارہے ہیں  اور اپنے آپ کو منوا رہے ہیں، مگر آنے والے دن  کم از کم مدارس کے حق  میں خوشگوار ہونے والے نہیں ہیں۔مدارس کی حیثیت یونیورسٹیز کے ذیلی مکاتب کی ہوکر رہ جائے گی، چاہے ان کی خودمختاری اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ ہی موجود کیوں نہ رکھی جائے۔اگر اسی طرح سے مدارس  کے فارغین یونیورسٹزیز کی طرف آتے رہے تو مدارس کی افادیت کم از کم اعلیٰ تعلیم کی سطح پر بالکل ہی صفر رہ جائے گی۔اب تو صرف اتنا ہے کہ مدارس ڈگری  سرکاری سطح پر قابل قدر نہیں سمجھی جاتی ، آنے والے وقت میں ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ سماجی اور معاشرتی سطح پر بھی بے وقعت ہوجائے گی ۔ مدارس کے فارغین   اپنے نام کے ساتھ جب تک بی اے ،ایم اے   اورڈاکڑ کا لاحقہ نہیں لگائیں گے کوئی انہیں صاحب علم نہیں سمجھے گا ، شاید وہ خود بھی نہیں ۔یہ بات اپنے آپ میں خاصی تعجب خیز ہے کہ ہندوستان کے بڑے مدارس میں بھی پی ایچ ڈی یا اس کے مساوی   کوئی ڈگری نہیں دیتے۔حالانکہ وہ اس کا اہتمام بہت ہی خوبی اور شان کے ساتھ کرسکتے ہیں۔

دوسری بڑی تبدیلی یا اضافہ یہ ہونا چاہئے کہ مدارس اپنے یہاں  مختلف فیکلٹیاں قائم کردیں۔ جس طرح حدیث ، تفسیر، فقہ اور عربی ادب وغیرہ کے شعبے الگ الگ قائم ہیں اسی طرح مدارس خاص اپنی نگرانی میں ، بلکہ اگر جگہ اور موقع  ہو تو اپنے ہی کیمپس میں طب، قانون، صحافت ،میڈیکل سائنس، ادب ، لسانیات، اقتصادیات اورکمپیوٹر سائنس و انجینئرنگ  وغیرہ کے شعبے قائم کردیں۔اب چاہے ان شعبوں میں پڑھانے کے لیے باہر کے ماہرین ہی کی مدد کیوں نہ درکا رہو۔ جب یونیورسٹیز اپنے یہاں اسلامک اسٹڈیز کا شعبہ کھول  کروہاں اسلامیات سے متعلق بہت کچھ پڑھا سکتے ہیں  تو مدارس اپنے یہاں الگ الگ چند شعبے قائم کرکے قانون، سیاست، صحافت ، ادب  اور اقتصادیات جیسے مضامین کیوں نہیں پڑھا سکتے ۔کم از کم بڑے مدارس تو ایسا کسی نہ کسی پیمانے پر کر ہی سکتے ہیں۔

یہ دو کام کرنے سے مدارس کی اہمیت اور کارکردگی میں بہت اضافہ ہوجائے گا اور پھر کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مدارس سے صرف مولوی ہی کیوں نکلتے ہیں۔بات یہ نہیں ہے کہ کوئی کیا کہتا ہے یا کیا نہیں کہتا ،بلکہ بات تو یہ ہے کہ مدارس  اپنی افادیت اور کارکردگی میں کس قدر اضافہ اور وسعت پیدا کرپارہے ہیں ۔

 اور ہاں! اب یہ دونوں طرح کے کام  کوئی انہونے نہیں رہ گئے ہیں ۔ اب ایسی کوششیں جابجا نظر بھی آرہی ہیں ، مدارس کے فارغین اپنے بچوں کو ابتدائی مکاتب میں بھیجنے کے بجائے پرائمری اسکولوں میں بھیجنے کو ترجیح دے رہے ہیں، یہ عام مشاہدے میں آنے والی بات ہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر  یہ  بھی ہورہا ہے کہ جن  فارغینِ  مدارس  کو اللہ نے صلاحیت و استعداد اور توفیق سے نوازا ہے وہ اب ابتدائی درجات کے نئے مدارس یا مکاتب کھولنے کے بجائے پرائمری اسکول کھول رہے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مدارس کے ساتھ ہمدردیاں بلکہ گہری وابستگیاں اور عقیدتیں رکھنے والے بھی زمانے کی ہوا کو سمجھ رہے ہیں   اور تبدیلیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔او را نہیں کہیں نہ کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں مدارس کے متوازی ایک دوسرانظام کھڑاکرکے دکھانے کی ضرورت  پر توجہ دینی ہوگی۔شاید وہ کہیں نہ کہیں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے مدارس کے نصاب میں اصلاحات کو منوانا مشکل ہےجبکہ  مدارس کے متوازی نظام کھڑاکرنا شاید قدرے آسان ہے۔اور وہ اسی دوسری چیز کو ترجیح دے رہے ہیں۔

کچھ سال پیشترڈاکٹر اسرار احمد ؒکا ایک بیان سنا تھا جس میں وہ بتا  رہے تھے کہ انہوں نے مولانا علی میاں ندویؒ کے سامنے اپنی یہ رائے  بھی رکھی تھی کہ ندوہ کے طلبہ کو مختلف ادیان کے مابین تقابلی مطالعہ  کی طرف توجہ دلائی جائے،یہاں سے کچھ بچے ایسے بھی نکلیں جو مختلف ادیان کے درمیان تقابل کرنے کے اہل ہوں اور مختلف ادیان کے چوٹی کے علما ء سے ان کے اور اپنے دین پر گفتگو یا ڈبیٹ کرسکیں ۔ اور جہاں تک مجھے یاد رہ سکا ہے انہوں نے  سنسکرت زبان پڑھانے کی بات بھی رکھی تھی۔  ابھی چند ہی سال پہلے  فقہ اکیڈمی دہلی سے ڈاکٹر اوصاف احمد اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی سرپرستی میں ایک خاصی ضخیم کتاب تیار کی گئی ہے جس میں اس با ت کا جائزہ لیا گیا ہے کہ مدارس میں اقتصادیات کی تعلیم کی گنجائش نکالی جاسکتی ہے یا نہیں، اقتصادیات کو شامل نصاب کرنے کے کیا فائدے ہوں گے اور کیا نقصانا ت ۔ اور یہ جو کئی حضرات مسلم سائنسدانوں کے حوالے دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ  پہلے زمانے میں ایک ہی درسگاہ سے عالم بھی نکلتے تھے اور سائنٹسٹ بھی بلکہ کئی بار ایسا ہوتا تھا کہ ایک ہی شخص جو عالم دین ہوتا تھا وہی سائنٹسٹ بھی ہوتا تھا۔جابر بن حیان،ابوبکرالرازی،الفارابی،ابوالقاسم الزہراوی،ابن الہیثم،ابن سینا،علی ابن ربان الطبری،الکندی جیسے سیکڑوں مسلم سائنسدانوں کی جو لمبی چوڑی فہرست وقتا فوقتا سنائی اور دکھائی جاتی ہے، بلکہ موجودہ زمانے کے علمائے دین کے منہ پر ماری جاتی ہے، اس سے پیدا شدہ پہلا اور آخری سوال یہی تو ہے کہ مدارس سے اب سائنسداں کیوں نہیں نکلتے اور پھر نتیجے کے طور پر ابھرتا ہوا ایک  دوسرا مگر اہم سوال یہ بھی ہے کہ مدارس میں ایسا نصاب کیوں نہیں پڑھایا جاتا جو پہلے کی طرح سائنسداں بھی پیدا کرسکے۔اس بات کے ادنیٰ احساس کے بغیر کہ آخر یہ سب وہ خود بھی تو کرسکتے تھے ، آخر ان کے سامنے کونسی ایسی بڑی رکاوٹیں تھیں کہ وہ خود جابر بن حیان اور ابوبکر الرازی کے ہم پلہ نہ بن سکے اور پھر یہ کہ وہ خود کو کیوں اتنی آسانی سے مستثنیٰ کرلیتے ہیں ۔اور پھر دوسرے میدانوں سے وابستہ افراد خاص کر علماء دین کو جو عموما شرعی علوم سے گہری وابستگیاں رکھتے ہیں انہیں کیوں مستثنیٰ نہیں کرپاتے۔اسے تو سراسر زیادی اور غیر سنجیدگی ہی کہلائی جائے گی۔

اور اس کا علاج یہ نہیں جیسا کہ اکثر لوگ رائے دیتے ہیں کہ مدارس کے نصاب ہی میں ساری چیزیں داخل کردی جائیں بلکہ اس کا ایک ہی علاج ہے اوروہ  وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا کہ مدارس درجات علیا اور فضیلت   میں مختلف علوم فنون کے شعبوں میں اضافہ کریں، جیسا کہ معہد العالی حیدرآباد میںاسلامک فائنانس کا شعبہ شروع کیا گیا ہے۔ باقی مدارس بھی اپنے یہاں ایک ایک یا دودو دیگر شعبہ جات شروع کردیں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کا اہتمام کریں۔اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے مگر پتہ نہیں کیوں یہ بات بہت سارے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی ،وہ بس ایک ہی بات کہتے ہیں کہ مدارس کے موجودہ  نصاب میں ہر طرح کی اور ہر ایک علم وفن کی کتابیں ٹھونس دی جائیں۔ اور یہ نری بے تکی بات ہے۔نہ  یہ ممکن ہے کہ ایک ہی عالم دین، شرعی علوم کے ساتھ ساتھ  دیگر تمام فنون میں بھی مہارت رکھتا ہو اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔البتہ یہ ضروری ہے کہ دنیا کے ہر قابل ذکر علم و فن پر ماہرانہ نظر رکھنے والے چند عالم دین ہر زمانے میں موجود رہیں اور یہ ممکن بھی ہے۔

یہ حماقت بھرا سوال یا تمنا ہے کہ لوگ ایک عالم دین کو بیک وقت عالم اور انجینئر،ڈاکٹر اور سیاست و اقتصادیات کا ماہر دیکھنا چاہتے ہیں۔سوشل سائٹ پر کسی کُھردری طبیعت کے مالک نو آموز وکیل نے یہ سوال بھی کردیا کہ مولویوں نے آج تک کونسی چیز ایجاد کی ہے۔جبکہ دنیا ایجادات سے بھردی گئی ہے  اور مولوی حضرات خود بھی  ان ایجادات سے  استفادہ کررہے  ہیں۔ اس پر میں نے عرض کیا  کہ اب آپ سے  ڈائریکٹلی یہ سوال پوچھا جائے گا کہ خود آپ نے یا آپ کے باپ دادانے کبھی کوئی چیز ایجاد کی ہے۔؟اوراِن ڈائریکٹلی یہ سوال بھی کہ  دنیا کے کونسے بڑے سیاسی  یا سماجی  لیڈرنے کبھی کونسی چھوٹی یا بڑی چیز ایجاد کی ہے۔  اگر نہیں تو پھر ایک عالم دین سے کیوں یہ خواہش رکھی جاتی ہے کہ وہ ایک طرف توشرعی علوم میں بھی مہارت رکھے اور دوسری طرف    اپنے معاشرے کو کوئی چیز ایجاد کرکے بھی دے۔ ظاہر ہے کہ وہ پیشے سے وکیل تھے اور اپنے بارے میں ان کا یہی تصفیہ تھا کہ سائنسی ایجادات سے کسی وکیل یا جج کا بھلا کیا تعلق، مگر یہی بات وہ ایک عالم دین کے حق میں ماننے کے لئے تیار نہیں۔ میں یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ سوال صرف ایک شخص کا نہیں ہے بلکہ یہ ایک خاص ذہنیت کا عکاس ہے جو لاکھوں  افراد کے دماغ  میں دن رات کلبلاتا رہتا ہےاور اپنی تمام تر نامعقولیت اور غیر سائنسی رویئے اور طرز کے باوجود بھی کلبلاتا رہتا ہے۔آخر یونیورسٹیز سے کب کونسا ایسا شخص نکلا ہے جو بیک وقت  کئی مختلف  اور متضادمضامین کا ماہر ہو ۔ہاں یہ ہوتا ہے کہ یونیورسٹزیز سے تقریبا تمام مضامین کے ماہر نکلتے ہیں اس لیے کہ وہاں تمام مضامیں الگ الگ شعبوں میں پڑھائے جاتے ہیں اوریہ اہل مدارس بھی کر سکتے ہیں اور انہیں اس کے لیے بس وہی کرنا ہے کہ وہ اپنے یہاں چند فیکلٹیز کا اضافہ کردیں، پھر آپ دیکھیں گے کہ  انہی مدارس سے  لسانیات اوراقتصادیات کے ماہر  بھی نکل رہے ہیں اور سافٹ ویئر و ہارڈ ویئر انجینئر زبھی،ڈاکٹرز بھی اور ایجادات کرنے والے بھی اور  ان سب کی  ایک عالم دین کی  حیثیت بھی مسلم ہوگی یا کم از کم دین کے معاملے میں ان کی رائے کا احترام کیا جائے گا ۔شاید پھر کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مدارس صرف مولوی ہی پیدا کررہے ہیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ آج کل دنیا بھر کے بینکوں  میں اسلامی مالیات کے غیر سودی شعبے قائم کئے جارہے ہیں اور انہیں ایسے علماء کی ضرورت رہتی ہے جو شریعت کے ساتھ ساتھ اقتصادیات میں بھی مہارت رکھتے ہوں۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب مدارس کے کچھ فضلاء اقتصادیات کی ڈگری  بھی حاصل کریں، چاہے مدرسے کے اندر کریں یا مدرسے  سےباہر یونیورسٹیز کے کیمپس میں۔

ایسا کرنا کچھ خاص مشکل نہیں ہے کہ پورے ملک سے اگر ہر سال ایک ہزار طلبہ شرعی علوم کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں تو ان میں سے کم از کم ایک سو طلبہ ایسے  بھی ہونے چاہئیں  جو شرعی علوم کی ڈگریوں کے ساتھ دیگر علوم میں سے کسی ایک علم کی ڈگری بھی حال کریں۔ اس طرح اہل مدارس تمام موضوعات کا احاطہ کرسکنے کے قابل ہوسکیں گے۔اور پھر ہر موضوع پر بولنے اور لکھنے کے لیے عالم دین موجود ہوں گے۔اس کی ایک ممکنہ شکل یہ بھی ہے کہ تمام بڑے بڑے مدارس اور تنظیمیں جو تعلیمی ادارے بھی چلاتی ہیں   عصری تعلیمی موضوعات کو اپنے درمیان اس طرح تقسیم کرلیں کہ تمام کے تمام موضوعات پڑھانے کا انتظام ہوجائے ، کسی مدرسے میں صحافت کا شعبہ کھول دیا جائے اور کسی دوسرے میں اقتصادیات کا او ر کسی تیسرے میں سائنس کا ۔ اور یہ آپسی اتحاد اور ایک دوسرے کے تعاون کے طور پر ہو۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ایک ہی مدرسے پر تمام موضوعات کا بار نہیں پڑے گا۔

مگر اس کام میں سب سے بڑی اور پہلی رکاوٹ  وہ خاص ذہنیت ہے جومدارس اور اہل مدارس کا خصوصی  طرۂ امتیاز ہے او ر وہ ہے مسلک پسندی اور فرقہ پرستی، خاص اس وجہ سے ایسا ہے کہ مدارس کے مابین کوآپریٹو سسٹم موجود نہیں ہے، ایک مسلک سے تعلق رکھنے والا طالب علم دوسرے مسلک کے مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتا، حتیٰ کہ پرائمری تعلیم بھی نہیں  اور نہ ہی  ایک مدرسے کا فارغ دوسرے مدرسے میں پڑھا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چھوٹی موٹی جاب کرسکتا ہے یہاں تک کہ کلرک  اور چپراسی  کی جاب بھی نہیں۔یہ عدم رواداری اور مسلک پرستی کی انتہا ہے۔اور جب تک یہ چیز رہے گی تب تک اہل مدارس کچھ نہیں کرسکیں گے چاہے وہ کتنی بھی طاقت کیوں نہ صرف کرلیں اور اخلاوص وللٰہیت کے بلند مقام تک ہی کیوں نہ پہنچ جائیں ۔

جس زمانے میں ہم جی رہے ہیں اس میں ہمیں تین طرح کی بے اعتباریوں کا سامنا ہے۔اور شاید سب سے بڑی بے اعتباری تو یہی ہے کہ انسان بحیثیت انسان آج کی متمدن دنیا میں اپنی قدروقیمت کھوچکا ہے۔آج انسان کی جان ومال اور عزت وآبرو جس قدر ارزاں ہے اس قدر ارزاں شاید اس سے پہلے زمانے کے کسی بھی پڑاؤ پر اور زمین کے کسی مقام پر نہیں رہی ہوگی۔اور یہ ارزانی ہمہ شمہ تقریبا سب ہی کا حصہ ہے، شاید ان کا بھی جن کی زندگیوں میں ہمیں بہت زیادہ چمک دھمک دکھائی دیتی ہے۔

دوسری بے اعتبار ی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہے۔ اس خاص حوالے سے  خاص وعام ہر دو طرح کے مسلمانوں کی بے اعتباری  کوبین الاقوامی حیثیت اور شہرت  حاصل ہوگئی ہے۔ شاید ہی کوئی زمانہ ایسا گزرا ہو جب وہ زمانے کی آنکھ میں اس قدر ہلکے اور بے اعتبار ہوئے ہوں۔ تاتاریوں کے غلبے کے زمانے میں بھی شاید اس قدر بے اعتبار نہیں  رہے ہوں گےیا پھر کم از کم یہ کہ اس  وقت کی بے اعتباری کی حیثیت عالم گیر نہیں تھی۔ آج کی تاریخ میں مسلمانوں کے پاس  ایک تعلیم اور علم وہنر کو منہا کرکے بہت کچھ  ہے ، ان کے پاس قدرتی وسائل  بھی بہت ہیں اور عددی اعتبار سے بھی وہ قابل ذکر حیثیت رکھتے ہیں مگر بھی پھر زمانے کی آنکھ میں ان کی بے اعتباری دیکھنے کی چیز ہے۔

تیسری قسم کی بے اعتباری دینی شعار اور تشخصات  کے حوالے سے ہے۔ آج مسلمان خود مسلمان ہی کی نظر میں بے اعتبارہے اور اگر خدا نہ خواستہ اس کا مزاج اور رجحان دینی  اقدار اور اسلامی روایات  سے زیادہ تال میل رکھتا ہے  اور اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا ممبر ومحراب  اور مدرسہ ودستار کو بنا رکھا ہے تو پھر تو اس کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے ، نہ صرف یہ کہ  زمانے کی نظر میں نہیں ہے بلکہ خود اس کے ہم مذہبوں  کی نظر میں بھی نہیں ہے، شاید اس سے بھی آگے بڑھ کریہ کہنا مناسب ہو کہ  خوداس کی اپنی نظر میں  بھی نہیں ہے۔

ایسے جان گسل  حالات  اور بے توقیری وبے اعتباری اور بے سروسامانی کے عالم میں اگر معدودے چند افراد یہاں وہاں یا ادھر ادھر کہیں نہ کہیں اپنے دین وایمان، اقداروروایات  او ر تشخصات اور ترجیحات کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اور اپنی جیسی کوششیں کررہے ہیں   تو یقینا وہ اقبال کے اِس خراج کے یقینی طور پر مستحق ہیں۔

ہوا ہے گو تندوتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے

وہ مرد درویش جس کو حق نے دئے ہیں انداز خسروانہ

مگر یہ تو کرنا ہی ہوگا کہ تبدیلیوں کو راہ تو دینی ہی ہوگی، اب چاہے راضی خوشی  دی جائے  یا پھر  جبرواکراہ کے ساتھ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close