ملی مسائل

طلاق ثلاثہ ہویا ایک طلاق – اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ

طلاق کی بحث اصلاح حال نہیں ہے بلکہ بہت بڑی سازش ہے

عبدالعزیز
زیادہ دن نہیں ہوئے صرف چندسال پہلے شاہ بانوکیس کولے کردشمن حق نے زمین وآسمان ایک کردیاتھا۔ ہمارے درمیان جوUltra modern(انتہائی جدت پسند) ہے ان کوبھی دشمنوں نے اس جنگ میں شامل کرلیاتھا۔اوروہ بڑے بڑے مضمون یاآرٹیکل لکھنے میں مشغول ہوگئے تھے ، بیانات دینے میں بیباکی اوربے حیائی کامظاہرہ کررہے تھے ۔ ہمارے شہرکے ایک انگریزی روزنامہ ٹیلیگراف کے ایڈیٹرایم جے اکبربھی دشمنوں کے صف میں شامل ہوگئے تھے ۔مگرکچھ دنوں کے بعدان کے اندراچانک تبدیلی پیداہوئی اوردشمنوں کی چال کوسمجھ گئے اورمسلم پرسنل لاء کی مدافعت میں مضمون شائع کرنے لگے ۔ سابق صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمدکے بیٹے بدراحمدجوبہت بڑے وکیل تھے اورمسٹرسدھارتا شنکررائے کے ماتحتی میں وکالت کرتے ہوئے انھوں نے مدافعت میں نہایت اچھااورمدلل مضمون لکھاجس سے دشمنوں کے منہ بندہوگئے۔
مجھے اورمیرے گہرے دوست مرحوم منصوراحمدکوایم جے اکبرکی ادابیحدپسندآئی ۔ مرحوم منصوراحمدنے ایک جے اکبرکوفون کیاکہ ’’ہم لوگ اخبارانقلاب کے لئے آپ سے انٹرویولیناچاہتے ہیں۔‘‘موصوف راضی ہوگئے ۔میں اکبرصاحب کومبارک باددی تومسکراتے ہوئے کہا۔ مبارک باددینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پھرمیراسوال ہواکہ آپ پہلے تومسلم پرسنل لاء کے خلاف صفحات کے صفحات سیاہ کررہے تھے اچانک آپ کے اندرکیسے تبدیلی آئی۔
جواب میں انہوں نے کہاکہ ’’پہلے میں شاہ بانو کے مقدمے سے اُٹھے سوال پرقدیم وجدیدکی جنگ سمجھ رہاتھالیکن پاکستان سے صحافیوں کاایک وفدآیاجنہوں نے نہایت دلائل سے سمجھایاکہ یہ جنگ قدیم اورجدیدمیں نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اوراسلام کے خلاف ہے ،یہ بات میری سمجھ میں آگئی اورپھرمیں نے اپناموقف بدل دیا۔آج جوطلاق ثلاثہ کی بحث طول پکڑرہی ہے یہ بحث حقیقت میں مسلم خواتین کوکسی جنجال یامشکلات سے نکالنے کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اسلام دشمنوں کی ایک چال ہے ایک سازش ہے جسے مشہوردلت دانشوراوردلت وائس کے ایڈیٹرٹی وی شیکھرنے بے نقاب کیاہے ۔ تین قسطوں میں اخبارات میں شائع ہوچکاہے ملاحظہ فرمائیں :
جہاں تک طلاق دینے کی اجازت ہے وہ اجازت ناپسندیدگی کے ساتھ ہے اورناگزیرحالات میں ہے جوناحق ایک طلاق دیتے ہیں وہ بھی جرم اورگناہ کے مرتکب ہوتے ہیں، ایسے لوگ بھی قاضی کے کوڑے کے مستحق ہوتے ہیں۔اورجوتین طلاق ایک بیٹھک ، ایک نشست میں دیتے ہیں وہ توبڑاجاہل بلکہ مطلق جاہل ہوتے ہیں وہ غیروں پرنہیں اپنے منہ پرطمانچہ رسیدکرتے ہیں اورپچھتاوااورافسوس کے سواکچھ ہاتھ نہیں آتا۔لاکھ سمجھایئے وہ شریعت کے راستہ پر، سنّت کے راستہ پرچلنے کے لئے تیارنہیں ہوتے۔ سورہ طلاق کی آیت نمبر ا کے منشاء پرایک نہیں کئی حدیثین روشنی ڈالتی ہیں جس میں طلاق دینے کی جلدبازی سے روکاگیاہے ۔ نسائی میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کوبیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ حضورؐ یہ سن کرغصے میں کھڑے ہوگئے اورفرمایا ’’ایلُعُب بکتابہ الیہ وانابین اطہرکم ؟‘‘ کیااللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیاجارہاہے حالانہ میں تمہارے درمیان موجودہوں‘‘ اس حرکت پرحضورؐ کے غصے کی کیفیت دیکھ کرایک شخص نے پوچھاکیامیں اسے قتل کردوں؟اللہ کے رسول تین طلاق دینے والوں کولعنت ملامت کی ہے انہیں خوف خدادلایاہے مگرایسی کئی حدیثیں ہیں جس میں اللہ کے رسول نے فرمایاہے کہ ’’اگرتم ایساکرتے ہو(یعنی ایک بیٹھک میں تین طلاق ) تواپنے رب کی نافرمانی کرتے ہواورتمہاری بیوی تم سے جداہوجاتی ہے ۔‘‘
حضرت عثمانؓ سے ایک شخص نے آکعرض کیاکہ میں اپنی بیوی کوہزارطلاقیں دے بیٹھاہوں۔ انہوں نے فرمایا’’وہ تین طلاقوں سے تجھ سے جداہوگئی۔‘‘ایساہی واقعہ حضرت علیؓ کے سامنے پیش ہواتوانہوں نے جواب دیا ’’تین طلاقوں سے تووہ تجھ سے جداہوگئی، باقی طلاقوں کواپنی دوسری عورتوں پرتقسیم کرتاپھر۔‘‘ ابوداؤداورابن جریرنے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ مجاہدکی روایت نقل کی ہے کہ وہ ابنِ عباسؓ کے پاس بیٹھے تھے ۔اتنے میں ایک شخص آیااوراس نے کہاکہ میں اپنی بیوی کوتین طلاقیں دے بیٹھاہوں۔ابن عباس سن کرخاموش رہے ، حتیٰ کہ میں نے خیال کیاشایدیہ اس کی بیوی کواس کی طرف پلٹادینے والے ہیں۔ پھرانہوں نے فرمایا’’تم میں سے ایک شخص پہلے طلاق دینے کی حماقت کاارتکاب کرگزرتاہے ، اسکے بعدآکرکہتاہے یاابن عباس ، یاابن عباس ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ جوکوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گااللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کاراستہ پیداکردے گا،اورتونے اللہ سے تقویٰ نہیں کیا۔ اب میں تیرے لئے کوئی راستہ نہیں پاتا۔تونے اپنے رب کی نافرمانی کی اورتیری بیوی تجھ سے جداہوگئی۔‘‘ ایک اورروایت جسے مؤطّاء اورتفسیرابن جریرمیں کچھ لفظی فرق کے ساتھ مجابدہی سے نقل کیاگیاہے ، اس میں یہ ذکرہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کوسوطلاقیں دے دیں، پھرابن عباس سے مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا’’تین طلاقوں سے تووہ تجھ سے جداہوگئی، باقی ۹۷ سے تونے اللہ کی آیات کوکھیل بنایا۔‘‘ یہ مؤطّاکے الفاظ ہیں۔ ابن جریرمیں ابن عباس کے جواب کے الفاظ یہ ہیں : ’’تونے اپنے رب کی نافرمانی اورتیری بیوی تجھ سے جداہوگئی اورتونے اللہ کاخوف نہیں کیاکہ وہ تیرے لئے اس مشکل سے نکلنے کاکوئی راستہ پیداکرتا۔ ‘‘ امام طحاوی نے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص ابن عباس کے پاس آیااوراس نے کہامیرے چچانے اپنی بیوی کوتین طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا’’تیرے چچانے اللہ کی نافرمانی کی اورگناہ کاارتکاب کیااورشیطان کی پیروی کی ۔اللہ نے اس کے لئے اِس مشکل سے نکلنے کاکوئی راستہ نہیں رکھاہے ۔ ‘‘ابوداؤداورمؤطّامیں سے ایک شخص نے اپنی بیوی کوخَلْوَت سے پہلے تین طلاقیں دے دیں، پھراس سے دوبارہ نکاح کرناچاہااورفتویٰ پوچھنے نکلا۔حدیث کے راوی محمد بن اِیاس بن بُکَیرکہتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ ابن عباس اورابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔دونوں کاجواب یہ تھا ’’تیرے لئے جوگنجائش تھی تونے اسے اپنے ہاتھ سے چھوڑدیا۔‘‘ زَمَخْشری نے کشّاف میں بیان کیاہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس جوشخص بھی آتاہے جس نے اپنی بیوی کوتین طلاق دے دی ہوں اسے وہ مارتے تھے اوراس کی طلاقوں کونافذ کردیتے تھے۔
سورہ طلاق کی آیت نمبر ۲ کے ایک حصہ میں اللہ نے طلاق کے احکامات پرتفصیل سے روشنی ڈالی ہے اورآیت کے آخری حصہ میں فرمایاہے:
’’یہ باتیں جن کی تم لوگوں کونصیحت کی جاتی ہے ہراس شخص کوجواللہ اورآخرت کے دن پرایمان رکھتاہوجوکوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گااللہ اسے مشکلات سے نکلنے کاکوئی راستہ پیداکردے گا۔‘‘
مذکورہ آیت پرصاحب تفہیم القرآن نے روشنی ڈالتے ہوئے لکھاہے کہ:
’’یہ الفاظ خودبتارہے ہیں کہ اوپرجوہدایت دی گئی ہیں وہ نصیحت کی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ قانون کی ۔آدمی سنت کے خلاف طلاق دے بیٹھے، عدّت کاشمارمحفوظ نہ رکھے، بیوی کوبلاعذرِمعقول گھرسے نکال دے ، عدّت کے خاتمے پررجوع کرے توعورت کوستانے کے لئے کرے اوررخصت کرے تولڑائی جھگڑے کے ساتھ کرے ،اورطلاق ، رجوع، مفارقت ، کسی چیزپربھی گواہ نہ بنائے ، تواس سے طلاق اوررجوع اورمفارقت کے قانونی نتائج میں کوئی فرق واقع نہ ہوگا۔البتہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت کے خلاف عمل کرنااس بات کی دلیل ہوگاکہ اس کے دل میں اللہ اورروزِ آخرپرصحیح ایمان موجودنہیں ہے جس کی بناپراس نے وہ طرزِ عمل اختیارکیاجوایک سچّے مومن کواختیارنہ کرناچاہئے۔
سیاقِ کلام خودبتارہاہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے کام کرنے کامطلب سنت کے مطابق طلاق دینا، عدّت کاٹھیک ٹھیک حسب رکھنا، بیوی کوگھرسے نہ نکالنا، عدّت کے اختتام پرعورت کوروکناہوتونباہ کرنے کی نیت سے رجوع کرنااورعلیحدگی ہی کرنی ہوتوبھلے آدمیوں کی طرح اس کورخصت کردینا، اورطلاق، رجوع یامفارقت ، جوبھی ہو، اس پردوعادل آدمیوں کوگواہ بنالیناہے ۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کاارشادہے کہ جواِس طرح تقویٰ سے کام لے گااس کے لئے ہم کوئی مَخْرَج (یعنی مشکلات سے نکلنے کاراستہ )نکال دیں گے ۔اس سے خودبخودیہ مفہوم نکلتاہے کہ جوشخص اِن امورمیں تقویٰ سے کام نہ لے گاوہ اپنے لئے خودایسی الجھنیں اورمشکلات پیداکرلے گاجن سے نکلنے کاکوئی راستہ نہ مل سکے گا۔
ان الفاظ پرغورکیاجائے توصاف محسوس ہوتاہے کہ جن لوگوں کے نزدیک طلاق بدعی سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی اورجولوگ بیک وقت یاایک ہی طُہرمیں دی ہوئیں تین طلاقوں کوایک ہی طلاق قراردیتے ، ان کی رائے صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ اگرطلاق بدعی واقعی ہی نہ ہوتوسرے سے کوئی الجھن پیش نہیں آتی جس سے نکلنے کے لئے کسی مَخْرَج کاکوئی سوال پیدانہیں ہوتا۔اس صورت میں آخروہ پیچیدگی کیاہے جس سے نکلنے کے لئے کسی راستے کی حاجت پیش آئے؟‘‘
ہمارے بعض بھائی جونیک نیتی کے ساتھ اس بحث میں حصہ لے رہے ہیں اوراپنے مکتبہ فکرکی برتری ثابت کرنے بے جاکوشش کررہے ہیں وہ بھی طلاق ثلاثہ کے پیچھے کیابڑی اوربھیانک سازش ہے اس سے غفلت اورلاپرواہی برت رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگرتین یااس سے زیادہ بارطلاقیں دے دینے کوایک سمجھنابغیرکسی دلیل کے نہیں ہے بلکہ اسے بھی قرآن وسنت کی سندحاصل ہے ۔اگرسندنہ حاصل ہوتی توبہت سے حنفی علماء جنہیں ہندوستان اورپاکستان مفتئ اعظم کاخطاب ملاہے ۔ حنفی مسلک کے ایسے لوگوں کوجوتین طلاق دے کرفتویٰ پوچھنے آئے اوررونے اورپچھتانے لگے توانہوں نے اہل حدیث علماء سے فتویٰ لینے کی ہدایت کی اورلوگوں نے اس پرعمل کیااس سے بہتوں کاخاندان تباہی وبربادی سے بچ گیا۔ ان علماء میں مولانااشرف تھانوی ؒ ، مفتی محمدشفیع اورمولاناسیدسلیمان ندوی ؒ شامل ہیں۔ اہل حدیث کے مکتبۂ فکراورچارائمہ کے مسلک کومولانارشیدگنگوہی ؒ نے دائرۂ اسلام میں شامل کیاہے اورمسلمانوں کوتنبیہ اورہدایت کی ہے کہ بس اسی پانچ مکتبہ فکرکے اندررہوباہرنہ جاؤ۔آج جب کہ اتحادامت کی آوازبلندہوئی اورطاقت پذیر ہورہی توعلیم بحث ضرورہونی چاہئے مگراپنے گھرکے اندر۔مگردشمنوں سے لڑنے کے لئے سب کوایک ہوجاناچاہئے اوردشمن کی چال کوسمجھناچاہئے افسوس:
جداجداہیں ہم دشمن کے سامنے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close