ملی مسائل

فیک (جعلی) نیوز کا بڑھتا جال اور ہماری ذمہ داری

  فیک نیوز کا مقصد کسی خاص سیاسی نظریہ یا کسی معروف شخصیت کی تشہیر،  تحقیرکے علاوہ پیسہ کمانا بھی ہوتا ہے۔ بہت ساری ایسی ویب سائٹس ہیں جو فیک نیوز کے ذریعہ پیسہ کماتی ہیں ۔ ہوتا یہ ہے کہ ان ویب سائٹس کے چلانے والے ایسی فوٹو، ہیڈلائن،  ٹویٹ یا فیس بک پوسٹ لگاتے ہیں جس سے قاری کو دلچسپی پیدا ہواور وہ اس پر دی گئی لنک(URL)پر چلا جائے۔

مزید پڑھیں >>

بابری مسجد مسئلہ: ہم زیادہ ذمہ دار ہیں !

دہلی کے مشہور کانسٹی ٹیوشن کلب میں گاندھی جینتی کے موقع پر سبھی مذاہب کے لیڈروں نے شرکت کی اور با لا تفاق یہ خیال ظاہر کیا کہ ’باہمی گفتگو سے اب بھی اجودھیا مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے ‘!سوامی اگنی ویش، ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک، ڈاکٹر کمل ناتھ، پنڈت وسنت گاڈ گل، ملند کمبلے اور عارف محمد خان نے ہندو مسلم دونوں قیادتوں کو بابری مسجد شہادت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ’ڈائلاگ ‘ ہی کو مسئلے کا قابل قبول حل بتایا۔

مزید پڑھیں >>

اجتماعی فساد کب اور کیسے برپا ہوتا ہے؟ (آخری قسط)

جو امراء اور علماء و مشائخ اپنے محلوں اور اپنے گھروں اور اپنی خانقاہوں میں بیٹھے ہوئے زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت کی داد دے رہے ہیں وہ بھی خدا کے ہاں جواب دہی سے بچ نہیں سکتے؛ کیونکہ جب ان کی قوم پر ہر طرف سے گمراہی اور بد اخلاقی کے طوفان امڈے چلے آرہے ہوں تو ان کا کام یہ نہیں ہے کہ گوشوں میں سر جھکائے بیٹھے رہیں بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ مرد میدان بن کر نکلیں اور جو کچھ زور اور اثر اللہ نے ان کو عطا کیا ہے اس کو کام میں لاکر اس طوفان کا مقابلہ کریں ۔

مزید پڑھیں >>

حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی ضروری

ہماری حکمت عملی میں بنیادی انقلابی تبدیلیوں Paradigm Shift کی ضرورت ہے اس کے بغیر  آنے والے  حالات کا مقابلہ مشکل سے مشکل تر  ہوتا چلا جائے گا۔ اس وقت بھی حالات اُس سے زیادہ خراب ہیں جتنے ننگی آنکھوں سے نظر آتے ہیں۔ اور مستقبل میں ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ خراب ہونے والے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مسلمان اور دہشت گردی

مذہبِ اسلام امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ اسلام کے نزدیک ایک انسان کا قتل، پوری انسانیت کا قتل کرنے کے برابر ہے۔ اسلام کسی بے گناہ کو موت کے گھاٹ اتارنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خون خرابہ اور دہشت گردی کا اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ تو پھر محض مسلمان جیسی شکل اختیار کر لینے سے دہشت گردوں کو مسلمان کیسے کہا جا سکتا ہے؟

مزید پڑھیں >>

اصلاح معاشرہ میں طلبۂ مدارس کا کردار

علماء و طلباء کا مطمع نگاہ اصلاح قوم و ملت ہی ہوتا ہے تاکہ یہ اسلام کی نشر و اشاعت اور معاشرہ کی اصلاح میں داعیانہ فرائض بحسن خوبی انجام دے سکیں، جس کی جھلکیاں ہم اصحاب صفہ سے لے کر آج کے موجودہ مدارس اسلامیہ کے طلبہ کے ما بین بخوبی مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

طلبئہ مدارس احساس کمتری کے شکار!

طلبئہ مدارس جب کسی اسکول کے طلبہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ اسکول میں انجینئرنگ کررہا ہے بعد میں اتنا کمائیگا اور ہم کو وہی چار پانچ ہزار روپئے ملتے ہیں آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کیسے اتنی قلیل رقم میں کام چلےگا لیکن شاید وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ علوم نبویہ کو سیکھ رہے ہیں جس سے ہماری دنیا تو دنیا آخرت بھی سنور جاتی ہے اور آج تک دنیا شاہد ہےکہ جس نے اس علم کو اپنے رب کی رضا کے لیے پڑھا وہ کبھی ذلیل وخوار نہیں ہوا.

مزید پڑھیں >>

سلفیت مدح وتنقید کے حوالے سے ایک تجزیہ

جماعت اہلحدیث ایک فقہی مسلک کا نام ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جو اہلحدیث ہو وہ جمعیت اہلحدیث سے تعلق بھی رکھتا ہو اسی لئے یہ لوگ کسی بھی دوسری جماعت، تنظیم یا مکتب فکر کا حصہ بن جاتے ہیں، جہاں تک جمعیت اہلحدیث کا تعلق ہے تو اب یہ جمعیت کسی  تحریک کا احساس نہیں دلاتی بلکہ یہ صرف اپنے مخصوص فقہی اور عقیدہ کے مسائل کی ترویج میں لگی رہتی ہے قومی سطح پر سیاسی وسماجی مسائل میں ان کا وجود کہیں بھی محسوس نہیں ہوتا، اسوقت جمعیت اہلحدیث سخت داخلی انتشار کا شکار ہے، حالیہ تنظیمی انتخابات اسکی چغلی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مسلم قیادت: ہندوستان کے تناظر میں

مسلمانوں کی کسی واقعی قیادت کے ابھرنے کو مختلف سیاسی گروہ پسند نہیں کریں گے اس لیے کہ اس وقت مسلمان ان کے آسان شکار ہیں۔ مسلمان ملک گیر ملی مسائل کے حل کے لیے سیاسی پارٹیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان سے سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلمان آبادیوں کے مقامی مسائل کے حل کے لیے بھی وہ سیاسی پارٹیوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور اس سلسلے میں پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور ان کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ یہ سارا طریقِ کار اسلامی اجتماعیت کی جڑ کاٹ دینے والا ہے اور اس رویے کو جاری رکھتے ہوئے نہ کبھی کوئی مسلمان قیادت ابھر سکتی ہے، نہ مسلمان منظم ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ایک اور کلین چٹ

آخر کب یہ طے کیا جائے گا کہ ہماری اس حالت کے ذمے دار کون ہیں ؟ہم کب مل بیٹھ کر اپنی آئندہ حکمت عملی طے کریں گے؟ ہم بھی متعدد بار لکھ چکے ہیں اور دیگر لکھاری بھی کہ آج کا دور میڈیا کادور ہے۔ اب جنگیں میدان جنگ میں کم اور میڈیا میں زیادہ  لڑی جاتی ہیں۔ ہندی اور انگریزی میں ہمارے اخبارات اور ٹی وی چینل کیوں نہیں ہیں ؟

مزید پڑھیں >>