ملی مسائل

طلاق پر بل لانے یا قانون بنانے کے ذمہ دار کون ہیں؟

 غرض کہ اس قسم کے اسباب تھے جن کی بنا پر حضرت عمرؓ نے یہ حکم جاری کیا کہ تین طلاقیں جو ایک مجلس میں اور دفعتہ واحدۃً دی جائیں گی ان کا حکم طلاق مغلظہ ہونے میں وہی ہوگا جو اُن تین طلاقوں کا ہے جو طلاق سنت کے مطابق تین طہروں میں دی گئی ہوں ۔ حضرت عمر نے دیکھا کہ جو شخص نکاح کی گرہ کو اتنا بے حقیقت سمجھتا ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالتا ہے وہ بے حس اور یاوہ گو انسان ہے اور اسے اس بے حسی اور یاوہ گوئی کی سزا ملنی چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

دینی مدارس: ملک کے محافظ

بہر حال مسلمانوں کے تعلق سے یا مدارس اسلامیہ کے تعلق سے جو غلط پروپیگنڈے پھیلائے جاتے ہیں ، اس کا سخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے، ہمیں ملک کی وفاداری کا سرٹیفکٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے، اس ملک کے ساتھ ہماری وفاداری کی گواہی ملک کے در ودیوار دیں گے، آج بھی، دہلی کا لال قلعہ، آگرہ کا تاج محل، حیدرآباد کا چار مینار، جگہ جگہ پھیلی عظیم تاریخی عمارتیں جس پر آج ساری دنیا کو فخر ہے، ہمیں بھی فخر ہے، یہ اس ملک کے باسی مسلمانوں کی دین ہیں ، جس ملک کی تعمیر میں ہم نے ہزاروں سال جتن کئے، اس ملک کی بربادی کی نسبت مسلمانوں کی جانب کرنا یہ احسان فراموشی کی آخری حد ہوگی۔

مزید پڑھیں >>

دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

دستور نے یوں بھی صدر کے ہاتھ پوری طرح باندھ دیئے ہیں وہ پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد جن سے زیادہ محترم صدر پھر کوئی نہیں ہوا انہوں نے اپنے سیاسی ساتھی پنڈت سندر لال، مولانا حفظ الرحمن، ڈاکٹر ذاکر حسین، پنڈت داتریہ، کیفیؔ جیسے دوستوں سے جب یہ کہہ دیا تھا کہ آپ لوگ میرے پاس کیوں آئے ہیں؟ میں تو وہ کروں گا جو جواہر لال اور سردار پٹیل کہیں گے۔ اور آج جو صدر محترم ہیں وہ تو اپنی سائیکل کے کیریئر پر مودی جی کو بٹھاکر گھمایا کرتے تھے وہ تو دستخط کرنے سے پہلے پڑھیں گے بھی نہیں کہ لکھا کیا ہے؟

مزید پڑھیں >>

علماء کے زیر نگرانی چلنے والے  اداروں کا المیہ

اور پھر قرآن چھاپنے والے اداروں کی دیدہ دلیری دیکھیں کہ ایک تعویذ نقش قرآنی کی شکل میں بنا کر اس کے نیچے من گھڑت بات بھی لکھ دی کہ یہ والا تعویذ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم حسنین کے گلے میں باندھا کرتے تھے۔ اتنی من گھڑت بات قرآن کی جلد کے اندر لکھتے ہوئے بھی ان اداروں کو خوف خدا نہیں ہوتا اور نہ ہی متعلقہ اداروں کو جو انہیں اس کی اجازت دیتے ہیں۔ تاج کمپنی جیسا معروف اور قدیم ادارہ بھی اس فالنامے اور تعویذ کو چھاپ رہا ہے۔اسی طرح اتفاق پبلشر، بسم اللہ پبلشرمیں یہ فالنامہ موجود ہے۔  ایک نسخے میں جسے معصوم کمپنی نے شائع کیا ہے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے الباعث کا ترجمہ کیا ہے مردے جلانے والا۔

مزید پڑھیں >>

مسلم پرسنل لابورڈ: تحفظ شریعت کا علمبردار

اسلامی تعلیمات کو مجموعی طور پر چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،جن میں مالی معاملات اور سیاسی مسائل، عبادات اور خاندانی زندگی شامل ہیں، قرآن کریم نے اول الذکر دونوں صنفوں پر اصولی حیثیت سے بحث کی ہے، کیوں کہ ان کا معاملہ ہر زمانے،ماحول اور سیاسی کروٹوں کے ساتھ کروٹیں لیتا رہتا ہے اور مسائل انہی قواعد کے تحت حل کیے جاسکتے ہیں، لیکن ثانی الذکر اصناف کو پورے شرح و بسط کے ساتھ بالخصوص خاندانی و معاشرتی مسائل پر تشفی بخش بحث کی گئی ہے، جس سے مراد نکاح، طلاق، میراث، اطاعت والدین اور حقوق زوجین وغیرہ ہیں، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ نماز و روزہ اور حج و زکات سے زیادہ واضح طور پر قرآن کریم نے انہیں بیان کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مذہبِ شیعت کی ساری فلاسفی ان کی خود ساختہ اور قران مخالف ہے

اگر آپ غور فرمائیں تو آج تک تمام انبیاۓ کرام ایک ہی آل، سے سلسلہ در سلسلہ چلے آۓ ہیں۔یعنی یہ تمام انبیاء اپنی آل سے باہر مبعوث نہیں ہوۓ۔ ایک ہی آل کی لڑی سے منسلک ہیں،اورسب ہی جانتے ہیں کہ، آل کا سلسلہ ہمیشہ اولادِ نرینہ سے ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے اولادِ نرینہ دے کر واپس اس لیئے لی کہ آپ کو "خاتم الانبیاء" ڈکلیئر کرنا مقصود تھا۔تاکہ اس کے بعد کسی پیغمبر کی ضرورت نہ رہے۔

مزید پڑھیں >>

مومن فقط احکامِ الہی کا ہے پابند!

میڈیا  میں جاری اس بحث و مباحثے کے تعلق سے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانیؔ مدظلہ نے فرمایاکہ کوئی سیاسی جماعت دارالعلوم دیوبند کے تئیں کیا نظریہ رکھتی ہے اس پر وہ کوئی بیان نہیں دیں گے،ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ دارالافتاءسےجو فتاویٰ صادر ہوتے ہیں وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہوتے ہیں اور ادارہ اس کام کو آئندہ بھی جاری  رکھے گا۔

مزید پڑھیں >>

طلاق بل مسلمانوں کے گلے میں صرف پھندہ ہے

ایک نشست میں تین طلاق بل راجیہ سبھا میں پیش تو ہوا مگر پاس اس لئے نہ ہوسکا کہ بی جے پی کی مخالف تمام پارٹیوں نے اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مشورہ دیا۔ یہ بل جسے تین طلاق بل کے غلط نام سے پکارا جارہا ہے اس کے بارے میں وزیر قانون روی شنکر پرشاد کی عجلت سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ انہوں نے منھ بگاڑکر کہا کہ لوک سبھا میں کانگریس کا رویہ یہ نہیں تھا تو راجیہ سبھا میں دوسرا چہرہ اس نے کیوں دکھایا؟ ہم نہیں جانتے کہ جس کانگریس کو ان کے آقا ملک سے باہر کرنے کا نعرہ دے کر میدان میں آئے تھے انہیں اس کی کیا فکر ہے کہ کانگریس کے دو چہرے ہوگئے یا چار ان کی بلا سے۔

مزید پڑھیں >>

تین طلاق کے خلاف قانون سازی کی کوشش فی الحال ناکام

طلاق ثلاثہ بل پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں آخرکار لٹک ہی گیا۔ بل کا جو حشرہوا،وہ بہت زیادہ خلاف حیرت بھی نہیں ہے۔ویسے یہ تو طے ہے کہ طلاق بدعت کا خاتمہ قانون کی روشنی میں ہوچکاہے کیونکہ سپریم کورٹ 22اگست کو اسے غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔ ایک نشست میں تین طلاق کے خلاف فوجداری قانون بنائے جانے کی کوششوں سے کئی خواتین خوش ہیں تو کئی فکرمند، سب کے پاس اپنی دلیلیں ہیں۔ رہا سوال علماء کا تو وہ اپنے مسلک کے ساتھ ہیں۔ نئے قانون کے فائدے ونقصان کی عملی صورت تو اس کے عمل میں آنے کے بعد سامنے آئیں گے، لیکن یہ بل لوک سبھا میں جس جلد بازی میں پاس کرایاگیا اس سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

تین طلاق: شریعت، قانون اور ہماری ذمہ داریاں

زندگی کے ہر معاملے میں شریعت پر پابندی اور دعوت دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کے فریضہ کی انجام دہی لازمی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ ہندوستان میں ان کے جمہوری حق ووٹ کی اہمیت ختم ہوگئی ہے کہ ان کے کسی بھی پارٹی کو ووٹ دینے کی اہمیت ختم ہوگئی ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیم‘تجارت اور حالات کے سامنے مثبت سو چ اور عمل اور اتحاد سے ہی اپنی شناخت قائم رکھ پائیں گے۔

مزید پڑھیں >>