ملی مسائل

مسلم خواتین سے یہ کیسی ہمدردی ہے؟

یاد رکھیں ! اگر باطل علماء سے عوام کا رشتہ توڑنے میں کامیاب ہوگئے تو مزید ذلتیں ہماری منتظر رہیں گی اور ہم اس وقت چپ ہی رہیں گے، ہمارے اندر حالات کو موڑنے کی طاقت نہیں ہوگی۔ کیوں کہ ہمارے پاس نہ قائد ہوگا نا رہنما، اس لیے آپ ہم نادانستہ طور پر ایسی حرکتوں سے گریز کریں ، علماء میں لاکھ برائیاں صحیح پر اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہم سے وہ ہزار گنا بہتر ہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

مجھے تین طلاق بل کیوں منظورنہیں؟

 راتوں رات مسلم خواتین کے ہمدردبن جانے والے، اسی طرح وہ لوگ، جنھیں اس بل کی خامیاں نظر نہیں آرہیں ، ان کا خیال ہے کہ میں فی الحال اس بل کی تائید کردوں ، بعد میں جب کوئی (فردیاجماعت) اسے چیلنج کرے گی، تو کورٹ اس کے اطراف و جوانب پرغور کرے گا، یہ ایک نہایت ہی بکواس اور ناقابلِ قبول خیال ہے؛کیوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ 1985میں شاہ بانوکیس کے فیصلے کے بعد جلد باز ی میں پاس کیے گئے ایک بل کو صحیح تعبیر و تفسیر کا جامہ پہنانے میں سپریم کورٹ کو پندرہ سال لگ گئے، حالاں کہ اب بھی آئی پی سی کی دفعہ498A قابلِ تعریف ہونے کے باوجودبہت بار صرف مردوں کو ٹارگیٹ کرنے کے لیے استعمال ہورہی ہے۔

مزید پڑھیں >>

طلاق ثلاثہ پر مسلم ممبران پارلیمنٹ کی مجرمانہ خاموشی!  

 یہ کوئی بڑا المیہ نہیں ہے کہ طلاق ثلاثہ کا خاتمہ ہوگیا، بلکہ یہ تو پہلے سے ہی ایک ناپسندیدہ عمل تھا، اور اسے ختم ہونا چاہیے تھا، دکھ اس بات کا ہے کہ اس بل کے پاس ہونے سے شریعہ میں دخل اندازی کے راستے ہموار ہونگے ، اب تو ڈھکے چھپے لفظوں میں یونیفارم سول کوڈ کی بھی بات ہونے لگی ہے۔ بات یہیں رکنے والی نہیں ہے، اگلا نمبر حلالہ کا ہے، پھر اس کے بعد پردہ کا جن بھی بوتل سے باہر آئیگا، بس آپ انتظار کیجئے اور خاموش تماشائی بنے رہئیے، آپ کی یہ خاموشی خود آپ کے وجود کے لئے سوالیہ نشان بن جائیگی۔

مزید پڑھیں >>

مدارس اسلامیہ کی سسکتی آہ وفغاں

ہندوستان پر مسلم حکمرانوں کے استیصال اور برطانوی حکومت کی یلغار کے ذریعہ نہ صرف مسلم حکومت بلکہ اسلامی تعلیمات، تہذیب و ثقافت اور اتحاد و اتفاق بلکہ کہا جائے کہ انسانی عروج کی شاہ کلید اور انابت الی اللہ کے علمبردار اور انسانی حقوق کے سنتری کی پامالی کی گئی، علم دوست، محبت شناس اور عقل شناس کی بے حرمتی کے ساتھ للہیت و تقوی اور شب بیداری کے حاملین کو رسوا کیا گیا، ایسالگتا تھا کہ اب اسلام اور مسلمانوں کا وجود قصہ پارینہ ہونے کو بیتا ب ہے۔

مزید پڑھیں >>

تاریخ رقم کرنے کی خوگری: طلاق ثلاثہ اور کلمۂ حق

اس سلسلہ میں انہوں نے کانگریس کے دامن کو بھی داغدار قرار دیا ہے۔ اگر بات تاریخی حوالے سےطلاق ثلاثہ بل کی کی جائے تو  جہاں لوک سبھا میں اسے پاس کرانے میں حکمراں جماعت اور بل کی حمایت کرنے والی پارٹیوں کی عجلت اور ان کے ممبران پارلیمنٹ کی گفتگو تاریخ کا حصہ بنے گی وہیں تاریخ اسے بھی رقم کرے گی کہ لوک سبھا میں 23مسلم ممبران ہونے کے باوجودتمام تر تیرونشتر کا سامناکرتے ہوئے بل کی مخالفت اور دلائل کے ساتھ اس کی خامیوں کو بیان کرنے اور "كَلِمَةُ عَدْلٍ"کلمۂ حق ادا کرنے والی آواز صرف ایک مسلم ممبر کی تھی۔ تاریخ یہ بھی رقم کرے گی کہ پارلیمنٹ کے باہر بھی  محض رسم ادائیگی کے لئےایک آدھ ہی مسلم ممبر پارلیمنٹ  نےبل کی مخالفت میں زباں کھولی ہے۔

مزید پڑھیں >>

شریعت میں مداخلت کا آغاز

مسلم رہنما اور ادارے بھی حکومت کو یہ سمجھانے میں ناکام رہے کہ مسلم پرسنل لا ء کی اہمیت کیاہے اور اسکا اصل مآخذ کیاہے۔ حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ طلاق ایک سماجی قانون ہے جسے مولوی ملائوں نے آپسی رضامندی کے بعد بناکر مسلم سماج پر تھوپ دیاہے۔ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ تین طلاق کا مسئلہ کب اور کہاں سے وجود میں آیا۔

مزید پڑھیں >>

تین طلاق : مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

بھئی للن سنا تم نے جس سرکار کو چائے بنانےکاسلیقہ  نہیں معلوم  اس نے ایک اور نیا قانون بناڈالا۔ کلن بھائی ہندوستان میں قوانین کی کون کمی ہے ؟ قانون کے مطابق کوئی مچھر بھی نہیں مارسکتا۔ لوگ انسان کو زندہ جلاکر ویڈیو بناتے اور پھیلاتے ہیں۔ یہ مرنے مارنے کا نہیں شادی طلاق کا قانون ہے۔ ہم نے تو سنا ہے ازدواجی  رشتے جنت میں بنتے ہیں۔  ان سے کھلواڑ اچھی بات نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہر برائی کا علاج قانون نہیں ہے!

حکومت جہیز مخالف بل اور اس پر عمل نہ کرنے کی سزا سب کچھ بتا چکی ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آج بھی جہیز نہ لانے یا کم لانے کی سزا میں لگ بھگ سات ہزار لڑکیاں موت کا شکار ہوتی ہیں اور ہزاروں مقدمے عدالتوں میں زیرسماعت ہیں جس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ قانون کسی بیماری کا علاج نہیں ہے۔ اور علاج صرف دماغ میں یہ بسانا ہے کہ جہاں تک ہوسکے شادی کے بعد خوبصورت زندگی گذاری جائے۔

مزید پڑھیں >>

شیعہ وسنی: اتحادکی راہیں

ہم مدتوں سےباہم دست گریباں ہیں اورہم میں سے ہرایک اس بات کاداعی ہےکہ وہ دین خدایعنی اس کی رضاکےلیےسربکف ہے,توجب یہ طےہواکہ اس کی مشیت اپنےآپ میں نہیں ٹکراتی تواب یہ بات لازمی نتیجےکےطورپرطےہےکہ اس ٹکراؤ میں کہیں نہ کہیں ہماری مشیت کی ملاوٹ شامل ہے,اب رہی یہ بات کہ کہاں کہاں,کس کس طرح سےکس نےملاوٹ کی ہے؟کیایہ بات طے کرنے کے لیے خدا نے کوئی پیمانہ مقررنہیں کیا؟

مزید پڑھیں >>

طلاق ثلاثہ  کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ہمارا موقف

  در اصل طلاق ثلاثہ کا انکار امت مسلمہ کے اجماعی مسائل اور فقہاء کرام کے اجتہاد اور ورثہ آباء و اجداد کی بیخ کنی اور شرعی تعلیم کی حقارت و تذلیل ہے اس سے بڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں اور عقیدتمندوں کو اپنے علماء کرام اور مفکرین عظام سے دل برداشتہ کرنے اور تاریخی ورثے سے ان کا  ہاتھ کاٹ دینے اور یتیمی و بے کسی کی تاریکی میں گم کردینے کی ناپاک سازش ہے، بلکہ اس کی آڑ میں سیاست بازی کی بساط بچھانے اور مہرے بدل کر مد مخالف کو شکست دینے اور پھر مذہبی تشدد و دہشت کو ہوا دے کر اخوت و بھائی چارگی اور انسان دوستی کو بھی عرق آلود کردینے کی کوشش ہے، نادان مسلمان یا نام نہاد مسلمان دوسروں کے نقش قدم کی گر د کو ماتھے پر سجانے اور اسے آنکھوں کا نور اور دل کا قرار بنانے میں یو ں کوشاں ہے گویا قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی کو طلاق البتہ دیدی ہو۔

مزید پڑھیں >>