ملی مسائل

طلاقِ ثلاثہ کے خلاف مجوزہ قانون: ایک جائزہ

ملک کے بے شمار حل طلب مسائل کو برف دان کی نذر کرکے طلاقِ ثلاثہ میں حکومت کا عجلت سے کام لینا صاف بتاتا ہے کہ حکومت کو مسلمانوں کو مسلسل اُلجھن میں مبتلا رکھنے اورانھیں حاصل مذہبی آزادی کے دستوری حق کو ان سے سلب کرنے میں بے پناہ دلچسپی ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ حکومت کا ریموٹ کنٹرول فاشست جماعت آر ایس ایس کے ہاتھ میں ہے، مودوی جی کو وہی کچھ کرنا ہوتا ہے جس کا حکم آقاؤں کی طرف سے انہیں دیا جاتا ہے، آر ایس ایس کا اصل نشانہ ملک سے بتدریج مسلم پرسنل لا کا خاتمہ اور شریعت اسلامی میں مداخلت ہے، آر ایس ایس اس سلسلے میں زیادہ وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔

مزید پڑھیں >>

آہ! بیچاروں کے اعصاب پر عورت ہے سوار

  اسلام نے عورت کو جو مقام ومرتبہ دیا ہے اس کا استقصاء اس مختصر مضمون میں نا ممکن ہے، اس کے لئے تو ایک مستقل و ضخیم دفتر درکار ہے، میں نے نہایت ہی اختصار کے ساتھ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں عورتوں سے متعلق پائے جانے والے تصورات ونظریات اور اسلام میں بیان کردہ ان کے حقوق اور ان سے متعلق رسالت مآب  ﷺکے چند ارشادات مبارکہ کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ ملت اسلامیہ ہندیہ کے سادہ لوح افراد حکومت و میڈیا کے ذریعے پیدا کئے گئے اس مسموم پروپیگنڈے کا شکار نہ ہونے پائیں ۔

مزید پڑھیں >>

برج کورس: حقیقت کے آئینے میں!

مجھے ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ  طلبہ کی ذہنیت کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کون ہمارے کتنے کام آسکتا ہے پھر اسی حساب سے اس کا استعمال ہوتاہے، جب کوئی پروگرام ہوتاہے یا  جب کوئی مہمان باہر سے آتے ہیں تو اس وقت انہی طالب علموں کو آگے کیا جاتا ھے جو ان کی مدح سرائی کرتے ہوں، دیگر طلبہ کو موقع نہیں دیا جاتا، طلبہ کی تقریروں کی وڈیو گرافی بھی ہوتی ہے اور پھر ان میں سے ان ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کیا جاتا ہے جو ان کے مطلب کی ہوں، یوٹیوب پر cepecami amu کے نام سے چینل ہے، اس پر آپ سب بذات خود دیکھ سکتے ہیں، آپ موجودہ بیچ کے طلبہ سے بات کرکے دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان کے اندر کتنی تبدیلی آئی ہے۔

مزید پڑھیں >>

نام نہاد مسلم لڑکیوں کو مودی سرکار کا تحفہ

لم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ایک نشست کی طلاق طلاق ہی نہیں رہی تو اب قانون سزا اور جرمانہ کیسا؟ بورڈ کے نزدیک یہ اقدام بہت بڑا ہے اس میں جلدبازی قطعاً مناسب نہیں ہے۔ یہ بات واقعی حکومت کے سوچنے کی ہے کہ شریعت نے اسے برا تو مانا مگر طلاق تسلیم کرلی حکومت یعنی سپریم کورٹ نے اسے طلاق ماننے سے انکار کردیا تو یہ شوہر اور بیوی کے درمیان متنازعہ مسئلہ بن گیا اور اگر اسے صرف عورتوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا تو یہ تو عیاشی کا پروانہ بن جائے گا۔ جو لڑکی اپنے پرانے عاشق سے تعلق بنانا چاہے گی وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔ اس لئے یہ ضد کہ اس اجلاس میں یہ بل پاس ہوجائے بہت غلط ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

​بابری مسجد کی  شہادت  اور تاریخ

آج ایڈوانی جی شوق سے اس فیصلہ کی حمایت میں نکتہ آفرینیاں کریں، لیکن انھیں اور ان کے ہم خیالوں کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ قانونی جواز سے لیس ہوکر کل کو جب یہ آستھا کا بھوت بوتل سے باہر نکلے گا تو پھر بدری ناتھ، پوری، تروینی، بندھاپور، امراؤتی، تیر، جزولا، ایہول، انداولی، ایلورا سرنگیری وغیرہ کے مندروں کاکیا ہوگا؟ جو موٴرخین کی تحقیق اور بدھسٹ لاماؤں کے بقول، بودھ مت ویہاروں پر بزور قبضہ کرکے بنائے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اب مسائل، امت کی تشکیل کریں گے!

اب خود ہی مذکورہ حالات و معاملات کا جائزہ تھوڑی سی باریک بینی سے لیجئے، ساری وضاحتیں کھل کر سامنے آجائینگی۔ ہم آج بھی چھوٹے چھوٹے بکھیڑوں میں الجھے ہوئے ہیں اور الجھتے ہی جا رہے ہیں۔  اب سطحی سوچ اور فکرقطعی طور پر سلب کرنے کا وقت شروع ہوچکا ہے، الحمدوللہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہے کہ وہ سب ہوکر رہے گا جو آسمانوں میں طے پایا ہوا ہے اور ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں ۱۴۰۰ سال پہلے سمجھااور بتا دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

نا اہل قیادت اور کفرِ جمہوریت

دانائے راز حضرت اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ اے بے فکر! تم فکر کہاں سے لینا چاہتا ہے، ان پست، جاہل اور کمینہ صفت لوگوں سے؟تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ چیونٹیوں میں فطرت سلیمان علیہ السلام نہیں مل سکتی۔کہاں چیونٹی اور کہاں حضرت سلیمان علیہ السلام، ہم ایک چیونٹی سے سیدناسلیمان علیہ السلام کی سی ذہانت طبع کی توقع نہیں کرسکتے۔ جمہوریت میں پہلے عوام کو گدھا بنایا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ ووٹ دے کر اپنا سوار چن لو۔ جمہوریت کوترک کردو کیونکہ اگردوسوگدھے بھی جمع ہوجائیں تو ان سے ایک انسان کے فکر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اے مسلم! تو گدھا بننا چھوڑ اور کسی پختہ تر، صاحب بصیرت کسی امام کے پیچھے چل، کسی عظیم رہبر کا پیرو بن۔

مزید پڑھیں >>

سوال یہ ہے کہ ’حل‘ کیا ہے؟

جواب یہ ہے کہ موجودہ ’’مسائل ِظلم ‘‘ کا  ’ دائمی حل ‘،’ امکانی حصول قوت، دفاع، اور قصاص ‘ ہے۔ اور یہ جواب  قرآن کا ہے، ہمارے ذہن کی اختراع نہیں ! اگر ہمیں  اُس کا علم نہیں  تو قصور خود ہمارا  اور ہمارے نام نہاد اہل علم کا ہے  کہ  اس کتاب کو پڑھنے اور پڑھانے  کے ساتھ ساتھ  اُسے سمجھنے اور سمجھانے  کی کوشش نہیں کی جاتی  جس میں نہ صرف ہمارے بلکہ پوری دنیائے انسانیت کے  ہر مرض کی شفا اور  قیامت تک کے تمام مسائل کا حل  موجود ہے۔

مزید پڑھیں >>

2019ء سے پہلے مسلمان فیصلہ کریں کہ کیا کیا جائے!

2014ء کا الیکشن ہو یا اس کے بعد ہونے والا اسمبلی کا الیکشن ہو یا بلدیاتی الیکشن ہر الیکشن وکاس اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ سے شروع ہوتا ہے اور پھر گلی کوچوں میں ہوتا ہوا وہ اجودھیا اور رام مندر پر آجاتا ہے یا ہندو مسلمانوں کے درمیان دیوار کو اور مضبوط کردیتا ہے۔ پہلا الیکشن جو نریندر مودی صاحب نے وزیر اعظم کے اُمیدوار کی حیثیت سے لڑا تھا اس میں سب سے زیادہ زور ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘، گجرات ماڈل اور کانگریس مکت بھارت پر دیا تھا اور جیسے جیسے الیکشن شباب پر آیا اس میں وہ ساری گندگی مل گئی جو ملک کی جہالت اور فرقہ پرستی کی دین ہے۔

مزید پڑھیں >>

جمہوریہ ہند میں ہادیہ کی شخصی آزادی؟

دراصل ہمیں یہ بتانا مقصود ہے کہ ہادیہ کے معاملہ میں عدلیہ کا نظریہ کیا رہا ہے، جب ہادیہ کو سرپرست منتخب کرنے کیلئے کہا گیا تو اس نے اپنے شوہر کو چنا، اور بات فطری ہے، ہر شادی شدہ عورت کی ذمہ داری اس کے شوہر کی بنتی ہے، عورت خود کو شوہر سے زیادہ محفوظ کہیں اور تصور نہیں کرسکتی ہے. 

مزید پڑھیں >>