آس پاس

آزادی کا جشن اور اہمیت

شیخ خالد زاہد

اسکول آتے جاتے بچوں کو بس یہی ایک بات سجھائی دیتی ہے کہ پاکستان کی آزادی کا جشن بہت دھوم دھام سے منانا ہے۔ وہ اپنے معمولات سے بلکل بے خبر ہوجاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ اسکول کا کام بھی کرنا ہے ٹیوشن بھی جانا ہے اور مدرسے کابھی سبق یادکر نا ہے اور تو اور کبھی کبھی تو اپنے کھیلوں کی سرگرمیوں سے بھی اپنے آپ کو علیحدہ کر بیٹھتے ہیں۔ ان کہ لیے سب سے اہم ترین کام اپنے وطن عزیز کی آزادی کا جشن منانے کی تیاری ہوتا ہے۔ اب اس بات کو ممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش میں سرگرداں ہوجاتے ہیں، جیسے جیسے 14 اگست کا دن قریب آتا جاتا ہے اپنے والدین سے مختلف چیزوں کا تقاضا شروع ہوجاتا ہے۔ اب یہ والدین پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ان معاملات کو کس طرح سے نمٹاتے ہیں۔ بہرحال ایک عدد سبز ہلالی پرچم تقریباً ہر گھر کی زینت بنتا ہے۔ بات ایک پرچم کہ لہرانے سے آگے بڑھتی ہے اور جھنڈیوں اور دیگر لوازمات پر آکر انجام پذیر ہوتی ہے یہاں تک کہ 14 اگست کا سورج طلوع ہوا چاہتا ہے۔

ہمیں بہت اچھی طرح سے یہ سمجھایا جاتا ہے کہ پاکستان لاتعد اد قربانیوں کہ طفیل وجود میں آیا۔ قربانیوں کی ایک نا ختم ہونے والی فہرست ہے۔ جو ہمارے آباو اجداد کہ دلوں میں محفوظ ہے۔ شاذونادر کوئی سچا واقع ہمارے سامنے کوئی بزرگ پیش کرتے ہیں تو انکی آنکھیں نم اورآواز رندھ جاتی ہے، ایک فلم جو انکی بینائی سے کم ہوتی ہوئی آنکھوں میں چلنے لگتی ہے، ان انکھوں میں آگ کہ شعلے بھی نظر آتے ہیں اور ادھر ادھر بھاگتے معصوم و لاچار لوگ بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ ہم اس دردکو اس تکلیف کو نہیں سمجھ سکے اور شائد نا ہی سمجھ سکینگے۔ وہ بزرگ آج بھی تصور میں وہ لال رنگ جس کی ہولی دشمن نے بہت بے رحمی سے کھیلی تھی اپنے کپڑوں پر محسوس کرنے لگتے ہیں، اور بے خیالی میں اپنے کپڑے جھاڑنے لگتے ہیں، تازہ تازہ لہو کی مہک پھرانہیں ستانے لگتی ہے۔ بکھری ہوئی بے سروپا لاشیں، آبروریزی کی چیخیں ان کا دل دہلانے لگتی ہیں۔ ہم سب وہ سب کچھ ستر 70 سال گزرنے کہ باوجود محسوس نہیں کرسکے۔ ہم وہ محسوس نہیں کرسکتے ہم ان بزرگوں کی زخمی روحوں کو نہیں پہچان سکتے۔ ان کی خاموشی ان کی ہنسی ہمارے لئے بہت بے معنی سی ہے۔

ہمارے بزرگوں کی ساری قربانیاں ہمارے بے خوف مستقبل کیلئے تھیں، وہ ہماری بے خوف زندگی کہ خواں تھے۔ ہم نے آزاد وطن میں، آزاد آب و ہوا میں، آزاد آذان کی گونج میں آنکھ کھولی ہے۔ ہم نے ہنستے بستے چہرے دیکھے ہیں، ہم نے لہلاتے کھیتوں میں اپنے کسانوں کو ہل چلاتے دیکھا ہے، ہم نے اپنی مرضی سے راستوں کا تعین کیا ہے۔ ہمیں آزادی ورثے میں ملی ہے۔ ہمارے لئے آزادی کی جدوجہد کی اہمیت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

آپ کسی سے اسکی خیریت دریافت کریں تو بے ساختہ جو جواب سماعتوں کی زینت بنتا ہے وہ یہ کہ اللہ کا شکر ہے، یہ ایک رٹے رٹائے جملے کی طرح۔ یہ کیسا شکر ہے جو بہت خالی خالی سا لگتا ہے، مگر یہ خالی خالی شکر ہوتا تو اللہ ہی کاہے۔ بلکل اسی طرح ہم آزادی کا جشن تو مناتے ہیں ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں لیکن ہم ان بزرگوں کہ احساسات تک ساری زندگی رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔ ہم تحریک پاکستان کی جدوجہد آزادی کی روح تک رسائی کبھی نہیں پا سکتے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہم جس احساس اور جذبات تک رسائی نہیں حاصل کرسکے ہیں تو کس طرح سے ہم وہ احساس اپنی آنے والی نسلوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔ یقیناًاب یہ کام ناممکنات میں شامل ہوچکا ہے۔ اب کیا کیا جائے؟ جیسے چل رہا ہے کیا ایسے ہی چلنے دیا جائے اور آنے والی نسلوں کو اسی طرح سے بس جشن تک محدود کردیا جائے یا واقعی جشن سے آگے لے کہ جایا جائے۔ دراصل پہلے دن سے ہی ہماری دشمن قوتیں ہمیں کمزور کرنے پر کمر کسے ہوئے ہیں۔ یہ جشن ہمیں دوسرے معاشروں سے تحفے میں ملا ہے ہم نے دیکھا کہ کوئی جشن چراغاں کر کہ کرتا ہے تو کوئی جشن گانے بجا کر مناتا ہے تو کوئی اپنی خوشی کا اظہار کیلئے کوئی اوربے ہنگم طریقہ اپناتا ہے۔ ہمیں جو جہاں سے اچھا لگا ایک کوکٹیل نما جشن مرتب دیا اور اسے اپنی ثقافت کا نام دے کرمنانا شروع کردیا۔ اب ہمارے ہر طرح کہ جشن میں ناچ بھی ہے، گانا بھی ہے، چراغاں بھی ہے اوربہت کچھ ایساہے جو کہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ جس کی ہمیں نا تو ہمارا دین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ثقافت۔

اب ہمیں اپنی اور آنے والی نسلوں کو یہ آگاہی دینا ہوگی کہ وطن کیسے بھی حاصل کیا گیا ہو، کتنی اورکیسی بھی قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا ہو، اب یہ تمھارے مرہونِ منت ہے اسے بگڑنے سے بچالو، اپنے وقت کی اہمیت اور افادیت کو پہچانو۔ دشمن کی چالوں کو سمجھو اس کہ جھانسوں سے خود کو بچاوٗ۔ یہ جھنڈا اس وقت تک لہراسکتا ہے جب تک تم اس ملک کی قدر کرتے رہو گے، اپنے علم سے اپنی بے پناہ خداداد صلاحیتوں سے وطنِ عزیزکا نام ساری دنیا میں روشن کرسکتے ہو۔ ہر 14 اگست ہم سے یہی تکازہ کرتی ہے کہ خوب محنت کرنی ہے خوب پڑھنا ہے انسانوں کو انسانیت کا صحیح سبق دینا ہے۔ ہمیں کسی کی سازشوں نے جو جشن کی صورت میں ہمیں الجھائے رکھتی ہیں بچنا ہے۔ یہ ہمارا مقصدِحیات نہیں ہے، یہ ہمیں اپنی صحیح سمت پیش قدمی سے روکنے کیلئے دشمن کی سازشیں ہیں۔ دشمن کہ اعلاء کار ہمارے درمیان ہم سے بن کر رہ رہے ہیں انہیں پہچاننا ہے، انکی نشاندہی کرنی ہے۔ یہ ملک ترقی کی راہ جب ہی گامزن ہوگا جب ہم جشن آزادی پر وقار طریقوں سے منائیں گے ہم زندہ دل قوم ہیں لیکن کیا زندہ دلی اس طرح سے دیکھائی جاتی ہے۔

ہمیں دوباتیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہہیں، اول ہم اس نبی ﷺ کہ امتی ہیں جنہوں نے ہمارے لئے (اپنی امت کیلئے) اللہ رب العزت سے خصوصی دعا فرمائی اور امتی امتی کرتے دنیا سے رخصت ہوئے، دوئم یہ کہ بانی پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح کہ وہ تاریخی الفاظ کام، کام اور کام۔

ہم سب دل کی گہرائیوں سے اس عرضِ پاک کی بقاء کے لئے دعا گو ہیں مگر ہم عملی طورپر اپنی اس محبت کا مظاہرہ کب کرینگے۔ آئیں اس 14 اگست ہم یہ عہد کریں کہ امتی ہونے ثبوت اپنے ہر فعل سے دینگے اور محنت اور لگن سے کام کرینگے یہاں تک کہ پاکستان کو صف اول کہ ممالک میں لاکر کھڑا نا کردیں۔ ان شاء اللہ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close