آس پاس

الیکشن میں خلائی مخلوق کاکردار

 پاکستان میں الیکشن ہوتے ہیں یاسلیکشن اس سوال کاجواب توقوم آج تک تلاش نہیں کرپائی۔

امتیازعلی شاکر

یوں توہرمرتبہ عام انتخابات سے قبل لوگ اپنی اپنی رائے کااظہارکرتے ہیں۔ تبصرے، تجزیے اورپیشنگوئیاں کی جاتی ہیں پراس مرتبہ میاں نوازشریف نے بالکل ہی نئی بات بتائی ہے کہ آئندہ الیکشن خلائی مخلوق کرائے گی۔ راقم سوچ رہاہے کہ ہوسکتاہے خلائی سیاست پاکستانی سیاست سے آسان ہوتوہم بھی سیاست سیاست کھیل سکیں۔ آج تک توہم لوگ خلائی مخلوق کے متعلق اتناہی جانتے ہیں جتناکسی فلم، ڈرامے یاکہانی میں دیکھ، سن یاپڑھ چکے ہیں۔ الیکشن کروانے والی خلائی مخلوق دکھنے میں کیسی ہوگی؟زبان کون سی بولے گی؟لباس میں ہوگی یاننگی؟اڑن تشتری میں سوارہوکر زمین پراترے گی یاپرندوں کی طرح ارتی ہوئی آئے گی؟اس کے پاس جادوہوگایااسلحہ؟ایسے ہی بہت سارے سوالات ووٹرزکے ذہنوں میں گردش کررہے ہیں تودوسری جانب فلموں والی خلائی مخلوق کاغیرسیاسی رویہ بچوں کو یہ سوچنے پرمجبورکر رہاہے کہ الیکشن کروانے والی خلائی مخلوق فلموں والی خلائی مخلوق سے توبہت مختلف ہوگی؟

آئندہ الیکشن میں ایک یہ بات بھی بالکل نئی ہوگی کہ اس بارسنی مسلک کی دونمائندہ جماعتیں، تحریک لبیک پاکستان اورتحریک لبیک اسلام بھی الیکشن میں حصہ لینے کااعلان کرچکی ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ خادم حسین رضوی بہت پہلے سے کہتے آرہے ہیں کہ اس بارپرچی رسول اللہ ﷺ کے دین کیلئے دیں۔ اس بات میں توکوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ساتھ چھوٹی سی چھوٹی نیکی، بھلائی اورصبر پرثواب کاوعدہ کیا ہے۔ ایک مرتبہ چراغ گل ہوگیاتوآپؐ نے اِنالِلہِ پڑھا، حضرت عائشہؓ نے فرمایاکیا یہ مصیبت ہے اس پربھی صبر کرنے کااجروثواب ملتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں جوچیز مسلمان کوناگوار گزرے وہ مصیبت ہے یہاں تک کہ کانٹا لگ جائے یاکوئی چیزرکھ کربھول جائے، اس پرصبر کرنے سے اَجرملتا ہے۔ افسوس کہ نہ ہم صبرکرتے ہیں اور نہ ہی مصیبتوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش۔ پاکستانی قوم کاحال دو سے چھ ماہ کے بچے کی طرح ہے جوروپڑے تو چپ ہونے کانام نہیں لیتا، خوش ہوتو بات بے بات مسکرائے جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام بھی سالوں تک حکمرانوں کو خوب برا بھلا کہتے ہیں اورچکن سیل سنیٹرپر پڑے ڈرم میں تڑپتی ہوئی مرغی کی طرح پھڑپھڑاتے ہوئے وقت گزارتے ہیں، اپنے تمام ترمسائل، تمام تر مشکلات کی ذمہ داری حکمرانوں پرڈالتے ہیں۔

جو لوگ عوام کوایک آنکھ نہیں بھاتے الیکشن کے دنوں میں انہیں لوگوں کی ایک جھلک دیکھ کر تمام ترپریشانیاں، تمام تر مسائل، تمام تر مشکلات اور تمام تر محرومیاں بھول کر بڑے فخر کے ساتھ نہ صرف ان کی انتخابی مہم چلاتے ہیں بلکہ ان کی خوبیاں گنواتے وقت یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے گزشتہ چار پانچ سال عوام کا جینا مرنا مشکل کئے رکھا تھا اور ان کے ظلم کا شکار ہونے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو خوبیاں گنوائی جا رہی ہیں وہ ہرگز اس سیاستدان کی شخصیت میں موجود نہیں ہیں جوان کے حلقے میں پھر سے اْمیدوار بن کر آگیا ہے اور مزے کی بات سن لیں پچھلے الیکشن میں اس نے تیر کے انتخابی نشان پرالیکشن لڑا تھا اور اِس الیکشن میں وہ شیریابلے کولے کرمیدان میں اترا ہے، کیا اس کی وفاداری کا یہی ثبوت کافی نہیں کہ جس پارٹی نے اسے پانچ سال تک خوب عزت دی وہ اسی پارٹی کو مشکل میں دیکھ کراپنے مستقبل کے سنہری خواب سجائے دوسری پارٹی سے جا ملاہے ؟

 قارئین محترم آپ جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں انتخابی اکھاڑہ سجنے کو ہے۔ الیکشن کا سیزن بھی شروع ہواچاہتا ہے۔ سیاستدانوں کے رشتہ دار جو بیرون ملک مقیم ہیں وہ پاکستان آکر الیکشن کا مزہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سابق صدر پرویزمشرف بھی الیکشن میں حصہ لینے کیلئے نگران حکومت بننے کے منتظر ہیں، کل تک ن لیگی قیادت پرویزمشرف کی وطن واپسی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی تھی اب سنا ہے بیرونی طاقتوں کے کہنے پر وہی پرویزمشرف کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہوچکی ہے۔ جمہوریت کی روح سے دیکھاجائے تو پرویزمشرف کا وطن آکر الیکشن میں حصہ لینا اچھی بات ہے۔ چند، دنوں میں موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے پر نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا اورحکومتی اور اپوزیشن ارکان پانچ سالوں بعد اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں لوٹ کر عوامی رابطہ مہم چلائیں گے۔ یعنی الیکشن کے دنوں میں اِن ایکشن رہیں گے۔

 یہ وہی لوگ ہیں عوام جن کے چہرے تک بھول چکے ہیں ایک بار پھر عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے بڑے انتخابی جلسے رچا کر نہ صرف اپنی خوبیاں گنوائیں گے بلکہ ساتھ ساتھ مخالف اْمیدوار پر کیچڑ اچھالتے وقت سب اخلاقی حدیں توڑ دیں گے یہاں تک کہ ایک دوسرے کی ماوں، بہنوں، بیٹیون اوربیویوں کی کردار کشی کریں گے اور عوام جو پچھلے پانچ سال اپنی قسمت پر روتے رہے ہیں آئندہ پانچ سال تک رونے کی تیاری اس طرح کریں گے کہ ہر سیاسی جلسے میں شامل ہوکر خوب نعرے بازی کرینگے، ڈھول کی تھاپ پر خوب رقص کریں گے اور امیدواروں کے انتخابی دفاتر میں بریانی، شربت چائے پی کریا کھانا کھا کر یہ سمجھیں گے کہ وہ سیاستدانوں کو بے وقوف بنارہے ہیں۔

ذات برادری، پارٹی نسبت یا پھر چند روپوں کے عوض کسی کرپٹ اور نااہل امیدار کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر آئندہ پانچ سال اپنی قسمت کو روتے رہیں گے۔ الیکشن کے دنوں میں نہ صرف سیاست دان بلکہ عوام بھی سیاست دانوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سیاستدانوں کی بریانی کھاکروہ کوئی بڑامعرکہ سرکررہے ہیں۔ میان نوازشریف نے خلائی مخلوق کاذکرکرکے اس بارالیکشن میں بڑوں کے ساتھ بچوں کی دلچسپی کاسامان پیداکردیاہے۔

 پاکستان میں الیکشن ہوتے ہیں یاسلیکشن اس سوال کاجواب توقوم آج تک تلاش نہیں کرپائی۔ لگتاہے الیکشن کاماحول بناکرسلیکشن کرلی جاتی ہے شائداسی لئے میاں نوازشریف حالات سے اچھی طرح واقفیت رکھنے کے ساتھ الیکشن میں ہارے ہوئے اُمیدواروں کوجتوانے والی مخلوق کوبھی خوب جانتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close