آس پاس

بحرانوں میں ڈولتی پاکستانی جمہوریت!

شکاری نے شکار تو کر کے دے دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ 

شیخ خالد زاہد

تعلیم کی اہمیت کا اندازہ صرف نوکری کے حصول کے اشتہارات پڑھ کر نہیں ہوتا بلکہ اس سے کہیں زیادہ نجی زندگی کے معاملات کا منظر عام پر آجانے سے پتہ چلتا ہے، یا پھر ہمارے آس پڑوس والے اس بات کی زیادہ بہتر گواہی دے سکتے ہیں۔ اب جس معاشرے کی تعلیم کا حصول سوائے اسکے روزگار کے حصول سے زیادہ کچھ اور نا ہو تو پھر اس معاشرے میں تعلیم کی اہمیت پر بات کرنا یا پھر اس کی افادیت سمجھانا وقت کے ضائع کرنے سے اور زیادہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ سب کچھ آپ بھی بیٹھے بیٹھے سوچ اور سمجھ لیجئے کہ ہم سب ایسے ہی معاشرے میں زندہ ہیں جہاں ایک پڑھا لکھا شخص کسی دوسرے فرد کو (اس بات سے قطعی نظر کہ وہ انپڑھ ہے یا پڑھا لکھا) کتنی ہکارت سے دیکھتا ہے اس کے برعکس ایک جاہل آدمی ایسی کسی بھی حرکت کا محتمل ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتااور اگر ایسا گر بھی گزرے تو اسے اسکا حق حاصل ہے۔

اس پر قطعی یقین کرنے کو دل نہیں چاہتا کہ سیاستدان عوام کے مسائل حل کرنا ہی نہیں چاہتے، ہمارے سیاستدانوں میں سے کسی نے کہا کہ اگر عوام کے مسائل حل ہوگئے تو یہ عوام ہمارے آگے پیچھے نہیں گھومے گی اورکوئی ہمارے پاس نہیں آئے گا۔ آج کل ہر کسی کو سچ بولنے کی بیماری لاحق ہوچکی ہے، لیکن بد قسمتی سے زبان اور کان کی باہمی ہم آہنگی پیدا نہیں ہوسکی، یعنی زبان سچ کہنے پر تو راضی ہوجاتی ہے لیکن کان سچ سننے کی سماعت سے ابھی تک محروم ہیں۔ سچ جتنا بڑا ہوگا یقین کیساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اتنا ہی شدید کڑوا بھی ہوگا۔ سچ کی بارش ہورہی ہے اور میڈیا اس بارش سے عوام کو مستفید کر رہا ہے۔

گزشتہ پانچ سال پاکستان میں بھرپور سیاسی رونق لگی رہی، جیسے کوئی اندیکھی چھڑی تھی جس نے اس ملک کے اداروں کوسیاستدانوں کو حرکت میں رکھا، یہ چھڑی سب کو ہانکتی رہی اور ثابت کر وایا کہ حرکت میں ہی برکت ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے دفاعی حکمت عملی اپنائے رکھی اوربدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالتے چلے گئے۔ ان جماعتوں میں پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں ایسے سیاستدانوں کی نیندیں حرام کردیں جو کسی بھی طرح سے کسی نا کسی بدعنوانی کا حصہ رہے۔ اس دوران میں سب سے زیادہ نشانہ حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) بنی اور وقت نے ثابت کیا کہ اس جماعت میں اب تک عدالتوں سے تصدیق شدہ نااہل قرار پانے والے ارکان ہیں، یہاں تک پہنچنے میں حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) بہت ہی جارحانہ انداز میں حالات سے نمٹنے کی کوشش کرتی رہی۔ بلکل ایک نا تجربے کار ٹیم کی طرح جو جارحانہ انداز اپنانے میں صرف اور صرف اپنے وکٹیں ہی گنواتی چلی جاتی ہے اور آخر کار شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ اسکے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی نے محتاط رویہ اپنائے رکھا اور کسی بھی طرح سے وکٹیں بچاتے ہوئے میچ کو آخری دن تک لے جانے میں کسی حد تک کامیاب رہی ہے، اسکا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا ہے کہ نااہلی کی تلوار نیام میں چلی گئی ہے اور جو ہونا تھا وہ ہوچکا، اگر ایسا ہے تو پھر واقعی یہ ایک سیاسی سازش تھی، لیکن ایسا بلکل نہیں ہے اب انصاف شروع ہوا ہے ۷۰ سالوں میں پہلی دفع تو یہ تلوار نیام سے باہر نکلی ہے اور اس تلوار کی پیاس اتنی جلدی تو بجھنے والی نہیں ہے۔ قابل ذکر جماعتوں میں ایم کیوایم کیساتھ جوکچھ ہوا ہے اس کا تذکرہ بھی کرتے چلتے ہیں۔ایک خاموش اور عام رائے کیمطابق میاں صاحب کی ہمیشہ سے کوشش تھی کہ کسی طرح سے سندھ کہ شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کی مقبولیت میں کمی لائی جائے اور اسکے لئے کئے جانے والے اقدامات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

آج ایم کیوایم ناصرف مائنس ون کرچکی بلکہ مختلف حصوں میں بٹ چکی ہے میاں صاحب کا دیرینہ خواب تکمیل کو پہنچ چکا ہے مگریہ کیسے خواب کی تکمیل ہوئی ہے کہ میاں صاحب خود کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ کسی کو مائنس کروانے کے جنون میں میاں صاحب خود باقاعدہ طور پر نااہل ہوچکے ہیں اور پاکستان کی سیاست سے ہمیشہ کیلئے مائنس ہوچکے ہیں۔ کیا یہ ایک لمحہ فکریہ نہیں ہے۔ وقت بہت بڑا معلم ہے اور سکھانے کیلئے وہ تمام حربے استعمال کرتا ہے جن کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ زیادہ گہرائی میں جانا ہمارے لئے ٹھیک نہیں ہے اور سمجھنے والوں کیلئے اتنا ہی لکھنا کافی ہے۔ بہر کیف تاحال ایم کیوایم مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوتی دیکھائی دے رہی ہے اگر یہ کہا جائے کہ مسلم لیگ (ن)کی طرح نا سہی مگر گزشتہ پانچ سال ایم کیو ایم کیلئے اچھے نہیں گزرے ہیں، گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ تیر ٹوٹ رہے ہیں، شیر پنجرے بدل رہے ہیں، پتنگوں کی ڈور ہاتھ بدل رہی ہیں، جماعتوں میں جماعتیں بن رہی ہیں، ان سارے حالات کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاسکتا ہے۔ پاکستا ن پچھلے ستر سالوں سے بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہا ہے مگر آج الحمدوللہ پاکستان اس راستے اور اس مقصد پر گامزن ہوتامحسوس کیا جا رہا ہے جس کیلئے ہمارے آباؤ اجداد نے لازوال قربانیاں دی تھیں۔

کراچی کی سیاست کا منظر نامہ پورے ملک کے سیاسی منظرنامے کو دھندلا کر رکھ دیتا ہے موجود صورتحال کودیکھ لیجئے، پہلے مسلم لیگ (ن) کے صدر جناب شہباز شریف صاحب نے ہنگامی دورے کئے اور انکے پیچھے پیچھے محترم جناب وزیر اعظم صاحب بھی کراچی کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے کراچی پہنچ رہے ہیں، میاں شہباز شریف تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ انہیں موقع ملا تو کراچی کو نیویارک بنادینگے۔ دوسری طرف ملک کی ایک انتہائی قابل قدر جماعت، جماعت اسلامی جو گزشتہ کئی سالوں سے کراچی کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا قلیدی کردار اداکرتی رہی ہے اور آج (۲۷اپریل ) بروز جمعہ ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔ اب جماعت اسلامی آنے والے انتخابات میں کہاں کھڑی ہوتی ہے ابھی فیصلہ کرنا مشکل دیکھائی دے رہا ہے۔
یوں تو پورا ملک ہی کسی نئی ترنگ میں نظر آرہا ہے لیکن کراچی اور سندھ کی سیاست میں آنے والے انتخابات کیا رنگ جمانے والے ہیں اس وقت تک واضح نہیں ہوسکے گا جب تک ایم کیوایم کے تمام دھڑے باقاعدہ طور پر اپنے الگ الگ امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کردیتے، کیونکہ امیدواروں کے ناموں کے اعلان کا مطلب یہ ہوگا کہ اب کوئی تیسری طاقت سندھ کی سیاست میں قدم جمانے کیلئے تیار ہوچکی ہے۔ پہلی طاقت پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری ایم کیوایم (تمام دھڑے)۔آج پاکستان بدل چکا ہے، قوم میں سیاسی شعور بیدار ہوتا دیکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین فیصلے ہورہے ہیں اور ان فیصلوں کو قوم تسلیم کررہی ہے، قوم بدعنوانوں اور ملک دشمنوں کو پہنچان رہی ہے، قوم کو سمجھ آرہا ہے ملک کو آمرانہ یا جمہوریت جیسے نظاموں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ ایسے لوگوں سے پہنچتا ہے جو ملک و قوم کو برباد کرنے کیلئے ایسے نظاموں کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسا بھی کئی بار ہوا جب ہمارے سیاستدانوں نے اس جمہوریت کو خطرے میں دھکیلنے کی بھرپور کوشش کی۔ یہاں سب ایک دوسرے کو ایک دوسرے کا ساتھی قرار دے رہے ہیں اور بھرپور تنقید کررہے ہیں۔

کراچی سے بہت تقریباً ٹارگیٹ کلنگ جیسا گھناؤنا کھیل ختم ہوچکا ہے، بھتہ خوروں کی پرچیاں بھی نہیں دیکھائی دے رہیں، لیکن کراچی ابھی تک تعفن زدہ سانس لے رہا ہے، پانی، بجلی، گیس، ہسپتالوں کی حالت زار، ہر ادارے کی زبوں حالی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کراچی کو کراچی بننے سے روکا جارہا ہے۔ آخر یہ سیاست دان کب اس خام خیالی سے باہر نکلینگے کہ پاکستان کی سیاست انکے خاندانوں کی میراث نہیں ہے، یا انکی الماریوں میں لٹکے ہوئے کلف زدہ کپڑے نہیں ہیں کہ جنہیں انکے بغیر کوئی استعمال نہیں کرسکتا، ملک کی سیاست انکے بغیر بھی چلے گی جیساکہ ان سے پہلے والوں کے بعد بھی چلی ہے۔ پاکستان کیسے کیسے بحرانوں سے نکلتا چلا جا رہا ہے۔

میڈیا کی آزادی سے دنیا کو کیا فائدے ہوئے اس بحث سے قطع نظر یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی عوام کو بہت ساری باتیں وضاحت کے ساتھ سمجھ آنا شروع ہوگئی ہیں۔ تعلیم کے بغیر ہی ایک سے بڑھ کر ایک تعلیم یافتہ ہو چکاہے۔ ہر فرد کا اپنا نقطہ نظر ہے اور موقع اور ضرورت کی مناسبت سے نظریات بھی پیش کرسکتا ہے، آج پاکستان کے شہری دوست اور دشمن ممالک کی فہرست بھی مرتب دے چکے ہیں، چین سے دوستی کی حدیں چھونے والوں کو یہ پاکستانی ہی آنے والے وقت میں کسی پیشگی خطرے کی بو سے بھی آگاہ کرتے سنائی دے رہے ہیں۔ اب صرف دیکھنا یہ ہے کہ ۲۰۱۸ کے انتخابات کا کیا نتیجہ عوام سناتے ہیں۔ شکاری نے شکار تو کر کے دے دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔

پاکستانی تھنک ٹینکوں کو چاہئے کہ وہ دنیا کو کسی ایسے نظام سے روشناس کروائیں جہاں امریت، جمہوریت اور خلافت کی خوبصورت آمیزش ہو اور جہاں انسانوں کو انسانیت کا حقیقی درس دیا جاتا ہو جہاں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو کہ یہ دنیا عارضی ٹھکانا ہے اور عارضی رہنے والے کیسے رہتے ہیں۔ اللہ پاکستان میں پروان چڑھنے والے اس قانون کی بالادستی کو دوام بخشے (آمین یا رب الالعالمین)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close