آس پاس

جموں میں مسلم دشمنی کی گھنگور گھٹائیں

ایم شفیع میر

انتہا پسندی کسی بھی قسم کی ہو وہ انسانیت کے لئے زہر قاتل ہوتی ہے، لیکن مذہب کے نام پر انتہا پسندی اور بھی خطرناک ہوتی ہے۔ مذہبی انتہا پسند ذہن کی دلیل نہیں گولی کی زبان سے بات کرتا ہے۔ تحمل، رواداری، مساوات جیسے سنہری اصول وہ اپنے جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ بھارت جو اپنے آپ کو سیکولر اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس کے سیکولرازم کا یہ حال ہے کہ بھارت میں ہندووں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کی جان و مال محفوظ ہی نہیں اور جمہورت کا پردہ اس وقت چاک ہو جاتا ہے جب انصاف کے خلاف احتجاج بلند کئے جائیں، جب قاتل، زانی، فاجراور درنددہ صفت انسانوں کو بجائے سزا ملنے کے انصاف کے تقاضے کئے جائیں۔

قابل رحم ہے کہ چند روز قابل جموں کے ہیرا نگر میں اسی نوعیت کا ایک احتجاج ہوا جس نے انسانیت کے نام پر وہ ساہ داغ لگا دیا جسے ہندوستان شائد ہی کبھی مٹا پائے۔ جموں میں مسلمانوں کے تئیں شدید اور انتہا درجے کی دشمنی کا رجحان جہاں مسلم قائدین کے لئے لمحہ ء فکریہ ہے وہیں سیکولر ہندوستان کے نام پر دھبہ ہے۔ مسلمانانِ جموں سنگھ پریوار کی جانب سے ڈھائے جا رہے ظلم و بربریت کا شکار دہائیوں سے ہوتے چلے آ رہے ہیں جس کی مثالیں ہمارے اطراف و اکناف میں بکھری پڑی ہوئی ہیں۔ کھٹوعہ کے گاؤں رسانہ میں ایک آٹھ سالہ معصوم بچی کی عصمت ریزی کے بعد اُس کا قتل کرنا بے شک مسلم دشمنی کا کوئی پہلا واقعہ نہیں لیکن آٹھ سالہ آصفہ کااغواکرنے کے بعد آٹھ روز تک یرغمال بنائے رکھنا اور اِن آٹھ روز میں اُس معصوم سی ننھی کلی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنا اور بعد میں معصوم ننھی آصفہ کا قتل کرنامسلم دشمنی کا وہ شرمناک اور انسانیت سوز قصہ ہے جو آئے روز انسانیت کے گالوں پر طمانچے ما ر رہا ہے۔ اس شرمناک اور انسانیت سوز واقعہ کو انجام دینے والاکلیدی ملزم جو کہ اُسی پولیس محکمہ سے تعلق رکھنے والا ایک سپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) دیپک کھجوریہ ہے جسے پولیس اپنے گھر سے باہر ڈھونڈ رہی تھے خیر اس کے پیچھے پولیس کی کیا مصلحت تھی وہ بھی ایک شرمناک کہانی ہے کیونکہ اس شرمناک اور انسانیت سوز واقعہ کو انجام دینے میں جس طرح سے پولیس نے اپنی مکار اور بیمار ذہنیت کا کردار نبھایا وہ محکمہ پولیس کیلئے نہایت ہی شرمناک اور ہتک آمیز ہے۔

جموں کی ایک نام نہاد انتہا پسندتنظیم ’’ہندوایکتا راشٹریہ منچ‘‘کا قومی پرچم لہراتے ہوئے آصفہ قتل کے کلیدی ملزم ایس پی اور دیپک کھجوریہ کے حق میں سراپا احتجاج ہونا جہاں ملک بھر کے لئے باعث بدنامی ہے وہیں قومی پرچم کی توہین ہے،ہندوستانی جمہوریت کی عصمت دری ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ایسے افراد کے خلاف سیکولرزم کے ٹھیکیدارو ں نے کسی بھی قسم کی کاروائی کرنے کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ ایک مجرم کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے قومی پرچم لہرانا جرم نہیں، کیا ایسے افراد کے خلاف کوئی ایکٹ نہیں۔ کیا ایسے افراد کے خلاف پبلک سیٹی ایکٹ نہیں لگنا چاہیے ؟لیکن کچھ نہیں ہوگاکیونکہ اس طرح کا احتجاج ایک منظم پلان کے تحت انجام دیا گیا۔ صاف طور سے ظاہر ہو رہا ہے کہ احتجاج کو انجام دینے کے پیچھے مخصوص نظریئے کی سیاست کار فرما ہے۔زعفرانیوں کا یہ رویہ آزادی ہند سے قبل بھی یہی تھا جبھی تو ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کا پہلے بٹوارہ ہوا اور بعد میں آزادی ملی، گوکہ مقصود آزادی تھی ہی نہیں بلکہ مقصود یہ تھا کہ اس ملک پر مخصوص مذہب کے ماننے والوں کا راج رہے لیکن مذہبی انتہا پسندوں کو ہمیشہ اپنی اس انا اور فریب کاریوں کی وجہ سے ہار کا سامنا رہا۔

یاد رہے خود کو سیکولر کہنے والی جماعت بھاجپا موجودہ دور میں بھی نفرتوں کے جو بیج بورہی ہے اس کی فصل آئے روز اتنی تن آوار اور توانا ہو تی چلی جا رہی ہے کہ بھارت ایک سیکولر جمہوری ملک کے بجائے نفرت، تشدد اور قتل وغارت کے ملک کے طور پر دنیا بھر میں جانا جا رہا ہے۔انصاف مخالف اس احتجاج میں جہاں بھاچپا لیڈران بھی شامل تھے وہیں پولیس نے بھی اس احتجاج کا حصہ بن کر محکمہ پولیس کو داغدار کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ ریاست میں محکمہ پولیس کا قیام عوامی تحفظ کے بجائے اب لٹیروں، وڈیروں اور انتہا پسندوں کی پشت پناہی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ پولیس محکمہ عوامی تحفظ کا کام انجام دینے کے بجائے آئے روز گھناونے اور شرمناک واقعات کو انجام دینے کا ایک محکمہ بن چکا ہے۔پولیس سربراہ ایس پی وید کو سیاست کرنے سے ہی فرصت نہیں اگر انہیں اپنے محکمہ کی عزت و قار کی کوئی فکر ہوتی تو ممکن نہیں کہ محکمہ پولیس کے اہلکارانصاف مخالف اس احتجاج کا حصہ بن کر پولیس محکمہ کے نام کی مٹی پلید کرتے۔پولیس کی جانب سے انتہا پسندی کو دوام بخشنے کا یہ شرمناک کھیل اس واقعہ کے شروعاتی عمل سے ہی کھیلا جا رہا ہے۔

جموں شہر میں بسنے والے مسلمان انتہا پسند مذہبی جنونیوں کا خاص نشانہ ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جس دن جموی مسلمانوں کیلئے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے خطرے کی گھنٹی نہیں بجتی ہو،مذہب کے نام پر قتل وغارت نہ ہوتی ہو،یہاں تک کہ وقتاً فوقتاً دینی مدارس اور مساجد بھی انتہا پسندوں کے نشانے پر رہی اورموجودہ حالات کودیکھتے ہوئے آئندہ کیلئے بھی اس طرح کے واقعات ہونے کا خدشہ صاف طور دکھائی دے رہا ہے۔ انتہا پسندوں نے مسلمانوں کااِ س شہر جموں میں جینا محال کردیا گیا ہے۔

آصفہ قتل کیس معاملہ نے ایسے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ۔۔کیا وطن عزیز میں انسانیت دفن ہو چکی ہے ؟؟کیا ہندوستان اب ریپستان بن گیا ہے ؟کیااس جمہوری ملک میں قتل و غارت جائز قرار دے دی گئی ہے؟ کیا بھارتی حکومت مذہبی انتہا پسند جنونیوں کے ہاتھوں اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ مذہب کے نام پر کوئی بھی ہجوم کی شکل میں مسلمانوں کا قتل عام کرے اور وہ خاموش تماشائی بنی رہے؟مسلمانوں کے خلاف پے در پے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ ہندوستان کا سیکولرازم سوائے ڈھونگ کے کچھ نہیں، یہاں جمہوریت کے لبادے میں فسطائت پروان چڑھائی جارہی ہے۔دیش بھگتی کے نام پر مسلمانوں کیخلاف جارحانہ روش اپنائی گئی ہے۔

جمہوری ملک کے ٹھیکیدارو یاد رکھنا!!!مسلم دشمنی میں ہندوستان کے آگے بڑھتے قدم ایک دن ملک کودنیا میں تنہا کردیں گے۔مذہبی انتہا پسندوں کی کاروائیاں نفرت کو جنم دے رہی ہیں اور نفرت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ ایک ایسی آگ ہے جو جب پھیلتی تو اپنے پرائے سب کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔سیکولرزم کے ٹھیکیدار حکمرانوں کو اکھنڈ بھارت اور مہا بھارت کے مصنوعی خوابوں میں مدہوشی سے اب باہر آکر حقیقی دنیا کا سامنا کرنا چاہیے۔ ہندو مسلم سکھ اتحاد کے نعرے کو عملی جامعہ پہنانا ہو گا۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم اور تشدد کہیں بھارت کو دنیا کی نظر میں نہ گرا دے اور شائننگ ہندوستان ڈارک ہندوستان نہ بن جائے۔

یہاں ملک اور ریاست کی گودی میڈیا سے بھی ایک گزارش ہے کہ وہ ملک کی مصنوعی ترقی دکھانے کیساتھ ملک کے اندر وہ حقیقی سرجری بھی منظر عام پرلائیں جس میں انسانیت لہولہان اور پریشان ہے، انسانیت کے اُٹھتے جنازے جاری و ساری ہیں۔ ’’ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اور لاڈلی بیٹی جیسی اسکیموں پر قصیدہ بازی کرنے کے بجائے ملک و ریاست میں بیٹیوں کیسا تھ پیش آرہی درندگی کو بھی سامنے لانا چاہیے۔ خواتین بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ کیا بیتتی ہے؟ یہ المیے دکھانا بھی میڈیا کا فرض اور ذمہ داری ہے۔ صرف مسلم کش فسادات دیکھانے سے سیکولر بھارت کی جگ ہنسائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close