آس پاس

جنگ کی جنونیت انسانیت کی تباہی کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے

عبدالعزیز

جنگ وجدل ، جھگڑالڑائی توکوئی بھی پرامن شہری پسندنہیں کرتاخواہ کسی ملک وقوم سے تعلق رکھتاہولیکن جولوگ معمولی قسم کے ہوتے ہیںجنہیں دنیاکی معمولی منفعت اورمفادمطلوب ہوتاہے وہ جنگ وجدل کی بات کرتے ہیںاورانہیں لڑائی اورجھگڑے سے یک گونہ دلچسپی ہوتی ہے انسانیت کی تباہی اوربربادی ان کے لئے کوئی معنی نہیںرکھتا۔
پاکستان اورہندوستان کی موجودہ کشمکش نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ جنوبی وسط ایشیاکے لئے انتہائی باعث تشویش ہے کیونکہ اگردونوں ملکوں کے جنونیت پسندعناصرغالب آگئے توآج جوسرجیکل حملہ کی بات ہے یادہشت گردوں کی دہشت گردی کامعاملہ ہے ایک بڑی اوربھیانک جنگ کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے جس میں چین ، روس اورامریکہ جیسی طاقتیں اپنے مفاداورفائدے کے لئے جلتی آگ میں تیل چھڑک سکتے ہیں۔
جولوگ مودی حکومت کے جنونی وزراء اورحکمراںجماعت کے جنونی اورجنگ پسندافرادکومحتاط رہنے اورشانت رہنے کامشورہ دے رہے ہیں وہ دونوں ملکوں کے حق میں بات کررہے ہیں، انسانیت کے فائدہ اورمفادمیں بات کررہے ہیں۔
پاکستان ہندوستان جیساجمہوری اورمضبوط ملک نہیں ہے بلکہ ایک غیرجمہوری ملک ہے جس میں نیم فوجی اورنیم جمہوری حکومت ہے اس کے باوجودوہاں بھی اپوزیشن پارٹیوں کے ایسے لوگ ہیں جواپنی حکومت اورفوج پریہ الزام عائد کررہے ہیں کہ سرحدپاردہشت گردافرادکوحکومت لگام دینے سے قاصرہے جس کی وجہ سے پاکستان دنیابھرمیں بدنامی مول رہاہے اورالگ تھلگ ہورہاہے ۔ ہندوستان کی اپوزیشن پارٹیاں موجودہ حکمراںجماعت کی اشتعال انگیزبیانات کوتشویشناک نگاہ سے دیکھ رہی ہیں جس کی وجہ سے اسے قابومیں رہنے کی تلقین ونصیحت کررہی ہیں۔
کانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی نے مودی پرالزام عائدکیاہے کہ وہ فوجیوں کے خون اورقربانی کی دلالی کررہے ہیںکیونکہ فوجی اپنی جان جوکھم میں ڈال کرسرحدپرقربانی دے رہے ہیں اوراپنے ملک کی حفاظت کررہے ہیںاورشان بڑھارہے ہیںاوردوسری طرف مودی اوران کے لوگ پنجاب اوراترپردیش کے الیکشن کوجیتنے کے لئے اشتعال انگیزی سے کام لے رہے ہیںکم وبیش ساری اپوزیشن پارٹیاںبھارتیہ جنتاپارٹی اورآرایس ایس کے جنونیوں پریہی الزام عائدکررہی ہیں کہ مودی اوران کاپریوارسیاسی فائدے کے لئے پاکستان کواشتعال دلارہاہے کہ وہ جنگ برپاکرے ۔ مودی نے یقینااپنے لوگوں کوجنگ کی بات کرنے سے روکنے کی بات کہی ہے مگران کے وزیردفاع نے جس طرح کی اشتعال انگیزی کی بات کی اوراترپردیش میں جس طرح پوسٹرس بی جے پی کی طرف سے لگائے گئے ہیں اس سے توصاف پتہ چلتاہے کہ بی جے پی کے لئے ہندوستان پاکستان کی جنگ الیکشن کاتحفہ ثابت ہوگامگریہ بھاجپایاآرایس ایس کی زبردست نادانی ہے جوجنگ پرایک دوسرے کوڈھکیل رہے ہیں۔
دونوں ملکوںکی میڈیامیں بھی جنگ برپاہے جوانتہائی افسوسناک اورشرمناک ہے ، میڈیاکوتووہ بات کرنی چاہئے جس سے جنگ کے بجائے صلح جوئی اورامن وامان کاماحول پیداہو۔ پاکستان اورہندوستان دونوں ملکوں کی میڈیاغیرذمہ دارانہ کرداراداکررہی ہے ۔چنداخبارات اورمیڈیاکاکچھ حصہ دونوں ملکوں میں جنگ وجدل کے خلاف آوازاُٹھارہے ہیںجوقابل قدراورقابل ستائش ہے ۔ ابھی دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات بحال ہیں۔ اس تعلق کومزیدبہتربنانے کی کوشش کی جائے اوربااثرمیڈیااوربااثرافراددونوں ملکوں میں آگے آئیںاورپہل کریں۔دونوں ملکوں کے حکمرانوں پربات چیت پرزوردیں۔معاملہ افہام وتفہیم اوربات چیت سے ہی بہترہوسکتاہے ، جنگ وجدل کی باتوں سے مسئلہ بگڑسکتاہے ۔ بگاڑکے پیچھے اپنے اوربیگانے دونوں ہیں ان پرنکیل کسنے کی ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close