آس پاس

ریاست کے سیاسی کاروباری!

شیخ خالد زاہد

ایک طرف توپاکستان ہمیشہ سے ہی معاشی بحرانوں کی آماجگاہ رہا ہے مگر دوسری طرف اس ملک کے معزز سیاستدانوں کے کارخانے منافع بخش ہونے کیساتھ ساتھ ترقی کی منزلیں بھی طے کرتے چلے جاتے ہیں ۔ ملک کی سب سے بڑی اسٹیل مل دیوالیہ ہوچکی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کے لوہے کے کارخانے منافع پر منافع بنائے جا رہے ہیں، پاکستان کی ہوائی سروس کی پروازیں ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بنی ہوئی ہیں مگر نجی ائر لائنز منافع بنا رہی ہیں اسی طرح اور بہت سے ادارے ہیں جو ملکی تحویل میں ہونے کی وجہ سے خسارے کا شکار ہوتے ہی چلے جا رہے ہیں جبکہ یہی ادارے جو نجی ملکیت میں کام کررہے ہیں منافع کے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ریاست کو ہمیشہ ہی نقصان کے سودوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔قائدِ اعظم محمد علی جناح کی کہی ہوئی وہ ایک بات کے جس نے چائے یا کافی پینی ہے وہ اپنے گھر سے پی کر آئے رہے رہے کر کانوں میں گونجتی رہتی ہے اور یہ گونج قائد کی گرجدارآواز میں گونجتی ہے۔

پاکستان کا سیاسی مزاج اور ماحول دنیا سے نرالاہی نہیں ، منفرد بھی ہے کیونکہ جانکاری سے معلوم یہ ہوا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایوانوں میں پہنچنے والے لوگ ایوانوں میں موجود ہوکر بھی کاروبار سے وابسطہ ہوتے ہوں۔ وہ اپنے کاروبار کو کسی اور کو سونپ کر اپنے ملک اور قوم کی خدمت کا حلف اٹھاتے ہیں ۔ عوام کو یہ کیوں نہیں نظر آتا ہے کہ جن کی چاہت میں دیوانے ہوئے جاتے ہیں وہ دراصل زر سے محبت کرنے والے لوگ ہیں انہیں لوگو سے کیا لینا دینا، یہ تویکطرفہ محبت ہے اور یکطرفہ محبت کو بطور سزا سمجھا جاتا ہے تو پھر سزا برداشت کرتے رہے ہو اور آنے والی نسلوں کو منتقل کرتے رہو کیونکہ جن سے محبت کی خاطر اپنا خون تک بہانے سے گریز نہیں کرتے ان لوگوں کی زندگیاں اپنے سے محبت کرنے والوں کی طرح ہیں۔ آخر ان لوگوں کو یہ کیوں نہیں دیکھائی دیتا کہ انکے بچوں کیلئے کیا مراعت ہیں اور انکے سیاسی محبتوں کے بچوں کی کیا مراعت ہیں کیا ان سیاسی امراء کے بچوں نے کبھی ننگے پاؤں زمین پررکھے ہیں یا برسات کے موسم میں کسی ٹپکتے ہوئے کمرے میں رات گزاری ہے۔ کیا کبھی کسی وقت کا کھانا میسر نا ہونے پر بھوک کی شدت کو محسوس کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اگر ایک بار ایوانوں کا رخ کر لیتے ہیں تو پلٹ کر دیکھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور یہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی پلٹ کر دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑتے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ سیاسی خاندان ہیں، جو نسل در نسل منتقلی کے ساتھ اپنے پنچے سیاسی ایوانوں میں گاڑے ہوئے ہیں ۔ جماعتیں منشور پر چلتی ہیں جبکہ یہاں تو خاندانی نظام چلتا ہے۔

اعلی عدلیہ کسی سپاہی کی مانند مختلف محاذوں پر بر سرپیکار ہے اور جو ملک میں حقیقی معنوں میں انصاف کو بحال کرنے کیلئے پرعزم دیکھائی دے رہی ہیں اور ہمارے جج صاحبان مسلسل ان سیاسی خاندانوں کی زد میں ہیں۔ انصاف کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے، قدرت نے جن سے یہ کام لینا ہوتا ہے ان لوگوں میں تحمل اور برداشت کوٹ کوٹ کر بھرا جاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معززین اتنا سب کچھ فطری صلاحیتوں کے بغیر برداشت کرنا ممکن ہی نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ائین بنانا ایوان کا کام ہے تو عدالتیں ان قوانین کو جو ایوان بناتا ہے عدالتوں کا کام انکے مطابق فیصلے سناناہوتا ہے۔ اب اس قانون کا جواز بھی فوت ہوجاتا ہے کہ ایوان موروثی سیاست کے خاتمے کیلئے کسی قسم کی قانون سازی کرے گی۔

پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جو موروثی سیاست کی بھرپور علم بردار ہیں گزشتہ دنوں اس بات کی توثیق کرتی دیکھائی دیں جوکہ ہم سب نے دیکھا بھی اور سنا بھی۔ موروثی سیاست کا مطلب یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ ملک میں یہ سیاسی ہنر عام نہیں ہے اگر سیاسی جماعتوں کا پنڈورا بکس کھولا جائے گا توچند ایک کو چھوڑ کر تقریباً سیاسی جماعتیں موروثی سیاست کرتی دیکھائی دینگی۔ یہ عجیب لوگ ہیں ایک طرف تو موروثی سیاست پر تنقید بھی کرتے ہیں اور دوسری طرف جلسوں میں اپنے موروثیت کا اعلان بھی کرتے سنائی دیتے ہیں۔

اعلی عدلیہ اور سیاسی کاروبارکرنے والوں کے درمیان آہستہ آہستہ خلیج بڑھتی سجھائی بھی دے رہی اور دیکھائی بھی دے رہی ہے۔ عدلیہ اور فوج کئی بار اس بات کو باور کرا چکے ہیں وہ جمہوریت کے راستے میں نہیں آنا چاہتے اور نا ہی جمہوریت کی ریل گاڑی کو پٹری سے اترتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس بات کو حتمی نہیں سمجھنا چاہئے جوکہ ہمارے کچھ سیاستدان سمجھ بیٹھے ہیں ۔ کیونکہ اداروں کے درمیان تصادم بھی ہوتا دیکھائی دے رہا ہے اور خلیج پیدا ہوتی بھی دیکھائی دے رہی ہے اب ایسی صورتحال میں ملک کی باگ ڈور تو کسی نا کسی کو سنبھالنی ہوتی ہے۔

ہم بطور عوام اس بات کو کیوں محسوس نہیں کر رہے کہ ملک میں جن کی حکومت ہے وہ خود ہی سراپا احتجاج بن کر گھوم ہی نہیں رہے بلکہ پے در پے اعلی ترین اداروں کو تنقید و تحضیک کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ آفرین ہے ان لوگوں پر جو اپنے ایسے اداروں پر اٹھنے والی انگلیوں کو برداشت کیسے کرتے ہیں۔

یہ بات ہماری سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ یہ لوگ ملک میں ناتو جمہوریت کو پنپنے دینا چاہتے ہیں اور نا ہی مارشل لاء کے حمائتی ہیں یہ ملک میں اپنا اپنا خاندانی نظام قائم کرنے کی جستجو میں ہیں اور انہیں ہماری مدد صرف اپنے نام کے ایک ووٹ کیلئے درکار ہے۔ ہم جب تک اپنے اوپر لادے ہوئے لسانیت اور فرقہ پرستی کے خول سے باہر نہیں نکلیینگے اپنی آنکھوں پر سے شخصیت پرستی کی عینک نہیں اتارینگے ہم صحیح فیصلہ کر ہی نہیں پائینگے اگر واقعی آپکو پاکستان سے محبت ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپکے خلوص میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہے تو پھر دل و دماغ کو پاکستان کی بقاء کیلئے اور اپنی فلاح کیلئے صحیح فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ یہ فیصلے کا سال ہے اور ہماری نسلوں کی سلامتی کا سوال ہے۔ اب بھی اگر ان سیاسی کاروباریوں سے نجات حاصل نا کی تو پھر یونہی زینب رندتی رہے گی، یونہی نقیب و انتظار قتل ہوتے رہینگے، یونہی قانون قاتل بنا رہے گا اور ہمارے گھروں میں یونہی صفے ماتم بچھتی رہیگی اور ان پر بیٹھ کر ہماری مائیں بہنیں اور بچے ہماری خون آلود لاشوں پر سینہ کوبی کرتی رہینگی، تماشہ بنتی رہینگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close