سندھ کی تعلیم اور کاپی کلچر

سرفراز احمد بھنگر

ڈھرکی، ضلع گھوٹکی ،سندھ

   سندھ کو ویسے تو اللہ پاک نے ہر چیز سے نوازا ہے تیل ہو یا قدرتی گیس کی بات ہو یا ہو کوئلے کی بات کیا چیز نہیں ھے جو سندھ کو اللہ پاک نے عطا نا کی ہو اگر نہیں ھے تو ادھر کے حکمرانوں کو عقل عطا نہیں کی ھے۔ اتنی قیمتی وسائل ہونے کے باوجود سندھ آج بھی ترقی نہیں کر رہا کیونکہ اس کی اصل وجہ یہاں کا تعلیمی نظام ہے. ایک تو یہاں تعلیم کا کوئی نظام نہیں ہے پرائمری سے لے کر انٹر تک جتنے بھی سرکاری اسکول یا کالجز ہیں اس میں سے زیادہ تر یہاں کے وڈیروں کی اوطاقیں بنیں ہوئیں ہیں اگر کچھ اسکول یا کالج کھلے ہیں تو وہاں پر استاد نہیں ہے. اگر استاد ہیں تو بلڈنگ نہیں ہے مطلب کوئی نا کوئی مسئلہ ضرور ہے ۔ اگر پڑھائی کے معیا رکی بات کی جائے تو باقی صوبوں کے نسبت وہ بھی بہت کم ہے. افسوس کی بات تو یہ ھے کہ بلوچستان صوبہ بھی تعلیمی معیار میں سندھ سے آگے جا رھا ھے. ایک طرف تو ہم ہمارا تعلیمی نظٓام بہت خراب ہے اوپر سے یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ کاپی کلچر کا ہے جس نے اب ایک ناسور کی صورت اختیار کر لی ہے. اب تو اس ناسور سے چھٹکارا پانا مشکل ہی نہیں تقریبا ناممکن نظر آرہا ھے کیوں کہ اب یہ بوٹی مافیہ ایک گینگ کی صورت اختیار کر چکی ھے اور ہر پیپر کے ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں ایک پیپر کے دو سے تین تک ایڈوانس بکنگ کی جاتی ہے جس میں وہ حل شدہ پیپر اس شاگرد کو پہنچاتے ہیں جس میں کالج یا اسکول کا پورا اسٹاف چپڑاسی سے لیکر ایکسٹرنل انویجیلیٹر تک ملوث ہوتے ہیں. یہ مافیہ اب اتنی طاقتور ہوچکی ہے کہ سوالیہ پیپر تقسیم ہونے سے پہلے ان بوٹی مافیہ تک پھنچ جاتا ہے اور سرکار ان کے آگے اتنی بے بس ہے کہ تعلیم کا وزیر یہ کہتا ہے کہ ہم مجبور ہیں کہ ہم کاپی نہیں روک سکتے. بھائی جب آپ کو ایک منصب دیا گیا ہےاور آپ اس پر پورا نہیں اترسکتے ہیں یا وہ کام نھیں کر سکتےہیں تو چھوڑ دیں خدارا ہمارے نسلیں تباھ ہو رہیں. یہ سب کچھ میڈیا ہر پیپر میں براہ راست یہ کاپی کے مناظر دکھا رہا ہوتا ہےکہ کس طرح سرعام کاپی کی جاتی ہے پوری دنیا دیکھ رہی ہوتی لیکن نہیں دیکھتے تو حکام بالا نھیں دیکھتے ادھر کاپی کلچر اب اتنا سنگین مسئلہ بن چکا ھے. لگتا ہے اب اس ناسور سے چھٹکارا حاصل کرنامشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن سا ہے اور سرکار بھی کیوں چاھے گی کہ یہ کاپی کلچر ختم ہو اگر یہ ختم ہو گیا تو کالجوں سے نکلنے والے لڑکے ان کے گریبانوں تک نا پہنچ جائیں جب کاپی نہیں ہوگی تو کالجز سے نکلنے والے ہوشیار ذھین اور اصل تعلیم یافتہ گریجویٹ نکلیں گے جو یہ حکام نہیں چاھتے ہیں کہ یہاں کا کوئی بھی لڑکا اصل تعلیم یافتہ ہو . خدارا آپ کے بچے تو بیرون ملکوں میں جا کے پڑھتے ہیں لیکن غریب عوام کے بیٹوں سے تعلیم کا زیور نا چھینیں. خدارا کچھ سنجیدہ ہو کر اس ناسور کو حل کرنے کی کوشش کریں. ہم اکسویں صدی میں ہیں جہاں دوسروے ملکوں کے بچے ٹیبلٹ اور سمارٹ فون پے تعلیم حاصل کر رھے ہیں اور ہمیں تعلیم کے اصل زیور سے محروم کیا جا راھے. خدارا اس ناسور کو ختم کریں ورنا روز محشر آُپ سے اس کا سوال کیا جائے گا تو ادھر کیا جواب دیں گے۔

مندرجہ بالا مضمون سندھ کے ایک نوجوان کا ذاتی احساس ہے.  ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں.



⋆ سرفراز احمد بھنگر

مضامین ڈیسک

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

شاعر، ادیب، ناقد، محقق ،معلم: پروفیسر نازؔ قادری

نازقادری کو ان کی کتابوں پر بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں نے انعامات دیے ہیں ۔ انہیں آل انڈیا میر اکادمی لکھنؤ کے امتیاز میر ایوارڈ (1993)، آئی آئی ایف ایس نئی دہلی کے وجے شری ایوارڈ ( 2006) آئی آئی ایف ایس کے شکشا رتن ایوارڈ (2008)یو نی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ایوارڈ آف امیرٹس فیلو شپ (2010)، بہار اردو اکادمی کے وقاری حسن عسکری ایوارڈ (2013)سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔