آس پاس

سنگین مذاق

امتیازعلی شاکر

آج جس مذاق کی بات کی جائے گی وہ کوئی مزاحیہ لطیفہ یاجگت نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی تقدیربدلنے کے دعوئداروں کے آئینی،قانونی اورسیاسی دائو،پیچ کے گردگھومتاہے۔اکثرمذاق لوگوں کو ہنسانے کے کام آتاہے پرآج ایسے مذاق کے متعلق بات ہوگی جومسکرانے کی بجائے رولادینے والاہے۔ جمعرات کوسپریم کورٹ آف پاکستان میں الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت نااہل شخص کو پارٹی صدر بننے کی اجازت دینے والی ترمیم کیخلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

یاد رہے کہ ان درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ کررہاہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پارلیمانی کارروائی کے ریکارڈ کے حوالے سے اٹارنی جنرل آفس کو ہدایت کرتے ہوئے ریماکس دیئے کہ متعلقہ ریکارڈ باضابطہ طور پر عدالت میں جمع کروایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ایسی کوئی عدالتی مثال سامنے لائی جائے جس میں عدالت نے مخصوص شخص کیلئے بنایا گیاقانون کالعدم قرار دیا ہو۔عدالتی آبزرویشنز کی بنیاد پر قانون کیسے کالعدم قرار دیاجاسکتاہے؟ عدلیہ ریاست کا اہم ترین ستون ہے۔ مسلم لیگ ن کے آئین سے معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی کاصدرکس قدر طاقت ور ہوتا ہے۔تحریک انصاف ودیگر کے وکیل ڈاکٹربابراعوان نے موقف اختیار کیا کہ انتخابات کا مرحلہ کاغذات نامزدگی سے جڑا ہے۔ جس کیلئے امیدوار کا آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا اُترنا ضروری ہے، جسٹس اعجازالحسن نے ان سے کہاکہ لازمی نہیں ہے کہ پارٹی کا سربراہ خود امیدوار بھی ہو۔ پارٹی توالیکشن لڑے بغیربھی چلائی جاسکتی ہے، بتایا جائے کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ آئین سے کس طرح متصادم ہے؟ اورصرف آرٹیکل 203 کو خلاف آئین کیسے کہا جا سکتا ہے؟کیا عدالت نے کبھی کسی نئے قانون میں پرانی شقیں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے ؟

چیف جسٹس نے کہاکہ موجودہ قانون کے مطابق بھی کوئی نااہل شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا۔بابراعوان نے عدالت کوبتایا کہ پارلیمانی جمہوریت میں پارٹی صدر کا کردار بہت اہم ہے،وہی سارے فیصلے کرتاہے۔ وہی جماعت کی رجسٹریشن اور انٹرا پارٹی الیکشن کی تفصیلات بھی فراہم کرتا ہے، جس پرجسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں مختلف قوانین کو اکٹھا کیا گیا ہے۔وکیل نے کہاکہ انتخابی اصلاحات ایکٹ میں شق 203 کو پانامہ فیصلے کے بعد شامل کیا گیا ہے جس پرچیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا پانامہ کیس کے فیصلے سے پہلے والے ایکٹ کا اصل مسودہ موجود ہے۔ بابراعوان کاکہناتھاکہ اصل مسودے میں شق 203 شامل کر دی گئی تھی۔ یہاں یہ بھی ہوا تھا کہ متعلقہ قانون سے مسلمان کی تعریف نکالنے پر ملک میں شور مچ گیا تھا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ جو بل کمیٹی میں پیش ہوا تھا وہی پارلیمنٹ نے منظور کیا۔ فاضل وکیل نے کہاکہ آئین بننے کے بعد سے کوئی ایسا منفرد قانون کبھی نہیں بنا،میری یادداشت میں ایسا کوئی عدالتی فیصلہ موجود نہیں، حد تویہ ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کابینہ میں ردو بدل کا فیصلہ ہوا، جبکہ موجودہ وزیر اعظم کا فیصلہ بھی نواز شریف نے کیاہے، اس طرح پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی وزیراعظم پارٹی سربراہ نے بنایا تھا۔ جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہاکہ پارٹی صدر کا کردار حکومت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔اورپارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے۔ جسٹس اعجازالحسن نے کہاکہ سینیٹ کے ٹکٹ کا فیصلہ بھی پارٹی صدر ہی کرتاہے۔بابراعوان نے کہاکہ ن لیگ کے آئین میں تمام اختیارات پارٹی صدر کے پاس ہیں۔

جس پرچیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا پارٹی سربراہ جیل سے پارٹی کے امور چلا سکتا ہے؟ کیونکہ جیل میں تو قیدی کا باہر کوئی رابطہ نہیں ہوتا، ہم اس کیس کے فیصلے میں صرف نااہلی نہیں بلکہ دیگر معاملات کو مدنظر رکھیں گے۔ ڈاکٹربابراعوان نے کہاکہ تمام ادارے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدلیہ ریاست کا اہم ترین ستون ہے۔ کیاآپ کے مطابق عدلیہ پر تنقید ریاست کے ساتھ وفاداری ہوتی ہے؟ ‘‘قارئین محترم فیصلہ توعدالت نے کرناہے وہ بھی آئین وقانون کے مطابق،عوام کے سمجھنے کیلئے یہ کافی ہے کہ ایک شخص بدعنوان ثابت ہونے پرعدالت سے نااہل توہوسکتاہے۔اس کی اسمبلی رکنیت ہی نہیں بلکہ وزارت عظمیٰ تک کابھی خاتمہ ہوسکتاپراس بدعنوان شخص سے عوام کی جان چھڑوانے والی کوئی عدالت یاقانون پاکستان میں موجود نہیں ہے۔کیساسنگین مذاق ہے کہ ایک شخص بدعنوان ہو،ملک کی سب سے بڑی عدالت اسے نااہل قرارادے چکی ہو،الیکشن کمیشن اس شخص کے نااہل ہونے پراس کی اسمبلی رکنیت ختم کرچکاہوپھر بھی اس نااہل شخص کے نام سے سیاسی جماعت اسی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ رہے؟سینیٹ اورقومی اسمبلی میں بیٹھے سینکڑوں عوامی نمائندے ملک قوم کی نمائندگی کرنے کی بجائے صرف ایک نااہل شخص کوپارٹی سربراہ بنانے کیلئے قانون سازی کرسکتے ہیں۔

اس سے بڑااورکیامذاق ہوگاکہ جونااہل شخص خود الیکشن  لڑنے کاحق نہیں رکھتاوہ پورے ملک میں الیکشن لڑنے والے اہل عوامی نمائندے چننے کاحق رکھتاہے۔ جس ایوان کاممبر بننے کااہل نہیں اسی ایوان کے وزیراعظم کاانتخاب اس کی مرضی سے ہوتاہے۔ راقم آج قوم کے سامنے بہت اہم سوال رکھناچاہتاہے کہ جس شخص کی نااہلی کانوٹیفکیشن الیکشن کمیشن جاری کرچکاہو،جو شخص الیکشن کمیشن کے اندرکاغذات نامزدگی داخل کروانے کیلئے اہل نہیں اسی نااہل شخص کے نام اسی الیکشن کمیشن میں کوئی سیاسی جماعت کیسے رجسٹرڈ رہ سکتی ہے؟ چیف جسٹس صاحب نے فاضل وکیل صاحب سے ایسی کوئی عدالتی مثالی پیش کرنے کاکہاجس میں کبھی اس طرح کے قانون کو کالعدم قرار دیاگیاہوتووکیل صاحب ایسانہ کرپائے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مقدم ہے کہ عدلیہ آئین کے مطابق فیصلے کرنے کی پابندہے پرعوام سوچ رہے ہیں کہ میاں نوازشریف کی عدالتی نااہلی سے قبل ایسی کوئی عدالتی مثال نہیں ملتی جس میں کسی منتخب وزیراعظم کوبغیرکسی جرم میں سزاسنائے اقامہ کی بنیادپرنااہل کردیاگیاہو۔کاش کہ فاضل وکیل صاحب عدالت میں کہتے کہ پہلے کبھی عدالت نے کسی وزیراعظم کواقامہ کی بنیاد پرنااہل بھی نہیں کیا۔ہرکام میں کسی نہ کسی کوپہل توکرنی پڑتی ہے۔کیااس بنیاد پرمیاں نوازشریف کی نااہلی کافیصلہ واپس ہوسکتاہے کہ اس سے قبل کبھی عدالت نے کسی منتخب وزیراعظم کواقامہ کی بنیادپرنااہل نہیں کیا؟ایک اوربہت قابل غور بات یہ رہی کہ محترم جسٹس صاحب نے سوال اُٹھایاکہ جیل میں تو قیدی کا باہر کوئی رابطہ نہیں ہوتا توکیا کوئی پارٹی سربراہ جیل میں بیٹھ کربھی پارٹی کے امور چلاسکتاہے؟

اس بات سے یوں محسوس ہوتاہے کہ میاں نوازشریف جیل جاسکتے ہیں، ایساہوتاہے توراقم کے خیال میں میاں نوازشریف جیل میں بیٹھ کرمزید جوش وجذبہ کے ساتھ پارٹی امور چلائیں گے۔یہ جوبات ہے ناکہ جیل میں تو قیدی کا باہر کوئی رابطہ نہیں ہوتا یہ بات کمزورعوام کیلئے کہی جائے توبالکل درست ہے جبکہ میاں نوازشریف جیسے طاقتورسیاستدان کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔دنیاجانتی ہے کہ سیاستدان جیل میں جاتے ہی بیمارہوجاتے ہیں اور کسی امیرقیدی کوبیماری کی حالت میں ڈاکٹرز سے دوررکھناکسی قانون یاعدالت کے بس میں نہیں۔ کسی قیدی کے وکلاء اسے جیل میں مل سکتے ہیں اورپھرجب ملک کاوزیراعظم میاں نوازشریف کامنتخب کردہ ہوگاتوپھران کیلئے جیل بھی کوئی سخت قیدخانہ کیسے ہوسکتی ہے؟

بابراعوان نے عدالت میں کہاکہ یہاں یہ بھی ہوا تھا کہ متعلقہ قانون سے مسلمان کی تعریف نکالنے پر ملک میں شور مچ گیا تھا‘‘وکیل صاحب کااشارہ ختم نبوتﷺ کے حلف نامے میں تبدیلی، آرٹیکل سیون بی اورسیون سی کی الیکشن ایکٹ سے منسوخی کے بعد مسلمانوں کے احتجاج کی طرف ہے۔غورفکرکے بعد قوم اس نتیجے پرہی پہنچ سکتی ہے کہ ملک کے ادارے سپریم ہیں عوام نہیں !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close