آس پاس

شہدا پاکستان کی صف میں ایک اور اضافہ!

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تاریخ ساز قیادت میں پاکستان دو قومی نظریہ کے تحت لاکھوں شہدا پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے معرض وجود میں آیا تھا۔ دو قومی نظریہ کو جاری و ساری رکھنا تمام پاکستانیوں کی قومی وجود کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ اس تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے ملک کی منظم ترین جماعت اسلامی نے سابقہ مشرقی پاکستان کو بچانے کے لیے بھارت کی بنائی ہوئی مکتی باہنی اور بھارتی فوج سے لڑنے کے البدر اور الشمس تنظیمیں بنائیں تھیں جنہوں نے پاکستان کو بچانے کے لیے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ان تنظیموں کے کارکنوں کی بہادری کی تعریف مشرقی پاکستان میں لڑنے والی پاکستانی فوج کے کئی سینئر آفیسرز نے کی بھی تھی جو تاریخ کا حصہ ہے۔ان تنظیموں کے دس ہزار بنگالی کارکنوں نے دو قومی نظریہ کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ پاکستان کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ مکتی باہنی اور بھارتی فوج کے خلاف لڑائی لڑی تھی۔دو قومی نظریہ کو جمات اسلامی نے بنگلہ دیش میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل جماعت اسلامی کے رہنماؤں عبدالقادر ملا،علی احسان مجاہد اور مسلم لیگ کے ایک ممبر صلاح الدین قادر کو بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد نے نام نہاد عالمی جنگی ٹریبیونل نے ناکافی عدالتی کاروائی کرکے پھانسی پر چڑھایا تھا ۔اب ایک اور شہدا پاکستان کی صف میں اضافہ کر دیا ہے اور مطیع الراحمان نظامی امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش۷۳؍ سالہ بوڑھے کو پھانسی پر چڑھا دیا ہے ۔اس نام نہاد عالمی جنگی ٹریبیونل کو بین الاقوامی قانون دانوں نے غیر معاری قرار دیا ہے۔ دنیا کی ہیومین رائٹس تنظیموں نے بھی اس ٹرینیونل کی جانب داری کا اعلان کیا ہے۔اس کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کا بھی دنیا میں بھرم قائم ہے ۔مگر عالمی دہشت گرد اسرائیل کی طرح بنگلہ دیش کی قاتل وزیر اعظم حسینہ واجد نے بھی اپنے باپ ( مرحوم) شیخ مجیب الرحمان وزیر اعظم بنگلہ دیش کا بھی خیال نہ رکھا اور دو قومی نظریہ کی محافظ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں کو ایک ایک کر کے پھانسیوں پر چڑھا رہی ہے۔یہ معاہدہ 1974ء بنگلہ دیش کے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمان، بھارت کی وزیر اعظم اندا گاندھی اور پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو،یعنی تین ملکوں کے سربراؤں کے درمیان ہوا تھا۔ اس میں طے ہوا تھا کہ جنگ کے دوران ہونے والے واقعات کے بارے کوئی بھی فریق کاروائی نہیں کریگا۔ ساری تلخیاں بھلا دی گئیں تھیں اور اس معاہدے کے تحت پاکستان نے بنگلہ دیش کی حکومت بھی تسلیم کیا تھا اور شیخ مجیب الرحمان لاہور کی تاریخی اسلامی سربراہ کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ مگر بنگلہ دیش کی قاتل حکمران حسینہ واجد نے پینتالیس سال بعد بین الاقوامی معاہدے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ،ایک نام نہاد عالمی جنگی ٹریبیونل قائم کیا اور نامکمل عدالتی کاروائی کے تحت پاکستان سے محبت کرنے والے اور دو قومی نظریہ کے حفاظت کرے والو لوگوں کو ایک ایک کر کے پھانسیوں پر چڑھا رہی ہے۔صاحبو! اگر قانونی بات کی جائے تو اس میں پاکستان کی حکومت سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ جس وقت اس نام نہاد عالمی جنگی ٹریبیونل نے جب پہلے شخص کو پھانسی دی گئی تھی تو اس وقت اس معاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے بنگلہ دیش سے معاملہ اُٹھانا چاہے تھا۔ نواز حکومت نے اس وقت کہا تھا کہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے۔ جبکہ نام نہاد ٹربیونل کے فیصلے کے مندرجات میں تقریبا پانچ سو بار پاکستان کا ذکر کیا گیا ہے تو کیسے یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے تو سو فی صد پاکستان کا معاملہ ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے رہنماؤں نے نواز شریف سے ملاقاتیں کر کے اس پر بات کی تھی مگر نواز شریف صاحب نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اس پر حسینہ واجد کو شہ ملی اور ایک ایک کرکے دو قومی نظریہ کے محافظوں کر تختہ دار پرچڑھایا جارہا ہے ۔ ہزاروں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے جس میں خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں۔اب حکومت نے قومی اور پنجاب اسمبلی میں مزاحمتی قراردادیں پاس کی ہیں۔ صاحبو! یہ صرف جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے لوگوں کو سزا نہیں دے جا رہی یہ تو پاکستان کے دو قومی نظریہ کو سزا دی جا رہی ہے۔کیا ہم نے پاکستان کے دو قومی نظریہ کو اس سزا سے بچانہ نہیں ہے اگر بچانہ ہے تو پاکستان کی حکومت کو فوراً اس معاہدے کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے جانا چاہیے۔احتجاج کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے سفیر کو پاکستان بدر کرنا چاہیے۔او آئی سی کا اجلاس بلا کر اس میں معاملے کو رکھنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اُٹھانا چاہیے۔ اسلامی ملکوں میں پاکستان کے سفیروں کو اس بات کی ہدایت دینی چاہیے کہ وہ بنگلہ دیش کے ظامانہ اقدام کی مزامت کریں۔اگر ایسانہ کیاگیا تو پاکستان کی جڑیں کم زور ہوں گی ۔ صاحبو! ہم پاکستان کی نظریاتی قوتوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ بھی اس نازک موقعہ پر آگے آئیں اور پاکستان کے دو قومی نظریہ کو بچائیں ۔ بھارتی حکومت جس کا آئین سیکولر ہے مودی حکومت کے انحراف پر وہاں کے دانشورں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے افراد نے احتجاج کرتے ہوئے ایک ایک کر کے بھارت کے قومی ایوارڈ واپس کر دیے تھے۔ کیا پاکستان میں ایسے کوئی با ضمیر لوگ نہیں ہیں جو احتجاج کریں۔ عاصمہ جہانگیرنے بھی کہا ہے کہ مطیع الرحمان نظامی کے مقدمے میں انصاف نہیں ہوا۔ ہم خاص کر سینئر صحافی حامد میر صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی طرف سے دیے گئے ایوارڈ کو پا کستان کے دو قومی نظریہ پر قربان کر دی اور اس سے ان کے وقار اور عزت میں اضافہ ہو گا۔یہاں تک جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی دو قومی نظریہ کی حفاظت میں قربان ہونے کا معاملہ ہے تو جماعت اسلامی ایک منظم نظریاتی جماعت ہے پھانسیاں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ بنگلہ دیش کے لاکھوں لوگ ہر وقت اس کے لیے تیار ہیں۔ان مظالم سے ان شاء اللہ ان کو مزید تقویت ملے گی اور ایک دن بنگلہ دیش واپس پھر پاکستان میں شامل ہو سکتا ہے۔ جہاں تک شہید مطیع الرحمان نظامی کا تعلق ہے تو وہ دفعہ قومی اسمبلی کے رکن بنگلہ دیش حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے قانون کے مطابق صدر سے معافی کے درخواست نہیں کی۔ ان کی نماز جنازہ اسکے بیٹے بیرسٹر نے پڑھائی۔ ان کی نماز غائبانہ پاکستان اور دنیا بھر میں ادا کی گئی ہے۔ ان کے ساتھ ظلم کی وجہ سے بنگلہ دیش میں ہڑتال کی جا رہی ہے مظاہرے ہو رہے بنگلہ دیش میں کرفیو کا ساماں ہے۔ ہمارے نزدیک شہدا پاکستان کی صف میں ایک اور اضافہ ہوا ہے ۔ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی شہادت قبول فرمائے آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

میر افسر امان

کنوینرکالمسٹ کونسل آف پاکستان

متعلقہ

Close