آس پاس

عزت نفس

محمد ریاض علیمی

زینب کے قاتل کی گرفتاری کے بعد اس کے والد اور مختلف حلقوں سے اس بات کا مطالبہ ہے کہ مجرم کو سرِ عام پھانسی دی جائے۔ یہاں تک کہ چیف جسٹس نے اسی خواہش کا اظہا رکیا لیکن وہ ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ گئے کہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر دیگر معاملات کے لیے قانون بن سکتا ہے تو سرعام پھانسی کے لیے کیوں نہیں بن سکتا۔۔؟ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کہا کہ اگر ان کا بس چلتا تو وہ زینب کیس کے ملزم کو سرِعام پھانسی دیتے۔اس کے بعد ملک میں سرِ عام پھانسی کی نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سرِ عام پھانسی کا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ن لیگ کی حکومت کے دوران ایک ایسا قانون بنایا گیا تھا جس کے تحت کسی مجرم کو سرعام پھانسی کی سزا دی جا سکتی تھی۔نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں فوری انصاف کی فراہمی کے لیے خصوصی عدالتیں بنائی گئیں جسے سپیڈی ٹرائل کورٹ ایکٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان عدالتوں کے قیام کے بعد ان خصوصی عدالتوں نے سزائے موت کی متعدد سزائیں سنائیں۔

 اکتوبر 1991میں نواز شریف نے بحیثیت وزیرِ عظم اعلان کیا تھا کہ پرتشدد جرائم کی روک تھام کے لیے یہ سزائیں سرِعام دی جائیں گی، لیکن1992کے شروع میں چیف جسٹس محمد افضل نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سرعام پھانسی دینے کے فیصلے کو ایک عبوری حکم نامے کے ذریعے روک دیا تھا۔1994ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس شفیع الرحمن، جسٹس سعد سعود جان، جسٹس عبدالقدیر چودھری اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل لارجر بنچ بھی سرعام پھانسیوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس میں قراردیا تھا کہ کسی مجرم کو سرعام پھانسی دینا آئین کے آرٹیکل 14(الف) کے منافی ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت ہرانسان کی حرمت اوروقار کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس طرح 1994میں عدالت کی جانب سے سرعام پھانسی دینے کو آئین پاکستان اور حقوق انسانی کے عالمی اعلانیہ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر ہمیشہ کے لیے پابندی عائد کر دی گئی۔ عدالت کے مطابق سرِعام پھانسی دینا آئین پاکستان میں بیان کیے گئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور آئین پاکستان ہر شہری کے انسانی وقار کے حق کو مانتا ہے چاہے وہ کتنا بڑا مجرم ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد بے نظیر بھٹو کی حکومت نے 1994میں بطور پالیسی اعلان کر دیا تھا کہ کوئی بھی پھانسی سرِعام نہیں دی جائے گی۔تقریبا دو دہائیاں گزرنے والی ہیں، اب تک کسی مجرم کو سرِ عام پھانسی نہیں دی گئی۔

قصور میں پیش آنے والے زینب کے واقعہ کے بعد دوبارہ اس بات کا پرزور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ مجرم کو سرعام پھانسی دی جائے لیکن اس سلسلے میں پاکستان کا آئین، فوجداری قانون اور سپریم کورٹ کا فیصلہ آڑے آرہا ہے جس کے مطابق کسی بھی مجرم کو سر عام پھانسی نہیں دی جاسکتی۔ مختلف حلقوں کی جانب سے اس بات کا مطالبہ بھی کیا گیا کہ سزا کے قانون میں ترمیم کرکے سر عام پھانسی کو بھی قانون کا حصہ بنایا جائے۔ اس پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے۱۴ سال سے کم عمر بچوں سے زیادتی کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دینے کی سفارش کی اور کہا کہ سرعام پھانسی کے لیے تعزیرات پاکستان میں ترمیم کی جائے۔ لیکن بعض ’’ دانشوروں ‘‘ نے اس سفارش کی مخالفت کی۔ فرحت اللہ بابر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سرعام پھانسی دینے کے تصور سے خوف آتا ہے، سابق آمر جنرل ضیاالحق نے تین افراد کو لاہور میں سرعام پھانسی پر لٹکایا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر ہمیں ضیا کے دور میں واپس نہیں جانا چاہیے۔اسی طرح قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے بھی اس قانون میں ترمیم کی مخالفت کی۔ اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہا جارہاہے کہ اس سے جرائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ درحقیقت یہ بیانیہ، سوچ اور فلسفہ مکمل طور پر غلط ہے۔

اگر پاکستان کے علاوہ دیگر اسلامی و غیر اسلامی ممالک میں قائم امن و امان کی صورتحال پر نظر دوڑائی جائے تو یہ حقیقت روشن ہوتی ہے کہ وہاں قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں موجود ہیں۔ دور نہ جائیں قریبی ممالک ایران اور سعودی عرب ہی کو لے لیں تو وہاں مجرموں کو سرِ عام پھانسی دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ بات تو اٹل ہے کہ جب تک مجرموں کو عبرتناک سزا نہیں دی جائے گی اس وقت تک میں ملک میں امن و مان کا قیام محض خواب ہی ہوسکتا ہے۔ امن و امان، خوشحالی او ر سکون اسی وقت میسر آسکے گا جب سکون برباد کرنے والوں کو برباد نہ کردیا جائے۔ ہمارے بچے اور ہماری خواتین کی عزتیں اسی وقت محفوظ تصور کی جاسکیں گی جب ان کی عزتیں تار تار کرنے والوں کو تار تار نہ کردیا جائے۔

ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اول تو مجرم کا جرم ہی ثابت نہیں ہوپاتا۔ عدالت میں اس کی سماعتیں ہی ہوتی رہتی ہیں اور ہر سماعت پر ایک نئی کمیٹی یا جے آئی ٹی بنادی جاتی ہے اور یونہی وقت گزرتا رہتا ہے۔ بالفرض اگر جرم ثابت ہوبھی جاتا ہے یا مجرم اپنے جرم کا اقرار بھی کرلیتا ہے تو پھر بھی اسے سزا سنانے میں تساہل سے کام لیاجاتا ہے۔ مزید یہ کہ سزا سنانے کے بعد بھی اس پر عملد ر آمد میں تاخیر کا کوئی اندازہ نہیں لگایاجاسکتا۔ یہاں تک کہ مجرم کو سنائی گئی سزا پر عملدرآمد ہوتے ہوتے کئی سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ اگر سست عدالتی نظام کے تناظر میں دیکھا جائے تو زینب قتل کیس کو خوامخواہ طول دے کر الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر زینب کاقاتل پکڑا جاچکا ہے تو اسے سزا کیوں نہیں دی جارہی۔۔۔؟ اگر اس کے ساتھ پورا گروپ ملوث ہے تو اسے پکڑنے میں تیزی کیوں نہیں دکھائی جارہی۔۔۔؟

اگر زینب کے قتل میں کوئی گروپ ملوث نہیں ہے تو اس سفاک مجرم کو سزا دینے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ سر عام پھانسی دینے کے قانون میں پڑنے کے بجائے فوری طور پر سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے سانحات میں کمی واقع ہوسکے۔ بد قسمتی سے زینب قتل کے بعد بھی روزانہ کی بنیاد پر متعدد واقعات سامنے آرہے ہیں جن میں کمسن بچوں اور بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان واقعات میں اضافے کی وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مجرم کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جارہا۔ بدقسمتی سے ہماری ذہنی اپروچ کا یہ حال ہوچکا ہے کہ ملک و قوم کی عزت اور وقار کی فکر کے بجائے مجرموں کی عزتِ نفس مجروح ہونے خدشہ رہتا ہے۔

ہمارا نظام اور ہمارا قانون مجرموں کو سر عام پھانسی دینے سے اس لیے منع کرتا ہے کہ اس سے مجرم کی عزت نفس مجروح ہو گی اور انسانی حقوق کی حق تلفی ہوگی۔ یہ ہمارے دانشوروں کی دانشوری ہے۔ ہم ان سانحات سے چھٹکارا پانے کے لیے مجرموں کو سزا دینے کے بجائے عجیب و غریب نظریات لانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ ہم صرف اسی میں پڑے ہوئے ہیں کہ بچوں کو اسکولوں میں نصاب کے طور پر جنسی تعلیم دی جائے تاکہ بچے اپنی حفاظت خود کرسکیں۔ حالانکہ یہ ایک خام خیالی ہے۔ اگر واقعی درندگی کے واقعات سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو سنجیدگی کے ساتھ فوری طور پر مجرموں کو لٹکانا ہوگا۔ ایران اور سعودی عرب میں جنسی زیادتی کے کوئی واقعات نہیں ہوتے اور نہ ہی وہاں جنسی تعلیم نصاب میں شامل ہے۔ بس یہ ضرور ہے کہ وہ مجرموں کی عزت اور ان کے وقار کا خیال کرنے کے بجائے اپنے ملک و قوم کا وقار باقی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر پاکستان میں ہر کوئی اپنے مفاد کی خاطر اسمبلی سے بل پاس کروا سکتا ہے تو ملک کی بچیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے بھی قانون میں فی الفورترمیم ہونی چاہیے۔ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اسمبلی میں نااہل شخص کو پارٹی صدر بنانے یا اسے دوبارہ وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے اہل بنانے کے لیے قانون میں ترمیم کے لیے بل پاس کیا جاسکتا ہے لیکن سفاک مجرموں کو پھانسی دینے کے قانون میں ترمیم کرنے میں انہیں خوف آتا ہے۔ بہرحال ایسی نازک ترین صورتحال میں ہمارے پاس دو آپشنز باقی رہتے ہیں۔ ہم یا تو ملک و قوم کے وقار کی فکر کرتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہچانے کی سعی کریں۔ یا پھر مجرموں کی عزت اور ان کے وقار کا خیال رکھتے ہوئے ملک و قوم کی عزت اور غیرت کو داؤ پر لگادیں اور اپنی بیٹیوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close