آس پاس

فتح کا جشن بن جائیں گی یہ پھانسیاں

بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر مولانامطیع الرحمن نظامی کو 11مئی  2016 کوتختہ دار کے حوالے کردیاگیا۔بنگلہ دیش میں اس قسم کی یہ چوتھی پھانسی ہے جس میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے اہم عہدیداران کو پھانسی کی سزاسنائی گئی ہے۔اس سے قبل دسمبر 2013 میں عبدالقادر ملااورپھر اپریل 2015 میں محمدقمرالزماں پھرنومبر 2015 علی احسن محمد مجاہد کو بھی پھانسی دی جاچکی ہے۔یہ سب حضرات بنگلہ دیشی حکومتوں میں وزیر رہ چکے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے مطیع الرحمن نظامی صاحب کی پھانسی اس زمرے میں سب سے اہم قرار دی جارہی ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ نظامی صاحب بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے صدر رہے ہیںاورتین مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن اوردومرتبہ وزیر رہ چکے ہیں۔بنگلہ دیش جماعت اسلامی پر نظر رکھنے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ حالیہ ایام میںبنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی جتنی بھی طاقت اورحیثیت ہے وہ دراصل مطیع الرحمن نظامی صاحب کی ہی رہین منت رہی ہے۔مطیع الرحمن نظامی ؒ11مارچ 1943 کو سانتھیہ ضلع کے پابناعلاقے میں واقع مون موتھ پور گاوں میں پیداہوئے تھے۔ ان کے والد لطف الرحمن خان ایک متوسط طبقے کے انسان تھے ۔انھوںنے ابتدائی تعلیم گاو¿ں کے مدرسے سے ہی مکمل کرلی تھی اور1967 میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری لی۔ وہ 1960 سے ہی سیاست سے وابستہ ہوگئے تھے اورجماعت اسلامی کی مشرقی پاکستان کی شاخ سے وابستہ تھے اوراس زمانے میں جماعت اسلامی کی طلبہ ونگ چھاتر سنگھ کے قائد تھے ۔اس تنظیم کو آج کل اسلامک چھاتر شویرکہاجاتاہے۔ سقوط ڈھاکہ کے نتیجے میں شیخ بنگلہ دیش کے قیام کے فورابعد وہاں کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمن نے جماعت اسلامی پر سیاسی سرگرمیوںمیں حصہ لینے پر پابندی لگادی تھی جو 1978 تک جاری رہی۔ لیکن 1977 میں ضیاءالرحمن کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ پابندی ختم کردی گئی جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی سیاسی پارٹی بن گئی اورنظامی صاحب چھاترشویر کے صدر بن گئے ۔1991 میں وہ اپنے آبائی وطن پابناسے پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے اور1994 تک جماعت کے پارلیمانی پارٹی کے سربراہ رہے۔ وہ 2000 سے ہی امیر بنگلہ دیش جماعت اسلامی رہے۔ 2001 سے 2003 تک بنگلہ دیش کے وزیر زراعت اورپھر 2006 تک وزیر صنعت رہے۔2008 کا الیکشن وہ ہار گئے تھے اور2008 میں شیخ حسینہ واجد کی عوامی پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد وہ کسی نہ کسی حیثیت سے معتوب رہے۔ ان پر کرپشن کے جھوٹے الزاماات بھی لگائے جاتے رہے جنھیں کبھی ثابت نہیں کیاجاسکا۔ لیکن ان پر سب سے سنگین الزام 1971 میں قیام بنگلہ دیش کے بعد بنگلہ دیش کی مخالفت کرنے، قتل، زنا اوربغاوت کے لگائے گئے جو دستاویزی بنیادوں پر کبھی ثابت نہیں ہوپائے۔ عدالتوں میں ان کے وکیل کو بحث کرنے کے مواقع تک نہیں دیے گئے۔فرد جرم کی کاپی تک دینے سے گریز کیا گیااورمطلق العنان حکومت کی گونگی بہری عدالت نے حکمرانوں کے اشاروں پر ان کی منشاءکے مطابق فیصلے کردیے۔ حالانکہ یہ فیصلے خود بنگلہ دیش میں قائم کیے گئے انٹرنیشنل کرائم ٹیوبنل کی منشاوموقف کے بھی خلاف تھے اوران 1974 میں ہوئے ہندوستان ،پاکستان بنگلہ دیش کے معاہدے کی بھی صریح خلاف ورزی ہے لیکن بنگلہ دیش میں اسلام پسندوں کے بڑھتے ہوئے غلبے اورسرکار پر قابض ہوجانے کے خدشے کو فروکرنے کے لیے وہاں کی جماعت اسلامی کی اعلیٰ اورقابل ترین قیادت کو نشانہ بناکر اس تحریک کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔حالانکہ مطیع الرحمن نظامی صاحب کی 73 سالہ زندگی پر اگر طائرانہ نظر بھی ڈال لی جائے تو واضح ہوجاتاہے کہ وہ بنگلہ دیش میں رفاہ عامہ اورسماجی بہبود کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ انھوں نے پورے بنگلہ دیش میں جدید ترین ٹکنالوجی سے مزین اعلیٰ ترین اسپتال، تعلیمی ادارے اوراعلیٰ تکنیکی و تعلیمی اداروں کا جال بچھادیاتھا۔ وہ ایک بالغ نظر سلجھے ہوئے صلح پسند اورخیر پسند رہنماتھے جن کی قیادت میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی عوام کے دلوں پر حکمرانی کرنے لگی تھی۔ یہی وہ سب سے بڑاخطرہ تھاجس نے بنگلہ دیش کے غیر اسلامی الحادی، باطل پرست ظالمانہ حکمرانوں کو لرزہ براندام کردیاتھا اورقانون کی آڑ لے کر وہ ان خطرات سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔ مطیع الرحمن صاحب کی پھانسی اسی ناپاک حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مطیع الرحمن صاحب پر لگائے گئے الزامات کس قدر لچر، بے بنیاد اورجھوٹے ہیں، اس کا اندازہ کرنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ ان کی نماز جنازہ میں بنگلہ دیش کے لاکھوں افراد کا ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر نے شرکت کی۔ نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ ترکی، پاکستان، کویت برطانیہ سمیت کئی ممالک میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ ترکی نے تو اپناسفیر بھی واپس بلالیا اورپاکستانی حکومت نے اقوام متحدہ میں اس معاملے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کو دیگر مسلم ممالک میں اٹھانے کا عندیہ بھی ظاہر کیاہے۔ کویت میں عوامی سطح پر یہ مطالبہ کیاگیاہے کہ کویت بھی اپنے سفیر کو واپس بلائے۔دنیابھر کے مسلم ممالک میں اس پھانسی پر ناخوشی کا اظہار کیاہے۔ ترکی کے صدر طیب رجب اردغان نے ان کی پھانسی کے اگلے ہی دن ایک انتہائی جذباتی تقریرمیں یوروپی ممالک کی خاموشی پر سخت الفاظ میں سرزنش کی ہے اوراسے حقوق انسانی خلاف ورزی کا بدترین واقعہ قرار دیاہے۔ ساری دنیاسے آئے اس ردعمل کی روشنی میں مطیع الرحمن صاحب کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتاہے کہ اتنے عرصے رکن پارلیمنٹ اوروزیر رہنے کے باوجود وہ بنگلہ دیش کے ایک چھوٹے سے جھونپڑے نمامکان میں ہی رہتے تھے ۔انھوںنے اپنی زندگی میں عیش وعشرت اورتعیش کو حرام قرار دے رکھاتھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے کچھ ارکان پر اہانت رسول کا معاملہ صرف اس لیے درج کیاگیاانھوںنے مولانامطیع الرحمن نظامی صاحب کو اپنے زمانے کے جیتے جاگتے نبی کا پرتو قرار دیاتھا۔یہ واقعہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ مولانامطیع الرحمن نظامی کی ذاتی زندگی کس قدر مبنی بر صالحت تھی۔
اس پھانسی کو اگر صرف بنگلہ دیش کے پس منظر سے الگ کرکے عالمی پس منظر میں بھی دیکھنے کی کوشش کی جائے تو یہ واضح ہوجاتاہے کہ اس وقت ساری دنیامیں اسلام پسندوں کی سونامی ایک انڈر کرنٹ کی حیثیت سے موجودہے۔ حالانکہ مغربی ذرائع ابلاغ اسلام کے نام پر صرف داعش ،القاعدہ، طالبان، بوکوحرام اورالشباب جیسی تنظیموں کو ہی پیش کرتے ہیں۔اسلامی تحریک کے نام پر بے قصوروں کے قتل عام کے ویڈیوجاری کرنا،انسانی ذبیحے کے دلدوز واقعات پیش کرنا،نوخیز بچیوں کی عصمت دری کے مناظر دکھانا اورہر مسلم ملک میں بپاخانہ جنگی، جنگ وجدال اورقتال کی خبریں پیش کرناہی اس میڈیاکا طرہ امتیاز رہ گیاہے لیکن اس کے پس پشت جو اصل اسلامی تحریکیں دنیامیں جاری ہیں ،ان کا نام لیوااس میڈیامیں کوئی نہیں ہے۔ مثال کے طورپر تیونس کی النہضہ، مصر کی اخوان المسلمین، فلسطین کی حماس، شام کی احرار الشام جیسی تنظیموں کانام دنیانے ابھی تک سنابھی نہیں ہے ،جب کہ صورت واقعہ یہ ہے کہ فی زمانہ اسلام پسندوں کی یہ ایسی تنظیمیں ہیں جنھوںنے گزشتہ صدی میں سماجی بہبود کے اعلیٰ ترین معیارات قائم کیے ہیں اوراپنی خدمات کے ذریعے اپنے ملک کے لوگوں کے دلوں میں گھر بنایاہے جس کے نتیجے میں عصر حاضر میں مروج نظام جمہوریت کے ذریعے ہی یہ پارٹیاں اپنے ملکوں میں برسراقتدار آئی ہیں مگر داخلی شورشوں کے ذریعے یاغیر ملکی مداخلت کے ذریعے ان حکومتوں کوناکام بنانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔اس کے مظاہر فلسطین میں غزہ کے 2007 سے جاری محاصرے کی صورت میں ،مصرمیں فوجی طاقت کے ذریعے جمہوری طور پر منتخب صدر کو بے دخل کیے جانے کی شکل میں،تیونس میں حزب اختلاف کی تحریک کے ذریعے اورلیبیا میں خانہ جنگی کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ان طریقوں سے ان تحریکوں کو ناکام کرنے کی کوشش مسلسل جاری ہے۔ مگر ان کوششوں کے دوران بھی مغربی ذرائع ابلاغ ان تنظیموں کا نام تک لیناگوارہ نہیں کرتے۔ اس وقت دنیاکی سب سے بڑی اسلام پسند حکومت ترکی میں طیب رجب اردغان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ہے جو کسی صورت اپنی طاقت کے توازن کو جمہوری طریقے سے ہی قائم رکھے ہوئے ہے۔ لیکن روز افزوں بم دھماکوں کے ذریعے دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے اورعالمی اقتصادی فورم میں ترکی کو کمزور کرنے کی کوششوں کے ذریعے اسلام پسندوں کی اس حکومت کو بھی روز بروز کمزورکرنے کوشش کی جارہی ہے۔ یہی حال شام کا بھی ہے۔ بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ شام میں جاری خانہ جنگی اورقتل وغارت گری محض اس لیے نہیں ہے کہ وہاں بہت سے متحارب گروپ موجود ہیں بلکہ اس لیے ہے کہ شام کا سب سے طاقت ور سیاسی گروپ احرارالشام ہے جو تقریبا40 فیصد شام پر آج بھی قابض ہے۔ شام کے متحارب گروپوں میں فری سیرین آرمی، جبہة النصرہ، القاعدہ اورداعش وحزب اللہ کا نام تو ساری دنیاجانتی ہے لیکن احرار کے نام سے کوئی واقف نہیں ہے جب کہ شام کا زیادہ حصہ انھیں احرار کے قبضے میں ہے اوریہ محسوس کیاجاتاہے کہ آج بھی اگر شام میں بے خوف اور منصفانہ انتخابات عمل میں آجائے تو احرار حکومت سازی کے قریب پہنچ جائے گااوریہ احرار دراصل وہی گروپ ہے جس کا نظریاتی تعلق اخوان اورالنہضہ اورحماس جیسی پارٹیوں سے ہے۔ دنیاکو یہ سمجھ لیناچاہیے کہ آج اگر 6سال سے لگاتار باشندگان شام پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیاہے تو اس کی وجہ بشارالاسد کی قوت نہیں ہے بلکہ احرار کا خوف ہے ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے پڑوس میں واقع مالدیپ اورافریقی ممالک گیمبیا، الجزائر، سوڈان وغیرہ ممالک میں بھی اسلام پسندوں کی ہی حکومت ہے۔ علاوہ ازیں یوروپ میں بھی تیزی سے بڑھتے ہوئے قبول اسلام کے واقعات نے اسلاموفوبیاکی تحریکوں کو مہمیز دے رکھی ہے۔ یہی وہ عالمی حالات ہیں جن سے خوف زدہ ہوکر بنگلہ دیش کی حکومت کو بھی ہندوستان سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے ذریعے یہ شہہ دی جارہی ہے کہ وہ جمہوریت اورسیکولرزم کے نام پر اسلام پسندوں کی طاقت کو توڑ دے اوراس غرض سے باطل طاقتوں کے ذریعے ہی بنائے گئے حقوق انسانی کے ضابطوں اورانصاف کے پیمانوں کو توڑاجارہاہے اور ہر قسم کی ہٹ دھرمی اورظلم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کے نیکوکار مخلصین اورانسانیت کے مسیحاوں کو تختہ دار کی زینت بنایاجارہاہے۔ لیکن ان انتہائی طاقت ور عالمی حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ نور خداہمیشہ ہی کفر کی حرکت پہ خندہ زن رہاہے۔ ہمارے زمانے میں تختہ دار پر کھڑے ہوئے 73 سالہ مطیع الرحمن نظامی کے چہرے پر پھیلاہوا پرسکون تبسم اس کامیابی کی بشارت دیتاہے جس کی جانب اہل اسلام کا یہ قافلہ رواں دواں ہے۔ مگر حیرت، افسوس اورتشویش صرف اس بات پر ہوتی ہے کہ جہاں ساری دنیامیں تحریکات اسلامی شہید حسن البنا اورسید قطب شہید علیہ الرحمہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی آواز پر لبیک کہہ رہی ہیں اوراپنے مرکز کی طرف لوٹ رہی ہیں اورکامیابیوں سے ہمکنار ہورہی ہیں وہاں برصغیر میں اس نظریے کی تحریکات اس قدر خاموش، بے عمل اورپست حوصلگی کا شکار ہیں کہ ان کا زمینی کیڈر ان سے اقدام کی اجازت چاہتاہے اوریہ انھیں نماز جنازہ تک کی اجازت نہیں دیتیں۔ حالانکہ ہمارے خطے کے عوام جن روزمرہ زمینی  مسائل سے دوچار ہیں وہ اس بات کے شدید متقاضی ہیں کہ اسلام کے نام لیوا اوراسلام پر جان نچھاورکرنے کا دعویٰ کرنے والے افراد عام انسانی فلاح وبہبود اورظلم کے خاتمے کے لیے کمر بستہ ہوکر میدان عمل میں آئیں اوراپنی خدمات کے ذریعے اسلام کا حقیقی تعارف پیش کرے۔ لیکن مصلحت کوشیاں اورخوف زدگی نے پیروں میں زنجیریں ڈال رکھیں ہیں۔ مطیع الرحمن نظامی صاحب کو سب سے بڑاخراج عقیدت یہ ہے کہ ان کے پڑوسی ممالک میں عرصے سے جاری اسلامی تحریکیں ان سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے قول وفعل کے تضاد سے باہر آئیں اورزخمی انسانیت کو مرہم اسلام فراہم کریں۔ مطیع الرحمن نظامی زندہ باد وپائندہ باد۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ

Close