آس پاس

 نواز شریف: کرپشن کی ہوش ربا داستان

 وقاص چودھری

نواز شریف پر بطور  وزیر خزانہ پنجاب اور بعد میں بطور  وزیراعلی پنجاب اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات لگے ۔ خاص کر 1988/89 کی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ جس میں نواز شریف پر قومی خزانے کو کم از کم 35 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگا۔.

اپنی وزارت عظمی کے پہلے دور میں نواز شریف پر بینکوں کے کئی سو ارب روپے کی غیر قانونی قرضے جاری کرنے ( کم از کم 675 ارب روپے )، کواپریٹیو سوسائیٹیز سکینڈل، گندم فراڈ، موٹر وے فراڈ اور پیلی ٹیکسی سکیم میں فراڈ کرنے کے الزامات لگے ۔

ان تمام معاملات میں نواز شریف پر کل ملا کر کم از کم 1000 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کے الزامات ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت برطرف کی تھی ۔.

نواز شریف پر نجکاری کے عمل میں سب سے زیادہ کرپشن کرنے کے الزامات ہیں ۔ بعض لوگوں کی رائے کے مطابق نواز شریف کئی اہم ادارے کوڑیوں کے مول بیچ کر خود ہی خرید لیے اور اس سلسلے میں دوسرے لوگوں کو بطور فرنٹ مین استعمال کیا ۔ ان لوگوں میں میاں محمد منشاء کا نام سر فہرست ہے ۔

نواز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے سرکاری رقم اپنی ذاتی کاموں پر خرچ کی مثلاً رمضان شوگر مل اور اپنی رائونڈ کی رہائش گاہ کے لیے اربوں روپوں سے سڑکوں کی تعمیروغیرہ

۔1997 میں نواز شریف نے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس فریز کر کے لوگوں کو کم از کم 11 ارب ڈالر کا نقصان دیا ۔ یہ اتنا بڑا نقصان تھا جسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

سستی روٹی سکیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سکیم میں قومی خزانے کو کم از کم 40 ارب روپے کا نقصان دیا گیا۔

اسی طرح لیپ ٹاپ سکیم اور میٹرو بس پراجیکٹ میں بھی نواز شریف پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں ۔ صرف میٹرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پراجیکٹ میں نواز اینڈ کمپنی نے کم از کم 30 ارب روپے کی کرپشن کی اور منصوبہ پر لگائی گئی اصل رقم کے اعداد و شمار چھپانے کے لیے ریکارڈ تک جلا دیا گیا۔۔۔

پاکستان میں کام کرنے والی آئی پی پیز کو نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی 400 ارب روپے منتقل کیے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل مالک میاں محمد منشاء نہیں بلکہ نواز شریف خود ہے ۔

اس کے علاوہ نواز شریف پر پاکستان سے باہر غیر قانونی جائداد رکھنے اوراربوں روپے کے منی لانڈرنگ کے الزامات بھی ہیں ۔

نواز شریف پر مختلف قومی اداروں میں غیر قانونی بھرتیا ں کرنے کا الزام ہے جن میں ایف آئی اے اور پی آئی اے شامل ہیں۔ انکے علاوہ پنجاب بھر میں اہم پوسٹوں پر اپنے پسندیدہ بندے تعئنات کروائے ۔

نواز شریف نے مہنگی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی کم کروائی تاکہ وہ اور اس کے ساتھی مہنگی ترین گاڑیاں آسانی سے درآمد کر سکیں ۔

نواز شریف اپنی دولت کو چھپاتے ہیں ۔ مثلاً لندن میں ان کا خفیہ کاروبار اور جائداد ، کینیا میں شوگر ملز وغیرہ۔ انکے علاوہ ان کا انڈیا کے ساتھ چینی کا بہت بڑا کاروبار بھی ہے ۔ نواز شریف کے پاکستان سے باہر کئی مشکوک اکاؤنٹس ہیں جن میں اربوں ڈالر پڑے ہیں ۔

نواز شیریف کو غیر قانونی ہیلی کاپٹر رکھنے کے الزام میں سزا بھی سنائی جا چکی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف مختلف عدالتوں اور نیب میں کئی طرح کے کیسز زیر سماعت ہیں۔

نوازشریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اپنے رشتے اور قربی ساتھیوں میں اچھے اچھے عہدے بانٹ دیتے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی میرٹ نہیں دیکھا جاتا۔ مثلاً اس وقت نواز شریف کے خاندان کا کوئی فرد ایسا نہیں جس کے پاس کوئی بہت بڑا عہدہ نہ ہو اور وہ سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کی تنخواہ اور مراعات نہ لے رہا ہو۔

نواز شریف جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن وہ خود آمریت کی پیدوار ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کو جنرل ضیاء کی فوجی حکومت سیاست میں لائی اور اس کو یہاں تک پہنچانے میں مدد دی ۔ اس سلسلے میں آئی جے آئی والا معاملہ کافی مشہور ہے جب آئی ایس آئی نے بے نظیر کے مقابلے میں انکی مدد کی۔

نواز شریف کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ خود شاہانہ طرز حکومت کرتے ہیں اسی لیے آئین میں ایسی تبدلیاں کرتے رہے ہیں جن سے صرف انکی ذات کو فائدہ پہنچے۔

نواز شریف بارہا قوم سے کئے گئے اپنے وعدوں سے پھر گئے مثلاً آصف زرداری کی لوٹی گئی رقم واپس لانے کا معاملہ جب سوئس حکومت رقم دینے پر تیار تھی اور ان کو صرف خط لکھنا تھا تب نواز شریف نے زرداری سے اپنے حق میں تیسری بار وزیراعظم بننے کے لیے آئنی ترمیم کروا لی اور بدلے میں افتخار چودھری کے ذریعے خط والا معاملہ لٹکا دیا اور دو سال نکلوا دئیے۔

لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر قوم سے جھوٹ بولا بعد میں اعتراف کیا کہ وہ تو صرف ووٹ لینے کے لیے بولا تھا۔ نواز شریف کے اب تک کئی جھوٹ سامنے آچکے ہیں جن میں سب سے مشہور پرویز مشرف سے معاہدہ کرنے کا تھا جس سے وہ مسلسل انکار کرتے رہے اور بعد میں اقرار کر لیا۔

اور اسی طرح کئی معاملات پر وہ دوغلا رویہ رکھتے ہیں ۔ مثلاً جب غلام اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کرپشن کے الزامات کے تحت گرائی تو اس نے اس اقدام کی پرزور تائید کی لیکن جب کچھ عرصے بعد اسی صدر نے اسکی اپنی حکومت انہی الزامات کے تحت گرانی چاہی تو اس نے صدر کا یہ آئینی حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

نواز شریف کےپاکستان دشمنوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔ ان میں انڈیا اور جیو اور جنگ گروپ جیسے متنازعہ ادارے اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد شامل ہیں۔ انکے علاوہ پاکستان کی چند متنازعہ ترین شخصیات جیسے عاصمہ جہانگیر ، نجم سیٹھی سے بھی قریبی تعلقات ہیں اور ان کو اہم ترین عہدوں پر فائز کرتے رہے ہیں۔

نواز شریف نے اپنے دور میں پاکستان کی افغان مجاہدین کی امداد روکنے کی کوشش کی تھی ان کے علاوہ ان پر کشمیری مجاہدین سے غداری کرنے کا الزام بھی ہے۔

نواز شریف کے ہر دور حکومت میں مہنگائی ، بیرونی قرضے اور ڈالر کی قیمت بے اندازہ بڑھ جاتی ہے ۔ جبکہ ادارے یا تباہ ہو جاتے ہیں یا بیچ دئیے جاتے ہیں ۔ مثلاً آخری بار جب پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا تو زرمبادلہ کے ذخائر صرف 400 ملین ڈالر رہ گئے تھے اور پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ لوگ اتنے تنگ تھے کہ مارشل لاء لگنے پر لاہور میں لوگوں نے مٹھائیاں بانٹیں۔

نواز شریف پر صحافی خریدنے اور ان کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔

نواز شریف اکثر اہم ترین قومی اداروں کے ساتھ حالت جنگ میں ہوتے ہیں ۔ ان میں سب سے اہم ادارہ افواج پاکستان کا ہے ۔ جس کی وجہ سے ایک بار فوج نے انکا تختہ بھی الٹ دیا تھا ۔ ان کے علاوہ وہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ کر چکے ہٰیں جبکہ کم از کم دو بار ان کی ایوان صدر کے ساتھ بھی جنگ رہی ۔ جس کے نتائج بعد میں اس کو خود بھی بھگتنا پڑے۔

نواز شریف کے ہر دور میں پنجاب پولیس سٹیٹ بن جاتی ہے اور پولیس کی جانب سے لوگوں کو حراساں کرنے اور قتل کر دینے کے واقعات بھی عام ہو جاتے ہیں۔

نواز شریف نے کئی بار کشمیر کاز کو بے پناہ نقصان پہنچایا خاص کر کارگل کی جنگ میں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت کئی لوگوں نے کہا ہے کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کے خلاف تھے اور کئی اہم ترین لوگوں کے پریشر پر مجبوراً دھماکے کیے۔

نواز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے طاہرہ سید اور دلشاد بیگم سے ناجائز نعلقات رہے ہیں اور اس نے طاہرہ سید کو مری چئیر لفٹس کا تحفہ دیا تھا۔

نواز شریف نے پاکستان کے حاضر سروس چیف آف آرمی سٹآف پرویز مشرف کا طیارہ اترنے نہیں دیا اور اس کو انڈیا بھجوانے کی کوشش کی۔ جس کے بعد پاک فوج نے بغآوت کر دی اور اس کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ۔ اس کے بعد اس نے پرویز مشرف سے ڈیل کی اور بعد میں اس ڈیل سے مکر گئے۔

نواز شریف نے آصف زرداری کو 5 سال پورے کرنے میں مدد کی اور کہا جاتا ہے کہ ان کے درمیاں کوئی خفیہ ڈیل ہوئی تھی۔

پاک ایران گیس پائپ لائن جیسا اہم نوعیت کا قومی منصوبہ نواز شریف کی ہٹ دھرمی کی نطر ہوگیا۔ جبکہ ڈیموں کے لیے نواز شریف کے پاس ہمیشہ بجٹ میں رقم نہیں ہوتی۔

نواز شریف پر ٹیکس چوری کا الزام بھی ہےاور وہ پاکستان کی امیر ترین شخصیت ہونے کے باوجود بہت معمولی ٹیکس ادا کرتے ہین۔

عمران خان سمیت ملک بھر میں بے شمار لوگوں نے نواز شریف پر 2013 کے انتخابات میں بہت بڑی دھاندلی کرنے کا الزام لگایا۔

نواز شریف حکومت کے حکم پر ماڈل ٹاؤن لاہور اور اسلام آباد میں لوگوں پر گولیاں چلائیں گئیں جس سے درجنوں لوگ جانبق ہوگئے ۔

نواز شریف نے سود کے حق میں سٹے آرڈر لے رکھا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں سود کا کام جاری و ساری ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close