آس پاس

ٹیکس نیٹ اور ٹیکس گزار روشن پاکستان کی ضمانت

راجہ طاہر محمود 

کسی بھی ملک کی ترقی و کامرانی کے لئے اس کے آمدنی کے ذرائع بہت اہم ہوتے ہیں اور ملک کو سب سے زیادہ آمدنی اس کے عوام ٹیکسوں کے ذریعے دیتے ہیں اور جن ملکوں کی معیشتیں مضبوط ہیں ان کا اگر تجزیہ کیا جائے توپتا چلتا ہے کہ ان کا ٹیکس نیٹ بہت بڑ مضبوط اور منظم ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ ان ملکوں میں لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ان کے ٹیکس کی وصولی کے لئے بہت ہی واضح اور صاف ستھرے قانون بنائے جاتے ہیں اور ان کے ٹیکسوں کا نظام اتنا وسیع اور سادہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ ایک موبائل سے بھی اپنے زمہ واجب ادا ٹیکس ادا کر سکتے ہیں لیکن اگر بات کی جائے پاکستان تو یہاں لوگ ٹیکس تو دینا چاہتے ہیں اور بہت سے لوگ ٹیکس دیتے بھی ہیں مگر ہمارے ادارے جنھوں نے یہ ٹیکس حکومت کو جمع کر کے دینا ہوتا ہے بد قسمتی سے اتنے نالائق ہیں کہ ان کی بنائی ہو پالیسیاں ایسی بول بھلیاں ہوتی ہیں کہ بیچارے ٹیکس گزار انھیں دیکھ کر ہی سر پکر لیتے ہیں اور اگر وہ خود کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے ایف بی آر یا سکے متعلقہ اداروں میں چلیں جائیں تو انھیں ایسی خدمات مہیا کی جاتی ہیں کہ وہ اس سے دور بھاگتے نظر آتے ہیں۔ آج کے جدید دور میں جب ہر چیز سمٹ کر ایک موبائل فون میں آ چکی ہیں ہمارے ٹیکس جمع کرنے والے ادارے اتنی موٹی فائلوں اوران میں لگے ہوئے کاغذات کے پلندوں میں گم ہیں جیسے کہ ہم اکیسویں صدی کے بجائے زمانہ قدیم سے تعلق رکھنے والی قوم ہوں۔ آج بھی اگر آپ کا ٹیکس جمع کرنے والے ادارے میں جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ افسر شاہی اور کام کو نہ سمجھنے والے یہ لوگ ملک و ملت کا کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں حکومت جو بھی ہو وہ چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں تاکہ ملک کو ٹیکسوں کی مد میں رقوم مل سکیں مگر ایسے ادارے جو کہنے کو تو حکومت کو ٹیکس جمع کر کے دیتے ہیں مگر ان کی کارکردگی بہت ہی پریشان کن ہے بجٹ کا موسم ہے اور ظاہر سی بات ہے ہر کوئی اس بات کو جاننے میں لگا ہوا ہے کہ اب کی بار حکومت کون سے ٹیکس لگانے اور کونسے ختم کرنے کے چکر میں ہے ٹیکس لگانے کی بات تو ہر بار ہی ہوتی ہے مگر ختم کرنے کی بات کم ہی سنی جاتی ہے۔ اس لئے عوام کا زیادہ دھیان اسی طرف ہے اطلاعات کے مطابق حکومت نے لاکھوں خوردہ فروشوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کیلئے آئندہ بجٹ میں ایسے تاجروں پر ان کی مجموعی آمدنی کا دو فیصد فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس لگڑری شاپنگ مال اور پلازوں میں دکانیں ہیں اور جو سالانہ چھ لاکھ روپے کی بجلی استعمال کرتے ہیں۔ حکومتی اداروں کا موقف ہے کہ اس نئے ٹیکس کے نفاذ کے بعد ایف بی آر آئندہ بجٹ میں چھ سے دس ارب روپے جمع کر سکے گا۔

تاجروں نے رواں مالی سال کے دوران قومی خزانے میں ایک ارب روپے سے بھی کم ٹیکس جمع کرایا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ تاجروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کیلئے متعارف کرائی گئی۔ رضاکارانہ ٹیکس اسکیم کی ناکامی کے بعد حکومت نے خوردہ فروشوں کے ساتھ مذاکرات کرکے انہیں فکسڈ ٹیکس کی ادائیگی پر آمادہ کرلیا ہے جبکہ خوردہ فروشوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی مجموعی آمدنی پر 0.75 فیصد کا پرانا فکسڈ ریٹ بحال کیا جائے ۔لیکن حکومت نے آئندہ بجٹ میں دو فیصد عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن نے بھی حکومت سے کہا تھا کہ سالانہ پچاس لاکھ روپے کمانے والے خوردہ فروشوں پر سیدھا سیدھا فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔ کمیشن نے یہ بھی سفارش کی تھی کہ تین سال کیلئے ایسے خوردہ فروشوں کیلئے فکسڈ انکم ٹیکس مقرر کیا جائے اور اس کے بدلے میں وہ تین سال کے دوران ادا کئے گئے ٹیکس کے 30 گنا کالے دھن کو سفید کر سکیں گے۔ دیہی علاقوں میں کام کرنے والے خوردہ فروشوں پر 25 سو سے 20 ہزار ٹیکس عائد کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ تاہم ریٹ کا تعین دکان کے سائز کے مطابق طے کیا جائے گا چھوٹے خوردہ فروشوں میں کم آمدنی والے تاجروں کیلئے پانچ ہزار سے 25 ہزار تک درمیانے درجے کے تاجروں کیلئے دس سے 35 ہزار تک جبکہ زیادہ آمدنی والے چھوٹے خوردہ فروشوں کیلئے پندرہ سے پچاس ہزار تک کا پیمانہ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس شیڈول کے تحت ٹیکس دینے والے کو ٹیکس کا سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا جو وہ دکان میں نمایاں طور پر آویزاں کر سکے گا۔ خوردہ فروشوں پر فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز ہماری دانست میں بے حد معقول اور قابل عمل ہے۔ البتہ عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ چھوٹے بڑے شہروں میں چاٹ اور دہی بڑے فروخت کرنے یا جوس کا کاروبار کرنے والے دکاندار ایف بی آر کے حکام کو نظر نہیں آتے جن کی دکانوں میں باری آجائے تو گاہک اپنے آپ کو خوش قسمت خیال کرتا ہے۔ تاہم وزارت خزانہ کے حکام کو ایف بی آر کے افسروں کے اثاثوں اور ان کے طرز زندگی کے بارے میں بھی خفیہ رپورٹس مرتب کرنی چاہئیں۔ ٹیکسوں اور محصولات میں کمی کی جہاں دیگر وجوہات ہیں وہاں بدعنوان کارکن اور افسران بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے صاف ستھری پالیسیاں ترتیب دی جائیں اور ساتھ ساتھ ایف بی آر اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ادارے جو عوام سے پورا ٹیکس لیتے ہیں کیا وہ پوری رقم حکومتی خزانے میں بھی جمع کرواتے ہیں، کہ صرف عوام کی جیبوں سے نکالنا مقصود ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ اس بارے میں سخت سے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے جیسے کے بیرون ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ٹیکس کو چھپانے کی سزائیں بہت سخت ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہاں لوگ ٹیکس چھپانے کے بجائے دینے کو ترجیح دیتے ہیں مگر ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے۔ یہاں ٹیکس اگر کوئی دینا بھی چاہے تو ٹیکس والے خود ہی ان کو وہ راستہ دیکھاتے ہیں جن سے وہ ٹیکس چھپا سکے۔ اسی لئے اس ا دارے میں یہ چھپی ہوئی کرپشن نا صرف لوگوں کے لئے بلکہ ملک کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ آج ضروت اس امر کی ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان ا داروں میں اوپر سے نیچے تک اور نیچے سے اوپر تک اصلاحات متعارف کروائے اور ایسی پالیسیاں ترتیب دی جائیں جن سے لوگوں کا اعتما د بحا ل ہوسکے اور ٹیکس دینے والوں کو ایسی مراعات دی جائیں جن سے وہ مستفید ہو کر دیگر لوگوں کو بھی ٹیکس دینے کی طرف راغب کر سکیں اسی طرح ہم ایک روشن اور مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close