آس پاستاریخ ہند

پاکستان اور اردو بولنے والے مہاجرین

وقار احمد ندوی

ہندوستان کی تقسیم یا بالفاظ دیگر قیام پاکستان ایک حقیقت ہے اور مہاجرین ایک دوسری حقیقت۔ تقسیم ہند کے اسباب ومحرکات کیا تھے وہ ایک مستقل موضوع ہے جس پر مسلسل لکھا اور بولا جاتا رہا ہے اور ہنوز جاری بھی ہے۔ تاہم زیر نظر مضمون کو صرف ہجرت اور مہاجرین تک محدود رکھنے کی کوشش کروں گا۔

مہاجرین سے متعلق لکھنے، بولنے اور سوچنے والے عموما مغالطے کا شکار ہوتے ہیں اور پڑھنے سننے والے کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں کہ مہاجرین کی جماعت صرف اردو بولنے والوں ہی پر مشتمل ہے نیز دوسرا مغالطہ عموما یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والوں نے ہی پاکستان بنایا ہے اور یہ کہ انہوں نے اس کے لیے جان ومال اور عزت وآبرو کی لامحدود قربانیاں دی ہیں۔ جبکہ حقیقت حال کچھ اور ہے۔ پاکستان صرف اردو بولنے والے یوپی اور بہار کے مہاجر مسلمانوں نے ہی نہیں بنایا پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کا اس میں زیادہ حصہ تھا جو اردو کی بجائے پنجابی اور بنگالی زبان بولتے تھے، لہذا کراچی میں میں بسنے والے اردو داں مہاجرین کا یہ نعرہ کہ "پاکستان بنایا ہے، پاکستان بچائیں گے” بے بنیاد نہیں تو سو فیصد درست بھی نہیں ہے۔ جہاں تک قربانیوں کی بات ہے تو سچ یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے لیے ہرگز کسی قسم کی جانی ومالی قربانی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ہاں یہ سچ ہے قتل وغارت گری بھی ہوئی اور آبروئیں بھی لوٹی گئیں لیکن وہ ہجرت کے لیے قیام پاکستان کے لیے نہیں اور اس میں بھی صرف اردو والے نہیں بلکہ زیادہ پنجابی مسلمان مارے گئے اور صرف مسلمان ہی کیوں اس میں بے شمار سکھ اور ہندو بھی مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوئے ان کی عزتیں تار کی گئیں اور مال واسباب لوٹے گئے۔ پاکستان کا پنجاب سکھوں اور ہندووں سے خالی ہوگیا اور ہندوستان کا پنجاب مسلمانوں سے۔ یہ کوئی مذہبی یا قومی مسئلہ نہیں بلکہ اول تا آخر انسانی مسئلہ تھا یا حیوانی جبلت کا معاملہ تھا۔ جب دو بھائیوں میں تقسیم ہوتی ہے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے اسے زیادہ اور بہتر ملے جس کے نتیجہ میں عموما خاندانوں میں ناراضگیاں جھگڑے ہوتے ہیں جبکہ یہاں تو معاملہ ایک ملک کی تقسیم اور پھر اجتماعی نقل مکانی کا تھا لہذا یہ تو فطری بات تھی کہ جانے والا بہت کچھ لے کر جانا چاہتا تھا اور نہ جانے والا چاہتا تھا کہ وہ کچھ نہ لے جانے دے۔ چونکہ ہم مسلمان زیادہ اردو لکھتے اور پڑھتے ہیں نیز ہر صاحب زبان وقلم اپنا درد ہی بیان کرتے ہیں اس لیے ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ قربانی صرف اردو والوں نے دی ہے اور برباد صرف مسلمان ہی ہوئے ہیں۔

                         ہجرت کے وقت جو ہوا سو ہوا، بعد کے دنوں میں آخر اردو بولنے والے ہی مہاجر کیوں کہلائے مزید یہ کہ ان لوگوں نے مسلم لیگ کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے قیام پاکستان کے لیے جد وجہد کی تھی آخر ایسا کیا ہوا کہ ہجرت کے بعد وہ مسلم لیگ کے ساتھ بھی نہیں چل سکے اور جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے اور ایک ایسا وقت بھی آیا جب وہ خود اپنی پارٹی ” مہاجر قومی موومنٹ” بنانے پر مجبور ہوئے۔ ان سوالوں کا فطری اور حقیقت سے ہم آہنگ جواب یہ ہے کہ پنجابیوں نے پنجاب سے پنجاب میں ہجرت کی اور بنگالیوں نے بنگال سے بنگال میں۔ وہ اپنی دھرتی میں رہے اپنی ثقافت سے دور نہیں ہوئے جبکہ اس لیے ان کو اپنی شناخت قائم رکھنے کے لیے کسی اضافی کاوش کی ضرورت پیش نہیں آئی جبکہ اردو والوں نے اودھ، مگدھ مہارشٹر اور حیدراباد وغیرہ سے سندھ اور پنجاب کی طرف ہجرت کی جہاں کی زبان اردو نہیں تھی لباس الگ تھا اور عادات واطوار بھی۔ لہذا اردو والوں کو اجنبی زمین ہر اپنی شناخت اور حقوق کا مسئلہ درپیش ہونا فطری معاملہ تھا۔ واضح رہے کہ نواز شریف بھی پنجابی مہاجر ہیں لیکن کس کی مجال ہے جو انہیں مہاجر وزیر اعظم کہ دے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کے ساتھ پورا پنجاب ہے۔ وہ دھرتی پتر ہیں۔ اردو بولنے والے مہاجرین ان کی طرح خوش قسمت نہیں ہیں۔

اردو بولنے والے مہاجرین مسلم لیگ سے دور ہوئے یا مسلم لیگ ان سے دور ہوئی اس کی وجہ بھی زمین سے ہی جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان شروع سے ہی جاگیرداروں اور وڈیروں، نوابوں اور مخدوموں کا ملک ثابت ہوا ہے اور مہاجرین کی غالب ترین اکثریت متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل تھی جو بیروکریسی اور علم وادب کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ قائد اعظم کے انتقال کے بعد ملک غلام محمد اور سکندر مرزا کے دور میں رفتہ رفتہ مسلم لیگ بھی انہیں وڈیروں، جاگیرداروں، مخدوموں اور نوابوں کے ہاتھوں یرغمال ہو گئی۔ بھلا متوسط طبقہ کے نوکری پیشہ مہاجرین کی اوقات ہی ان کے سامنے کیا تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سائے تلے پناہ لینے کی کوشش کی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ چونکہ عوامی نیشنل پارٹی تو مقامی پٹھانوں کی جماعت تھی ہی جماعت اسلامی کے کرتا دھرتا بھی مقامی ہی تھے کیوں کہ جماعت تقسیم ہند کی مخالف تھی اس لیے اراکین جماعت نے کم ہی ہجرت کی تھی۔ مذکورہ دونوں جماعتوں سے اردو بولنے والے مہاجرین کا متعلق ہونا ایسا ہی ہوا جسے کہتے ہیں "تاڑ ست گرے اور کھجور پر اٹک گئے”۔ یہاں بھی وہ اجنبی ہی رہے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں انہیں یہاں تک کہا جانے لگا کہ "وہاں -بھارت- سے بھاگ کر یہاں آئے ہو، یہاں سے بھاگ کر کہاں جاؤگے، آگے سمندر ہے”۔

سرکاری نوکریوں میں ان کی جگہ پنجابیوں اور پٹھانوں نے لے لی۔ تجارت مقامی سرمایہ داروں کے پاس تھی۔ بھٹو صاحب نے ناخواندہ سندھیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ملازمتوں میں آبادی کے تناسب سے کوٹہ سسٹم متعارف کروایا جس کی سیدھی ضرب اردو بولنے والوں پر پڑی کیوں کہ ان کی آبادی کم تھی۔ اب انہیں صرف اپنی شناخت ہی کا نہیں بقا کا بھی مسئلہ تھا۔ ناچار مہاجرین نے اپنے حقوق کی یافت کے لیے مہاجر قومی موومنٹ قائم کی جن میں پیش پیش عظیم طارق اور الطاف حسین تھے۔

مہاجر قومی موومنٹ ایک پرامن تحریک تھی اور پر امن ہی رہتی تو اس کا بھلا تھا لیکن اسے جماعت اسلامی طلبہ ونگ سے مقابلے کے طفیل اسلحہ اٹھانا پڑا اور دوسرا حادثہ یہ ہوا کہ وہ جنرل ضیاء الحق کا آلئہ کار بن گئی۔ جنرل نے اپنے مخالفین کو اور خاص طور سے پاکستان پیلپلز پارٹی پر دباؤ بنائے رکھنے کے لیے مہاجر قومی موومنٹ کا بری طرح استعمال کیا اور اس کی جائز ناجائز حرکتوں کی چھوٹ دے رکھی۔ بلا شبہ مہاجر قومی موومنٹ نے بھی موقع کا فائدہ اٹھایا، سیاسی وسماجی طور پر پھلی پھولی لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی۔ پیپلز پارٹی وقت کا انتظار کر رہی تھی، جیسے ہی ضیاء الحق دنیا سے رخصت ہوئے، شہید بھٹو نے اپنے خون سے پیپلز پارٹی کی مانگ بھر کر ابھاگن سے سہاگن بنا دیا۔ اقتدار میں آنے کے بعد پیپلز پارٹی نے مہاجر قومی موومنٹ سے پرانا حساب کتاب چکانا شروع کیا۔

            بڑی خوں ریزی ہوئی یہاں تک کہ الطاف حسین پر بھی جان لیوا حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ برطانیہ چلے گئے اور سیاسی پناہ حاصل کی۔ اتار چڑھاؤ جاری رہا، مہاجر قومی موومنٹ، متحدہ قومی موومنٹ بن گئی۔ اس کا فائدہبیہ ہوا کہ اردو بولنے والوں کی جماعت نہ رہ کر پاکستانیوں کی جماعت بن گئی۔ اب اس میں پٹھان، پنجابی سندھی اور بلوچ سب تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی تیسری اور بہت بڑی "غلطی” یہ ٹھیری کے اس نے مشرف پرویز کو سیاسی کمک پہنچائی جو کہ نواز شریف کا دشمن نمبر ایک تھا۔ بے شک ایم کیو ایم کو مشرف کے دور میں بہت عروج حاصل ہوا لیکن ڈکٹیٹر مشرف نے اس سے بہت سے ناجائز کام بھی کروائے۔ نواز شریف اقتدار میں آنے کے بعد مشرف کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکے کیوں کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے ساتھ کھڑی تھی، اسی طرح وہ چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہی پر بھی ہاتھ نہیں ڈال سکتے جن کی جماعت مسلم لیگ ق نے مشرف کے دور کو سیاسی استحکام بخشا تھا کیوں کہ یہ لوگ پنجاب کے دھرتی پتر چودھری ہیں اب لے دے کے بچ گئی متحدہ قومی موومنٹ جو نواز شریف کے لیے نرم چارہ ثابت ہوئی اور نیشنل ایکشن پلان میں متحدہ قومی موومنٹ کو پاکستان تحریک طالبان کی صف میں کھڑا کر دیا گیا۔ رینجرز نے داد شجاعت دی اور پانی سر سے اونچا ہوتا دیکھ ایم کیو ایم کی قیادت نے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ پھر الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیانات سامنے آئے۔ اس قسم کے ملک مخالف بیانات کو کوئی ریاست برداشت نہیں کر سکتی۔ بلا شبہ یہ غلط اور قابل مذمت ہے۔ الطاف حسین کی جماعت میں دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے زیادہ تعلیم یافتہ لوگ ہیں، الطاف حسین بھی خاصے پڑھے لکھے انسان ہیں پھر بھی ان سے حکومت اور ریاست کے فرق کو سمجھنے میں اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی یی ناقابل فہم ہے۔ ان کے بیانات کے خلاف حکومتی اور عوامی رد عمل بھی سامنے آ چکا ہے۔

⁠⁠⁠⁠⁠                         جو بات کچھ لمحے رک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ تقسیم ہند یا قیام پاکستان میں کس نے کیا کھویا؟ سندھی، پنجابی اور بنگالی مسلمان سب اپنی اپنی زمین پر بغیر کسی احساس اجنبیت کے زندگی گزار رہے ہیں۔ بعض معنوں میں وہ کچھ فائدے میں بھی ہیں لیکن عمومی طور پر بر صغیر کے تمام مسلمان نقصان میں ہیں کہ تقسیم نے ان کی شوکت توڑ کر رکھ دی اور خصوصی طور پر اردو بولنے والے مہاجرین نقصان میں ہیں کہ وہ نسلوں کے گزر جانے کے بعد بھی مہاجر ہی ہیں۔ اردو بولنے والے لاکھوں بہاری مہاجرین جو 1971 سے اب تک پاکستان جانے کی آس لگائے بنگلہ دیش میں بیٹھے ہیں اور ہزاروں اسی امید کے ساتھ دنیا سے رخصت بھی ہو گئے اگر ان کی جگہ کوئی پنجابی، سندھی یا پٹھان ہوتے تو حکومت پاکستان اسی طرح انہیں بے سہارا چھوڑ دیتی؟

                         خوف سے بھاگنے والوں کے تعاقب میں ہیمشہ خوف ہوتا ہے۔ جو لوگ ہندو کے ڈر سے بھاگے تھے آج بھی ڈر ان کا پیچھا کر رہا ہے، جن لوگوں نے نئے ملک کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے گھربار چھوڑا تھا ان کے بچے اب بھی سفر میں ہیں کہ انہیں ” منزل نہیں قائد (الطاف حسین) چاہیے” اور جو صاحب ایمان واخلاص اسلامی ریاست قائم کرنے گئے تھے انہیں کے لیے غالب نے کہا تھا "بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے”۔ ہندوستانی مسلمانوں کے قائد اعظم ابوالکلام آزاد کی بصیرت کو سلام جنہوں نے 69 سال پہلے جو محسوس کیا تھا اور کہا تھا وہ سو فیصد صحیح ثابت ہو چکا ہے لیکن ہم میں بہت ایسے ہیں جن کی آنکھوں پر آج بھی پردے پڑے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close