آس پاس

پاکستان زندہ باد

 راجہ طاہر محمود                              

ملکی سیاسی جماعتوں میں ہر سیاسی جماعت کا اپنا وقار ہوتا ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت چاہے وہ کسی بھی پوزیشن میں کیوں نہ ہو کسی بھی طور پر پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی انتہائی اقدام نہیں اٹھا سکتی مگر آج یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے اپنے ہی لوگ دشمن کی بولیاں بول رہے ہیں اس کی بڑی وجہ ہماری ریاست کی سستی ہے جو کسی نہ کسی سیاسی مصلحت کی وجہ سے کوئی انتہائی اقدام نہیں کرتی بلکہ ایک اور، ایک اور کے فارمولے پر عمل پیرا  رہتی ہے کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نجی ٹی وی چینلز کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور اس جیسے کئی دوسرے واقعات ایم کیو ایم کی تصویر کو واضح کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنویئر ڈاکٹر فاروق ستار نے اگرچہ یہ اعلان کیا ہے کہ اب ایم کیو ایم کے فیصلے ملک کے اندر سے ہوں گے اور وہ پاکستان مخالف نعروں میڈیا ہاؤسز پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور الطاف حسین کے بیان اور پالیسی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں لیکن ان کے مذکورہ اعلان مبہم اور رابطہ کمیٹی لندن کے ساتھ مشاورت اور ملی بھگت کا نتیجہ اور ڈرامہ ہے سیاسی و عسکری قیادت نے اعلان کیا ہے کہ معافی قبول نہیں ہے۔ انہیں اپنے کہے ہوئے لفظوں کی قیمت چکانا پڑے گی جو کہ خوش آئند بات ہے کیونکہ ماضی میں بھی جب بھی الطاف حسین کی طرف سے ایسی حرکت کی جاتی رہی ہے اس کے فورا بعد وہ معافی مانگ کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے لگتے ہیں۔ بات قومی سلامتی اور پاکستان کے وقار کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ملکی سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے قومی مفاد کے منافی کام کرنے والے عناصر کی معافی قبول نہیں کرنی چاہے۔ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو اس کی سزا دینی ہو گی الطاف حسین کی ہرزہ سرائی کے نتیجے میں جذبہ حب الوطنی کا ناصرف خون کیا گیا بلکہ عوامی جذبات کو شدید تکلیف پہنچائی گئی ہے آج یہ بات بھی سچ ہے کہ اگر حکومت نے الطاف حسین کے ماضی کے اشتعال انگیز رویوں پر ان کے خلاف کارروائی کی ہوتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی کہ انہوں نے اعلانیہ پاکستان اور اس کی اہم شخصیات کے خلاف تقریر کی الطاف حسین کو اس ہرزہ سرائی کی اسی لئے ہمت ہوئی کہ انہوں نے سمجھا ماضی کی طرح اس بار بھی معافی مانگ کر معاملہ رفع دفع کر لوں گا پاکستان اس کی فوج اور اہم عسکری شخصیات کے خلاف زہر اگلنے والا کسی معافی کا مستحق نہیں۔ اس کے خلاف قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہیے اور ایک ایسی مثال قائم ہونی چاہے جس کے بعد کسی کو ایسی جرات نہ ہو۔ دوسری طرف کرئے کوئی بھر ئے کوئی کے مصادق اس ہرزہ رسائی پر ایک بار پھر معافی تلافی کی باتیں شروع ہو گئی ہیں جو پاکستانی قوم کسی صورت قبول نہیں کریں گے آج جس طرح کے حالات ہیں اور ملک جس طرح کے کرائسس سے گزر رہا ہے اگر ہم نے ان باتوں کی معافی دے دی جن کا ڈائیریکٹ ہماری قومیت سے تعلق ہے تو پھر کل کلاں کو ہر کوئی اٹھ اٹھ کر ہمیں یوں ہی برا بھلا کہہ کر بعد ازاں معافی مانگ لے گا۔ اس وقعے کے بعد عوامی رد عمل کو لہر اٹھی اس کو دیکھ کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن قیادت سے لاتعلقی ظاہر کی تاہم ایم کیو ایم کی ویب سائٹ کا اعلان بدستور یہ واضح کرتا ہے کہ الطاف حسین اب بھی ایم کیو ایم کے قائد ہیں انہوں نے پارٹی کے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کئے ہیں اور کارکنوں و ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ وہ رابطہ کمیٹی کے ہاتھ مضبوط کریں دوسرے لفظوں میں اگرچہ پارٹی کے تمام اختیارات کو کراچی کی رابطہ کمیٹی کے سپرد کرنے یا نہ کرنے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ متحدہ کی قیادت تبدیل نہیں کی گئی عوام کی غیض و غضب سے پارٹی کو بچانے کیلئے ایک ڈرامہ رچایا گیا ہے چند دنوں یا ہفتوں کے بعد دوبارہ سب کچھ پرانی پوزیشن پر آجائے گا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے پاکستان مردہ باد کہا اس مملکت کو ناسور قرار دیا اور فوج کی اہم شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ اب بھی ایم کیو ایم کا قائد ہے پاکستان کے عوام یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک غدار اس ملک کی ایک سیاسی پارٹی کی قیادت پر فائز رہے ڈاکٹر فاروق ستار کو بھی اس حوالے سے جواب دینا ہے کہ جس نے ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ ان کی پارٹی کا قائد کیسے ہو سکتا ہے اگر ایم کیو ایم اسے اب بھی اپنا قائد تسلیم کرتی ہے تو اس طرح اس کا اپنا کردار مشکوک اور سوالیہ نشان  بنا چکی ہے ڈاکٹر فاروق ستار ابھی تک الطاف حسین کو قائد تسلیم کرتے ہیں جو فرد بھی الطاف حسین کو قائد تسلیم کرے گا پاکستان کے عوام اورمملکت کا قانون اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے اس لئے ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ نئی قیادت کے بارے میں بلا تاخیر اعلان کریں اور اس بات کی پابندی ہونی چاہیے کہ الطاف حسین پارٹی کے قائد کی حیثیت سے پاکستان میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے انہیں اس کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی اگر ڈاکٹر فاروق ستار اور کراچی میں موجود ان کے ساتھی واقعی سچے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے عوام اور قانون کو دھوکہ نہیں دیا توانہیں جلد از جلد نئی قیادت کو سامنے لانا ہوگا دوسری صورت میں عوام ان کا اختساب کریں گے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے الطاف حسین کے خلاف برطانیہ کی حکومت سے رجوع کرکے درست اقدام کیا ہے جس کی تائید پوری قوم کرتی ہے اور اس بات کی امید رکھتی ہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور کسی صورت ملک دشمن لوگوں کو ڈھیل نہیں دی جائے گی خواہ اس کیلئے کوئی سیاسی مصلحت ہی آڑے کیوں نہ آ جائے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس ہرز رسائی پر مکمل قانونی کاروائی کرئے اور جو سزا غدار وطن کے لئے آئین میں تجویز کردہ ہے اس کو الطاف حسین پر لاگو کرئے اور اگر ممکن ہو سکے تو انٹر پول کے ذریعے سے الطاف حسین کو پاکستان لایا جائے اور اس سے اس بات کی جواب طلبی کی جائے کہ جس ملک نے اسے نام، اور مقام دیا کس طرح غیر ملکی آقائوں کو خوش کرنے کے لئے اس نے اسے مردہ باد کہا کیونکہ یہ سرزمین ہماری دھرتی ماں ہے اور جس نے اس کو مردہ باد کہا اس نے ماں کو گالی دی اور جس نے اس گالی پر کوئی ری ایکشن نہیں دکھایا وہ بھی ملک سے مخلص نہیں آج ایک بات بڑی واضح ہو گئی کہ جس طرح پورے ملک سے الطاف حسین کے بیان پر رد عمل ہوا اس سے واضح ہوتا ہے کہ آج ہم ایک ہیں آج اگر ہم نے تفرقوں کو ختم کرنا ہے تو پھر سندھی، پنجابی، مہاجر کو چھوڑ کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا ہو گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close