آس پاس

پاک افغان سرحد(ڈیورنڈ لائین) – ایک دستاویزی و تاریخی حقیقت

ڈاکٹرساجد خاکوانی

        قائداعظم محمدعلی جناح رحمۃ اﷲعلیہ نے شمال مغربی سرحدی صوبے کے دورے کے دوران جب پاک افغان سرحد پر گئے تووہاں موجود افغان فوجی سے ہاتھ ملایا اور ساتھ ہی کہا کہ ہم بحیثیت امت مسلمہ ایک قوم ہیں جب کہ یہ لکیریں شیطان کی لگائی ہوئی ہیں جو ہمیں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ قائداعظم محمدعلی جناح رحمۃ اﷲعلیہ نے قیام پاکستان کے آغاز میں ہی اپنا خصوصی ذاتی نمائندہ افغانستان بھیجا، بعد میں اسی نمائندے کا دفترپاکستان کا سفارت خانہ بنادیاگیاتھا۔ اس کے جواب میں افغانستان کے حکمران بادشاہ نے سردارنجیب اﷲخان کواپنا نمائندہ سفیربناکرپاکستان بھیجا۔ افغان سفیر نے 3دسمبر1947ء کو اپنی سفارتی دستاویزات قائداعظم محمدعلی جناح رحمۃ اﷲعلیہ کوپیش کیں تو اس موقع پر قائدنے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

’’پاکستان کے عوام اورحکومت افغان عوام کے ساتھ بہت گہرے اور گرم جوش دوستانہ روابط محسوس کرتے ہیں جوکہ ہمارے قریب ترین ہمسائے بھی ہیں ۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے صدیوں پرانے اور نسلوں سے قائم تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی بندھن ہیں ۔ پاکستان کے عوام اپنے افغانیوں بھائیوں کے جذبہ آزادی اور مضبوط کردارکی قدر کرتے ہیں ۔ مجھے امید ہے دونوں حکومتیں بہت جلد ایک دوسرے کے ساتھ باہم شیروشکر ہو جائیں گی اور ہم تمام معاملات کو آپس کے تعاون کی بنیادپر خوش اسلوبی سے حل کرلیں گے‘‘۔

اس سے قائداعظم محمدعلی جناح رحمۃ اﷲعلیہ کے ان جذبات کا احساس ہوتا ہے جو وہ پڑوسی ممالک کے بارے میں رکھتے تھے اور خاص طورپر مسلمان پڑوسی ممالک کے بارے میں جنہیں وہ امت مسلمہ کے حوالے سے باہم ایک تصور کرتے تھے۔ قائداعظم محمدعلی جناح رحمۃ اﷲعلیہ کے ان فرمودات سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اصول بھی مرتب ہوتے ہیں کہ جن کے مطابق وطن عزیز کی خارجہ پالیسی میں ہمسایہ مسلمان ملکوں کی اور دیگر امت مسلمہ کے ممالک کی اہمیت دیگرباقی ممالک سے زیادہ ہے۔

        پاکستان اور افغانستان کو ’’ڈیورنڈ لائن‘کی تاریخی و دستاویزی سرحد ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ یہ 2430کلومیٹر(1510میل)لمبی ہے۔ تاج برطانیہ نے ہندوستان کی سونے کی چڑیاکو اپنے پنجرے میں بندکیاتواسے خطرات لاحق ہوئے  اور خاص طور پر شمال سے اسے روس کی بڑی طاقت سے بے حد خطرہ تھا کہ وہ افغانستان کے راستے ہندوستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں گڑبڑ کے حالات نہ پیدا کر دے۔ چنانچہ انیسویں صدی کے آخر میں وائسرائے ہند نے افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمن سے خط و کتابت شروع کی اور ان کی دعوت پر اس وقت کے برطانوی ہندوستان کے امور خارجہ کے نگران سرہنری یٹیمر ڈیورند (Sir Henry Mortimer Durand)کو کابل بھیجا تاکہ پیش نظر مسئلہ کا کوئی سیرحاصل نتیجہ نکالا جا سکے۔ نومبر1893ء میں دونوں حکومتوں کے درمیان باقائدہ ایک سوسالہ معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے نتیجے میں سرحدی پٹی کا تعین کردیاگیا۔ یہ سرحدی پٹی ’’ڈیورنڈ لائین‘‘ کہلاتی ہے۔ اس ایک سو سالہ، معاہدے کے تحت واخان، کافرستان کا کچھ حصہ، نورستان، اسمار، مہمندلعل پورہ اوروزیرستان کاکچھ علاقہ افغانستان کو سونپ دیاگیاجب کہ استانیہ، چمن، نوچغائی، بقیہ وزیرستان، بلندخیل، کرم، باجوڑ، سوات، بنیر، دیر، چلاس اور چترال برطانوی ہندوستان کے حصے میں آگئے۔

        قیام پاکستان کے بعد سے پاکستان اس معاہدے کی پابندی کرتارہا اورلیکن افغانستان نے اس ڈیورنڈ لائن کو ماننے سے انکار کر دیااور دریائے کابل تک کے علاقے کا دعوی بھی کردیا۔ وہ اس دعوے کے حق میں انگریز کی آمد سے پہلے سکھوں کی حکومت کا حوالہ دیتے ہیں جب سکھوں کی فوج کشی کے نتیجے میں ان کے یہ علاقے چھین لیے گئے تھے۔ کتنی حیرانی کی بات ہے کہ سکھوں نے علاقے چھین لیے اور افغانستان کی حکومت کچھ نہ کر پائی، انگریز نے میز پر بیٹھ کر دستخط کروالیے تو بھی والی افغانستان نے ہاتھ ملا کراپنے علاقے، اگریہ ان کے اپنے تھے، انگریز کے حوالے کر دیے اور اس شان سے کیے کہ جو انگریز افسریہ علاقے لینے آیا وہ کئی ہفتوں تک افغانستان کے بادشاہ کی میزبانی سے بھی لطف اندوز ہوتا رہااور اسے پورے تزک و احتشام کے ساتھ رخصت بھی کر دیا۔ اور اس معاہدے کی مدت بھی پوری ایک صدی تک طے کر دی، جب کہ دستخط کرنے والوں کو یقین کامل تھا اگلے سوسالوں کے بعد تک ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہوگا۔ لیکن 14اگست1947کے بعد اپنی طویل قومی، ملی و عوامی جدوجہد کے بعداور صدی کی سب سے بڑی ہجرت کے بعدیہ علاقے حاصل کیے توافغانستان کو ان علاقوں پر اپنا حق ملکیت یاد آگیا؟؟؟

        پاکستان نے ان علاقوں پر سکھوں کی طرح زبردستی یاانگریزوں کے طرح چالاکی سے قبضہ نہیں کیابلکہ بالکل ایک جمہوری انداز سے ان علاقوں کی عوام کی مرضی کے مطابق انہیں اپنے اندر شامل کیاہے۔ 1947ء کوبرطانوی پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا جس کے مطابق 15اگست1947ء کو متحدہ ہندوستان کودو آزادریاستوں میں تقسیم ہو جاناتھا۔ اس قانون میں یہ شق بھی موجود تھی شمال مغربی سرحدی صوبے میں ریفرنڈم کے ذریعے عام عوام کی رائے معلوم کی جائے۔ چنانچہ 6جولائی کو اس تمام علاقے میں برطانوی حکومت کے تحت ریفرنڈم کاانعقادکیاگیا۔ نتائج کے مطابق 99.2%رائے دہندگان نے پاکستان میں شمولیت کے حق میں رائے دی اور0.98%رائے دہندگان نے اس سے اختلاف کیا۔ پس افغانستان کے حکمرانوں نے جس حکومت کا ڈیورنڈ لائن کا فیصلہ تسلیم کیااسی حکومت کے تحت منعقد ہونے والے ریفرنڈم کافیصلہ کیوں قبول نہیں ہے۔ پھر پٹھان سرداران وعمائدین کے جرگے نے بھی اس ریفرنڈم کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ اور یہ فیصلہ حکومت نے میز پر بیٹھ کر مزاکرات کے نتیجے میں کچھ لواور کچھ دو کے طورپر نہیں کیابلکہ عوام کی فیصلہ کن اکثریت کے بل بوتے پر کیاہے۔ اس کے بعد سے پاکستان کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں اس علاقے کے لوگ پاکستان کے ساتھ دل و جان سے شریک ہیں ، پاکستان کے تمام محکموں میں ان کی نمائندگی موجود ہے، عساکرپاکستان میں اس علاقے کے لوگوں کی قربابانیاں تاریخ نے سنہری حروف سے کنداں کی ہیں ۔

        افغانستان کی حکومت 14اگست1947سے پہلے اور اس کے بعد بھی متعدد مواقع پر اس ڈیورنڈ لائن کو ایک بین الاقوامی سرحد کے طورپر تسلیم کر چکی ہے، اور عملاََگزشتہ ایک صدی سے زیادہ کا تعامل اس پر گواہ بھی ہے۔ 1905ء کا معاہدہ، 1919ء کا معاہدہ  اور1921ء کے معاہدوں پر افغان حکومتون کے دستخط اس ڈیورنڈ لائین کو مزید تقویت دینے کے لیے اور اسے ایک بین الاقوامی سرحدکی حیثیت دینے کے لیے کافی ہیں ۔ اور اگر اس سے انکار بھی کرنا ہے تو امیرعبدالرحمن کے زمانے سے انکار کیاجائے، اور اگر اس سے بھی پہلے کی تاریخ میں جھانکا جائے تو سکھوں سے بزوربازواس علاقے کو چھین لیاجاتا۔ بھلا صدیوں کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سرحدی حقیقت کو جھٹلا دیا جائے جس میں خود افغانستان کے حکمرانوں کے دستخط موجود ہیں اور انگریزسرکار کی موجودگی تک ڈیورنڈ لائن کے اس پار سے ایک چوں تک کی آواز نہ سنی گئی۔ اگرافغانستان کو اپنی آزادانہ تجارت کے لیے بحیرہ عرب تک رسائی درکارتھی تویہ پہلے سوچنے کی بات تھی، ایک سوسال بعد سوچ کے نتیجے میں تاریخ کے فیصلوں پروقت کی بہت زیادہ گرد بیٹھ چکی ہوتی ہے اور کسی جغرافیائی خطے میں صدیوں کے بعد فیصلے تبدیل نہیں کیے جاسکتے۔ ڈیورنڈ لائین ایک حقیقت تھی اور ہے اورجب تک اﷲتعالی نے چاہا یہ ایک حقیقی سرحد رہے گی۔

        افغانستان کے لیے بہترین راستہ وہی ہے جس کی راہنمائی قائداعظم رحمۃ اﷲعلیہ نے اپنی تقریرمیں کردی تھی۔ افغانستان اپنے آپ کوایک اسلامی ملک سمجھتے ہوئے امت مسلمہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط ترکرے۔ اپنے قومی مفادات پر امت اور ملت کے مفادات کو ترجیح دے۔ ایک مسلمان پڑوسی مملکت کی حیثیت کو مانتے ہوئے پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کرے۔ بحیرہ عرب کے دروازے پاکستان کے راستے اگر سوشلسٹ چین کے لیے کھل سکتے ہیں تو مسلمان افغانستان کااس پر اولین حق ہے۔ اس سے قبل بھی جب روس نے افغانستان پر فوج کشی کی تھی پاکستان کی سرحدیں افغان بھائیوں کے لیے کھول دی گئی تھیں ۔ پاکستان کا ظرف بہت وسیع ہے لیکن پاکستانی قوم اس بات کو برداشت نہیں کرسکتی کہ افغانستان کی سرزمین کوپاکستان کے دشمن استعمال کریں اور سرزمین پاکستان پر اپنی دہشت گردانہ کاروائیوں کی نگرانی افغانستان سے بیٹھ کرکیاکریں ۔ پاکستان اور افغانستان کو بہرحال یک میز پر بیٹھ کر آپس کے معاملات آپس میں ہی طے کرنا ہوں گے اورکسی بھی پیرونی عنصر کو آپس میں غلط فہمیاں پیداکرنے سے باز رکھنا ہوگا۔ اوراب وقت آ چکا ہے اوراب آنے والی نسلیں اپنی قیادتوں کو مجبورکر دے گی کہ کہ دونوں اکٹھے ہوں گے، بیرونی عناصر کو باہر کاراستہ دکھائیں گے اور امت مسلمہ کویہاں سے نوید صبح نوضرور میسر آئے گی، ان شاء اﷲ تعالی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close