آس پاس

’پیغام پاکستان‘ کانفرنس

 ڈاکٹرساجدخاکوانی

 وسط جنوری2018کو اسلام آبادمیں سرکاری سطح ایک بہت بڑی کانفرنس کاانعقادکیاگیا۔ اس کانفرنس کاانتظام انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے ایک اہم ترین ادارے ’’ادارہ تحقیقات اسلامی‘‘نے کیاتھااوریہ کانفرنس ایوان صدر جیسے مرکزی مقام پر منعقد کی گئی تھی۔ ادارہ تحقیقات اسلامی نے ملک بھرکے تمام مکاتب فکرکے 1800سے زائد علماء کے فتووں کے مجموعے سے ایک کتاب’’پیغام پاکستان‘‘تیار کی ہے۔ یہ فتوے وطن عزیزمیں دہشت گردی،انتہاپسندی، دھماکے اور قتل و غارت گری کے خلاف علماء نے جاری کئے ہیں ،اور ان فتووں کو کتابی شکل میں شائع کرکے انہیں ’’پیغام پاکستان’’کے نام سے موسوم کیاگیاہے۔ اس کتاب میں پر فتووں کے نیچے جیدعلماء کے دستخط بھی ثبت ہیں ۔ اس کتاب کی رونمائی کے لیے یہ کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس کی صدارت کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدرمملکت بذات خود تشریف لائے تھے۔ کانفرنس میں جہاں علماء ومشائخ کی ایک کثیر تعدادموجود تھی وہاں تمام مکاتب فکر کی بھرپور نمائندگی بھی نظرآرہی تھی۔ اس کانفرنس میں ذمہ دار ترین حکومتی عہدیداربھی شامل ہوئے اور کتاب کے مندرجات پر تقاریر کی صورت میں اظہارخیال بھی کیا۔

 دیرآید درست آید کے مصداق بہرحال یہ کام سرکاری سرپرستی میں ہو ہی گیا۔ اگر اس سطح کااقدام بہت پہلے اٹھالیاجاتاتووطن عزیزکوشاید اتنے برے دن نہ دیکھنے پڑتے۔ ایک زمانے تک آئے روزدھماکوں ،بم پھٹنے اور سرعام دن دیہاڑے قتل و غارت گری کاجو بازارگرم رہااس نے مملکت خداداپاکستان کی جڑیں تک ہلادی تھیں ۔ معیشیت تباہی کے دہانے پر آن پہنچی ہے،تعلیم کا بیڑاغرق ہوچکاہے،اخلاقی اقدارکاجنازہ نکالا جاچکاہے اورترقیات کاعمل سست روی کاشکار ہوتے ہوتے اس کاگراف تیزی سے نیچے کی طرف گرتاچلاجارہاہے۔ حالات کی نہج یہاں تک پہنچی کی نسل نوکی ہر زبان اپنے وطن سے شاکی رہی اور تکمیل تعلیم سے قبل ہی دوسرے ملکوں کوفرارکے منصوبے بننے لگے۔ نتیجہ یہ کہ ملک کے بہترین اذہان وطن سے ہجرت پر مجبورہوئے جب کہ سرمایا تو بہت پہلے سے ہی دیارغیر کو سدھارچکاتھا۔ اس طرح کی کانفرنسیں اگر پہلے ہی منعقد کر لی جاتیں تو شاید حالات اس حد تک دگرگوں نہ ہوتے۔ اگرچہ یہ محض ایک کوشش ہی ہے تاہم اب امید ہے کہ علماء کے ایسے فتاوی اپناکرداراداکریں گے اور معاشرے میں امن و استحکام کی طرف واضع پیش رفت ہوگی۔

 اگرچہ یہ بھی ایک سوال ہے کہ دہشت گردی کی اتنی بڑی مہم چلانے والے مذہبی طبقے کے لوگ تھے یا مذہبی لبادے کے لوگ تھے؟؟؟اور قال قال اﷲ تعالی اور قال قال رسول اﷲﷺکی صدالگانے والے تو ہمیشہ سے ہمیشہ تک نان شبینہ کے محتاج رہے ہیں پھر دہشت گردی کے لیے وسائل کابہتاہوا سمندر کہاں سے امڈ پڑا؟؟؟اوروطن عزیزسمیت از شرق تاغرب کل امت کے علماء نے کبھی بھی اسلامی حکومتوں کے خلاف مسلح علم بغاوت بلند نہیں کیاتب یہ لمبی لمبی داڑھیوں والے کون لوگ تھے جن کے نام اس غدرسے قبل کبھی نہ سنے گئے اور ان کے خلاف فیصلہ کن کاروائیوں کے بعد بھی وہ ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سرسے سینگ؟؟؟اور پوری اسلامی تاریخ میں اسلامی سپاہ نے صرف دشمن کی سپاہ سے یا طاغوت کے سرداروں سے جنگ کی ہے یہ کچہریوں ،بس اڈوں ،بازاروں اور تعلیمی اداروں میں شہریوں اور بچوں پر بم مارنااوربندوقوں کے دہانے کھولنا کونسے اسلامی جہاد کی روایت ہے؟؟؟پھرکیاجن علماء کے پیچھے کل قوم نمازیں اور جمعے اداکرتی ہے،جوعلماء کرام جنازہ اور نکاح جیسے مقدس امور سرانجام دیتے ہیں اور معاشرتی و معاشی جملہ معاملات میں جن علماء حق کے دارالفتاوی عوام کے لیے شب و روز کھلے رہتے ہیں توکیاایسے علماء حق کی آشیرباد بھی کبھی اس مذکورہ گروہ حاصل رہی ہے جو انتشارامت کاذمہ دارہے؟؟؟ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر یہ ساری جنگ کسی دشمن کے باطل نظام کے خلاف تھی توکیا جو حکومتیں ،اور جو ممالک اور دنیاکے جوادارے کھلم کھلااسلام اور مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کیے ہوئے ہیں توکبھی اس گروہ نے ان اسلام دشمنوں سے بھی کوئی انتقام لیا؟؟؟پھرکیاجن جن علاقوں میں مسلمانوں نے کفرکے خلاف اعلان قتال کررکھاہے اور فلسطین،کشمیر،برما،اریٹیریا،شیشان وغیرہ کے مسلمان اپنی قلت و کم سامانی کے باوجود باطل سے نبردآزماہیں کیا اس مذکورہ گروہ نے ان کی بھی کوئی عسکری و اخلاقی و مالی معاونت کی؟؟؟ان تمام سوالوں کے جواب نوشتہ دیوار ہیں جو چاہے پڑھ لے۔

 تصویرکادوسرارخ یہ ہے کہ دہشت کامنبہ ومصدر مذہب ہرگزبھی نہیں ہے۔ جب تک مذہب اپنی ٹوٹی پھوٹی شکل میں موجود رہاتو دنیامیں امن و آشتی اورپیارومحبت بھی کسی نہ کسی درجہ میں نظرآتارہا۔ لیکن جب اہل مغرب نے مذہب کو دیس نکالاکردیااور سیکولرازم،لبرل ازم اورکمرشل  ایتھکس جیسے انسانیت دشمن نظریات نے انسانی معاشروں میں جگہ پانی شروع کردی تو انسانوں کے درمیان بڑھنے والی نفرتوں اور عداوتوں نے بلآخرپہلی اور دوسری جنگ عظیم کی شکل اختیارکرلی۔ کروڑوں انسانوں کے قتل اورانسانی تاریخ کی بدترین تباہیوں کی یہ جنگیں لڑنے والے محارب گروہ مذہبی لوگ نہیں تھے بلکہ دونوں طرف سیکولر نظریات کی حامل فوجی طاقتیں تھیں جنہوں نے انسانی معاشروں سے انسانیت کابھی جنازہ نکال دیا۔ اس کے بعد تو اس سیکولرازم نے دہشت گردی کو گویا ہنگامی بنیادوں پر پوری دنیامیں جنگل میں آگ کی طرح پھیلادیا۔ ہالی وڈسے بننے والی ہر فلم ’’ماردھاڑایکشن اور سسپنس‘‘سے بھرپور ہونے لگی،ایسی ایسی فلمیں پوری دنیاکے نوجوانوں کو دکھائی گئیں جن میں سوائے تباہی، بربادی،آگ، خون، لڑائی جھگڑے قتل و غارت گری اور جنگ و جدل کے کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک ایک فلم کا ہیروجب تک دس بیس خونریزلڑائیاں چالیس پچاس قتل اور آٹھ دس حسین چہروں سے دغابازی و جبری چیرہ دستی نہ کرلے تب تک وہ فلم مکمل ہی نہیں ہوتی۔ نوجوانوں کے بعد بچوں کی باری آئی تو اس سیکولرازم نے وڈیوگیمزمیں بھی ماردھاڑ،لڑائیاں ،مقابلے اور وہ بھی عورتوں جیسی شکلیں بناکر ان کے درمیان لڑائیاں کرانے پرزیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کاطریقہ سکھایا۔ گزشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ مدت تک اس طرح کی کاروائیاں جب نوجوان نسلوں نے دیکھیں تواس کا لازمی اور منطقی نتیجہ دہشت گردی اور قتل غارت گری ہی تھاجس کو شائلاک ذہن نے بڑی چابکدستی کے ساتھ مذہب جیسے انسانیت پرورادارے کے سرپرڈال دیا۔

 اس سب کے باوجودبھی ابھی تک مذہب اپنایہ حق محفوظ رکھتاہے کہ انسانیت کو سیکولرازم کے اندھیرے غار سے نکال کروحی کے آفاقی نور ہدایت میں لے آئے۔ اورپاکستان چونکہ مذہب کی بنیادوں پر قائم ہواہے اورنظریہ پاکستان کسی ایک علاقے،کسی ایک قوم،یاکسی ایک رنگ ونسل و زبان کانظریہ نہیں ہے بلکہ کل انسانیت کانظریہ ہے اس لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان عالمی قیادت کی فکری و نظریاتی صلاحیت رکھنے والی ریاست ہے۔ پس یہی پیغام پاکستان ہے کہ دنیاکو دہشت گردی سے محفوظ آماجگاہ بنایاجائے جس پر سینکڑوں علماء نے دستخط کیے ہیں اور ریاست پاکستان نے اس موقف پر اپنی مہر صداقت ثبت کر دی ہے۔ اس سیکولرازم نے عالم انسانیت پردہشت گردیاں مسلط کی ہیں ،کہیں تہذیبی دہشت گردی ہے توکہیں جنسی دہشت کردی ہے،کہیں تعلیمی دہشت گردی ہے توکہیں طبی و تفریحی دہشت گردی ہے اورسیکولرازم کے سرمایادارانہ معاشی نظام نے تو دنیابھر کے ہر پیداہونے والے بچے کو سودکی زنجیروں میں جکڑکر بدترین اقتصادی دہشتگردی کاشکارکررکھاہے۔ چورمچائے شورکے مصداق دنیاکو دہشت گردی کے کوئیں میں دھکیلنے والے زرخریدمیڈیاکے ذریعے دنیاکو باورکرانے کی ناکام سعی لاحاصل میں لگے ہیں کہ وہ اصل میں میں انسانیت کے خیرخواہ ہیں اور مذہبی قوتیں اور خاص طور اسلامی مذہبی قوتیں دہشت گردی کی ذمہ دار ہیں ۔ جب کہ حقیقت اس کے بالکلیہ برعکس ہے کہ اسلامی تعلیمات ان اصلی دہشت گروں کے لیے سم قاتل ہیں اور اس دنیاپر یہی مذہبی تعلیمات ہی امن کی ضامن ہیں ۔

 اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اساس یہی اسلامی تعلیمات ہیں ۔ جب تک وطن عزیزکی حکومتیں علمائے حق کے بغیر چلتی رہیں توٹھوکروں پر ٹھوکریں ہی کھاتی رہیں ،اب علماء کی مشاورت سے پاکستان کا درست پیغام دنیاتک پہنچاہے۔ جب تک علمائے حق حکومتی ایوانوں میں موجود رہیں گے تائید ونصرت الہی بھی نازل ہوتی رہے گی۔ پاکستان کامطلب کیا:لاالہ کایہی مطلب ہے۔ اور جب علماء سے ہٹ کر مصنوعی نام نہادجمہوری قیادت لائے جائے گی تو گھوڑوں کی منڈیاں لگیں گی، گدھوں کی حکومت ہوگی اور ایوانوں میں ملک و ملت کاوقارمجروح ہوتارہے گااورادارے تباہ برباد ہوتے رہیں گے۔ ضرورت ہے کہ مرکزکی طرح صوبوں میں اور ضلعوں تک بھی اور پھرعالمی سطح پربھی اس طرح کی مزید کانفرنسیں کی جائیں اورعلمائے دین کی سرپرستی میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق امت کے مسائل حل کرکے انسانیت کو سیکولردہشت گردی سے نجات دلائی جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close