آس پاس

ڈار کا بجٹ اور بحران میں گھرا زمین دار

خضرکلاسرا
وزیرخزانہ اسحاق ڈار خاموش طبیعت وآرام پسند اپوزیشن کی موجودگی میں ٹیکسوں سے بھرپور وفاقی بجٹ پیش کرنے کی کاروائی مکمل کرنے میں مصروف تھے ۔ اس موقع پر دلچسپ صورتحال یوں تھی کہ ایک طرف اپوزیشن قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی مرد بحران قیادت میں اس کاروائی سے بے نیاز تھی کہ ڈار صاحب کونسی گیڈر سنگھی سے قرضوں میں جکڑی قوم کیلئے بجٹ کو سب اچھاقرار دے ہے تھے تو دوسری طرف حکومتی بنچوں پر ارکان کی تعداد موجود بجٹ کے موقع پر موجود ہی نہیں تھی ،جولیگی ارکان موجود تھے ، وہ اسحاق ڈار کی منتوں کے باوجود ڈیسک بجانے پر آمادہ ہی نہیں تھے ۔یوں لگ رہاتھاکہ حکومتی بنچوں پر اپوزیشن کی روح آگئی ہے۔ کافی دیر تو وزیرخزانہ ڈار نے اپنے لیگی ارکان کی بے توجہی کو برداشت کیالیکن بعد تقریر کو چھوڑ کر اپنے لیگی ارکان کو کہاکہ آپ تو تالیاں بجادیں مطلب اپوزیشن بنچوں پر موجود ارکان تو خاموشی میں ہی وقت پاس کرکے حکومت کی مدد کررہے ہیں لیکن آپ تو ایوان میں ہونے کا احساس تالیاں بجاکر دلاتے رہیں۔ تحریک انصاف جوکہ پاکستان میں تبدیلی کے دعوؤں پر اپنی بات شروع کرتی ہے اورپھر اسی پر اسکی تان ٹوٹ جاتی ہے ، اس کے چیرمین عمران خان نے بجٹ اجلاس میں آنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی تھی ،یوں بجٹ جیسے اہم موقع پر حکومت کیلئے اپوزیشن کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں تھا ۔ ہاں مظفرگڑھ سے منتخب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی بجٹ تقریر میں خاموشی توڑنے کیلئے کوئی طنزیہ جملہ اداکرکے ذمہ داری پوری کررہے تھے اور اسحاق ڈار کو احساس دلارہے تھے کہ آپ اپوزیشن کی ملی بھگت سے قوم کو چونا لگارہے ہیں۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کے لیڈر شاہ محمود قریشی کو بھی اسوقت متوجہ کیاجب وہ یوریا کھاد کی قیمت چودہ سوروپے کرنے کا اعلان کررہے تھے اور کہاکہ قریشی صاحب اب تو آپ بھی تالیاں بجادیں ،زراعت کیلئے حکومت بجٹ میں تاریخی اقدامات کررہی ہے۔شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے طے شدہ ایجنڈے کے تحت خاموشی توڑنے کی قسم تو نہیں توڑی بلکہ زیرلب مسکراکر وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو آگے بڑھنے کا اشارہ دیا تاکہ عوام کو میٹھی گولی کے نام پر ٹیکسوں جکڑنے کی کاروائی جلد مکمل ہوجائے۔لیگی حکومت نے چوتھا بجٹ پیش کرتے وقت تاثریہی دیاہے کہ انہوں نے زراعت کے شعبہ کو چاند پر لاکھڑا کیاہے ۔وفاقی بجٹ میں یوریا کھادکی قیمتوں میں کمی کیساتھ ڈی اے پی کی کھاد میں بھی ریلیف کے علادہ بجلی میں بھی کاشتکاروں کو ریلیف کا اعلان کیاہے ، اسی طرح زرعی ادویات کے قیمتوں میں بھی کمی کی نوید دی گئی ہے ۔اسی طرح لیگی حکومت نے کسان پیکچ کی صورت میں بھی زمینداروں کو دلدل سے نکالنے کیلئے بھی کوشش کی ہے۔اس کے باوجود واقعات اس بات کی واضع چغلی کرتے ہیں کہ لیگی حکومت دعوؤں کے باوجود کاشتکاروں کو اپنے پاؤں پر کھڑے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔زراعت کاوہی حال ہے کہ ”مرض بڑھتاگیا جوں جوں دوا کی ” ۔اب یہاں سوال یہ ابھرتاہے کہ آخر حکومت کی کوشش رنگ کیوں نہیں لارہی ہیں اور کاشتکار کیوں بندگلی میں جاکھڑا ہواہے ،اس سوال کا جواب یوں ملتاہے کہ حکومت نے مسائل سے دوچار زراعت کے شعبے کو تسلی کیساتھ سٹڈی کرنے کی زحمت ہی نہیں کی ہے۔وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سکندر بوسن جوکہ زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انکی کارکردگی مایوس کن ہے ،انکی کاروائی سے یوں لگتاہے کہ موصوف دن پورے کررہے ہیں اور سا”ئید بزنس” میں مصروف ہیں جوکہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کررہاہے ،یوں ان کو زمینداروں کیساتھ ظلم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔موصوف کو زراعت کے شعبہ میں مسلسل تنزلی کا احساس ہوتاتو پھر وہ بجٹ سے پہلے کاشتکاروں اور ان کی تنظمیوں کیساتھ بیٹھتے اور ان ایشوز کی طرف حکومت کی پالیسوں کو لیکر جاتے جوکہ زراعت جیسے اہم شعبہ میں بہتری کا حقیقی معنوں میں سبب بنتیں۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ کاشتکار اسوقت تک بھی ایسی مشکلات کا شکار نہیں تھا، جب ڈیزل کی قیمت 10 1 روپے لیٹر سے بھی بڑھ گئی تھی اور کھاد، زرعی ادویات اور بیجوں کی قیمتیں بھی آسمان سے بات کررہی تھیں ،وجہ یہ تھی کہ زمینداروں کی فصل مارکیٹ میں مناسب قیمت پر خریداری جارہی تھی لیکن اب لیگی حکومت کی سبسڈی اور کھادوں میں قیمتوں کی کمی اور کسان پیکج کے باجودجو بات زمیندار کو مسلسل اذیت سے دوچار کررہی ہے وہ یہ ہے کہ اب کاشتکار جب فصل تیارکرلیتاہے تو کوئی خریدار نہیں ہوتاہے ،اگر کوئی آڑھتی فصل خریدکرتاہے تو اس کا اپنا نرخ ہوتاہے جوکہ زمیندار کو نقصان سے دوچارکرتاہے۔ایک وقت میں گندم کی فصل پوری قیمت پر حکومت خرید کرتی تھی لیکن اس بار تو لیگی حکومت نے زمیندار کو باردانہ دے کر اس بات پر مجبور کیاہے کہ وہ اپنی گندم مارکیٹ میں مڈل مین کو اونے پونے فروخت کرے۔اسی طرح چاول اور کپاس کی فصل کیساتھ ہواہے۔ ادھر آلو مارکیٹ میں زمیندار کا فروخت نہیں ہوا تو زمیندار مال روڈ پر آلو کیساتھ آگئے ،اسی طرح دیگر فصلوں کیساتھ بھی مارکیٹ میں ایساہی سلوک ہورہاہے کہ خرید ہی نہیں مل رہاہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ لیگی حکومت جسکو اب وزیرخزانہ اسحاق ڈار چلارہے ہیں، وہ زراعت کے شعبہ کی اہمیت کو شاہ محمود قریشی کی تالیوں تک محدود نہ کریں بلکہ اس کیلئے حقیقی معنوں میں اقدامات کریں، دعوؤں اورچلاکی سے کا م نہیں چلیگا بلکہ کاشتکار کو مناسب اور بروقت معاوضہ دے کر فصل خرید کرنی ہوگی وگرنہ بحران گہرا ہوتا چلاجائے گا اور اس کے اثرات ملک پر سنگین مرتب ہوں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close