آس پاس

ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی واپسی

غلام رضا

جیسا کہ ہم سب کو علم ہے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999کو جمہوریت پر حملہ کیا، نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک کا کنٹرول سنبھالا اور 18اگست 2008 تک آئین کی خلاف ورزیاں کرتے رہے۔ یہاں ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے کچھ سوالات بھی پوچھنا ضروری ہیں جن کے وہ مرضی کے ہی جواب دیں گے۔ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو آئین سے کھلواڑ کی اجازت کس نے دی تھی؟کس قانون کے تحت عوام کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا؟کیا آئین میں لکھا ہے حکومت ڈیلیور نہ کرسکے تو آرمی چیف مارشل لالگا کر منتخب وزیراعظم کو جیل بھیج دے؟ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد امریکی جنگ میں کیوں شامل ہوئے؟ڈاکٹر عافیہ سمیت دیگر پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کیوں کیا؟اقتدار کو طول دینے کیلئے خود ساختہ ریفرنڈم کرانے کی اجازت کس نے دی؟بلوچستان میں آپریشن کر کے اکبر بگٹی کو کیوں مارا گیا؟قومی ہیرو ڈاکٹر قدیر کو کیوں نظر بند کیا گیا؟اسرائیل کیساتھ روابط کی کیا حقیقت ہے؟ڈکٹیٹر پرویز مشرف کب آرہے ہیں اور ان کے کیا عزائم ہیں اس پر کالم کے آخر میں لکھوں گا، پہلے ملکی سیاست کو سمجھنا ہوگا کہ آیا ڈکٹیٹر کی واپسی ہوگی بھی یا نہیں ؟ملکی سیاست نہ صرف عجیب و غریب ہے بلکہ دلچسپ بھی ہے، کب کیا ہو جائے کسی کو کچھ نہیں پتہ۔

ملکی سیاست میں جمہوری حکمران ججوں اور فوجیوں کو دشمن سے کم نہیں سمجھتے جبکہ فوجی اور جج جمہوری حکمرانوں کو نہ صرف چور، ڈاکو، لٹیرے سمجھتے ہیں بلکہ ملزموں، مجرموں جیسا سلوک بھی کرتے ہیں ۔ سیاستدان، فوج اور ججز اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک بھی ہیں اور غلط بھی، تاریخ میں زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں، ڈکٹیٹر مشرف سمیت دیگر ڈکٹیٹروں کو عدالتوں نے خوش آمدید کہا جبکہ انہی عدالتوں نے جمہوری وزرائے اعظم کو گھر بھیجا تو کبھی پھانسی پر چڑھایا۔ سیاستدان بھی آپس میں ایسے ہی لڑتے ہیں جیسے سکول کے بچے ہوں، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی پر نواز شریف بہت خوش تھے اور ممکن ہے اکیلے میں بھنگڑے بھی ڈالے ہوں مگر جب سے خود نااہل ہوئے ہیں ایک ہی وردکر رہے ہیں۔ اقتدار میں رہنے والی کوئی بھی جماعت عوام کے اعتماد پر پورا نہیں اتر سکی چاہے وہ ن لیگ ہو، پی ٹی آئی، پی پی، جے یو آئی، ایم کیو ایم، ق لیگ، جماعت اسلامی۔ سب نے اپنے بنک بیلنس میں ہی اضافہ کیا اور عوام کو کچھ نہیں دیا۔ فوج کو اقتدار دلانے کا بھی تجربہ کئی بار کیا جا چکا ہیجو بری طرح ناکامی سے دوچار ہوا۔

خیر ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی واپسی پر ہی واپس آجانا چاہئے، احتجاج، جلسے، جلوسوں ، دھرنوں کا سیزن شروع ہو چکاہے۔ ڈکٹیٹر پرویز مشرف تو باہر بیٹھے اپنے اوپر قائم مقدمات ختم کرانے کے بعد ہی واپس آنا چاہتے ہیں مگر ملک میں ایسے حالات پیدا کئے جا ئینگے کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی مارچ، اپریل میں واپسی ممکن ہو سکے اور اس میں علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کردار نمایاں ہوگا، پاکستان عوامی تحریک کے جاری دھرنے کے بہت سے مقاصد ہونگے مگر ایک مقصد ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی واپسی بھی ہے، جس کا پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو بھی علم ہونا چاہئے، ڈاکٹر طاہر القادری فی الحال صرف اور صرف وزیراعلی اور وزیر قانون کا استعفی چاہتے ہیں اور رانا ثنا اللہ کسی بھی وقت استعفی دے سکتے ہیں وہ بلکل تیار بیٹھے ہیں کہ شہباز شریف انہیں حکم دیں اور وہ وزارت سے مستعفی ہو جائیں کیونکہ رانا ثنا اللہ اس وقت بری طرح پھنس چکے ہیں ۔ چاہے ختم نبوت ﷺ کا معاملہ ہو، ماڈل ٹائون کا یا سیاسی ان کی جان صرف اور صرف مستعفی ہونے کے بعد ہی چھوٹ سکتی ہے اور وہ یہ قربانی دینے کیلئے تیار ہیں، عین ممکن ہے فروری میں وہ وزیر نہ ہوں جبکہ شہباز شریف مستعفی نہیں ہونگے۔ ملک میں انارکی، انتشار پھیلنے کے بعد ہی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی واپسی میں حائل رکاوٹیں دور ہونگی اور واپس آ کر وہ ایم کیو ایم جماعت کی حمایت حاصل کرینگے ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے کئی رہنما ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو جوائن کرینگے مگر الیکشن میں انہیں ناکامی کا ہی سامنا کرنا پڑیگاکیونکہ وہ غیر جمہوری و غیر سیاسی ہیں۔

فروری کے وسط میں ڈکٹیٹر پرویز مشرف میڈیا کو انٹرویوز بھی دینا شروع کر دیں گے اور حالات کا جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ جلد از جلد واپسی ممکن ہو جائے، ممکن ہے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد بھی ان کے ساتھ آئیں اور ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی پارٹی میں ہی شمولیت اختیار کرلیں ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نہ صرف جلسے، جلوس کرینگے بلکہ عام شہریوں کی جان سے کھیلنے کی بھی پرواہ نہیں کریں گے، جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کئے جائیں گے کہ ایک اور سانحہ ماڈل ٹائون ہو جائے کیونکہ مولانا صاحب نے اس بار کچھ نہ حاصل کیا تو پھر وہ کبھی کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے، وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، پیپلز پارٹی اتحاد سے علیحدگی بھی اختیار کر سکتی ہے جبکہ پی ٹی آئی بھی الیکشن کو قریب دیکھتے ہوئے راستہ تبدیل کر سکتی ہے۔

کل کیا ہو کس نے جانا مگر ملکی منظر نامہ اس وقت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو رانا ثنا اللہ کا استعفی مل جائیگا، سینٹ الیکشن کو سبوتاژ نہیں کیا جا سکے گا بروقت ہو جائینگے، صوبائی اسمبلیاں بھی تحلیل نہیں کی جائینگی، غیر جمہوری طاقتیں جوڑ توڑ کرینگی مگر خاطرخواہ نتائج نہیں مل پائینگے اور سب سے بڑی خبر یہی ہوگی کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی مارچ تک واپسی ہوجائیگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close