آس پاس

کراچی کی صورت حال – وہاں کا امن رینجر سے وابستہ

راجہ طاہر محمود

 کراچی بری طرح آگ و خون کی ہولی میں لپٹا ہوا تھا ہر طرف آگ اور خون کی ہولی تھی اور ایسی دہشت گردی تھی کہ کوئی بھی کراچی جانے سے پہلے ہزار بار سوچتا تھا جس کے بعد اگر کوئی وہاں چلا بھی جائے تو واپس آنا ناممکن لگتا تھا مگر پھر جب ظلم حد سے بڑا تو اس مٹنا ہی تھا۔ سو کراچی میں امن و امان قائم کرنے کے لئے پاکستانی مسلح افواج کو آگے لایا گیا جہاں رینجر نے اپنی پیشہ ورانہ سر گرمیوں اور اعلیٰ مہارت سے کراچی کی خوشیاں اس کی جھولی میں ڈال دی جس کے بعد ان دہشت گردوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا اور عوام کو یہ امید ہو چلی تھی کہ اب کراچی کو پھر سے روشن کر دیا جائے گا لیکن پھر کیا؟ وہی ہمارے حکمران آڑے آگئے اور انھوں نے کچھ اپنوں کو بچانے کی خاطر اس نوٹیفیکیشن کو روک لیا جس پر اس ادارے کو کاروائی کرنے کااختیار تھا دیکھا جائے تو یہ کراچی اور پورے سندھی عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔

 ان حکمرانوں بد نیتی اسی سے ظاہر ہوتی ہے کہ یہ لوگ کراچی کو پر امن کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں مگر جب موقع آتا ہے تو اسی کراچی کے امن کو تباہ کرنے والوں کے مدد گار ہو جاتے ہیں۔ اب جبکہ سندھ میں رینجرز کے قیام اور اختیارات میں توسیع نہ ہونے کے باعث اس کا کراچی آپریشن روک دیا گیا ہے، اس کے اہلکاروں نے چھاپوں کا سلسلہ بھی روک دیا ہے۔ کراچی کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی رینجرز نے چیکنگ ختم کردی جبکہ اہم شخصیات اور تنصیبات کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث کراچی کے عوام شدید اضطراب میں مبتلا ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کہیں دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصرایک بار پھر شہر کو بدامنی کے حوالے نہ کر دیں۔ رینجرز نے کراچی میں ا یسے بدعنوان اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی ہے جن کے سندھ حکومت کی اہم شخصیات سے خصوصی روابط تھے بلکہ بعض تو پارٹی کی اہم شخصیات کے فرنٹ مین کی حیثیت سے مشہور تھے۔ یقینا یہ صورتحال سندھ حکومت کے لئے قابل قبول نہ تھی۔ اس نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اس پر اپنے رد عمل کا بھی اظہار کیا لیکن اب جبکہ رینجرز کے آپریشن کی مدت ختم ہوگئی ہے اور اس کی مدت میں توسیع کا مسئلہ درپیش ہے، سندھ حکومت دانستہ اس معاملے کو لٹکانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کی یہ خواہش ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اسے اس امر کی یقین دہانی کرا دی جائے کہ آئندہ رینجرز پیپلز پارٹی یا حکومت کی اہم شخصیات پر ہاتھ نہیں ڈالے گی اور کراچی سے باہر دوسرے شہروں میں کارروائی نہیں کرے گی۔ تاہم اس امر کے امکانات موجود نہیں ہیں کہ وفاق کی طرف سے اسے اس کی یقین دہانی کرا دی جائے گی۔ اگر فوری طور پر رینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع نہ کی گئی توکراچی میں قیام امن کے حوالے سے جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ان کے اثرات بھی زائل ہو جائیں گے۔ کراچی آپریشن محض سندھ حکومت کی خواہش کا مرہون منت نہیں ہے بلکہ اسے تمام سیاسی جماعتوں کی خواہش پر شروع کیا گیا اور ایک خصوصی حکمت عملی کے تحت رینجرز کو غیر معمولی اختیارات دیئے گئے۔ اس ٹارگٹڈ آپریشن کے نتیجے میں درجنوں دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر مارے گئے اور بہت سے گرفتار کئے گئے۔ بھتہ خوروں مختلف قسم کے مافیا اور دہشتگردوں کے خلاف موثر کارروائی کی گئی۔ چنانچہ کراچی کا امن بحال ہوا اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا اب اس امن کو مستحکم کرنے کے مراحل درپیش ہیں اور بچے کھچے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہونی ہے لیکن اس حکمت عملی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ سندھ حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کے رینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع سے گریز کا مطلب جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہے۔ دہشتگرد جرائم پیشہ عناصر اور ملک دشمن یہ نہیں چاہتے کہ آپریشن جاری رہے اور ان کے مذموم مقاصد پر کاری ضرب پڑے۔ اس کے برعکس کراچی کے عوام کی خواہش ہے کہ آپریشن جاری رہے شہر میں دیر پا بنیادوں پر امن قائم کیا جائے اور امن کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، چنانچہ سندھ حکومت کو عوامی خواہشات کو ملحوظ رکھتے ہوئے رینجرز کے قیام کی مدت میں بلا تاخیر توسیع کرنی چاہیے۔ وقت کا یہ تقاضا ہے کہ انفرادی اور جماعتی مفادات کے بجائے کراچی کے عوام اور مملکت کے مفادات کو ملحوظ رکھا جائے۔ عین اس وقت جب رینجرز کے قیام کی مدت ختم ہونے والی تھی وفاقی حکومت کی طرف سے وزیر داخلہ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو خط لکھا یہ ضروری تھا کہ مدت میں توسیع کے حوالے سے سمری دو ہفتے پہلے سندھ حکومت کو ارسال کی جاتی اور وفاقی وزیر داخلہ و وزیر اعلیٰ سندھ کے درمیان رابطوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا اگر سندھ حکومت آپریشن ختم کروانے کی خواہاں ہے تو بھی اسے کھل کر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے بہر صورت ابہام کی اس صورتحال کو ختم ہونا چاہیے۔ دوسری طرف آرمی چیف نے سندھ رینجرز کی قربانیوں اور کامیابیوں کی تعریف کی جس کی وجہ سے شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ شہر کو دہشت گردوں اور مجرموں سے پاک کرنے کے لیے سندھ رینجرز کی ہمت اور عزم کے باعث عوام کے دلوں میں ان کی عزت بڑھی’کراچی آپریشن میں دہشت گردوں کے پورے نیٹ ورک پر دیہان دیا جا رہا ہے جس میں ان کے سہولت کاروں اور مالی امداد کرنے والوں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے جلد از جلد کراچی میں رینجر کے اختیارات اسے واپس دیے جائیں تاکہ اندھیرہوتا کراچی پھر سے روشن وہ سکے اور عوام جو اب سکھی ہیں ان کو مزید سکھ مل سکے۔ کراچی سے وابستہ پاکستانی معیشت پھر سے پھل پھول سکے۔ اسی میں پاکستانی کی بھلائی ہے اور اسی میں سندھ کے عوام کی بھلائی ہے۔ اگر اپ بھی پیپلز پارٹی نے سبق نہ سیکھا تو اس کا حال آزاد کشمیر میں ہونے والے الیکشن جیسا بھی ہو سکتا ہے جو اس کے لیڈروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close