کچھ ڈاکٹر محمدغطریف شہباز ندوی کی گزارش میں

ڈاکٹر محمدغطریف شہباز ندوی کا مضمون بعنوان ‘ممتازقادری کوشہید قراردینے کا مطالبہ‘ پڑھا، مصنف کی سطحی معلومات اور عامی سوچ پر افسوس ہوا- اس بات سے انکار نہیں کہ ہمارے ہاں برصغیر میں شہید کا لفظ جس بے دریغ طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے وہ اب یہاں تک آ پہنچا ہے کہ ہر ایرے غیرے کے ساتھ شہید کا لاحقہ لگا دیا جاتا ہے حتی کہ غیر مسلموں کے لیے بھی بولا جانے لگا ہے- اب بھگت سنگھ بھی شہید ہے، ذوالفقار بھٹو بھی شہید ہے اور ضیاء الحق بھی شہید ہے، ایسے میں کچھ لوگ ممتاز قادری کو شہید کہنے اور شہادت کا مطالبہ کرنے لگے تو اتنا غصہ ہی کیوں کیا جائے- اگر وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس پر افسوس کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ملک کی مذہبی جماعتیں بالخصوص جماعت اسلامی اور دیوبندی طبقات اس کی حمایت کر رہے ہیں تو وہ معلومات کی کمی کا شکار ہیں- وہ نہ تو یہ جانتے ہیں کہ اسلام آباد میں ہونے والے پرتشدد مظاہرہ کی قیادت کون سی جماعت کر رہی تھی اور نہ یہ جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی پاکستان اور دوسری دیوبندی طبقات ممتاز قادری کے ایشو پر کیا موقف رکھتے تھے-
ممتاز قادری بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا ایک کانسٹیبل تھا جو سلمان تاثیر جیسے سیکولر، لبرل اور روشن خیال گورنر پنجاب کے حفاظتی کانوائے کا حصہ تھا، جیسا کہ ایک اسلامی ریاست پر لازم ہے کہ وہ ناموس رسالت مآب ﷺ و انبیاء علیہ السلام کے تحفظ کو یقینی بنائے کیونکہ اس کا تعلق مسلمانوں کے ایمان سے ہے، ایک سیاسی لیڈر راہل گاندھی جس کے ہم حامی ہوں اگر اسے کوئی کرپٹ اور بدقماش کہہ دے تو ہمارے اور اس لیڈر کے تعلق پر حرف آتا ہے، ہم ان الزامات پر ثبوت مانگتے ہیں، جواب دیتے ہیں، کھری کھری سناتے ہیں، ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ہم الزام لگانے والے کو کہیں ٹھیک ہے تم میرے لیڈر کو کرپٹ کہتے ہو، بد قماش اور کمینہ کہتے ہوئے مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں، وہ میرا پھر بھی لیڈر ہے اسی طرح اگر کوئی ہمارے نبی اکرم ﷺ کے لیے اس طرح کے گھٹیا الفاظ استعمال کرے تو ہمارے تعلق میں فرق آئے گا جس پر کہا گیا کہ تب تک تمہارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ ﷺ تمہیں تمہاری اولاد، تمہارے والدین اور تمام لوگوں سے پیارے نہ ہو جائیں- لہٰذا پاکستان کے آئین میں گستاخی رسول ﷺ اظہار رائے کی آزادی نہیں ایک جرم ہے-
برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کے مسلمان عشق رسولﷺ کی ایک خاص ترکیب رکھتے ہیں۔ علم وعمل سے بیگانہ، گناہوں اور بُرائیوں میں لت پت اور سرورِ دنیا میں مخمور ہوں گے لیکن محبتِ رسولﷺ کے اظہار اور شان رسالت مآبﷺ میں ہر عمل سے گزر جائیں گے۔ اگرچہ ایک جمہوری ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے ان جذبات کی ترجمانی کرے اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کرے جو دنیا کی تمام جمہوریتیں کرتی ہیں، عوام کی اچھی ہی نہیں بُری خصلتوں اور جذبات کی بھی عملی طور محافظ بنتی ہیں۔ شراب پر امریکہ میں کئی بار پابندی عائد کی گئی لیکن عوام کے زورِکے آگے ریاست نہ ٹھیر سکی، اور شراب کو ثابت شدہ بُرے اثرات کے باوجود آزادی دے دی، یہ جانتے ہوئے کہ منفی شرحِ پیدائش کا مسئلہ پورے یورپ کو بوڑھا کرنے والا ہے ہم جنس پرستی کو پنپنے کی قانونی آزادی مہیا کردی۔ لیکن پاکستانی ریاست نے قانون توہین رسالتﷺ پر ہمیشہ بے عملی کا مظاہرہ کیا، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ توہین رسالتﷺ کے کل 1274 کیس رجسٹر ہوئے۔ جن میں سے کسی ایک کو بھی پھانسی تک نہ پہنچایا جا سکا بلکہ ان کیسوں پر مختلف اطراف سے دباؤ ڈالا گیا اور مختلف طریقوں سے کیسز کی نوعیت بدلنے کے لیے توڑا مروڑا گیا۔ اس عدالتی بانجھ پن نے ممتاز قادری جیسے سپوت پیدا کر دیے جنہوں نے ایک سماجی رویے کو ثابت کیا کہ جب کسی معاشرے میں انصاف عدالتوں میں نہیں ہوا کرے گا بلکہ خود اقتدار پر بیٹھے لوگ قانون کو توڑنا شروع کر دیں گے تو پھر یہ جذبات قانونی دائرے سے خود بخود نکل جائیں گے۔ ان 1274 کیسوں میں سے 51 کیسوں کو ماورائے عدالت خود منصفی کے تحت نبٹا دیا گیا۔
سلمان تاثیر قتل کیس بھی یہی پس منظر رکھتا ہے، میں، آپ یا کوئی تیسرا شخص حتیٰ کہ خود قاتل بھی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا تھا کہ سلمان تاثیر نے گستاخی رسولﷺ کی اور اگر کسی طرح ثابت بھی ہو جائے تو یہ حق ممتاز قادری سمیت کسی شخص کو نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اس کے ساتھ انصاف کرتا پھرے، البتہ سلمان تاثیر کے طرز گفتگو اور طرز عمل نے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کے اندر اشتعال پیدا کیا، واقعہ قتل سے پہلے ممتاز قادری اور سلمان تاثیر کے درمیان ایک مکالمہ بھی ہوا جس کے گواہ ایک دوسرے کانسٹیبل وقاص شیخ بھی تھے، سلمان تاثیر نے تب بھی دوبارہ اشتعال انگیز گفتگو کی جس پر ممتاز قادری نے اشتعال میں آ کر اسے قتل کردیا۔ قتل کا پہلا محرک چونکہ مقتول تھا اس لیے کیس کی نوعیت ہی بدل جاتی ہے اور عدالتی تاریخ کے حوالے سے انہیں کسی طرح بھی پھانسی کی سزا نہیں دی جا سکتی تھی۔ یہی جماعت اسلامی سمیت غالب مذہبی جماعتوں کا موقف ہے اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت جو لبرل پاکستان بنانے کا اعلان کر چکی ہے، قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کے عزائم رکھتی تھی، اگر اس موقع پر ردعمل میں یہ موقف اختیار نہ کیا جاتا تو حکومت کیلئے راستہ کھل جاتا- ممتاز قادری کا کیس نوعیت کے اعتبار سے ایک منفرد کیس تھا جیسا کہ برطانوی عدالت کا یہ کیس تو معروف ہے کہ وہاں ایک ٹریفک وارڈن نے جب ایک شہری کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روک لیا تو دونوں میں تو تکرار شروع ہو گئی اور شہری نے غصے میں ٹریفک وارڈن پر حملہ کر کے اسے زخمی کردیا، عدالت نے دونوں طرف کے دلائل سنے، زخمی ٹریفک وارڈن کے ہسپتال چالان کو دیکھا اور پھر شہری کو باعزت بری کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے ٹریفک وارڈن پر جرمانہ عائد کردیا اور جواز یہ پیش کیا کہ ٹریفک وارڈن نے شہری کو مشتعل کیا جس کے نتیجے میں ہی وہ اس پر حملہ آور ہوا۔
خود پاکستان میں ایسے کئی کیس ہیں جیسے ایک عورت نے اپنے داماد کو کسی بات پر سرزنش کی تو داماد نے اسے اپنی توہین سمجھا اور اس توہین کا بدلہ لینے کے لیے بازار گیا اور چھری لا کر ساس کو قتل کر دیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس داماد پر قصاص ڈالنے کے بجائے عمر قید کی سزا سنائی، ایک اور مقدمہ جس میں ایک شخص نے ایک صاحب کو صرف اس بنیاد پر قتل کردیا کہ مقتول نے پشتو زبان میں کچھ ایسا کہا تھا جسے وہ سمجھ نہیں سکتا تھا لیکن اسے محسوس ہوا کہ اسے بُرا بھلا اور گالم گلوچ دی گئی ہے۔ عدالت نے سزائے موت کے بجائے سزائے قید سنائی کہ مقتول نے ایسی بات کہی ہو گی جس سے اسے اشتعال آیا۔
فاضل مصنف نے سطحی معلومات کی بنیاد پر جماعت اسلامی سمیت پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو موقف کو غلط رنگ میں پیش کیا، اسلام آباد میں ہونے والے پر تشدد احتجاج کا اعلان بریلوی مکتب فکر کی سنی تحریک نے کیا تھا جس میں جماعت اسلامی سمیت کسی بھی سیاسی دینی جماعت نے شرکت نہیں کی اور نہ ان کے مطالبات کی تائید کی- بلکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اسے ممتاز قادری کے موقف (توہین رسالت قانون کو نہ چھیڑا جائے) کو کمزور کرنے کی حرکت قرار دیا-



⋆ غیث المعرفہ

ڈاکٹر غیث المعرفہ معروف دانش ور اور مصنف ہیں۔