آس پاس

ہمیں بھی وہاں لے چلو

ایک وہ دن تھا جب 21فروری 2011میاں نواازشریف نے پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت کوتنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا ہے تھا کہ نااہل حکومت کو مزید سینے سے نہیں لگا سکتے، پاکستان میں بدامنی اور انتشار نہیں چاہتے،خودمختاری اور خوشحالی کیلئے کشکول توڑنا ہوگا۔ ڈکٹیٹر کے ہاتھ مضبوط کرنیوالوں کیلئے مسلم لیگ  میں کوئی جگہ نہیں۔ ملک شدید مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، سیاست کرنا نہیں، جب بھی فوج سیاست میں آئی ملک بدنام ہوا اور عوام بدحال ہوئے، پرویز مشرف حکمران ہوتے تو آج ریمنڈ ڈیوس واپس جا چکا ہوتا۔انہی دنوں ایک بیان میں میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کیلئے تحقیقاتی کمیشن خو د سوال بن گیا ، وزیراعظم بتائیں ایبٹ آباد آپریشن پر پارلیمنٹ کی قرارداد کا کیا بنا؟ ایبٹ آباد آپریشن اور کراچی مہران بیس حملے کی ہر حال میں تحقیقات ہونی چاہئیں، ایسا نہ ہوا تو پھر عوام( ن لیگ کا) ساتھ دیں اور دیکھیں انکوائری، سزا ، احتساب کے ساتھ ساتھ کرپشن اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی ہوگا۔ پھرعوام نے اُن کابھرپور ساتھ دیااور وہ الیکشن2013ء میں منتخب ہوکرممبر قومی اسمبلی کا حلف اْٹھانے کے آئے توحلف لینے کے بعد گفتگوکرتے ہوئے کچھ یوں کہا’’کشکول توڑ کر ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا، خود کرپشن کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا،سب جان لیں اللہ تعالیٰ ہم سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے ،قومی مفاد اور عوامی اْمنگوں پر پورا اُترنا ہوگا۔قوم نے دیکھاکہ الیکشن 2013ء میں منتخب ہوکرمیاں صاحب کی اہل حکومت آئی توبدامنی،انتشار ختم ہوگئے،خودمختاری اورخوشحالی کی خاطرآئے روزوزیرخزانہ اسحاق ڈاردُبئی جاتے ہیں تاکہ پرانااورچھوتاکشکول توڑکرنیا،مضبوط اورکافی بڑاکشکول حاصل کرسکیں،میاں صاحب کی جادوگری نے ثابت کردیاکہ اُن کی حکومت میں کبھی بھیک مانگی جائے گی اورنہ ہی آئی ایم ایف سے سودپرقرض لیاجائے گا۔عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ میاں صاحب نے جلاوطنی کے دنوں میں روزہ رسول اللہ ﷺ پرروروکراس وعدے کے ساتھ حکومت مانگی کہ اس باروہ ضرورملک سے سودی نظام ختم کردیں گے،خیرروزہ رسول اللہ ﷺ پریااللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ اُٹھاکرانہوں نے کیاوعدے کئے یہ تواللہ تعالیٰ،رسول للہ ﷺ یاپھرمیاں صاحب ہی جانتے ہیں ،ہم نے دیکھاکہ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس جس نے دن دہاڑے سربازارنہتے پاکستانوں پرگولیوں کی برسات کرکے شہیدکردیاتھا،اللہ پاک کالاکھ لاکھ شکرہے کہ اُس وقت پاکستان میں پرویزمشرف کی حکومت تھی اورنہ ہی کسی اورفوجی کی،ان دنوں وفاق میں پیپلزپارٹی اورپنجاب میں چھوٹے میاں صاحب حاکم اعلیٰ (اوسوری خادم اعلیٰ) تھے،جیساکہ میاں صاحب نے فرمایاتھاکہ مشرف کی حکومت ہوتی تو ریمنڈ ڈیوس جلد رہاہوکرامریکہ چلاجاتا،یہ توکرامات تھیں پنجاب حکومت کی کہ ریمنڈ ڈیوس کوجلد نہیں بلکہ بہت جلد رہاکرکے امریکہ بھیج کرایسی سزادی گئی کہ اتنی سخت سزاکبھی دنیامیں کسی قاتل کونہ دی گئی ہو۔پھرجب میاں صاحب کایہ بیان یادآتاہے توپاکستان کے عوام آبدیدہ ہوکریہ سوچنے پرمجبور ہوجاتے ہیں کہ اس قدرعوام کادردمحسوس کرنے والاسیاست دان دنیامیں کوئی اورنہیں ہوسکتا،فرمان میاں صاحب’’ عوام ساتھ دیں اور دیکھیں انکوائری، احتساب کے ساتھ ساتھ کرپشن اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی ہوگا‘‘عوام نے ساتھ دیااورپھرانکوائری اوراحتساب دیکھا،دیکھا کہ کس طرح پاکستان سے کرپشن اورلوڈشیڈنگ کاخاتمہ ہوگیا،میاں صاحب کا ایک اوربیان یادآتاہے توحوصلہ ساہوجاتاہے کہ شائد ابھی ایساہوجائے،فرمان میاں صاحب’’ خود کرپشن کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا‘‘دنیانے دیکھاکہ گزشتہ تین ساڑے تین سال میں پاکستان بھرسے کرپشن اس طرح غائب ہوگئی جیسے گدھے کے سرسے سینگ۔وعدے کے مطابق میاں صاحب نہ توخودکرپشن کرتے ہیں اونہ ہی کسی دوسرے کوکرنے دیتے ہیں ۔نجانے پھر کیوں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف کو کرپشن کا بادشاہ قراردے دیا؟گزشتہ دنوں بنوں میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ نے ہمیں اپنی تقدیر بدلنے کا موقع دیا ہے ،ہم سچ اور حق کے لیے کھڑے ہوجائیں تو ہم نیا پاکستان بناسکتے ہیں، ہمیں کرپشن کا مقابلہ کرنا ہوگا اور کرپشن کے بادشاہ نوازشریف کا احتساب کرنا ہوگا، میاں صاحب ہمیں سچ بتائیں کہ اُن کے اثاثے کتنے اور کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کرپشن دیمک کی طرح ملک کو چاٹ رہا ہے، حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ملک بہت پیچھے چلا گیا جب کہ ہمارے ساتھ سنگاپور اور ملائیشیا کو ایماندار حکمران ملے جنہوں نے کرپشن ختم کرکے اداروں کو مضبوط کیا، انسانوں پر سرمایہ کاری کی جس کی بنیاد پر وہ آج کامیاب ملک تصور کیے جاتے ہیں افسوس کہ ہمیں نوازشریف ملے ہیں۔بندہ پوچھے عمران خان کس پاکستان کونیابنانے چل پڑاہے؟جس کرپشن اورلوٹ مارپرعمران خان شورمچارہاہے میاں صاحب کے پاکستان میں تواُس کا کہیں کوئی ذکرتک نہیں ہے۔عمران خان آج کہتاہے کہ بھیک مانگنے والوں کی کوئی عزت ہوتی ہے نہ خودمختاری جبکہ یہی بات میاں صاحب سالوں پہلے ہمیں بتاچکے۔کشکول توڑنے کے وعدے پرتوعوام میاں صاحب کابھرپورساتھ دے چکے اب عمران خان کو الیکشن جیتناہے توکوئی نئی بات کرے کیونکہ پراناکشکول تواسحاق ڈارکب کاتوڑ چکے اب جو کشکول موجودہے وہ کنکریٹ کابناہواایک مضبوط اوربڑا کشکول ہے عمران اب بوڑھا ہوچکا اور پیچھے کوئی سیاسی وارث بھی نظر نہیں آتاایسے میں عوام کیونکراتنامضبوط کشکول توڑنے کی ذمہ داری عمران خان کودیں گے،تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے والا سینئر سیاست دان ملک سے کرپشن ختم کرسکانہ کشکول توڑ سکاتوپھرعمران خان جوسیاست میں ابھی کل کابچہ ہے کس طرح کشکول توڑسکتاہے؟میاں صاحب ہم پاکستانی عوام ہیں اورہمیں عمران خان سے کچھ لینادینانہیں بس آپ ایک احسان کروہم نہیں کہتے کہ لندن فیلٹز میں سے ہمیں کچھ دویاآف شورکمپنیوں کے کچھ شیئرہمارے نام کرواورنہ ہی ہم یہ کہتے ہیں کہ شوگرملزیاسٹیل ملزمیں سے کوئی ہمارے نام کردو بس جس پاکستان سے آپ نے بدامنی،انتشار،کرپشن اورلوڈشیڈنگ ختم کردی ہے ہمیں بھی وہاں لے چلو تاکہ ہم بھی حسن نوازاورحسین نوازکی طرح تیزی سے دولت کماسکیں ،اس پاکستان میں توانائی کابحران ہے ،یہاں ہمارے حصے میں بھوک،پیاس ،مہنگائی،ناانصافی،انتشار،بدامنی،لوڈشیڈنگ اورآخرمیں خودکشیاں آتیں ہیں اللہ تعالیٰ کے واسطے جس پاکستان سے آپ نے لوڈشیڈنگ ختم کردی ہمیں بھی وہاں لے چلو،ہمیں پوری اُمید ہے کہ وہاں ہماراکاروباربھی خوب چمکے گا،ہمارے پاکستان میں لگتاہے فوجی حکومت ہے شائد اسی لئے ملک دن بدن بدحالی کاشکا اوربدنام ہورہاہے ،میاں صاحب ہم نے الیکشن 2013ء میں ڈکٹیٹرکاساتھ دینے والوں کی بجائے  لیگ کوووٹ دیاتھااس لئے جس پاکستان پرپاکستان مسلم لیگ  کی حکومت ہے اُس پر ہمارابھی حق ہے ،ہم مزید آمریت برداشت کرنے کے قابل نہیں ،ہمیں بھی وہاں لے چلوجہاں مک مکاجمہوریت چلتی ہے،ہمیں بھی وہاں لے چلوجہاں بغیرکوئی کاروبارکئے آف شورکمپنی بناناممکن ہے ،ہمیں بھی وہاں لے چلوجہاں ہرکوئی معمولی سے معمولی بیماری کااعلاج بیرون ملک کرواسکے،ہمیں بھی وہاں لے چلوجہاں رشوت،سفارش اقرباپروری نہ ہو، ہاں یادآیاآپ نے فرمایاتھااللہ تعالیٰ آپ سے کوئی بڑاکام لیناچاہتاہے تو آپ یقین کریں اس سے بڑااورکوئی کام نہیں جن سہولیات میں آپ اورآپ کی فیملی زندگی بسرکررہے ہیں پاکستانی عوام کوبھی وہاں لے چلو ،یہ کرڑوں لوگ کل روزقیامت اللہ تعالیٰ کے حضورحاضر ہوکرگواہی دیں گے توآپ کی بخشش ممکن ہوجائے گی ورنہ اُس روزہم آپ کوہرگزیہ نہیں کہیں گے کہ ہمیں بھی وہاں لے چلوجہاں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتاہے اوربندے اپنے برے اعمال کی سزاپائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close