آس پاس

عمران خان اپنی پوزیشن واضح کریں!

خان صاحب کو قریب سے جاننے والوں کا ان کے بارے میں یہ تجزیہ ہے کہ ان کاواحدمطمح نظروزارتِ عظمیٰ کاحصول ہے اوروہ اس مقصدکوپانے کی جدوجہد میں اس قدر’’مگن‘‘ ہیں کہ اس سے انھیں کوئی سروکار نہیں کہ ان کے دائیں بائیں کیاہورہاہے؟ان کااوران کی جماعت کاامیج ان ابن الوقت اور مفاد پرست سیاست دانوں نیز دین بے زار دانش فروشوں کی وجہ سے کتناگررہاہے؟

مزید پڑھیں >>

خلیجی ممالک میں ہندوستانیوں کی نوکریاں چھن جانے کے اسباب

پچھلی کئی دہائیوں سے ہندوستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کافی گرم جوشی دیکھی گئی ہے جس نے دونوں ملکوں کے درمیان مزید معاشی اور ثقافتی رشتوں کو ہموار کیا ہے۔ 1947 میں آزادی کے بعد ہی سے نئی دہلی نے ریاض کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار کر لیے تھے۔ اور دونوں جانب سے اعلی سطحی دوروں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں پچھلے سال 2 اپریل کو خادم الحرمين الشريفين شاہ سلمان بن عبد العزيز آل سعود کی دعوت پر ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے 2 دن کے سرکاری دورے پر سعودی عرب کادورہ کیا۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے لیڈران نے سیاست، معیشت، سیکورٹی، دفاع، مین پاور اور باہمی روابط کے میدان میں اپنے سودمند روایتی دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی جہت اور بلندی عطا کرنے کی کوشش کی اور ان رشتوں کو اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کی سطح تک پہنچانے کے لیے اہم پیش رفت بھی کی۔

مزید پڑھیں >>

کلبھوشن اور ہند و پاک تعلقات پر اس کے اثرات

جب سے اس خفیہ تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی ہے تب سے لے کرآج تک یہ تنظیم اپنے مشن میں کامیاب ہے ۔ہمیں فخر ہے بھارت کے ان بیٹوں پر جو گمنامی کی زندگی گزار کر اپنے مشن میں مصروف رہتے ہوئے ہماری حفاظت پر مامور ہیں ۔ واقعی اگر ان خفیہ بیٹوں کا احسان ہم پر نہ ہوں تو ہم دشمنوں کے چنگل میں پھنس چکے ہوتے اور ملک درہم برہم ہوجاتا ہمیں احسان مندہوناچاہئے ان کا کہ انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ملک وقوم کی سلامتی کے لئے دشمنوں کے راز سے آگاہ کرکے اپنے حفاظتی حصار کو بڑھا کر ملک کی حفاظت کی ہے۔

مزید پڑھیں >>

باباعالمی دن کے نام

یہ سال1701ء اپریل کی بات ہے، کچے مکان کے ٹھنڈے فرش پر کھجورکے پتوں سے بنی چٹائی بچھائے بیٹھاوقت کابہت بڑامفکر، دوراندیش دانشوریہ سوچ کرپریشان تھاکہ آنے والے جدیددورمیں دانشورکیساہوگا؟سال2017ء کے مفکر، دانشور، تجزیہ نگار، کالم نگارکی ترجیحات کیاہوں گی؟وہ …

مزید پڑھیں >>

ہند کے خلاف چین کی جارحیت

ہندوستان اور چین کے درمیان کشید گی جاری ہے دونوں ممالک کے درمیان یہ کشید گی تلخی کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے کیونکہ چین کا ہند کے ساتھ جو طریقہ کار ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ وہ کسی …

مزید پڑھیں >>

احتساب اور قانون سب کے لئے برابر

پاکستان دنیا کا شاید وہ واحد ملک ہے, جہاں امیر کے لئے اورقانون اور غریب کے لئے اور ہے یہاں امیر اپنی دولت کے بل بوتے پر جرم کر کے بھی بچ جاتا ہے۔ جبکہ غریب آدمی ناکرداہ گناہوں میں پھنس جاتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اپر کلاس قانون کو گھر کی لونڈی سمجھنے لگے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے قانون میں وہ سقم ہیں، جو جرائم پیشہ افراد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ گو کہ ہم نے یہ سقم کھبی دور کرنے کی مخلص کوشش ہی نہیں کی۔ کیونکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو پتا ہے کہ اگر انھوں نے یہ سقم دور کر دیے تو وقت ان کو کھبی بھی انصاف کے کٹہرے میں لا سکتا ہے اور وہی یہ لوگ ہیں جو اپر کلاس طبقہ کہلاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

لکھنے والوں کی ذمہ داری کون لے گا؟

گمنام حوالوں کا اور گمنام خیر خواہوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا، اچھا ہوگیا تو واہ واہ اور شکریہ، برا ہوگیا تو ایک نا ختم ہونے والی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔ ہم پاکستانیوں کو انگنت نامعلوم افراد کا سامنا ہے (ایک نامعلوم افراد وہ ہیں جنہوں نے ابتک انگنت زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا اور ایک پاکستانی فلم کا عنوان ہے نامعلوم افراد)۔ یہاں تو اغواء کرنے والے بھی اپنے ہوتے ہوئے نامعلوم ہوتے ہیں اور تو اور ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی راہ چلتے کسی کو گرفتار کر کے لے جاتے ہیں مگر کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا تو وہ قانون نافذ کرنے والے بھی ہمارے لئے نامعلوم ہی ہوتے ہیں ۔قدرت ہی ان نامعلوم کو معلوم کی فہرست میں ڈالے تو ڈالے ہمارے بس کی تو بات ہی نہیں ۔ ہم پاکستانی انتہائی غیر محفوظ ہیں جیسا کہ آج ہمارے ملک کے انتہائی معزز اور جہاندیدہ سیاستدان محترم شیخ رشید صاحب نے اپنے سماجی میڈیا کہ پیغام میں لکھا ہے کہ "اس ملک میں سوائے پانامہ کیس کے فیصلے کے سوا کوئی بھی محفوظ نہیں "۔

مزید پڑھیں >>

جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے انتخابات توجہ کے مرکز!

شہرجموں فرقہ وارنہ ہم آہنگی، آپسی بھائی چارہ اور مذہبی رواداری کی مثال رہا ہے۔ 90کی دہائی میں جب ریاست جموں وکشمیر کے اندر عسکری سرگرمیاں عروج پر تھیں ، کے وقت وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ صوبہ جموں کے وادی چناب وپیر پنجال کے علاوہ دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے شہر جموں کے گردونواح میں آباد ہوئے۔ ان میں بڑی تعداد مسلم طبقہ کی بھی تھی جنہیں شہر جموں کے لوگوں جن کی اکثریت ہندو تھی، نے والہانہ استقبال کیا، ان کے لئے اپنی بائیں پھیلا دیں ۔ شہر جموں جس میں بیک وقت مسجد سے ازان، مندر سے بھجن اور گردوارے سے بھجن کیرتن کی آواز سنائی دیتی ہے، اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں پر ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

میں اکیلا ہوں، میرا کوئی اپنا نہیں؟

میں اکیلا ہوں میرا کوئی دوست نہیں ، میری دوستی سے اگرچہ سب کو انکار تو نہیں لیکن سامنے آکر دوستی کا اعلان کر دے یہ کسی میں بھی ہمت نہیں ، کیوں کہ میں زمین کا ایک ایسا خطہ ہوں جس پر ایک ظالم وجابر قوم نے قبضہ کیے رکھا ہے۔ شاید اس ظالم کے ہاتھ اتنے پھیلے ہوئے ہیں کہ میری آہ وکراہ سن کر بھی میرے(مسلمان ممالک) ’’اَن سنی‘‘ کرجاتے ہیں ۔ رات دن میری زمین خون ناحق سے تر کی جارہی ہے، میرے بچوں اور بہادر نوجوانوں کا حال یہ ہے کہ ان کا بچپن اور ان کی جوانی کا بھی کوئی خیال نہیں کیا جاتا بلکہ دن دھاڑے کسی خوف کے بغیر انہیں مارا جا رہا ہے، اُن کی آنکھوں کی بصارت چھین کر ہمیشہ کی زندگی کے لیے معزوری کا تحفہ دیا جاتا ہے، گھروں میں آگ کے شعلے، بازاروں میں خوف کا ماحول قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟

مزید پڑھیں >>