سیاست

ٹو جی اور شیریں فرہاد

مذکورہ  فیصلہ اگر کانگریس دورِ اقتدار میں سامنے آتا تو حزب اختلاف یا نام نہاد سیول سوسائٹی کا یہ الزام درست ہوتا کہ  سی بی آئی حکومت کے در کی لونڈی ہے۔ اس نے حقائق کا پردہ فاش کرنے کے بجائے پردہ پوشی کی ہے۔ جان بوجھ کر شواہد کو چھپایا یا توڑ مروڈ کر پیش کیا ہے جیسا کہ امیت شاہ، کرنل پروہت یا سادھوی پرگیہ کے معاملے میں کیا جارہا ہے۔ حیرت اس  بات پر  ہے کہ یہ   فیصلہ ایک ایسی حکومت کے زیر اقتدار آیا ہے جو اپنے سیاسی مفاد کی خاطر  منموہن سنگھ  سمیت سابق نائب صدر اور فوجی کماندار کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دینے سے بھی  نہیں ہچکچاتی۔  یہ حسن اتفاق ہے کہ جس وقت حزب اختلاف  وززیراعظم کی جانب سے منموہن سنگھ پر لگائے گئے  الزامات پر معافی کے لیے ایوان پارلیمان کو سر پر اٹھائے ہوئے ہے یہ دوٹوک فیصلہ سامنے آگیا۔ یہ قدرت کا انتقام ہے کہ لسبیلہ میں شیریں فرہاد کی قبر پر میلہ لگتا ہے اور عوام   ان کے قاتل  گاوں کےسردار پر لعنت ملامت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

برج کورس: حقیقت کے آئینے میں!

مجھے ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ  طلبہ کی ذہنیت کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کون ہمارے کتنے کام آسکتا ہے پھر اسی حساب سے اس کا استعمال ہوتاہے، جب کوئی پروگرام ہوتاہے یا  جب کوئی مہمان باہر سے آتے ہیں تو اس وقت انہی طالب علموں کو آگے کیا جاتا ھے جو ان کی مدح سرائی کرتے ہوں، دیگر طلبہ کو موقع نہیں دیا جاتا، طلبہ کی تقریروں کی وڈیو گرافی بھی ہوتی ہے اور پھر ان میں سے ان ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کیا جاتا ہے جو ان کے مطلب کی ہوں، یوٹیوب پر cepecami amu کے نام سے چینل ہے، اس پر آپ سب بذات خود دیکھ سکتے ہیں، آپ موجودہ بیچ کے طلبہ سے بات کرکے دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان کے اندر کتنی تبدیلی آئی ہے۔

مزید پڑھیں >>

گجرات کے الیکشن نے راہل کا قد بڑھا دیا

گجرات کا الیکشن شروع تو زندگی کے مسائل سے ہوا تھا مگر مودی جی نے اسے ہندو اور پاکستان اور احمد پٹیل میں گڈمڈ کردیا وہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے یہ کہیں کہ پاکستان اور ریٹائرڈ فوجی اور منموہن سنگھ احمد پٹیل کو زیراعلیٰ بنانا چاہتے ہیں۔ وہ احمد پٹیل جو راجیہ سبھا کا ممبر ہے اور وزیراعظم بھی بن سکتا ہے اس کے وزیراعلیٰ بننے سے ہندو کو ہوشیار کرنا کیا ان کے لئے باعث شرم نہیں ہے؟ اور سب باتیں تو تھیں ہی احمد پٹیل کو محمود غزنوی بنانا تو ایسا ہے جیسے وہ دستور کو جوتے سے روند رہے ہیں۔ جیسے احمد پٹیل، حافظ سعید یا مسعود اظہر ہوگئے۔

مزید پڑھیں >>

ماہر اور شاطر کھلاڑیوں سے ناتجربہ کار ہار گئے

راہل گاندھی کو جتنی سیٹیں بھی ملی ہیں وہ ان لوگوں نے دلائی ہیں جو مودی جی سے ناراض ہیں۔ اگر وہ تجربہ کار ہوتے اور انہوں نے دو چار الیکشن لڑائے ہوتے تو اس بار وہ حکومت بنا سکتے تھے۔ 14  دسمبر کے بعد ہاردِک پٹیل نے اے وی ایم پر شک ظاہر کرنا شروع کردیا تھا جس سے اندازہ ہونے لگا تھا کہ انہیں یہ محسوس ہوگیا تھا کہ وہ اپنے سارے ووٹ پول نہیں کراسکے۔

مزید پڑھیں >>

جمہوریت کا مستقبل

یہ پہلو بھی غور کرنے کا ہے، کہیں ایسا نہ ہو، جمہوریت کا جسم باقی رہے اس میں روح نہ ہو، اس کا لاشہ سڑ جائے، ملک قبائلی نظام سے بھی بدتر صورت حال کا مشاہدہ کرے، اس کے علاوہ ملک کے ہر شہری کو غور کرنا چاہیے کہ وہ نفرت کے کڑوے زہر کو خوشی خوشی کیوں پی رہا ہے؟ بے بنیاد باتوں پر کیوں یقین کررہا ہے؟

مزید پڑھیں >>

گجرات الیکشن کے بعد کانگریس کی حکمتِ عملی؟

فرقہ پرستی اور فسطائیت وہ چیز ہوتی ہے کہ اس میں ذرا سی چوک فرقہ پرستوں اور فسطائی طاقتوں کو آگے بڑھا دیتی ہے لہٰذا ایسی حکمتِ عملی ہونی چاہئے کہ فرقہ پرستی اور فسطائیت کو کہیں سے او ر کسی سے بھی طاقت نہ ملے ہر پارٹی اور ہر فرد کو سمجھنا چاہئے کہ فرقہ پرستی اور فسطائیت پوری انسانیت کیلئے خطرہ ہے بلکہ جان لیوا ہے اس کے خلاف سب کو کھڑا ہونا چاہئے۔   

مزید پڑھیں >>

چڑھتے سورج کو ڈوبنا ہی ہے!

بی جے پی آج اقتدار کے نشے میں چور ہے، بد مست ہاتھی کی طرح چال چل رہی ہے، لو جہاد اور گئو کشی کے نام پر درجنوں بے گناہ افراد قتل کئے جانے کے باوجود قاتل کو سزا نہیں دی جا رہی ہے بلکہ شمبھولال جیسے حیوانوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے لیکن بی جے پی کو جان لینا چاہیے کا کہ نگریس کا سورج بھی ماضی میں غروب نہیں ہوتا تھا مگر آج طلوع ہونے کو مطلع نہیں مل رہا ہے۔ نریندر مودی جو خود کو اعلیٰ و ارفع بلکہ قانون سے بالاتر سمجھ رہیں ان کی بھی آن بان شان کا سورج  ایک دن ڈوب جائے گا۔

مزید پڑھیں >>

گجرات الیکشن کے نتائج: غور و فکر کے چند اہم پہلو

 اس الیکشن میں ہندوستانی سیاسی منظرنامے پر کے کئی نئے چہرے ابھرکر سامنے آئے ہیں، ہاردک پٹیل کو گو اپنی تحریک میں مکمل کامیابی نہیں ملی،مگر جتنی ملی وہ بھی کم نہیں ہے،انھوں نے نتائج آنے کے بعد اپنے انٹرویو میں کہابھی ہے کہ گجرات کے لوگ بیدار تو ہوئے ہیں، مگر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوسکے ہیں، جس کے لیے وہ آیندہ بھی اپنی تحریک جاری رکھیں گے،الپیش ٹھاکر ایک بڑے اور نمایاں اپوزیشن لیڈرکے طورپر سامنے آئے ہیں، جگنیش میوانی کی زبردست جیت گجرات کے دلت و پسماندہ قبائل و برادری کے لیے حوصلہ افزاہے اور آیندہ کچھ دلچسپ چیزیں سامنے آنے والی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

گجرات ہی سے مودی کے زوال اور راہل کے عروج کی شروعات

گجرات نے اسٹیج بنا دیا ہے یہاں سے آگے کا راستہ بھی صاف نظر آرہا ہے اور راہل کے آگے بڑھنے کا راستہ بھی صاف ہوگیا ہے وہ متبادل لیڈر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں جس کا ملک کو انتظار تھا اپنی جماعت کو بھی وہ جواں سال بناسکتے ہیں اور جو ملک کی آنکھوں میں دھول ڈال رہا ہے اسے بھی بچھاڑ سکتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ابھی کچھ دن لگیں گے!

حقیقت پسند لوگ مایوس نہیں  ہوتے  اس لیے کہ وہ خیالوں کی نہیں بلکہ حقائق کی دنیا میں جیتے ہیں۔ انسان کی خوشی یا مایوسی کا ایک تعلق اس کی توقعات سے بھی ہوتا ہے۔ گجرات کے انتخاب سے مختلف  لوگوں نے الگ الگ امیدیں  وابستہ کررکھی تھی۔ کوئی سوچتا تھا کہ  شاہ اور مودی کے اس گڑھ میں کمل کا بال بیکا نہیں ہو سکتا۔ ان بھکتوں کو انتخابی نتائج سے سب سے زیادہ رنج ہوا ہے۔

مزید پڑھیں >>