سیاست

فطری دوستی یعنی اسلام دشمنی 

میڈیا بھی نتین یاہو کے دورہ کو تاریخی دورہ بنانے میں اہم کردار ادا کررہا تھا کیونکہ بی جے پی نواز میڈیا مستقبل کے خطروں سے آشنا ہوتے ہوئے بھی برسراقتدار جماعت کی ملک مخالف پالیسیوں سے چشم پوشی کررہاہے کیونکہ سبکے دہن پر چاندی اور سونے کی مہریں لگادی گئی ہیں ۔ ہندوستانی میڈیا نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور عالمی سطح پر موجود دہشت گردی میں اسکے کردار پر بات تک نہیں کی اسکے برعکس نئی پالیسی کے تحت فلسطین کے کردار کو ہی مشکوک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندو توا ایجنڈے کی طرف رواں دواں ہندوستان

اگر یوگا کے متعلق من حیث کل شریعت اسلامی کا حکم معلوم کریں تو پھر یہ ناجائز اور ممنوع قرار پاتا ہے ؛ کیوں کہ یہ ورزش وکسرت ایک مخصوص مذہب کی تعلیمات پر مبنی ہے، اس طریقہ ورزش کا نہج اور طریقہ کار اور اجزاء ترکیبی کفر خفی سے بھرے ہوئے ہیں ، یوگا کی کسرت محض صحت کی تندرستی کے لئے نہیں کی جاتی؛ بلکہ روحانتی وہندو تہذیب کو پروان چڑھانے کے لئے جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

حج سبسڈی

جب ہوائی سفر شروع ہوا تو مرکزی حج کمیٹی اور صوبائی حج کمیٹیاں بنائی گئیں صوبوں نے حج ہائوس بنائے اور ہر درخواست کے ساتھ تین سو روپئے وصول کئے جاتے ہیں جو کئی مہینے پہلے لے لئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ عازمین حج سے پورا روپیہ مہینوں پہلے وصول کرلیا جاتا ہے جس کا سود ہی 30  کروڑ سے زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی عازمین حج اور عام مسلمان جنہوں نے سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا وہ اس لئے تھا کہ حکومت کا روپیہ سود کی وجہ سے پاک نہیں رہتا۔ اور حج کمیٹیاں عازمین حج کے پاک روپئے کو بینک میں رکھ کر اور اس سے سود لے کر اسے ناپاک کردیتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

سیاسی حاشیہ پر کیوں ہیں مسلمان؟

کیا آپ ایک سیٹ پر کسی ایک کوجتانے کافیصلہ نہیں کرسکتے۔ سیاسی جماعتیں اسی کواہمیت دیتی ہیں جو ان کیلئے ضروری ہوتا ہے یا پھر جس سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اگر سیاسی فیصلوں کیلئے وقت درکار ہے توکسی ایک ریاست میں یہ تجربہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان ووٹ دینے کا فیصل کریں کسی سیٹ پر امیدوارنہ بنیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر پارٹی آپ سے رابطہ قائم کرے گی اور شاید دشمنی ختم ہوجائے گی۔ اس وقت آپ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی طے کرسکتے ہیں ۔ حاشیہ کی سیاست سے اوپر اٹھنے کا کوئی طریقہ تو اختیار کرنا ہی ہوگا۔ آئیے اس پر مل کر سوچیں ۔

مزید پڑھیں >>

حج سبسڈی: کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

حج چونکہ مسلمانوں کا ایک عظیم الشان دینی فریضہ اور مذہبی معاملہ ہے  اس لئے وہ اس معاملے کو مسلمانوں ہی کی صواب دید پر چھوڑ دے اور اس میں کسی بھی طرح کی کوئی مداخلت ہی نہ کریں ۔ وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے اس سبسڈی کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ جو اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ حکومت بچے ہوئے سالانہ سات سو پچاس کروڑ روپئے اقلیتوں کی فلاح وبہبود اور بالخصوص مسلمان لڑکیوں کی تعلیم پر صرف کریگی۔وہ اپنے اس وعدے پر عمل در آمدکو یقینی بنائے۔

مزید پڑھیں >>

مسلمان مدرسوں کے بجائے اپنی فکر کریں

حقیقی مدرسوں کی بات یہ ہے کہ وہاں کروڑوں کا بجٹ ہونے کے باوجود کسی حکومت سے مدد نہیں لی جاتی اور جو طبقہ اپنے بچوں کو وہاں بھیجتا ہے ان میں 90  فیصدی وہ ہوتے ہیں جن کے گھر والے صرف آنے جانے کا خرچ برداشت کر پاتے ہیں اس کے بعد مدرسہ میں رہنے کا کمرہ پڑھنے کی کتابیں دونوں وقت کھانا لائٹ اور چارپائی وغیرہ سب کا انتظام مدرسہ کی طرف سے ہوتا ہے ان لڑکوں کو اپنے خرچ سے صرف ناشتہ کرنا ہوتا ہے جو اپنی حیثیت کے حساب سے وہ کرتے ہیں یا رات کی بچی روٹی سے ناشتہ کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

حج سبسڈی کے خاتمہ کا سرکاری اعلان

 حج سبسیڈی کے خاتمہ کا معاملہ ہو یا مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا کوئی اور معاملہ ہو اس میں زعفرانی حکومت کی مداخلت ہندوتو ایجنڈا کا ایک حصہ ہے جسے مودی سرکار ایک ایک کرکے 2019ء تک پورا کرے گی تاکہ ہندو پرستوں اور فرقہ پرستوں کو خوش کرسکے۔ بھگوا پارٹی یا اس کی حکومت میں جو لوگ مسلمانوں جیسا نام رکھتے ہیں جیسے نقوی، اکبر یا شاہنواز ان کو پارٹی نے حکم دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے یہ بتاتے رہیں کہ جو کچھ کیا جارہا ہے وہ مسلمانوں کے حق میں کیا جارہا ہے۔ خاص طور سے مسلم خواتین کی فلاح و ترقی حکومت کے پیش نظر ہے۔ یہ بالکل لغو اور دھوکہ دینے والی بات ہے۔

مزید پڑھیں >>

اُترپردیش کی مسجدوں سے بلند ہونے والی اذانیں نشانہ پر

ہماری اطلاع کے مطابق اور اخبار کی خبروں کی حد تک کسی درخواست پر فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ حکومت نے جو زون بنائے ہیں ان میں صنعتی، بازاری اور آبادی کے زون ہیں اور یہ بتایا ہے کہ ان میں کس کس سطح کی آواز رکھی جاسکتی ہے۔ بہرائچ میں نہ جانے کیا بات ہے کہ وہاں حلف نامے لئے جارہے ہیں۔ ابھی تک کوئی نہیں سمجھ سکا کہ کس بات کا حلف نامہ لیا جائے گا؟ لیکن ایک بات کا لحاظ زیادہ رکھنا چاہئے کہ انتظامیہ سے کسی طرح کا ٹکرائو نہ ہو۔

مزید پڑھیں >>

جج بی ایچ لویا کی پُراسرار موت کا مقدمہ

سی بی آئی کے سابق اسپیشل جج بی ایچ لویا کی دسمبر 2014ء میں اس وقت موت ہوئی جب سہراب الدین کے فرضی مڈبھیر   کے مقدمہ کی سماعت ان کے ذمہ تھی۔ اس کیس میں خاص ملزم امیت شاہ تھے جو اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر ہیں ۔میڈیا میں ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی۔ اس وقت میڈیا نے بھی اسے کوئی اہمیت نہیں دی اورنہ چھان بین کرنے کی کوشش کی۔ جب جسٹس لویا کی ایک ڈاکٹر بہن نے اخبارات میں اپنا بیان دیا کہ ان کے بھائی کی فطری موت نہیں ہوئی بلکہ ان کا قتل کرایا گیا ہے تو پھر ان کے متعلق کچھ نئے سرے سے خبریں آنے لگیں ۔

مزید پڑھیں >>

 عوام کی عدالت میں سپریم کورٹ کا مقدمہ

جمہوریت لڑکھڑا رہی ہے اور اس کا ایک اہم ستون ڈگمگا رہا ہے۔ ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ ہم ایسے ملک میں ہیں جہاں ضمیر ابھی پوری طرح مردہ نہیں ہوا ہے۔ اس کے رگ و پے میں اب بھی زندگی کی تھوڑی رمق باقی ہے۔ عدلیہ کے تئیں ججوں کی بے چینی نے ہمیں  ناانصافی کے صحرا میں  نخلستان کی امید  دی ہے۔

مزید پڑھیں >>