سیاست

فتنۂ شکیل بن حنیف اور علماء کی ذمہ داریاں

اس بات میں اب ادنی تردد کی گنجائش نہیں کہ یہ فتنوں اور آزمائشوں  کا دور ہے اور روئے زمین کا کوئی بھی گوشہ ان فتنوں سےمحفوظ نہیں ۔ ملت اسلامیہ پر سازشی فتنوں، گمراہ فرقوں  اور  باطل تحریکوں کی  چو طرفہ یلغار ہے، بدعقیدگی و بدعملی کا فتنہ،مادیت پسندی و نفس پرستی کا فتنہ، خدابیزاری اور دہریت کا فتنہ،تہذیبی زوال اور حیاباختگی کا فتنہ، اسلام دشمنی اور گروہ بندی کا فتنہ اور خود کو مہدی موعود اور مسیح ظاہر کرکے  مسلمانوں کا استحصال کرنے والےضمیر فروشوں کا فتنہ۔ 

مزید پڑھیں >>

بھاگ مُکل بھاگ!

 مکل رائے کو نریندر مودی اور امیت شاہ نے اپنی پارٹی بی جے پی میں شامل کرکے کرپشن کی گراوٹ کا ثبوت دیا ہے۔ جس مکل کو ناردا اسٹنگ اور شاردا چٹ فنڈ اسکیم کے ملزم اور مجرم قرار دینے کی بات کر رہے تھے اسی ملزم اور مجرم کو اپنی پارٹی میں پناہ دی ہے تاکہ سی بی آئی یا پولس کا کوئی محکمہ مکل رائے کو ہاتھ نہ لگا سکے۔

مزید پڑھیں >>

اُف یہ مسلکی پھندے !

کہتے ہیں کہ تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے، آج پھر وہی مذہبی جبر کا زمانہ لوٹ آیا ہے اور آج پھر اس کا جواب وہی ہے جو ماضی میں دیا جاچکا ہے، یعنی صبر اور اتحاد کے ساتھ خود کو مضبوط و مستحکم کرنے کا عمل، ہمارے درمیان مسلکی اختلافات اتحاد کی راہ کا کانٹا بنے ہوئے ہیں ہمیں ان کانٹے دارمسلکی جھاڑیوں کو اکھاڑ پھینکنا ہوگا ایک خدا ایک قرآن اور ایک نبی کے نام پر متحد ہوکر سارے گلے شکوؤں کو دور کرنا ہوگا، خود غرضیوں اور مصلحت پسندیوں سے پرے امن و اخوت کا پرچم بلند کرتے ہوئے امن و محبت  کے دریا بہانے ہوں گے، اس کے بغیر ہمارا ہر احتجاج ہر چیخ و پکار اور ہر کوشش صدابصحرا ہی ثابت ہوگی، آپ سن رہے ہیں نا۔

مزید پڑھیں >>

مرے قبیلہ کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے!

کیا مرنے والے ہندوستانی نہیں تھے کیا انھوں نے ہندوستانی قانون سے بغاوت کی تھی کیا وہ بھارت ماتا کے بیٹے نہیں تھے ؟!آخر ان سے جینے کا حق کیوں چھین لیا گیا۔ آج ہندوستانی مسلمان حیران و پریشان چوراہے پر کھڑا ہے اور یہ چوراہا بھی اس کے لئے محفوظ نہیں کون جانے کب گئو دہشت گردوں کی جنونی بھیڑ آ کر گھیر لے اور گائے کے نام پر قتل ہونے والوں میں ایک مسلمان کا اور اضافہ ہو جائے۔ !

مزید پڑھیں >>

قومی حالت میں سدھار کا ایک حل

بحیثیت مسلمان ہمیں اس بات کایقین ہے کہ یہ دنیاہمارے لئے امتحان گاہ ہے، ہماراامتحان لینے کے لئے ہمیں اس دنیامیں بھیجاگیاہے، جب ہمارے امتحان کاوقت ختم ہوجائے گا تو ہمیں یہاں سے اٹھالیاجائے گا، پھرہماری کاپی کی چیکنگ ہوگی، اگرہماراجواب صحیح نکلا توہمیں فرسٹ کلاس سے کامیاب قراردے کر’’جنت‘‘ میں بھیج دیاجائے گا؛ لیکن اگرجواب صحیح نہیں نکلاتوہمیں ناکام قراردے کر’’جہنم‘‘ میں پھینک دیاجائے گا۔

مزید پڑھیں >>

راہ دکھا کر دم لیں گے ہم!

امریکہ و برطانیہ وغیرہ اصلاً صہیونی مملکتیں ہیں وہاں حکومت اوباما کی رہے یا ٹرمپ کی، کنزرویٹو ہوں یا لیبر والے اسرائل اور صہیونیت کے مفادات کی خلاف ورزی کوئی نہ کرتا ہے نہ کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ سے لے کر بین اقوامی تجارت تنظیم (ڈبلو ٹی او )تک جتنے بھی نام نہاد عالمی ادارے ہے سب کے سب بلا استثنا   صہیونی مفادات کے نگراں ادارے ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں کرتا۔ اور متوجہ ہوتا بھی ہے تو یقین نہیں کرتا۔ ہم انہیں بتاتے ہیں سماجی انصاف اور امن کا قیام یرقانی و صہیونی قارونوں اور فرعونوں کے  موجودہ نظام  کے بس کی بات نہیں۔

مزید پڑھیں >>

یہاں تو معرکہ ہوگا! مقابلہ کیسا؟

بات چیت سے اب کچھ حل ہونے والا نہیں۔ جس طرح انہوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کو شہید کیا تھا ٹھیک اسی طرح بنابھی سکتے ہیں۔ بقول سادھوی رتمبھرا مرکز میں مودی ہیں یوپی میں یوگی ہیں اوراس کے باجود اگر رام مندر تعمیر نہیں کرسکے تو پھر کب کریں گے۔ بذریعہ جوروجبر اگر آپ رام مندر تعمیر کرسکتے ہیں تو شوق سے کرلیں لیکن اس کے لئے آگ کا دریا تیر کرکے جانا ہوگااور نہیں تو پھر اب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں۔

مزید پڑھیں >>

راہل گاندھی، کانگریس اورڈاکٹر عبدالجلیل فریدی

راہل گاندھی نے حالیہ امریکہ دورے کے دوران امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں میں تقریرکی۔تقریر کامحور ہندوستان کی موجودہ حکومت کی کارکردگی پررہا خاص طورپر وزیراعظم نریندر مودی نشانے پر رہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پراپنی فکر مندی کااظہار کیا اسی کے ساتھ انہوں نے اپنی کانگریس پارٹی پربھی طنز کیا۔ راہل گاندھی نے کہاکہ کانگریس پارٹی 2004سے 2014تک اقتدار میں تھی۔ 2010کے بعد کانگریس قیادت گھمنڈ میں آگئی جس انداز سے چھوٹے لیڈر سے لے کر بڑے لیڈروں کوکام کرنا چاہئے تھا وہ انہوں نے نہیں کیا جس کا انجام 2014 کے انتخاب میں بھگتنا پڑا۔

مزید پڑھیں >>

رام مندر کا حربہ اور بی جے پی

روی شنکر کا یہ کہنا کہ بابری مسجد تنازعہ کے حل کے لیے ہم نے بورڈ کے ممبران سے بھی گفت و شنید کی ہے اور پھر امام بخاری کا بورڈ کی خاموشی پر سوال اٹھانا یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان عنقریب کسی بڑی سازش کے شکار ہونے والے ہیں، مسلمانوں کو بابری مسجد قضیے میں الجھاکر کوئی ایسی پالیسی تیار کرلی جائے گی جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہیں ہوگا۔۔!

مزید پڑھیں >>

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں

ضرورت ہے کہ ہم اپنے رویوں کو بدلیں۔ حقیقی علم رکھنے والوں اور اس کے متلاشیوں کے لئے راستے کھولیں اور ایسے مشغلے اپنائیں جو ہمیں دنیا کی قوموں کے سامنے سرخروکریں۔ آج ہماری پہچان ایک ایسے گروہ کی ہوچکی ہے جو اپنی مادی اور دنیاوی خواہشات کو ہر صحیح اور غلط طریقے سے پورا کرنے میں مست ہے اور دوسروں کے مکمل طور پر خوشہ چیں ہونے پر پوری طرح مطمئن۔

مزید پڑھیں >>