سیاست

ارپندر مشرا: رتبہ بڑھا تو ساتھ میں رسوائی بڑھ گئی

 ارپندر مشرا کے ذریعہ سال شروع ہونے کے ۱۳ دن بعد نئے سال کی مبارکباد دینا ایسا مذاق ہے کہ جس پر سال بھر ہنسا جاسکتا ہے۔ اول تو آج کل   فون کیے بغیر چائے والا بھی سبزی والے کے گھر نہیں جاتا اور اگر سبزی والا فون نہ لے یا نہ لوٹا ئے تو وہ اپنے اپنے آپ کو رسو ا کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتا۔  ارپندر مشرا  جیسے آئی ای ایس افسرسے  اس حماقت  کی توقع کرنا مشکل ہے۔

مزید پڑھیں >>

بے خوف ہوکر بولیے، کرسی جانے کا ڈر دل سے نکالیے!

سپریم کورٹ آف انڈیا کے معزز ججوں نے ہنگامی پریس کانفرس میں عدالت عظمیٰ کی انتظامی خامیوں سے قوم کو واقف کیا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کے طرز عمل اور طریقہ پر انگلی اٹھائی ہے۔ جسٹس لویا کی موت کا معاملہ بھی پریس کانفرنس میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں بہت کچھ ایسا ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے ہمیں لگا کہ ہماری ملک کے تئیں جوابدہی ہے اور ہم چیف جسٹس کو منانے کی کوشش بھی کرتے رہے لیکن ہماری کوششیں ناکام ہوئیں۔ اور اگر اس ادارہ کو نہیں بچایا گیا تو جمہوریت ختم ہو جائے گی۔ لہذا ہم نہیں چاہتے کہ بیس سال بعد کوئی یہ کہے کہ ہم نے اپنی 'آتما'بیچ دی تھی۔

مزید پڑھیں >>

جب ضمیر بیدار ہو

اگر تحقیقات میں یہ دعاوی درست پائے جاتے ہیں ، تو یہ بہت بڑا المیہ ہے، جو ملک کے وقار کو مجروح کرتا ہے، عدلیہ کی حرمت کو پامال کرتا ہے، لوگوں کے بھروسے کو زخمی کرتا ہے، انصاف پانے کی خواہش کو چکنا چور کرتا ہے، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس معاملہ کے سامنے آتے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کے سکریٹری چیف جسٹس سے ملاقات کے لئے پہنچے، البتہ ملاقات نہیں ہو سکی اور سوال کئے جانے پر انہوں نے نئے سال کی مبارک باد دینے کی بات کہی، یہ کیفیت سوالات کو جنم دیتی ہے۔ 12دن بعد نئے سال کی مبارک باد چہ معنی دارد؟ کیا تعلق ہے وزیر اعظم اور چیف جسٹس کا؟

مزید پڑھیں >>

نہ ہو گی تم سے تنظیم گلستاں!

نیتن یاہو کے دورہ بھارت پر ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ ملک اور دنیا کوخالق انسان اور انسانیت کے دائمی دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے  بہر حال و بہر صورت ایک نیا انقلاب درکار ہے وہ بھی با ایمان، صالح، خداترس اور انسان دوست قوتوں کا لایا ہوا انقلاب جو موجودہ ظالم، خود غرض  اور منافق  سیاسی طاقتوں کے بس کی بات نہیں۔ عالم انسانیت کے دشمن صہیونی دجالوں کے  ظالم اور قاتل دوستوں اور بہی خواہوں ٹرمپوں، یاہوؤں، مودیوں اور شاہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا ہے اِن سب کا اور اُن کےسبھی  حامیوں اور مددگاروں کا انجام ایک جیسا ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

راج سنگھاسن ڈانوا ڈول

وزیراعظم اپنے ساتھی اور دوست امت شاہ کے لئے کہاں تک جاسکتے ہیں اس کا اندازہ   اس سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ جو اب تک ہر کسی کا آخری سہارا تھا وہ بھی پھٹتا نظر آرہا ہے ۔ سپریم کورٹ کی زندگی میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ چار محترم سینئر جج اندرونی طور پر اپنی سی کوششوں کو ناکام دیکھ کر عوام کی عدالت میں آگئے۔ اور وہ سب کہہ دیا جس کے بعد اچھا تو یہ تھا کہ چیف جسٹس دیپک مشراجی استعفیٰ دے کر باہر آجاتے یا اسی کانفرنس میں آکر معذرت کرلیتے۔

مزید پڑھیں >>

آؤ بیٹیاں جلا دیں!

 ننھی زینب بیٹی پرظلم ستم کی انتہاء اورپھردوشہریوں کاپولیس کے ہاتھوں قتل ایسادردناک سانحہ ہے جس کے بعد تادم تحریردل خون کی آنسورورہاہے۔ موجودہ نظام سے انصاف ملنے کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی، ان حالات میں جناب ’منصور مانی‘صاحب نے جن الفاظ میں عوامی جذبات کی ترجمانی کی ہے ان میں دکھ،درد،تکلیف کے ساتھ حصول انصاف کیلئے عملی جدوجہدکیلئے قومی ضمیر کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مدرسوں کی روح اور اُن کا مقصد

اگر تاریخ اٹھاکر دیکھا جائے تو اس وقت سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ مسلمان شکست کے بعد عیسائی نہ ہوجائیں اور اس کے لئے اگر بزرگوں نے تعلیم کا ایسا نظام بنایا کہ عالم بننے کے بعد وہ اللہ کے کام کے علاوہ کسی کام کے نہ ہوں تو یہ اُن کی دانشمندی تھی۔ آج ان ہی مدارس میں کمپیوٹر بھی چل رہے ہیں انگریزی بھی پڑھائی جارہی ہے اور وہاں سے نکلنے والے لڑکے ہر میدان میں نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

وسیم رضوی: یہاں کی خاک سے انساں بنائے جاتے ہیں! 

شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے درست تبصرہ کیا ہے کہ آخر جو شخص چاروں طرف سے کرپشن میں گھرا ہوا ہے، جس پر کرپشن کے بے شمار الزامات ہیں ، حکومت نے ایسے شخص کو بے لگام کیوں چھوڑ رکھا ہے؟ کیوں اس کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی ہے؟ اب اگر اسے گرفتار نہیں کیا گیا تو ہم لکھنؤ کی سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے۔، مختار عباس نقوی اور ظفر سریش والا نے بھی وسیم رضوی کے بیان کی مذمت کی ہے، مرکزی اقلیتی وزیر مختار عباس نقوی نے تو اسے پاگل قرار دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ میں بھی مدرسے کا پڑھا ہوا ہوں کیا میں دہشت گرد ہوں ۔؟

مزید پڑھیں >>

طلاق ثلاثہ: حکومت کا رویہ اور ہم

اتحاد اتحاد چیخنے کے بجائے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ہم پاش پاش رہیں گے ہماری کوئی حکمت عملی کارگرنہیں ہوسکتی،لہٰذا ہمیں سرجوڑ کراس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے،اورمسلم معاشرے میں طلاق کی خباثت وشناعت کو واضح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس پر اپنی جانب سے قدغن لگایاجاسکے۔ اللہ ہمارے حالات کو بہتربنائے اور ملک کو امن امان کاگہوارہ بنائے۔

مزید پڑھیں >>

عدلیہ میں کہرام : اب اس کے بعد جو رستہ ہے وہ ڈھلان کا ہے

مودی سرکار نے اسلامی شریعت اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے عدلیہ کو ہتھیار بنایا لیکن مشیت نے عدالت کے اندر ایسا زلزلہ برپا کردیا کہ حکومت کی چولیں ہل گئیں ۔ مودی جی کو  یہ کہنے کا بڑاشوق ہے کہ( ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد)  پہلی بار یہ ہوا اور وہ ہوا لیکن اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کی تاریخ میں سپریم کورٹ کے چارمعمر ترین ججوں نے پہلی بار ایک پریس کانفرنس کرکے حکومت اور اس کے نامزد کردہ چیف جسٹس کا وستر ہرن کردیا۔ ایسی کھری کھری سنائی کہ جو اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے جواب میں چیف جسٹس مشرا جی کی زبان پر تالہ پڑ گیا اور حکومت یہ کہہ کر میدان سے بھاگ کھڑی ہوئی کہ یہ عدلیہ کا داخلی معاملہ ہے اور وہ اس معاملے میں دخل اندازی کرنا نہیں چاہتی۔

مزید پڑھیں >>