سیاست

جمہوریت اور عدلیہ کو سنگین خطرہ لاحق ہے

 حق گوئی کا اثر ہمیشہ پڑتا ہے کیونکہ جھوٹ ہمیشہ جھوٹ ہوتا ہے۔ اس کو ہر طرف سے خطرہ لگا رہتا ہے۔ وہ ایک اندھیرے کی طرح ہے جسے روشنی کی ہر کرن سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے اگر کوئی نہ آواز اٹھائے تو اکیلئے اور تنہا آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ حق و انصاف کی بات کرنے سے قاصر ہوتے ہیں وہ مردہ دل ہوجاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

عزت مآب ججوں کی پریس کانفرنس

بلا شبہ آزاد ہندوستان کی عدلیہ کی تاریخ میں آج ایک عجیب وغریب واقعہ رونما ہوا۔ لیکن اس واقعہ سے انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی جوعدلیہ کو ایک عرصہ سے قریب سے دیکھ رہے ہیں ۔ گو کہ میں قانون کا طالب علم نہیں ہوں لیکن میں عدالتی خبروں کو بڑی دلچسپی اور باریکی سے پڑھتا ہوں ۔ لہذا مجھے سپریم کورٹ کے چار بہترین سینئرججوں کے ذریعہ پریس کانفرنس کو خطاب کرنے کے واقعہ سے یقینی طورپر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ حیرت اس پر ہوئی کہ عزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا نے اس پریس کانفرنس کے جواب میں اپنی پریس کانفرنس کا اعلان کیا لیکن اس کے بعدوہ اپنے اعلان پر قائم نہ رہ سکے۔

مزید پڑھیں >>

ہندوستانی عدلیہ کا سب سے بڑا بحران

سپریم کورٹ میں وہی لوگ جج بنائے جاتے ہیں ، جو پہلے ہائی کورٹ میں کام کر چکے ہیں ۔ اس لیے، چیف جسٹس کسی ہائی کورٹ کے امیدوار کا نام فائنل کرنے سے پہلے اسی ہائی کورٹ میں پہلے کام کر چکے سپریم کورٹ کے موجودہ سب سے سینئر جج سے صلاح و مشورہ کرے گا، لیکن اگر سپریم کورٹ کے اس جج کو اس امیدوار کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے، تو پھر ویسی صورت میں چیف جسٹس اسی ہائی کورٹ سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے موجودہ کسی دوسرے سب سے سینئر جج سے صلاح و مشورہ کرے گا اور اس کے بعد ہی اس امیدوار کا نام فائنل کرے گا۔لیکن یہ صلاح و مشورہ صرف سپریم کورٹ کے جج تک ہی محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس صلاح و مشورہ میں اس ہائی کورٹ کا کوئی دوسرا جج یا چیف جسٹس بھی شامل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

نتن گڈکری: جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے

 انٹرنیشنل کریوز ٹرمنل کے سنگبنیاد کی تقریب میں گڈکری نے کہاکہ ’’مجھے پتہ چلا ہے کہ ہائی کورٹ نے بحریہ کے اعتراض کے بعد تیرتی جیٹی کو منظوری دینے سے انکارکردیا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ ملبارہل پر بحریہ کا تعلق کیا ہے، وہ پاکستان کی سرحد پرجائے۔ ہم اقتدار میں ہیں اور بحریہ یا وزارت دفاع کو کوئی اختیار نہیں۔ بحریہ کو سرحد کی حفاظت کرنا چاہئے ناکہ جنوبی ممبئی میں ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہئے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

ایک دیس ایک چناؤ کی منطق

ابھی بار بار انتخاب ہونے سے مرکزی حکومت اور سیاسی جماعتوں پر دبائو ہوتا ہے اور وہ عوام کیلئے جوابدہ ہوتے ہیں ۔ اس کے خلاف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بار بار الیکشن ہونے سے سرکار ایسے سخت فیصلے نہیں پاتی جس کے دور رس مفید نتائج برآمد ہوں ۔ بیک وقت الیکشن ہویا الگ الگ، وہ فیصلہ لیا جائے جو ملک کے مفاد میں ہو۔ جس سے جمہوریت کو طاقت اور عوام کو فائدہ ملے۔

مزید پڑھیں >>

سوری زینب (چیف جسٹس، آرمی چیف، پاکستان کی عوام کے نام گزارش)

سوری زینب! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تمہاری جان اور عزت نہ بچ سکی اور شاید ہم اکیس کروڑ کا ہجوم تمہیں بھی دو چار دن میں بھول کر کسی نئی زینب کا انتظار کرے گا۔ پھر کسی کے گھر صفِ ماتم بچھے گی، کسی کی زینب کوڑے پر قتل ہوئی ملے گی، نوٹس لیا جائے گا، جے آئی ٹی بنے گی، کوئی ایک آدھا معطل ہو گا اور پھر ہم ایک نئی زینب کا انتظار کریں گے۔ کوئی احتجاج کرے گا کہ یہ قصور اسلام کا ہے کوئی کہے گا کہ لبرل ازم کا ہے، کسی کے نذدیک یہ عورت کے لباس کا قصور ہے تو کوئی وزیر صاحب بیان دیں گے یہ تو ہوتا رہتا ہے، اس سے تحفظ والدین کی ذمہ داری ہے۔ لیکن تمہیں انصاف کسی ایک سے بھی نہیں ملے گا۔ سوری زینب !!!

مزید پڑھیں >>

خلیجی ممالک میں محنت کشوں کے شب و روز

پردیس میں ہمارے پردیسی بھائی آپس میں ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ ان سب کی پہچان صرف ان کا ملک یعنی پاکستان ہوتا ہے۔ ان کے غم بھی ساجھے ہوتے ہیں اور ان کی خوشیاں بھی ساجھی ہوتی ہیں اگرچہ خوشیاں وہاں کم ہی میسر آتی ہیں۔ ان کے کام کرنے کے اوقات اتنے طویل اور کٹھن ہوتے ہیں کہ کام کے بعد ان کو آرام کے لئے بھی بس اتنا ہی وقت ملتا ہے کہ بمشکل کل کے لئے تازہ دم ہو کر پھر سے محنت مزدوری پر جا سکیں۔ 

مزید پڑھیں >>

مدارس اسلامیہ: گہوارۂ امن و محبت

مادر وطن ہندوستان کے حالات روز افزوں بگڑتے جارہے ہیں ،جمہوری اقدار و روایات مائل بہ تنزل نظر آرہے ہیں ، ہر صبح طلوع ہونے والا سورج کسی نئی آزمائش اور ہر شام ڈوبتا آفتاب،کسی تازہ مصیبت کی پیشین گوئی کررہا ہے۔ اسلامیان ہند کے ملی تشخص کو مسخ کرنے، دین و شریعت میں کھلم کھلا مداخلت کرنے اور ہر میدان میں اقلیتوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے بعد اب ان کا ہدف مدارس اسلامیہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

مت جوڑو آتنک واد کا نام مدرسوں سے!

   ملک کے جو حالات چل رہے ہیں، ان سے ہر باخبر شہری اور بالخصوص مسلمان واقف ہے، کس طرح منصوبہ بندی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کی جارہی ہے وہ ہر ایک پر عیاں ہے۔ شریعت میں مداخلت اور اسلامی تعلیمات پر نکتہ چینی وانگشت نمائی کے موقعے تلاش کئے جارہے ہیں، مسلم پرسنل لامیں دخل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، فتوی کو لے کرمنفی تبصرہ کے ذریعہ ایک ہنگامہ برپاکیا جارہا ہے، اوراسلامی احکام کو توڑمروڑکرپیش کیاجارہا ہے، طلاق ِ ثلاثہ کوبہانہ بناکر باضابطہ شرعی احکام وتعلیمات پر قد غن لگانے کی فکر کی جارہی ہے۔ کمزورطبقات کے ساتھ ظلم وزیادتی ہورہی ہے اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے اورملک ووطن کے امن وسکون کو ختم کرنے کے لئے شرپسندعناصراورفرقہ پرست طاقتیں پوری کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

طلاق پر بل لانے یا قانون بنانے کے ذمہ دار کون ہیں؟

 غرض کہ اس قسم کے اسباب تھے جن کی بنا پر حضرت عمرؓ نے یہ حکم جاری کیا کہ تین طلاقیں جو ایک مجلس میں اور دفعتہ واحدۃً دی جائیں گی ان کا حکم طلاق مغلظہ ہونے میں وہی ہوگا جو اُن تین طلاقوں کا ہے جو طلاق سنت کے مطابق تین طہروں میں دی گئی ہوں ۔ حضرت عمر نے دیکھا کہ جو شخص نکاح کی گرہ کو اتنا بے حقیقت سمجھتا ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالتا ہے وہ بے حس اور یاوہ گو انسان ہے اور اسے اس بے حسی اور یاوہ گوئی کی سزا ملنی چاہئے۔

مزید پڑھیں >>