نفسیات

تکیہ اور کلام

محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

 آپ تو یقینا جانتے ہونگے کہ تکیہ کسے کہتے ہیں ؟بل کہ آپ اس کا استعمال بھی کرتے ہوں گے، بعض لوگوں کی عادت اتنی بُری ہوتی ہے کہ اگر تکیہ نہ لیں تو انھیں دردِشقیقہ لاحق ہوجاتاہے، ایسے لوگوں کو کبھی کبھی ریڈی میڈ تکیہ (اینٹ، پتھر، چٹائی وغیرہ)بھی استعمال کرنا پڑجاتاہے، یہ تو وہ تکیہ ہے، جو سر کے نیچے رکھاجاتاہے۔

 کچھ لوگ اپنے دوستوں پر بھی تکیہ کرتے ہیں، یعنی انھیں سر کے نیچے رکھ کرنہیں سوتے، بل کہ ان پر بُری طرح اعتماد کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو کبھی کبھی بستر بھی بنناپڑجاتاہے اور وہ بھی فولڈنگ بستر، ایسے ہی لوگوں کے لئے برق ؔ نے کہاہے:

 سُلائے گا ہمیں تکیہ میں تکیہ تیرے پہلوکا

کچھ لوگوں کی عادت تو اس بُری ہوتی ہے، وہ ہربات میں تکیہ استعمال کرتے ہیں، یہاں ایسے ہی کچھ تکیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی، کچھ بے محل ہونے کی وجہ سے مضحکہ خیز ہوجاتے ہیں، اردووالے ان تکیوں کو’’ تکیۂ کلام‘‘سے تعبیر کرتے ہیں۔

 ایک نیک صفت مرد کا تکیۂ کلام لاحول ولا قوۃ تھا، اس کے معنی تو بہت اچھے ہیں ؛لیکن عام طور پر شیطان صاحب کو بھگانے کیلئے بھی استعمال کیاجاتاہے، صاحبِ تکیۂ کلام کے لڑکے کی شادی ہوئی، کچھ دنوں کے بعد سمدھی صاحب بغرضِ ملاقات تشریف لائے، صاحبِ تکیۂ کلام جھپٹ کر آگے بڑھے اور پورے جوش وخروش کے ساتھ سمدھی صاحب کا استقبال کرنے لگے، آیئے!آیئے!لاحول ولاقوۃ سمدھی صاحب تشریف لایئے، سمدھی صاحب کو ان کا تکیۂ کلام معلوم نہیں تھا، چنانچہ وہ مارے غصہ کے لال بھبھوکا ہوگئے، بادِلِ ناخواستہ گھر کے اندر آتو گئے؛کیوں کہ دھوپ کی تمازت  جھلسائے دے رہی تھی؛لیکن دانہ دنکا چگنے سے انکار کردیا۔

ایک صاحب کا تکیۂ کلام ’’سالے‘‘ تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کے اکثر مرد کسی نہ کسی کے سالے ضرور ہوتے ہیں ؛لیکن پھر بھی اسے بہت بڑی گالی تصور کیا جاتاہے، البتہ لفظ بدل کر ماموں کہہ دیاجائے تو اسے گالی نہیں سمجھا جاتا، حالاں کہ خواہ چھری خربوزہ پر گرے یا خربوزہ چھری پر، بات برابر ہے، صاحبِ تکیۂ کلام ایک مرتبہ اپنے استاد کے پاس گئے، مردِناداں نے اپنے استاد کے لئے بھی اِس کو استعمال کر لیا، دوسرے جو وہاں موجود تھے، شرم سے پانی پانی ہوکر بہنے کے قریب ہوگئے؛ لیکن ان صاحب کو پسینہ بھی نہیں آیا۔

 ایک صاحب کا تکیۂ کلام تھا’’تیرے منھ میں ‘‘، ایک مرتبہ ایک درینہ رفیق سے ان کی ملاقات ہوگئی، سلام ودُعا کے بعد کسی کیفے میں دوستی نبا ہنے کے لئے جا بیٹھے، پُرانی یادیں تازہ دم ہو گئیں ، کالج کے زمانے کی باتیں ، عشق ومعاشقہ کی داستانیں اور نہ جانے کون کون سی باتیں ہوتی رہیں ، درمیان میں ’’تیرے منھ میں ‘‘ کا بھی سلسلہ باقاعدگی کے ساتھ جاری رہا؛ لیکن اچانک ایک سنگین موڑ آگیا، ان صاحب کوNon-Stop Thing یعنی تقاضائے بشری کا دورہ پڑا، دوست کو مخاطب کرکے کہا:Sorry! I am going to toilet ’’تیرے منھ میں ‘‘، درینہ رفیق نے چراغ پا ہوکر ایک زور دار طمانچہ رسید کیااور کہا:نالائق!تقاضا پورا کرنے کے لئے میرے منھ میں آئے گا، باتھ روم کا رُخ کرو، صاحبِ تکیۂ کلام چونکہ ایک ہاتھ سے اپنے تقاضا کوروکے ہوئے تھے، لہذادوسرے ہاتھ سے سُرخ ہوتے ہوئے رخسار کو چھپانا ہی مناسب سمجھا۔

 ایک اور صاحب ہیں ، جن کا تکیۂ کلام ہے’’باتھ روم میں ‘‘، ان صاحب کی نئی نئی شادی ہوئی، نوروزمنانے کیلئے سسرال گئے، اتفاق سے یہ گر می کا موسم تھا، سخت اُمس تھی، اوپر سے لے کر نیچے تک پسینہ کی دھاریں اس طرح بہہ رہیں تھیں ، جیسے کیلے کے درخت کو زخمی کردینے سے اس کا پانی بہتاہے؛لیکن درجن بھر زاد سالیوں کے خوف سے باہر بھی نہیں نکل رہے تھے؛لیکن تابکے؟جب پانی پانی ہوگئے (شرم سے نہیں )پسینہ سے، تو سگی سالی کو آوازدی اور کہا:یہاں گرمی بہت ہورہی ہے، چلو باہر ہوا کھاتے ہیں ’’باتھ روم میں ‘‘، سالی صاحبہ نے دوپٹہ سنبھالتے ہوئے ایک چھلانگ بھری اوربدحواسی کے عالم میں باجی باجی پُکارتے ہوئے باورچی خانہ میں چولہے سے ٹکراتے ٹکراتے بچی، پیچاری کا سینہ غبارہ کی طرح پھول پچک رہاتھا، باجی بھی حواس باختہ ہوگئیں ، پوچھا کیا ہوا؟ بے چاری پہلے تو جھجکی، پھر بولی :باجی !بھیا کی نیت مجھ پر خراب ہو گئی تھی، یہ سنتے ہی باجی کا رنگ فق ہوگیا؛لیکن سنبھلتے ہو ئے کہا، انھوں نے کیا کیا؟بے چاری نے کہا:کچھ کیا تو نہیں ، لیکن جیسے ہی میں ان پاس کمرے میں گئی، وہ کہنے لگے:یہاں گرمی بہت ہے، چلو باہر ہوا کھاتے ہیں ’’باتھ روم میں ‘‘، باجی کے جان میں جان آئی اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی، پھر کہا :اری پگلی!ان کی نیت تم پر خراب تھوڑی ہی ہوئی تھی، بل کہ ’’باتھ روم میں ‘‘ تو ان کا تکیۂ کلام ہے، تب کہیں جاکر سالی صاحبہ کے رُخسارکی زردی دور ہوئی۔

 یہ تھے کچھ نمونے تکیہ کلام کے، اگر آپ کو بھی ایسی کو ئی عادت ہو تو برائے مہر بانی ذرا سوچ کر اپنے اس تکیہ کا استعمال کیجئے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close